’والد میرا جنسی استحصال کرتے اور پھر بہلانے کے لیے مجھے چاکلیٹ دیتے‘

،تصویر کا ذریعہSara Martínez
- مصنف, ویلینٹینا اوروپزا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انتباہ: اس کہانی میں موجود کچھ تفصیلات بعض قارئین کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتی ہیں۔
سارہ مارٹینیز برسوں تک ہونے والے جنسی اور جذباتی استحصال کا الزام اپنے والد پر عائد کرتی ہیں اور اسی وجہ سے انھوں نے اپنے 28 سالہ بھائی موئیسس پر بارہا زور دیا کہ وہ اپنے والد کا سامنا نہ کریں۔
یہ مئی 2025 کی بات ہے جب یوراگوئے کے دارالحکومت مونٹیویڈیو کے مضافات میں رہنے والے موئیسس کو معلوم ہوا کہ ان کے والد کارلوس مبینہ طور پر ان کی دونوں بہنوں اور والدہ کو عرصہ دراز تک جنسی اور جسمانی استحصال کا نشانہ بناتے رہے۔
اس کے اگلے ہی روز موئیسس نے اپنے والد کو 14 گولیاں ماریں اور دو دن تک ان کی لاش پر پہرہ دینے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔
اب موئیسس کو 12 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ یہ مقدمہ یوراگوئے کے عوام کے لیے یوٹیوب پر براہِ راست نشر کیا گیا اور اس نے ملک میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔
موئیسس کے بہن بھائی اور ان کی والدہ ان کی معافی کے حق میں ہیں اور اب وہ ان کی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSara Martínez
27 سالہ سارہ بی بی سی کو جب وہ تکلیف دہ واقعات سنا رہی تھیں جو فائرنگ اور قتل کا سسب بنے تو ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
سارہ کے مطابق اسی وقت انھیں معلوم ہوا کہ برسوں تک کارلوس نے موئیسس کو بھی نہ صرف مارا پیٹا بلکہ جسمانی استحصال کا نشانہ بھی بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وہ کہتی ہیں کہ ’میں کبھی پوری طرح نہیں سمجھ سکی تھی کہ وہ اپنے اندر کتنا غم و غصہ پالے ہوئے تھا۔ بہت سی باتیں ہمیں ان کے مقدمے کے دوران ہی معلوم ہوئیں۔‘
سارہ کے مطابق موئیسس اور ان کی بہن اپنے والد سے بہت زیادہ خوفزدہ تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ان کی دہشت ہر وقت ہم پر سوار رہتی تھی حتیٰ کہ جب وہ موجود نہیں ہوتے تھے تب بھی ہمیں ان سے ڈر لگتا تھا۔‘
ان کے مطابق ’وہ صبح سویرے ہمیں باتھ روم لے جا کر شاور چلاتے اور ہمیں گھنٹوں تک ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑا رکھتے۔‘
سارہ کے مطابق ان کے والد کارلوس نے مبینہ طور پر ان دونوں بہنوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے موئیسس کو بتایا کہ ہر بار اس ظلم کے بعد ان کے والد روتے اور معافی مانگتے تھے اور پھر انھیں بہلانے کے لیے چاکلیٹ اور کیریمل سے بنی مٹھائی ’الفجور‘ لا کر دیتے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اب تو اس کو کھانے کا سوچ کر میں کانپ جاتی ہوں۔ اس وقت میں خود کو قصوروار محسوس کرتی تھی۔ مجھے لگتا تھا جیسے میں صرف الفجور کھانے کے لیے انھیں اپنے ساتھ یہ ظلم کرنے دے رہی ہوں۔‘
سارہ کہتی ہیں کہ انھیں ’تقریباً 60 ایسے مواقع یاد ہیں جب رات کے وقت والدہ کے کام پر جانے کے بعد ان کے والد نے ان کا جنسی استحصال کیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے یہ گنتی اس لیے کی کہ تب میں خود سے کہتی تھی کہ ایک دن مجھ میں ہمت ہوگی کہ میں اس کے بارے میں بات کر سکوں۔‘
موئیسس مارٹینیز اس وقت اپنے والد کے قتل کے جرم میں 12 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUruguayan Press Association
12 سال کی عمر میں جب سارہ نے کارلوس کو مبینہ طور پر اینا کے ساتھ جنسی استحصال کرتے دیکھا تو انھوں نے سکول میں اپنے والد کی شکایت کی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک کاغذ پر ’جنسی استحصال‘ (sexual abuse) لکھا تھا اور وہ میں نے اس وقت اپنی قریبی دوست کو دے دیا۔‘
وہ مزید بتاتی ہیں کہ ایک دوسری ہم جماعت نے پھر وہ کاغذ ہیڈ مسٹریس تک پہنچایا۔
سارہ کے مطابق اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کئی تکلیف دہ تجربات پر مشتمل تھا خاص طور پر فارنزک ماہرین کے سامنے ان سے پوچھ گچھ کے دوران کئی تکلیف دہ باتیں دہرانی پڑیں۔
تحقیقات کے بعد کارلوس کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی لیکن انھوں نے اس میں سے صرف ایک سال ہی جیل میں گزارا۔
سارہ کہتی ہیں ’میرے لیے یہ کافی نہیں تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ میرے والد نے تین سال سے زیادہ عرصے تک مجھے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔‘
’میرے والد ایک درندہ تھے۔ انھوں نے جو کہانی سنائی، اس میں خود کو انھوں نے ایک بے بس شخص کے طور پر پیش کیا جو نوجوانی میں گھر چھوڑ گئے کیونکہ ان کے اپنے والد نے ان کی بہن کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔‘
سارہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کارلوس کو جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ کبھی اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
لیکن سارہ کہتی ہیں کہ ان کے والد اس وقت بھی ان کے سکول آتے رہے جب وہ کم عمر تھیں اور جب وہ بالغ ہوئیں تو ان کے کام کی جگہ پر بھی آتے رہے۔

،تصویر کا ذریعہSara Martínez
سارہ بتاتی ہیں کہ ان کے خاندان میں کسی نے بھی ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کی حقیقت کے بارے میں کبھی بات نہیں کی جن کا وہ سب شکار ہوئے تھے۔
سارہ کے مطابق اپنے والد کی جیل سے رہائی کے بعد موئیسس ان کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا چاہتے تھے۔
لیکن جب ان کی والدہ مرسیڈیز پریرا نے موئیسس کو برسوں کی مبینہ زیادتی کا ذکر کر کے کارلوس کی دھمکیوں سے متعلق بتایا تو موئیسس فوراً اپنی بہنوں سے بات کرنے کے لیے ان کے پاس گئے۔
سارہ کہتی ہیں کہ اسی بات چیت کے بعد انھوں نے اپنے والد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’وہ اپنے والد سے ملنا چاہتے تھے تاکہ ان سے معافی مانگنے کو کہیں اور انھیں بتائیں کہ وہ دوبارہ کبھی ہمارے سامنے نہ آئیں۔‘
’میں نے اس دن موئی (موئیسس) کو بہت سی باتیں بتائیں تاکہ اسے بتا سکوں کہ ہمارے والد کس حد تک جا سکتے تھے۔ میرا مقصد اسے جانے سے روکنا تھا لیکن وہ پھر بھی گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہSara Martínez
یوراگوئے میں گھریلو تشدد کے مقدمات میں ریاست کے کردار پر بحث
اس مقدمے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جج ماریا نویل اوڈریوزولا نے وضاحت کی کہ انھوں نے یوراگوئے کے فوجداری ضابطے کے آرٹیکل 36 کے تحت دی جانے والی عدالتی معافی کو مسترد کر دیا۔
یہ معافی اس صورت میں لاگو ہوتی ہے جب قتل ’گھریلو تشدد کے نتیجے میں ہونے والی مسلسل اذیت سے پیدا ہونے والے شدید صدمے‘ کی حالت میں کیا گیا ہو۔
موئیسس کے وکیل روڈریگو رے کے مطابق چونکہ 15 سال تک کسی نے بھی کارلوس مارٹینیز کے خلاف رپورٹ درج نہیں کروائی اس لیے جج نے کہا کہ خاندان نے ابتدا میں کسی حفاظتی طریقہ کار سے متعلق رجوع نہیں کیا۔‘
موئیسس کی سزا نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا اور یوراگوئے میں گھریلو تشدد کے مقدمات میں ریاست کے کردار پر قومی سطح پر بحث شروع ہو گئی۔
یہاں تک کہ یوراگوئے کے صدر یاماندو اورسی نے اینا اور سارہ کو ایک نجی ملاقات کے لیے مدعو کیا۔
سارہ کہتی ہیں کہ جب وہ اپنے بھائی کی گرفتاری کے دن پولیس سٹیشن گئیں تو انھوں نے اپنے والد کی لاش نہیں دیکھی۔ وہ موئیسس سے بھی نہیں مل سکیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب ہمیں اپنے بیانات دینے کے لیے لے جایا گیا تو وہ ایک سیل میں تھے جہاں ہم انھیں دیکھ نہیں سکتے تھے لیکن انھوں نے مجھے ایک پیغام بھیجا کہ ’اب میں بنا خوف کے ’الفجور‘ کھا سکتی ہوں۔‘


























