سارہ خلیفہ: مصر میں خاتون ٹی وی اینکر کو سزائے موت کیوں سنائی گئی؟

    • مصنف, پاؤلین کولا اور یوسف طحیٰ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

مصری ٹی وی اینکر سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو منشیات سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

سرکاری اخبار الاہرام کے مطابق، وہ ایک مجرمانہ گروہ کا حصہ تھے جو منشیات بنانے میں استعمال ہونے والے اجزا فروخت کی نیت سے درآمد کرتا تھا۔

ان کے پاس غیر قانونی آتشیں اسلحہ بھی موجود تھا۔

39 سالہ سارہ خلیفہ اپنے ٹی وی پروگرام ’مشن امپاسیبل‘ کی وجہ سے معروف ہیں، جو جرائم سے متعلق موضوعات پر مبنی تھا۔

انھوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

مزید نو شریک ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ سات افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔

سارہ خلیفہ کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔

اس فیصلے کا اعلان پہلی بار گزشتہ ماہ کیا گیا تھا۔ تاہم، عدالت کی جانب سے مصر کے گرینڈ مفتی سے مذہبی رائے حاصل کیے جانے کے بعد، جو سزائے موت کے مقدمات میں ایک قانونی تقاضا ہے، اسے ایک ماہ بعد ہی حتمی طور پر برقرار رکھا گیا۔

مقدمے کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ حکام نے 750 کلوگرام (1,653 پاؤنڈ) سے زیادہ منشیات اور انھیں تیار کرنے کے لیے درآمد کیا گیا خام مال قبضے میں لیا تھا۔

الاہرام کے مطابق، 20 گواہوں نے استغاثہ کو بیانات دیے تھے، اس کے علاوہ الیکٹرانک شواہد بھی پیش کیے گئے جن میں گفتگو اور ویڈیو کلپس شامل تھے۔

سرکاری اخبار اخبار الیوم کے مطابق، گزشتہ ستمبر میں عدالت میں پیشی کے دوران جب جج نے ان سے ان کے مبینہ کردار کے بارے میں پوچھا تو خلیفہ نے کہا کہ انھوں نے اس وقت تک کبھی کوئی منشیات نہیں دیکھی تھی جب تک کہ انسدادِ منشیات اتھارٹی کے دفتر میں ان کی تصویر نہیں کھینچی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس سال کے دوران 492 سزائے موت سنائی گئیں، جن میں سے 23 پر عمل درآمد کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، ان ملزمان کو ریپ اور منشیات کی سمگلنگ کے مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا، جو ’دانستہ قتل‘ کے زمرے میں نہیں آتے، جبکہ بین الاقوامی قانون اور معیارات کے تحت سزائے موت کا استعمال اسی جرم تک محدود ہونا چاہیے۔