کشیدگی کے سائے میں انڈیا اور پاکستان کے ’رابطے‘: سخت گیر بیانیے کے درمیان مذاکرات کی باتوں کا سرحد پار خیرمقدم

،تصویر کا ذریعہKAGENMI/GETTY IMAGES
- مصنف, روحان احمد، مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اُردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
انڈیا میں قوم پرست جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سیکریٹری جنرل اور پھر انڈین فوج کے سابق سربراہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہ کرنے کے بیانات کے بعد جہاں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے انڈیا میں اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کے حق میں اُٹھتی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے وہیں انڈیا کے ساتھ کسی بھی ’بیک چینل یا ٹریک ٹو‘ رابطوں سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے تبصرے سے گریز کیا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے تعلقات مثالی تو کبھی نہیں رہے لیکن 2019 کے بعد سے ان میں مسلسل تنزلی ہی دیکھی گئی ہے۔
فروری 2019 میں انڈیا کی پاکستان میں فضائی کارروائی اور پھر اسی برس اگست میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور جموں و کشمیر کو انڈیا میں مرکزی انتظام والا خطہ بنانے کے اقدامات کے بعد سے اپریل 2025 میں پہلگام میں شدت پسندوں کے حملے اور اس کے نتیجے میں مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے مابین چار روزہ لڑائی تک بات کسی بھی مرحلے پر بنتی نظر نہیں آئی۔
اس تنازع کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارت کاری تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، سرحد بند ہے، کرکٹ تعلقات منقطع ہیں اور تجارت اور سندھ طاس معاہدہ بھی معطل ہے۔
اس لڑائی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی دوریاں مزید بڑھیں جس سے باعث معمولات کی بحالی کی گنجائش بھی کم رہ گئی تاہم حال ہی میں انڈیا میں آر ایس ایس کے رہنما دتاتریہ ہوسبالے کے انٹرویو نے تعلقات کے منجمد تالاب میں ایک پتھر پھینکا ہے۔
دتاتریہ ہوسبالے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انڈیا کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں اور ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری جنرل نے دونوں ممالک کے درمیان جمود کو توڑنے میں ’عوام سے عوام تک‘ رابطے کو کلیدی قرار دیا اور کہا کہ اب اسے زیادہ سے زیادہ آزمایا جانا چاہیے۔
انڈیا میں آر ایس ایس رہنما کے انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی اس تجویز کو بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کو انڈیا کے سابق آرمی چیف منوج نروانے نے بھی آر ایس ایس رہنما کے اس موقف کی تائید کی کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انھوں نے کہا کہ دونوں طرف کے عوام کے درمیان رابطے اور تعلقات بہتر بنانے سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ سرحد کے دونوں طرف عام لوگ رہتے ہیں جن کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان۔ عام آدمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جب عوام کے درمیان دوستی ہوتی ہے تو ممالک کے درمیان بھی بہتر تعلقات قائم ہوتے ہیں۔
جنرل نروانے نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر رابطے ہونے چاہییں، چاہے وہ ’ٹریک ٹو‘ سفارت کاری کے ذریعے ہوں یا کھیلوں کے مقابلوں کے ذریعے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر او سابق وزیرِ اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھی ان تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے ذریعے دیرپا امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
فاروق عبداللہ نے آر ایس ایس لیڈر کے بیان کو ایک مثبت تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مسائل کو محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا رجحان ظاہر ہوتا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر میں مستقل امن کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا ضروری ہے۔ اُنھوں نے سابق انڈین وزیر اعظم اور بی جے پی لیڈر اٹل بہاری واجپئی کا یہ قول یاد دلایا ’دوست بدلے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں۔‘
تاہم حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے آر ایس ایس کے رہنما کے بیان کے وقت اور مقصد پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی بات اپوزیشن کی جانب سے کی جاتی تو انہیں ’غیر ملکی ایجنڈا چلانے والے‘ یا ’اینٹی نیشنل‘ قرار دے دیا جاتا۔
بعض اپوزیشن رہنماؤں نے آر ایس ایس لیڈر کے اس بیان کے پیچھے ممکنہ امریکی دباؤ کی طرف بھی اشارہ کیا۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر جے رام رمیش نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ حالیہ دورہ امریکہ نے دتاتریہ ہوسبالے اور آر ایس ایس دونوں کو متاثر کیا ہو۔
کانگریس کے ایک اور سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر منیش تیواڑی نے کہا کہ کیا پاکستان نے اس بات کا کوئی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ وعدوں کی پاسداری کرے گا جن میں اس کے وزرائے اعظم اور فوجی قیادت کی جانب سے یہ یقین دہانی شامل تھی کہ پاکستان دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال نہیں کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images
’اُمید ہے کہ اس طرح کی مزید آوازوں کی راہ ہموار ہو گی‘
انھی بیانات کے دوران انڈین میڈیا میں کچھ ایسی اطلاعات بھی آتی رہی ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان 'بیک ڈور' رابطے جاری ہیں۔ یہ بیانات ایسے وقت میں آئے تھے جب میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے سابق فوجی افسران اور سفارتکاروں نے گذشتہ تین ماہ کے دوران کم از کم دو بار قطر میں ملاقاتیں کی ہیں۔
انھیں 'ٹریک ٹو' روابط قرار دیا جا رہا ہے اور بی بی سی کو دو غیر سرکاری ذرائع نے پاکستان اور انڈیا سے باہر منعقد ہونے والی کم از کم دو 'ٹریک ٹو میٹنگز' کی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقاتیں گذشتہ برس مئی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد ہوئی تھیں۔
رازداری کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ذرائع نے ان اجلاس میں ہونے والی تفصیلات کو منظرِ عام پر لانے سے گریز کیا ہے۔ خیال رہے کہ ٹریک ٹو میٹنگز غیرسرکاری سطح پر منعقد کی جاتی ہیں، جن میں اکثر ریٹائرڈ یا غیرسرکاری شخصیات حصہ لیتی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان بیک ڈور یا ٹریک ٹو سفارتکاری کی بازگشت ہو، ماضی میں بھی دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات کے دوران ایسے رابطوں کی تصدیق ہوتی رہی ہے۔
انڈین حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تاہم جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اس بارے میں سوال پر کہا کہ کہ اگر اس حوالے سے بات کی جائے تو ’پھر یہ بیک چینل نہیں رہے گا۔‘
ترجمان دفترِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا کے اندر جو آوازیں بات چیت کا مطالبہ کر رہی ہیں وہ ظاہر ہے کہ ایک مثبت پیش رفت ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ انڈیا میں جوش کی بجائے ہوش غالب رہے گا، وہ مخاصمت جو پچھلے کئی مہینوں اور پچھلے سالوں سے جاری ہے ختم ہو جائے گی اور اس طرح کی مزید آوازوں کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ ہم یقیناً دیکھیں گے کہ آیا انڈیا میں ان آوازوں پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے آتا ہے۔‘
آر ایس ایس لیڈر نے آخر یہ تجویز کیوں پیش کی؟
دہلی میں مقیم سینیئر صحافی اور ان امور پر نطر رکھنے والے بھارت بھوشن کا خیال ہے کہ ان بیانات کا مقصد حالات کا اندازہ لگانا ہے کہ انڈین عوام اس طرح کی بات چیت کے لیے کتنا تیار ہے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ عام طور ایسا ہوتا ہے کہ جو بات بی جے پی خود نہیں کر سکتی وہ آر ایس ایس کے ذریعے کہلواتی ہے، تاکہ حالات کا اندازہ ہو اور زمین ہموار کی جا سکے۔
وہ کہتے ہیں کہ آر ایس ایس لیڈر کے بیان کا ایک مقصد معلوم ہو رہا ہے۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نریندر مودی اور بی جے پی کی سیاست کا اہم جز پاکستان کی مخالفت ہے۔ اس کا استعمال کر کے وہ انتخابات بھی جییتے رہے ہیں۔ ان کا ووٹر پاکستان سے کسی بھی طرح کی بات چیت کے حق میں نہیں ہے۔ ایسے میں حالات کے پیش نظر اگر ایسا کچھ کرنا پڑے تو انہیں ایک فکری جواز (آڈیالوجیکل کوَر) چاہیے جو صرف اور صرف آر ایس ایس ہی فراہم کر سکتا ہے۔‘
بھارت بھوشن کے اس تجزیہ سے سینیئر صحافی اور انگریزی روزنامہ ٹرینون کے سابق ڈپلومیٹک ایڈیٹر سندیپ دکشت بھی متفق نظر آتے ہیں۔
ان کے مطابق ان بیانات کا مقصد رائے عامہ کی ہمواری ہے تاکہ بات چیت کے لیے مودی حکومت کے لیے آسانی پیدا ہو سکے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ چین اور ازبکستان جیسے ملک جو کہ شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے رکن ہیں انڈیا سے کہہ رہے ہیں کہ وہ پاکستان سے بات چیت کریں۔ ان کے مطابق بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کے پیچھے کچھ قلیل مدتی اور طویل مدتی مقاصد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بات چیت کے نتیجے میں پاکستان میں اوور فلائٹ رائٹس حاصل کرنا اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی تکون کو ناکام بنانا، وغیرہ شامل ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی نزدیکی اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے ایک حالیہ معاہدے کی وجہ سے بھی انڈیا اب پاکستان سے بات چیت کرنا چاہ رہا ہے۔
پاکستان کے ساتھ بات چیت کے اس تجویز کے وقت کے سلسلے میں بھارت بھوشن ایک دلچسپ اور اہم بات کہتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ آر ایس ایس کی ’ویسٹرن آوٹ ریچ‘ کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ اپبی سخت گیر اور شدت پسندانہ ساکھ کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔
اس ضمن میں اُنھوں نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی سالانہ رپورٹ اور دیگر ورپورٹس کا حوالہ بھی دیا جن میں انڈیا میں مذہبی آزادیوں کی صورتحال پر سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔
امریکی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں آر ایس ایس سمیت کچھ دیگر تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔
بھارت بھوشن نے کہا کہ انھی رپورٹس کے تناطر میں اور آر ایس اس کی صد سالہ جشن کا حوالہ دیتے ہوے ٓآر ایس ایس لیڈر ہوسبالے نے گزشتہ ماہ برطانیہ، امریکہ اور جرمنی میں ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔
اُن کے بقول اس کے ذریعے انڈیا سفارتی خلا کو بھی پُر کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے، کیونکہ پاکستان کو کنارَہ کش کرنے کی کوششوں میں انڈیا آج خود الگ تھلگ پڑ چکا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کا سکہ بلند ہو رہا ہے۔
’اسے امن عمل کی شروعات نہیں کہا جا سکتا‘
سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود سرد مہری کم ہو سکتی ہے اور گذشتہ برس کی چار روزہ لڑائی کے بعد انڈیا اور پاکستان کے انتہائی نچلی سطح پر چلے جانے والے تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں؟
اٹلانٹک سینٹر سے منسلک سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری اور انڈین فوج کے سابق سربراہ کو 'اثر و رسوخ' رکھنے والی شخصیات ضرور سمجھتے ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ ان کے بیانات کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان 'کسی ممکنہ امن عمل کی شروعات نہیں سمجھا جا سکتا۔'
'ان آوازوں کا مقصد ہے کہ جب بھی یہ مذاکرات ضروری ہوں ان پر غور کیا جانا چاہیے۔'
کوگلمین کے مطابق آر ایس ایس کے سربراہ نے بس یہی کہا ہے کہ انڈیا کو مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔ میرا خیال ہے کہ انڈین فوج کے سابق سربراہ بھی یہی کہہ رہے تھے۔'
مائیکل کوگلمین بھی ان ٹریک ٹو روابط کی اطلاعات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'ہم نے سابق انڈین اور پاکستانی سفارتکاروں اور ریٹائرڈ عسکری حکام کے روابط کی جو اطلاعات دیکھی ہیں وہ زیادہ اہم ہیں، کیونکہ اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ انڈیا کی اسٹیبلشمنٹ بھی بات چیت کے آپشن کو خارج الامکان نہیں قرار دے رہی۔'
'تاہم میں پھر بھی ان تمام اشاروں کی انڈیا کی طرف سے کسی قسم کے مذاکرات کی شروعات کے امکانات کے طور پر نہیں دیکھتا۔'
'یہ بس اس بات کا اشارہ ہے کہ انڈیا مذاکرات کے آپشن کو خارج الامکان نہیں سمجھتا اور یہ بھی ایک اہم بات ہے کیونکہ وزیرِ اعظم مودی کی حکومت نے پاکستان کے خلاف ایک واضح سخت گیر مؤقف اپنا رکھا تھا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دیگر تجزیہ کار بھی سمجھتے ہیں کہ انڈیا میں پاکستان سے بات چیت سے متعلق بیانات خوش آئند ضرور ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان یہ معاملات کافی پیچیدہ ہیں۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے منسلک خارجہ اور عسکری امور کے تجزیہ کار محمد فیصل کہتے ہیں کہ 'آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری سابق انڈین آرمی چیف سے زیادہ اہم ہیں، لیکن انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان دراصل انڈیا کے لیے ایک اندرونی مسئلہ ہے، اس سے کوئی بھی مذاکرات کا عمل پیچیدہ ہو جاتا ہے۔'
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ان بیانات سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ انڈیا میں پاکستان سے متعلق معاملات پر نئے سرے سے غور ہو رہا ہے۔
'پاکستان اتنی کمزور ریاست نہیں ہے جتنا انڈیا نے تصور کیا تھا۔ پاکستان کے نئے سفارتی کردار نے بھی اس کی ساکھ کو بہتر بنایا ہے۔'
پاکستان نے بھی انڈیا سے اُٹھنے والی آوازوں کو 'مثبت پیش رفت' قرار دیا ہے اور محمد فیصل کہتے ہیں کہ 'پاکستان ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہا ہے کیونکہ پاکستان میں انڈیا کوئی اندرونی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔'
تاہم وہ کہتے ہیں کہ 'کسی بھی بات چیت کے عمل کی پائیداری کے لیے، وزیرِ اعظم مودی، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور جے شنکر کے ہی بیانات اہمیت رکھتے ہیں۔'
کیا سول سوسائٹی بات چیت کی قیادت کر سکتی ہے؟
انڈین سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے بھی آر ایس ایس کی اس تجویز کو مثبت قرار دیا ہے۔
ویمن انیشییٹو فار پیس اِن ساؤتھ ایشیا کی شریک بانی سعیدہ حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بیان کا خیر مقدم کرتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ آر ایس ایس لیڈرشپ اس معاملے میں سنجیدگی دکھائے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں ہمارے پڑوس میں دشمن نہیں بلکہ دوست ہونے چاہییں۔ آپ اپنے تعلقات کو پاکستان کے ساتھ صرف دہشت گردی اور کوئی بات چیت نہیں تک محدود نہیں کر سکتے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان عوامی رابطوں کے لیے سرگرم تنظیم پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیمو کریسی نے بھی اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔
فورم کی شریک چیئرریتا منچندا نے بی بی سی کو بتایا کہ یقینی طور پر یہ ایک بڑی اور خوش آئند تبدیلی ہے کیوں کہ ابھی پاکستان کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہا پاکستان کو کنارہ کش کرنا ہماری پالیسی نہیں ہو سکتی۔
ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا سول سوسائٹی بات چیت کی قیادت کر سکتی ہیں؟ ماہرین اسے ایک غیر عملی تجویز بتاتے ہیں۔
بھارت بھوشن اور سندیپ دکشت دونوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور جب تک سیاسی قیادت اس میں شامل نہیں ہو گی، اس وقت تک کچھ نہیں ہو گا۔
دونوں کا کہنا ہے کہ سول سوسائٹی، ٹریک ٹو یا بیک چینل مذاکرات صرف مدد کر سکتے ہیں، تاہم حقیقی مذاکرات کے لیے سیاسی قوت ارادی کی ضرورت ہے۔
























