بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدت پسندوں کی کارروائیاں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے شہر خاران میں نامعلوم مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
دو دیگر اضلاع چاغی اور قلات میں چھ مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ مستونگ میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا گیا۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ ’گزشتہ شب کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے خاران شہر میں ناکہ بندی کی کوشش کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار الرٹ تھے اور انھوں نے فوری کارروائی کی جس کی وجہ سے حملہ آور مزید کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے اور فرار ہوگئے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔‘
خاران کے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ’رات دس بجے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں شدید فائرنگ اور دھماکوِں کی آوازیں سنائی دیں جس سے شہریوں میں خوف ہراس پھیل گیا۔‘
خاران میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے شہر میں اندر آنے اور جانے کے مختلف راستوں پر ناکہ بندی کی کوشش کی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’مسلح افراد اور پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کا سلسلہ رات دیر تک جاری رہا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مسلح افراد نے بیسیمہ پولیس چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا اور وہاں سے چار پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا تاہم بعد میں ان کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر چھوڑ دیا گیا۔‘
ادھر خاران سے متصل ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے گزشتہ روز فائرنگ کرکے چار مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
چاغی میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے گاڑیوں کو چہتر کے علاقے میں نقصان پہنچایا۔‘
ضلع قلات میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے دو مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا۔
قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ نے فون پر بتایا کہ ’دونوں گاڑیوں میں سیمنٹ لوڈ تھا فائرنگ سے ان کی ٹائروں کو نقصان پہنچا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کارروائی کی جس کی وجہ سے حملہ آور پہاڑوں کی جانب فرار ہوگئے۔‘
ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا۔
ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کوئٹہ کراچی شاہراہ پر چوتو کے مقام پر پل کو دھماکے سے جزوی طور پر نقصان پہنچا لیکن ٹریفک کی روانی متائثر نہیں ہوئی۔‘