آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیرانہ ہلز پر ڈرون، سکردو پر بمباری کا منصوبہ اور خراب موسم: انڈیا کے سابق چیف آف ڈیفینس فورسز کا خطاب تنقید کی زد میں کیوں ہے؟
- مصنف, زبیر اعظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انڈیا کے سابق چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل انیل چوہان نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران پیش آنے والے واقعات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کی وجہ گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب اور اس میں کیے جانے والے چند انکشافات اور دعوے ہیں۔
اس بیان میں جنرل انیل چوہان نے جہاں جنگ بندی سمیت سکردو میں بمباری کے منصوبے پر بات کی وہیں انھوں نے کیرانہ ہلز سے متعلق بھی ایک بیان دیا جو خصوصی طور پر بحث کی وجہ بن چکا ہے۔
وویکناڈہ انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی تقریب سے منگل کے دن خطاب کے دوران جنرل انیل چوہان نے ایک موقع پر کہا کہ ’ایک چھوٹا سا واقعہ کیرانہ ہلز کے بارے میں ہوا تھا جس کے بارے میں اس وقت ایئر مارشل بھارتی سے سوال کیا گیا تھا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سرگودھا کے قریب واقع کیرانہ ہلز اس وقت غیر مصدقہ خبروں کی زینت بن گئی تھیں جب گزشتہ سال انڈین میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈین فضائی حملوں کے دوران پاکستان کے کیرانہ ہلز پر حملہ کیا گیا تھا جہاں پر مبینہ طور پر پاکستان کے جوہری میزائلوں کا ایک ذخیرہ ہے۔
12 مئی کو ایک پریس بریفنگ کے دوران انڈین فوج کے ڈائریکٹر جنرل ایئر آپریشنز ایئر مارشل اے کے بھارتی نے پاکستان میں جوہری تنصیب یا فیسیلٹی کو نشانہ بنانے کی خبروں کی تردید کی تھی۔ اس بریفنگ کے دوران صحافی کی جانب سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کی تردید یا تصدیق کر سکتے ہیں جن میں سرگودھا کے نزدیک کیرانہ ہلز میں نیوکلیئر فیسیلیٹی کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں؟
اس پر ایئرمارشل اے کے بھارتی کا کہنا تھا کہ ’آپ کا ہمیں یہ بتانے کا شکریہ کہ کیرانہ ہلز میں پاکستان کی نیوکلیئر فیسلیٹی ہے، ہمیں یہ معلوم نہیں تھا۔ ہم نے کیرانہ ہلز کو نشانہ نہیں بنایا، وہاں پر جو کچھ بھی ہے (اس سے قطع نظر)۔‘
جنرل انیل چوہان نے اس واقعے کے تقریبا 15 ماہ بعد اسے پھر سے اپنے خطاب میں یہ کہتے ہوئے جگہ دی کہ ’اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا کیرانہ ہلز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس جگہ پر ان (پاکستان) کی جوہری تنصیبات موجود ہیں۔ ایئر مارشل بھارتی نے درست طور پر واضح کیا تھا کہ ہم نے کیرانہ ہلز کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس کے بعد جنرل انیل چوہان نے کہا کہ ’شاید میں اس کی وضاحت کر سکوں کیوں کہ ہم سرگودھا پر بہت سا لوئیٹرنگ مونیشن استعمال کر رہے تھے اور کیرانہ ہلز سرگودھا کے شمال میں دس کلومیٹر دور واقع ہے۔‘
یاد رہے کہ سرگودھا میں پاکستانی فضائیہ کا مصحف بیس واقع ہے۔
جنرل انیل چوہان نے کہا کہ ’انڈین فوج کی جانب سے بھیجا جانے والا لوئیٹرنگ ایمونیشن سرگودھا میں اور اس کے آس پاس ریڈار تلاش کر رہا تھا جس کا ایک لائف ٹائم ہے یعنی دو گھنٹے تک اسے ہدف نہیں ملا تو یہ کہیں گر کر پھٹ جائے گا۔‘
جنرل انیل چوہان کے مطابق ’ایسا ممکن ہے کہ ایسا ہی ایک ڈرون گرا ہو اس پہاڑی پر۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستانی میڈیا نے کچھ تصاویر دکھائیں جن میں کیرانہ ہلز سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔‘
لوئیٹرنگ مونیشن کی اصطلاح ایسے ڈرونز کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ہدف تلاش کرنے کے بعد اسے نشانہ بناتے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے گزشتہ سال دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا کی طرف سے پاکستان میں اسرائیلی ڈرون بھیجے گئے اور فوج نے 77 ایسے ڈرون مار گرائے تھے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ان ڈرونز، جو مبینہ طور پر اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرون ہیں، کو مختلف طریقوں سے گرانے جانے کا دعوی کیا گیا تھا۔ دوسری جانب انڈیا نے دعویٰ کیا تھا ان ڈرون سٹرائیکس کے نتیجے میں پاکستان میں متعدد دفاعی ریڈار سسٹم ناکارہ بنائے گئے جن میں سے ایک لاہور میں تھا۔ تاہم پاکستان نے اس کی تردید کی تھی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، اٹک، راولپنڈی، بہاولپور، میانو چھور اور کراچی کی جانب ڈرون بھیجے، جنھیں تباہ کر دیا گیا۔‘
پاکستان کی جانب سے کیرانہ ہلز پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا گیا تھا۔
جنرل انیل چوہان کی وضاحت پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
جنرل انیل چوہان کی جانب سے سامنے آنے والے اس دعوے یا وضاحت کے بعد مختلف قسم کی آرا سامنے آ رہی ہیں جن میں کئی سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
الزبتھ تھریلکلڈ سابق امریکی سفارت کار اور سٹمسن سینٹر میں جنوبی ایشیا امور کی ڈائریکٹر ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کے سابق چیف آف ڈیفینس فورسز کہتے ہیں کہ ایک ایسے لوئیٹرنگ مونیشن نے کیرانہ ہلز کو نشانہ بنایا جس کا ایندھن ختم ہو چکا تھا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ تنازع میں شدت پیدا کرنے والے ایک ذریعے کو سمجھا نہیں گیا کیوں کہ ایک ڈرون کی جانب سے غلطی سے ہونے والا حملہ ایک حساس جوہری تنصیب پر سوچا سمجھا حملہ تصور کیا جا سکتا تھا۔‘
ڈیکر اویلیتھ سینٹر فار نیول انالسس میں جوہری امور کے تجزیہ کار ہیں۔ انھوں نے جنرل انیل چوہان کے بیان پر چند سوال اٹھائے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا ممکن ہے لیکن یہ بہت عجیب ہے اور بہت سے سوالوں کو جنم دیتا ہے۔‘
ڈیکر سوال کرتے ہیں کہ ’ڈرون اپنے ہدف سے دس کلومیٹر دور کیوں اڑ رہے تھے جبکہ واضح طور پر ہدف ایک عسکری تنصیب تھا؟ اور کیا اس کا ایندھن ختم ہو گیا تھا اور بس وہ نیچے گر گیا؟ کیا اس ڈرون میں کوئی ایسا سسٹم تھا جیسا ٹوموہاک میزائل میں ہوتا ہے کہ ہدف نہ ملے تو کم آبادی والے علاقے میں گر جائے؟‘
ڈیکر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’اگر ایسا نہیں تھا تو پھر یہ ڈرون گر کر پھٹا کیوں جو یہ واضح کرتا ہے حفاظتی نکات کی کمی موجود ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ کام منصوبہ بندی کے دوران ہونا چاہیے تھا کہ اس طرح کی ممکنات کو جانچا جاتا کیوں کہ اہداف رکھتے وقت جوہری تنصیبات کی نشان دہی ایک اہم معاملہ ہوتا ہے۔‘
ڈیکر کہتے ہیں کہ ’معلومات محدود ہیں لیکن اگر یہ سچ ہے تو پھر یا تو منصوبہ بندی کے دوران بہت سے معاملات کو نظر انداز کیا گیا یا پھر کارروائی کے دوران ناکام ہوئیں۔‘
سویڈن کی اپسلا یونیورسٹی کے پروفیسر اشوک سوین نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’انڈیا کا اسرائیلی ڈرون مئی 2025 میں پاکستان کی جوہری تنصیبات کے قریب ریڈار تلاش کر رہا تھا لیکن اس کا ایندھن ختم ہو گیا اور غلطی سے کیرانہ ہلز پر گر گیا۔ اگر یہ واقعی سچ ہے تو پھر محدود ایندھن کے ساتھ دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کو بھیجنا ایک ممکنہ جوہری جنگ کو شروع کرنے کا سب سے احمقانہ طریقہ تھا۔‘
سوشل میڈیا پر اس بحث کے دوران چند صارفین نے اس واقعے کی جانب بھی توجہ دلائی جب انڈیا کی جانب سے ایک براہموس میزائل حادثاتی طور پر پاکستان کی حدود میں فائر ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’تین افسران کا مروجہ طریقۂ کار سے ہٹنا میزائل کے حادثاتی فائر کی وجہ بنا‘ جس کے بعد انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ نو مارچ 2022 کو پیش آیا تھا اور یہ میزائل پاکستان کے شہر میاں چنوں کے قریب گرا تھا تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تھا کیونکہ اس میزائل کا وار ہیڈ فعال نہیں تھا۔
پاکستان نے کہا تھا کہ انڈیا نے اس 'انتہائی غیر ذمہ دارانہ واقعے' کو بظاہر سردخانے میں ڈال دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں پاکستان نے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ بھی دہرایا گیا تھا۔
سکردو پر بمباری کا منصوبہ اور موسم
جنرل انیل چوہان نے اپنے خطاب کے دوران ایک اور انکشاف کرتے ہوئے سکردو پر بمباری کے منصوبے کا ذکر کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایک وقت پر جب پاکستانیوں نے فون اٹھایا اور کہا کہ وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو فضائیہ کے سربراہ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا وہ سرگودھا پر حملہ کریں تو میں نے کہا جی، بلکل۔‘
’میں نے ان سے کہا کہ دو اور اہداف کی نشان دہی کریں اور انھوں نے جن اہداف کی نشان دہی کی ان میں سے ایک سکردو تھا۔ ہم نے ان کو یس کہہ دیا تھا لیکن کچھ دیر بعد وہاں سکردو میں موسم خراب تھا اور ہدف بھولاری بنا لیا گیا جو کراچی کے قریب ہے۔‘
جنرل انیل چوہان کا کہنا تھا یہ سب کچھ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت طے کیا جا چکا تھا۔
جنرل انیل چوہان نے اسی تقریب کے دوران جنگ بندی پر بھی بات کی اور کہا کہ ’ہم نے وقت کا تعین خود کیا۔ ہمارے ڈی جی ایم او نے کہا کہ وہ تین بجے تک دستیاب نہیں۔ پھر پانچ بجے کا ہم نے طے کیا اور دونوں افواج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان جنگ بندی طے ہوئی۔ میں کسی اور کا کردار نہیں دیکھتا۔ یہ بات امریکیوں تک کیسے لیک ہوئی کہ انھوں نے ہمارے اعلان سے پہلے ٹویٹ کر دیا تو مجھے یقین ہے کہ ایسا ہماری طرف سے نہیں ہوا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ بندی پر سب سے پہلے امریکی حکام نے اعلان کیا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ بارہا یہ دعوی کر چکے ہیں کہ یہ تنازع انھوں نے رکوایا تھا تاہم انڈیا کی حکومت اس دعوعے کی تردید کرتی رہی ہے۔