اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح جنوبی لبنان کے قصبے دیر الزہرانی کے ایک مخصوص علاقے کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت کی، جس کے بعد اس نے کہا کہ ’وہاں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف حملے کیے جائیں گے۔‘
اسرائیلی فوج کی جانب سے دیر الزہرانی کے ایک مخصوص علاقے پر بمباری کی وجہ سے چار افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئِ ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’حزب اللہ کی سرگرمیاں اسے اس کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور فوج حزب اللہ کے ایک عسکری مرکز کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘
بعدازاں حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار نے رپورٹ کیا کہ ’اسرائیلی فضائی حملوں میں دیر الزہرانی کو نشانہ بنایا گیا۔‘
اس سے ایک روز قبل اتوار کو جنوبی لبنان کے نبطیہ ریجن میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تھے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے امریکہ اور عالمی برادری سے حملے رکوانے کے لیے ’فوری اقدامات‘ کرنے کا مطالبہ کیا۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق نبطیہ شہر کے قریب قصبے نبطیہ الفوقا میں دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ چند کلومیٹر دور واقع عرب سلیم میں دو خواتین ہلاک ہوئیں۔ وزارت کے مطابق مختلف علاقوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔
حملوں میں کئی مکانات تباہ اور ایک سرکاری اداروں کی عمارت کو نقصان پہنچا، جبکہ نبطیہ الفوقا میں صلاح غندور ہسپتال بھی تباہ ہوگیا اور اب سروس فراہم نہیں کر رہا۔
وزارتِ صحت نے ہسپتال کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی انسانی قانون کی ایک اور سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’یہ حملے حزب اللہ کی جانب سے جنوبی لبنان میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ ’سکیورٹی زون‘ میں اس کی فورسز کی جانب دو ڈرون بھیجے جانے کے جواب میں کیے گئے۔‘
اسرائیلی فوج کے مطابق انھوں نے ایک ڈرون پر فائرنگ کرکے اسے روک لیا، جبکہ دوسرے ڈرون کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔‘ فوج نے ڈرونز کے بھیجے جانے کو ’جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے کسی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔‘
حزب اللہ نے ان دونوں ڈرونز کو بھیجنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی اسرائیلی فوج کے دعوے پر فوری ردِعمل دیا۔
بعدازاں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے گوداموں کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ انھیں ’سکیورٹی زون میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات دینے‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں ایک عمارت کے اندر واقع حزب اللہ کے کمانڈ پوسٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو اس سے قبل ہسپتال کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
فوج کا کہنا ہے کہ ’حزب اللہ کے ارکان ماضی میں اس مرکز سے کام کرنے کے علاوہ اسے نگرانی اور توپ خانے سے متعلق کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔‘