آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’فیڈر اور بچوں کا کھانا مانگتی‘ 37 سالہ خاتون کا 12 برس کی لڑکی بن کر لوگوں سے فراڈ کیسے بےنقاب ہوا؟
- مصنف, وِتور تاوارس اور ایارا دینیز
- عہدہ, بی بی سی نیوز برازیل
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
برازیل میں جب ایک بچی نے بتایا کہ ان کی عمر 12 برس ہے اور وہ استحصال سے بچ کر فرار ہوئیں تو ان کی مدد کی پکار پر لوگوں نے اپنے گھر اور دل ان کے لیے کھول دیے۔
لیکن برازیلی حکام نے ’گبریئلے‘ کے بارے میں ایک بالکل مختلف حقیقت بیان کی ہے۔ ان مطابق وہ دراصل ایک 37 سالہ خاتون تھیں، جو خود کو ایک کمزور آٹسٹک بچی ظاہر کر رہی تھیں۔
پولیس نے تین جون کو بتایا کہ انھوں نے اس خاتون کو گرفتار کیا ہے، جن کا نام عدالت کے دستاویزات میں امانڈا ماریا سوزا دی اولیویرا درج ہے اور ان پر دھوکا دہی اور جعلی شناخت استعمال کرنے کا الزام ہے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ 14 ماہ تک ایک خاندان کے ساتھ جعلی شناخت کی بنیاد پر رہائش پذیر رہیں۔
یہ کیس برازیل میں سرخیوں میں ہے اور پولیس کا کہنا ہے انھیں شبہ ہے کہ اس خاتون نے اسی طرح کے فراڈ ساؤ پاؤلو، ریو ڈی جنیرو، میناس جیرائس، ریو گرانڈی دو سل اور گویاس کی ریاستوں میں بھی کیے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ’بچے کا کردار مضبوط نبھانے کے لیے، مشتبہ خاتون نے بچگانہ رویے اپنائے رکھے، اور باقاعدگی سے فیڈر اور کھلونوں کا استعمال کیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اپنی بالغ جسامت کی وضاحت کے لیے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی شکل و صورت بچپن میں زبردستی ہارمونز دیے جانے کی وجہ سے ایسی ہو گئی ہے۔‘
نفسیاتی جائزہ
نفتیشی افسر رودریگو گسو نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ دھوکہ اس وقت بے نقاب ہوا جب اس خاندان کے ایک رشتہ دار کو شک ہوا جس نے اسے اپنے گھر میں رکھا ہوا تھا اور اس نے آن لائن ایک تقریباً اسی طرح کے ایک کیس کی رپورٹ دیکھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیگر ریاستوں کی پولیس سے معلومات حاصل کرنے کے بعد رودریگو نے تصدیق کی کہ یہ وہی عورت ہیں۔
انھوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد مشتبہ خاتون نے دھوکہ دہی کا اعتراف کیا اور تسلیم کیا کہ وہ عادتاً ایسا کرتی ہیں۔
رودریگو نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ ’ان میں کسی ایسی حالت کی علامات نہیں تھیں جو ان کی طرف سے تفتیس میں معاونت نہ کرنے کو ظاہر کرتی ہوں۔ وہ ہوش و حواس میں، تعاون کرنے والی اور بہت منطقی سوچ رکھنے والی خاتون تھیں۔‘
اولیویرا کے وکیل رافائیل لویس سیورٹ نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ انھوں نے ان کی ذہنی حالت کا جائزہ لینے کے لیے نفسیاتی معائنہ کروانے کی درخواست کی ہے، جو منظور کر لی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ نتائج کا انتظار کریں گے تاکہ اگلے قانونی اقدامات کا فیصلہ کیا جا سکے۔
’خوفناک‘ کہانی
ریو ڈی جنیرو میں استحصال کا شکار اور آٹسٹک بچوں کی مدد کرنے والی ایک فلاحی تنظیم چلانے والی دو خواتین نے بی بی سی کو بتایا کہ 2023 میں اسی خاتون نے ایک مختلف نام سے انھیں بھی دھوکہ دیا۔
ویویانے ہینریکیس، جو ایک فلاحی تنظیم چلاتی ہیں، کہتی ہیں کہ ان کا اولیویرا، جنھوں نے اپنا نام ’ڈوڈا‘ بتایا، سے پہلی بار تنظیم کے سوشل میڈیا پیج کے ذریعے رابطہ ہوا۔
ہینریکیس کہتی ہیں کہ اولیویرا نے دعویٰ کیا کہ وہ شمال مشرقی ریاست سیارا میں استحصال سے بچ کر آئی ہے اور الزام لگایا کہ ان کے والد نے انھیں جسم فروشی پر مجبور کیا اور ہارمونز دیے، جن کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہی ان کی بالغ جسامت کی وجہ ہے۔
ہینریکیس کہتی ہیں کہ ’جب اس نے اپنی کہانی سنائی تو میں بہت خوفزدہ ہو گئی، کیونکہ میں پہلے ہی ایسے کیسز کو دیکھ رہی تھی۔‘
’محبت، دیکھ بھال اور کھانا‘
جو کچھ انھوں نے سنا اس سے متاثر ہو کر ہینریکیس اور ان کی ساتھی ریناتا ماگالیاس نے اولیویرا کے لیے ایک چھوٹا سا فلیٹ کرائے پر لیا اور اس کی دیکھ بھال شروع کی۔
ہینریکیس کہتی ہیں کہ ’وہ ایک نوعمر لڑکی لگتی تھی۔ وہ بہت بچگانہ انداز میں بات کرتی، کہتی کہ اسے آٹزم ہے اور ہمیشہ ہیڈ پہن کر رکھتی۔‘
اگلے ایک ماہ میں دونوں خواتین کا ان سے جذباتی تعلق بن گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اولیویرا بچگانہ رویہ اختیار کرتی، فیڈر اور بچوں کا کھانا مانگتی، لیکن کبھی پیسے نہیں مانگے۔‘
ماگالیاس کے مطابق ’امانڈا یہ بھی منتیں کرتیں کہ انھیں بچوں کے تحفظ کی کونسل کے پاس نہ لے جایا جائے، کیونکہ انھیں ڈر تھا کہ انھیں واپس سیارا بھیج دیا جائے گا۔‘
خواتین کا کہنا ہے کہ انھوں نے جسمانی علامات بھی دکھائیں جو ان کی کہانی کو تقویت دیتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ان کا ایک ایکسرے کروایا جس میں ان کے جسم میں 200 سے زیادہ سوئیاں پیوست دکھائی دیں، جن کے بارے میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ظالم والد نے جادو ٹونے کے دوران انھیں یہ چبھوئی تھیں۔
ماگالیاس کہتی ہیں کہ ’یہ خوفناک تھا۔ میں نے اسے محبت، دیکھ بھال اور کھانا دیا۔ شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔‘
لوگوں کو اس خاتون پر شک کیسے ہوا؟
تشویش اس وقت پیدا ہوئی جب ’ڈوڈا‘ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کرتی تھیں۔
ماگالیاس کے مطابق ’وہ جذباتی طور پر دوسروں انحصار کرنے لگتی اور اکیلا چھوڑے جانے پر خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتی، اور مسلسل توجہ کا مطالبہ کرتی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اس نے میری ذہنی صحت اور مالی حالت تباہ کر دی۔ اس نے مجھ پر اتنا دباؤ ڈالا کہ میں اپنے بچوں سے دور ہو گئی۔‘
لیکن ہینریکیس کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ اولیویرا کا رویہ ہمیشہ ایک جیسا رہا۔
اس سے شبہات بڑھے اور آخرکار دونوں خواتین نے پولیس سے رابطہ کیا، جنھوں نے تفتیش کے ذریعے یہ دھوکہ بے نقاب کیا۔
ریو میں کیس کی تفتیش سربراہی کرنے والی تفتیش کار مونیکا آریال نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ بعد میں پولیس نے اولیویرا کے فون میں انٹرنیٹ سرچ ہسٹری بھی حاصل کی، جن میں شامل تھا کہ ’آٹسٹک لوگ کیسے برتاؤ کرتے ہیں‘ اور ’استحصال کا شکار ہونے والے کی طرح کیسے ڈرائنگ کریں۔‘
گرفتار مگر رہا
انھیں گرفتار کیا گیا اور انھوں نے حراستی سماعت کے دوران دھوکہ دہی کا اعتراف کیا، لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ کیس چلنے کے دوران وہ آزاد رہ سکتی ہیں۔
بعد میں استغاثہ نے الزامات دائر کیے، لیکن حکام اسے ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
آریال کہتی ہیں کہ ایسے کیسز میں مشتبہ افراد کو حراست میں رکھنا ’مشکل‘ ہے کیونکہ عدالتیں دھوکہ دہی کو ایسا جرم سمجھتی ہیں جس میں تشدد یا سنگین خطرہ شامل نہیں ہوتا۔
ماگالیاس کہتی ہیں کہ وہ خود کو ’بے بس‘ محسوس کرتی ہیں کہ دوسرے لوگ بھی اسی دھوکہ دہی کا شکار ہوئے اور امید کرتی ہیں کہ انصاف ہو گا۔‘
لیکن وہ کہتی ہیں کہ ’یہ صرف اسے گرفتار کرنے کا معاملہ نہیں‘ اور ان کا ماننا ہے کہ اولیویرا کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
اس تجربے کے باوجود ہینریکیس کہتی ہیں کہ وہ کمزور بچوں کی مدد کا اپنا کام جاری رکھیں گی: ’میں مدد کرنا نہیں چھوڑوں گی۔‘