آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جب سوویت یونین اور برطانیہ نے چھ دن میں ایران پر قبضہ کر لیا
- مصنف, وليد بدران
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
25 اگست 1941 کی صبح، برطانوی اور سوویت افواج نے شمال اور جنوب سے ایران میں داخل ہو گئیں۔ اسے مشرقِ وسطیٰ میں دوسری عالمی جنگ کے حساس ترین واقعات میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کے شاہ رضا پہلوی نے اس پالیسی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم 1941 کے موسمِ گرما میں رونما ہونے والی فوجی پیش رفت نے برطانیہ اور سوویت یونین کے اندازوں کو بنیادی طور پر بدل دیا۔
22 جون 1941 کو جرمنی کی جانب سے سوویت یونین پر حملے کے بعد سوویت یونین جنگ میں برطانیہ کا اتحادی بن گیا اور اس کے ساتھ ہی ایران اتحادی طاقتوں کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔
ایران سوویت یونین کی جنوبی سرحد پر واقع تھا۔ ایران کے ذریعے خلیج تک رسائی ممکن تھی اور اس میں تیل کی ایسی اہم تنصیبات موجود تھیں جو برطانیہ کی جنگی کوششوں کے لیے نہایت اہم تھیں۔ اس کے علاوہ ایران سے گزرنے والی ٹرانس ایران ریلوے کو اس راستے میں تبدیل کیا جا سکتا تھا جس کے ذریعے فوجی سازوسامان، ہتھیار اور غذائی اشیا سوویت فوج، یعنی ریڈ آرمی، تک پہنچائی جا سکیں۔
مسعود رضا خان کا عروج
تاہم اس بحران کی جڑیں اس حملے سے کئی برس پہلے تک پھیلی ہوئی تھیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق ایران قاجار دورِ حکومت میں مرکزی اقتدار کی کمزوری اور بیرونی طاقتوں، خصوصاً برطانیہ اور روس، کی مداخلت کا شکار رہا تھا۔
پہلی عالمی جنگ کے آغاز تک روس کا اثر و رسوخ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ وہ عملاً ایران کے معاملات پر حاوی تھا۔ تاہم جنگ چھڑنے کے بعد روسی افواج شمالی ایران سے واپس چلی گئیں اور ایرانیوں نے مجلسِ شورائے ملی کا تیسرا اجلاس منعقد کیا۔ اس کے فوراً بعد ایران برطانوی، جرمن، روسی اور ترک افواج کے درمیان ایک جنگی میدان میں تبدیل ہو گیا۔
1917 کے بالشویک انقلاب کے بعد نئی سوویت حکومت نے یک طرفہ طور پر روس کے بادشاہ ’زار‘ کو ایران میں حاصل تمام مراعات منسوخ کر دیں۔ اس اقدام کے باعث سوویت حکومت کو ایران میں خاصی ہمدردی حاصل ہوئی۔ بعد ازاں پہلی عالمی جنگ میں جرمنی اور اس کے اتحادیوں کی شکست کے بعد برطانیہ ایران میں اثر و رسوخ رکھنے والی واحد بڑی طاقت بن کر ابھرا۔
سنہ 1919 میں مجلسِ شورائے ملی نے برطانیہ کی جانب سے فوجی اور مالی امداد کی ایک پیشکش مسترد کر دی، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایران عملاً برطانیہ کے زیرِ اثر ریاست (پروٹیکٹوریٹ) بن جاتا۔ بڑھتے بین الاقوامی دباؤ کے ساتھ برطانیہ کو 1921 تک اپنے مشیروں کو ایران سے واپس بلانا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی سال برطانوی سفارت کاروں نے رضا خان کی حمایت کی جو پرشین کوسیک بریگیڈ کے ایک افسر تھے۔ ایک سال قبل رضا خان نے شمالی ایران کے صوبے گیلان میں مرزا کوچک خان کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کو کچلنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ مرزا کوچک خان سوویت طرز کی ایک آزاد جمہوریہ قائم کرنا چاہتے تھے۔
یہ سب احمد شاہ قاجار کے دور میں ہو رہا تھا، جو قاجار خاندان کے آخری بادشاہ تھے۔ انھیں کم عمر اور کمزور حکمران سمجھا جاتا تھا، جبکہ حکومت بھی بدعنوانی اور کمزوری کا شکار تھی۔ اس صورتِ حال نے قوم پرست اور قومی حلقوں میں بے چینی پیدا کی، جو ایران کو غیر ملکی طاقتوں کے زیرِ اثر ایک ریاست کے طور پر دیکھتے تھے۔
21 فروری 1921 کو رضا خان نے سیاسی مصنف اور رہنما سید ضیاء الدین کے ساتھ مل کر تقریباً 1200 افراد کی قیادت میں فوجی بغاوت کی اور انھوں نے تہران پر قبضہ کر لیا۔ ضیاء الدین وزیرِ اعظم بن گئے جبکہ رضا خان نے فوج کی قیادت سنبھال لی۔ چند ہفتوں بعد انھیں وزیرِ جنگ مقرر کیا گیا اور اس حیثیت میں انھوں نے ایک ایسی مرکزی فوج کی تعمیر شروع کی جو ملک بھر میں حکومتی رٹ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
اس دوران برطانیہ نے رضا خان کو ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھنا شروع کیا جو ایران کو متحد رکھ سکتی تھی اور برطانوی مفادات کا تحفظ کر سکتی تھی۔
1921 سے 1925 کے درمیان رضا خان نے پہلے وزیرِ جنگ اور پھر وزیرِ اعظم کی حیثیت سے ایک ایسی فوج تشکیل دی جو ذاتی طور پر ان کی وفادار تھی۔ وہ ایک طویل عرصے سے بدامنی کے شکار ملک میں نسبتاً سیاسی استحکام لانے میں بھی کامیاب رہے۔
اسی دوران احمد شاہ علاج کی غرض سے یورپ چلے گئے۔ رضا خان اور مجلسِ شورائے ملی کے سپیکر کی واپسی کی اپیلوں کے باوجود انھوں نے ایران واپس آنے سے انکار کر دیا۔ احمد شاہ اس وقت کمزور کافی علیل تھے۔
ابتدا میں رضا خان ترکی کے سیکیولر رہنما مصطفیٰ کمال اتاترک کی طرز پر خود کو جمہوریہ کا صدر بنانا چاہتے تھے۔ لیکن انھیں شیعہ علما اور معاشرے کے وسیع حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ انھوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ 1925 میں مجلسِ شورائے ملی نے احمد شاہ کو معزول کر دیا اور بعد ازاں رضا خان نے رضا شاہ پہلوی کے نام سے خود کو ایران کا شاہ مقرر کر لیا۔ یوں ایران کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا اور پہلوی خاندان کی بنیاد پڑی۔
فارس کے بجائے إيران
1935 میں ایرانی حکومت نے غیر ملکی ممالک سے درخواست کی کہ وہ بین الاقوامی مراسلت میں ’فارس‘ کے بجائے ’ایران‘ کا نام استعمال کریں۔ یہ وہی نام تھا جو ایرانی اپنے ملک کے لیے تاریخی طور پر استعمال کرتے آئے تھے۔ مارچ 1935 سے بین الاقوامی سطح پر ملک کا سرکاری نام ’ایران‘ بن گیا۔
تاریخی طور پر ایران کا نام ایک قدیم اصطلاح ہے جس کا مفہوم ’آریاؤں کی سرزمین‘ بتایا جاتا ہے۔
رضا شاہ کے دور میں ایران اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے باعث بعض بیانیوں میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ’ایران‘ نام اختیار کرنا کی ایک وجہ نازی نظریات کا اثر تھا۔ تاہم اس بات کے کوئی معتبر شواہد موجود نہیں کہ اڈولف ہٹلر نے ملک کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہو یا یہ اقدام کسی نازی منصوبے کا حصہ رہا ہو۔ درحقیقت اس نام کو اختیار کرنے کا مقصد بنیادی طور پر ملک کی تاریخی شناخت کو اجاگر کرنا تھا۔
اسی دوران تہران اور برلن کے تعلقات میں نمایاں طور پر بہتری آ رہی تھی۔ رضا شاہ جرمنی کو ایک ایسی یورپی طاقت کے طور پر دیکھتے تھے جس کا ایران میں وہ نوآبادیاتی ریکارڈ نہیں تھا جو برطانیہ اور روس کا تھا۔ وہ جرمنی کے ساتھ تعاون کو ٹیکنالوجی، صنعتی مہارت کے حصول، تجارتی تعلقات میں تنوع پیدا کرنے اور ایران کا جرمنی اور روس پر انحصار کم کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے جنھیں وہ ایران کی آزادی کے لیے مستقل خطرہ تصور کرتے تھے۔
1930 کی دہائی کے وسط تک جرمنی ایران کے اہم ترین اقتصادی شراکت داروں میں سے ایک بن چکا تھا۔ جرمن کمپنیوں کا ایران کے صنعتی اور معدنیاتی منصوبوں میں کردار بڑھا، جبکہ تجارت اور فضائی رابطوں میں بھی اضافہ ہوا۔
1937 میں ایرانی مجلسِ شورائے ملی کے سپیکر نے برلن کا دورہ کیا جہاں انھوں نے اڈولف ہٹلر سے ملاقات کی۔ اسی طرح جرمن حکام نے بھی ایران کے دورے کیے، جبکہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ ہٹلر نے رضا شاہ کو جرمنی کے دورے کی دعوت بھی دی تھی۔
تاہم رضا شاہ اور ہٹلر کے تعلقات جرمنی کے اپنے دیگر اتحادی ممالک جیسے نہیں تھے۔ تاریخی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ 1930 کی دہائی میں ایران اور جرمنی کے تعلقات کا بنیادی محرک اقتصادی مفادات تھے، اور یہ تعاون رضا شاہ کے ریاست اور معیشت کو جدید بنانے کے منصوبے سے جڑا ہوا تھا۔
رضا شاہ نے غیر ملکی طاقتوں سے یکساں فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ وہ برطانیہ اور سوویت یونین کی ایران میں طویل مداخلت کی تاریخ کے باعث ان سے محتاط رہتے تھے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ ایران جرمنی کا تابع بن کر رہ جائے۔
دوسری عالمی جنگ اور ایران کی غیر جانبدار پوزیشن
1939 میں جب دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا تو ایران نے غیر جانب دار رہنے کا اعلان کیا۔ رضا شاہ جانتے تھے کہ جنگ میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کی صورت میں ان کا ملک عالمی طاقتوں کے تصادم کا میدان بن سکتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے جنگ پھیلتی گئی ایران کے لیے غیر جانب داری برقرار رکھنا مشکل ہوتا چلا گیا۔
برطانیہ کا ایرانی تیل پر کافی حد تک انحصار تھا اور خوزستان کی تیل کی تنصیبات غیر معمولی سٹریٹیجک اہمیت کی حامل تھیں۔ دوسری جانب جرمنی کے حملے کے بعد سوویت یونین کو بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان، ہتھیاروں اور خوراک کی ضرورت تھی، اور ان تمام چیزوں کی ترسیل کے لیے ایران سب سے موزوں راستہ تھا۔
اسی لیے ایران اور جرمنی کے درمیان تعلقات لندن اور ماسکو کی تشویش کا باعث بننے لگے۔ ایران میں جرمن ماہرین اور کاروباری شخصیات کی خاصی تعداد موجود تھی اور رضا شاہ نے انھیں ملک سے نکالنے کے برطانوی اور سوویت مطالبات اس حد تک تسلیم نہیں کیے جس سے دونوں طاقتیں مطمئن ہو سکتیں۔
اگرچہ ایران نے بارہا کہا کہ وہ ایک غیر جانب دار ملک ہے اور کسی بھی ایسی جرمن سرگرمی کو روکنے کے لیے تیار ہے جو اس کی غیر جانب داری کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تاہم برطانیہ اور سوویت یونین ایرانی اقدامات کو ناکافی سمجھتے تھے۔
جون 1941 میں جرمنی کے سوویت یونین پر حملے کے بعد اتحادی طاقتوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ انھیں خدشہ تھا کہ جرمنی ایران کی سرزمین یا وہاں موجود اپنے اقتصادی اور سیاسی روابط کو اثر و رسوخ کے لیے استعمال کر سکتا ہے، یا قفقاز کے راستے آگے بڑھ کر اس خطے تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی مسلسل غیر جانب داری سوویت یونین تک برطانوی امداد کی ترسیل میں بھی رکاوٹ بن سکتی تھی۔
25 اگست 1941 کو فوجی کارروائی کا آغاز ہوا۔ تقریباً 40 ہزار سوویت فوجی شمالی ایران میں داخل ہوئے جبکہ قریب 19 ہزار برطانوی فوجی جنوب سے ایران میں داخل ہوئے۔ ایرانی فوج ان دونوں طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔
اگرچہ رضا شاہ نے فوج کی تعمیر و تنظیم پر خاص توجہ دی تھی، لیکن برطانوی اور سوویت افواج افرادی قوت، اسلحے اور تنظیم کے لحاظ سے ایرانی افواج سے کہیں زیادہ برتر تھیں، اور ایرانی مزاحمت جلد ہی دم توڑ گئی۔
رضا شاہ نے اس حملے پر احتجاج کرتے ہوئے اسے ایک غیر جانب دار ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسی دوران ایرانی حکومت نے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ سے بھی اپیل کی کہ وہ برطانیہ اور سوویت یونین پر دباؤ ڈال کر فوجی کارروائی رکوانے میں کردار ادا کریں۔
رضا شاہ نے 25 اگست کی شام ہی روزویلٹ کو ایک تار بھیجی اور درخواست کی کہ وہ ایران کے خلاف ان جارحانہ اقدامات کو روکنے کے لیے مداخلت کریں۔ روزویلٹ نے 2 ستمبر 1941 کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود قبضہ ختم نہ ہو سکا۔
اتحادی طاقتیں اس معاملے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی تھیں۔ برطانیہ کے لیے ایرانی تیل اور خلیج کا تحفظ اولین ترجیحات میں شامل تھا، جبکہ سوویت یونین کے لیے اپنی جنوبی سرحدوں کا دفاع اور رسد کی ترسیل کے ایک محفوظ راستے کا قیام بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔
رضا شاہ کے دور کا اختتام
جوں جوں غیر ملکی افواج کی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی بڑھی گئیں، رضا شاہ کا اقتدار میں برقرار رہنا تقریباً ناممکن ہوتا گیا۔ 15 ستمبر 1941 کو برطانوی اور سوویت افواج تہران میں داخل ہو گئیں، اور اگلے ہی روز رضا شاہ نے اپنے بیٹے محمد رضا پہلوی کے حق میں تخت سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد وہ جلاوطنی اختیار کر کے ملک سے چلے گئے اور 26 جولائی 1944 کو جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ان کی وفات ہو گئی۔
یوں اس شخص کا دورِ حکومت ختم ہوا جو تقریباً دو دہائی قبل ایک مضبوط اور غیر ملکی طاقتوں سے آزاد ایرانی ریاست کی تعمیر کے عزم کے ساتھ اقتدار میں آیا تھا، لیکن ان کی موت سے قبل ایران برطانوی اور سوویت فوجی قبضے کے تحت آ چکا تھا۔
تاہم اتحادی طاقتوں کا مقصد صرف رضا شاہ کو اقتدار سے ہٹانا نہیں تھا۔ وہ سوویت یونین تک رسد پہنچانے کے لیے ایک محفوظ راستہ بھی قائم کرنا چاہتے تھے، جو بعد میں ’پرشین کوریڈور‘کے نام سے مشہور ہوا۔ ایران کی ریلوے لائنیں، بندرگاہیں اور سڑکیں ایک وسیع لاجسٹک نیٹ ورک کا حصہ بن گئیں، جس کے ذریعے فوجی سازوسامان، خوراک اور ایندھن سوویت یونین پہنچایا جاتا۔
جنگ کے اختتام تک لاکھوں ٹن امدادی اور فوجی سامان ایران کے راستے منتقل کیا جا چکا تھا، اور ایران جرمنی کے خلاف جنگ میں سوویت یونین کے لیے بیرونی امداد کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک بن گیا تھا۔
رضا شاہ نے ایران کی غیر جانب داری برقرار رکھنے اور برطانیہ یا سوویت یونین کے زیرِ اثر آنے سے بچنے کی کوشش کی تھی۔ اسی مقصد سے انھوں نے جرمنی کے ساتھ تعلقات بڑھائے تاکہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔
اس کے علاوہ رضا شاہ جرمنی کے لیے نسبتاً نرم گوشہ بھی رکھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ جرمنی نے ایران میں ویسی مداخلت نہیں کی تھی جیسا برطانیہ اور روس نے کیا تھا۔ تاہم اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں تھا کہ رضا شاہ ہٹلر کے اتحادی بن گئے تھے یا انھوں نے نازی جرمنی کی پالیسیوں کو اختیار کر لیا تھا۔
برطانیہ اور سوویت یونین کے ساتھ سہ فریقی اتحاد
رضا شاہ کے تخت چھوڑنے کے بعد ملک کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ محمد رضا پہلوی جب ایران کے شاہ بنے تو وہ نوجوان تھَ جبکہ ایران میں بدستور غیر ملکی فوجی موجود تھے۔
جنوری 1942 میں ایران نے برطانیہ اور سوویت یونین کے ساتھ سہ فریقی اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت غیر ملکی افواج کی موجودگی اور ایرانی سرزمین کو رسد کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کے اصول طے کیے گئے۔ اس کے بدلے اتحادیوں نے ایران کی خودمختاری کا احترام کرنے اور جنگ کے بعد طے شدہ شرائط کے مطابق انخلا کرنے کا وعدہ کیا۔
تاہم غیر ملکی افواج کے قبضے کے اثرات فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے ساتھ ختم نہیں ہوئے۔ اس قبضے نے رضا شاہ کی جانب سے قائم کیے گئے مرکزی اقتدار کو کمزور کر دیا، اور مختلف سیاسی و سماجی قوتوں کو زیادہ سرگرمی کا موقع ملا، خصوصاً شمالی علاقوں میں جو سوویت اثر و رسوخ کے تحت تھے۔
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سوویت یونین نے بعض شمالی علاقوں سے متوقع وقت پر انخلا سے انکار کر دیا، جبکہ ایرانی آذربائیجان میں سیاسی بحران بھی پیدا ہو گیا۔ اس طرح ایران بڑی طاقتوں کے درمیان اس کشمکش کے ابتدائی میدانوں میں شامل ہو گیا جو بعد میں سرد جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔
یہ حملہ ایرانی تاریخ میں ایک اہم موڑ کا آغاز بھی ثابت ہوا۔ رضا شاہ کا دور ختم ہو گیا، محمد رضا پہلوی اقتدار میں آئے، اور ایران دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت یونین کو اسلحہ، خوراک اور دیگر سامان کی فراہمی کے لیے ایک اہم راہداری بن گیا۔ یوں ملک خود بھی اتحادیوں کی فوجی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ بن گیا۔
اس سارے معاملے کی ستم ظریفی یہ تھی کہ ایران نے جنگ سے دور رہنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ خود جنگ کا حصہ بن گیا۔ اس کے جغرافیائی محلِ وقوع، تیل کی دولت اور مواصلاتی نیٹ ورک نے اسے ایسی ریاست بنا دیا جسے اتحادی نظرانداز نہیں کر سکتے تھے۔ دوسری جانب جرمنی کے ساتھ قربت، جسے رضا شاہ برطانیہ اور سوویت یونین پر انحصار کم کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے، بالآخر ان پر دباؤ ڈالنے کا جواز بنی۔
اسی لیے ایران پر برطانوی اور سوویت حملہ مشرقِ وسطیٰ میں دوسری عالمی جنگ کے اہم ترین باب میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو بڑی طاقتوں نے ایک غیر جانبدار ملک کی سرزمین پر لڑی، اس کے حکمران کو اقتدار سے ہٹایا، اس کے سیاسی نظام کی تشکیلِ نو کی، اور ایران کو نازی جرمنی کے خلاف جنگ میں ایک فیصلہ کن رسدی شہ رگ میں تبدیل کر دیا۔ اس کے اثرات دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے لے کر سرد جنگ کے ابتدائی برسوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔