سونیا گاندھی کی کتاب پر تنازع اور انڈیا کی سیاست سے جڑے رازوں سے پردہ اٹھنے کی توقع

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, نامہ نگار انڈیا
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
1998 میں جب سونیا گاندھی کانگریس کی صدر بنی تھیں تو وہ ایک غیر متوقع اور پراسرار سیاسی رہنما تھیں۔
سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی اطالوی نژاد بیوہ سونیا گاندھی نے انڈیا کی تاریخ میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والی جماعت کی صدارت سنبھالنے سے قبل کئی سال تک یہ کوشش کی کہ وہ سیاست سے دور رہیں۔
انڈیا ٹوڈے میگزین نے ایک زمانے میں سونیا گاندھی کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ اپنی پارٹی کے لوگوں کے لیے ایک معمہ اور پیچیدہ شخصیت ہیں جو ’سکیورٹی حصار میں دنیا سے الگ رہتی ہیں اور کم گو غیر ملکی لہجے میں مختصر جملوں میں بات کرنے والی خاتون ہیں۔‘
تاہم اس خاموشی کے پیچھے میگزین کو ایک ایسی سیاست دان نظر آئی جو طاقت کے داؤ پیچ سیکھ رہی تھیں۔ میگزین نے لکھا کہ ’وہ مختلف آرا سنتی ہیں، معلومات اکھٹی کرتی ہیں اور پھر اپنا ذہن بناتی ہیں۔ میگزین نے لکھا کہ کسی کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور نہیں رکھا جاتا اور کسی کی آواز کو دبایا نہیں جاتا لیکن آخر میں ہوتا وہی ہے جو سونیا گاندھی کہتی ہیں۔‘
تقریبا تین دہائیوں اور ایک ایسے سیاسی سفر کے بعد جس نے انھیں کانگریس کی سب سے طاقتور شخصیت بنایا، سونیا گاندھی اب اپنی سوانح حیات سنانے جا رہی ہیں۔
79 سالہ سونیا گاندھی کی کہانی غیر معمولی ذاتی دکھوں سے بھرپور ہے۔ اندرا گاندھی کو جب ان کے محافظوں نے گولی ماری تو انھیں ہسپتال سونیا گاندھی ہی لے کر گئی تھیں جبکہ سات سال بعد سونیا کے شوہر راجیو گاندھی بھی ایک خود کش حملے میں قتل کر دیے گئے تھے۔
ان کی خود نوشت ’بیلونگنگ: اے جرنی آف لوو‘ نومبر میں برطانیہ میں ولیم کولنز جبکہ امریکہ میں الفرڈ اے کنوف نامی ادارہ شائع کرنے جا رہا ہے اور انڈیا میں ابھی سے اس کا چرچا ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہWilliam Collins
امریکی ادارے کے ذریعے ایک بیان میں سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ ’یہ کتاب ان کی زندگی کے ان اہم لمحات کی گواہی دے جن میں خوشی اور دکھ دونوں شامل ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ولیم کولنز کے مطابق کتاب کا آغاز 1965 میں اس وقت سے ہوتا ہے جب کیمبرج کی 19 سالہ اطالوی طالبہ سونیا انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے نواسے راجیو گاندھی کی محبت میں گرفتار ہوئیں۔
پبلشر کا کہنا ہے کہ اس چشم کشا کتاب میں کم گو سونیا گاندھی نے اٹلی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں گزارے جانے والے بچپن سے انڈین سیاست کے دل تک پہنچنے والے غیر متوقع سفر پر کھل کر بات کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہKeystone/Getty Images
لیکن اس کتاب کی وجہ سے انڈیا میں ابھی سے ایک تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ پنگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے کتاب میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد کانگریس رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ پبلشر کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہے کہ موجودہ حکومت کی تنقید پر مبنی کتاب کے حصوں کو بدلا جائے۔
پنگوئن نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ وہ کتاب شائع کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور بات چیت جاری ہے۔
قارئین کو اس کتاب میں ایک نوجوان، غیر ملکی خاتون کی انڈیا کی سب سے طاقت ور سیاسی خاندان میں شادی سے زیادہ معلومات کی تلاش ہو گی۔
انھیں انڈین سیاست کے چند اہم سوالوں کے جواب کی تلاش ہو گی جیسا کہ سونیا گاندھی کو سیاست میں کیا چیز کھینچ لائی؟ اور جب 2004 میں کانگریس اقتدار میں لوٹی تو پردے کے پیچھے کیا ہو رہا تھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ پارٹی اور اتحادیوں کی حمایت کے باوجود سونیا نے وزارت عظمی کا عہدہ خود کیوں نہیں لیا اور منموہن سنگھ کو کیوں چنا؟ کیا انھیں اس بات کا خوف تھا کہ غیر ملکی ہونے کی وجہ سے کانگریس حکومت کو نقصان پہنچ سکتا ہے؟
صحافی نیرجا چوہدری کہتی ہیں کہ میرے خیال میں یہ سب سے بڑا سوال ہے کیوں کہ سونیا با آسانی وزیراعظم بن سکتی تھیں۔ انھیں پارٹی اور اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور انڈیا کے صدر کے دفتر کی جانب سے ایک خط تیار ہو چکا تھا جس میں انھیں حکومت بنانے کی دعوت دی جانی تھی۔
سابق کانگریس رہنما اور وزیر خارجہ نتور سنگھ نے اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ راہل گاندھی اپنی والدہ کے وزیر اعظم بننے کے مخالف تھے کیوں کہ انھیں خوف تھا کہ ان کے ساتھ وہی ہو گا جیسا ان کی دادی اندرا گاندھی اور والد راجیو گاندھی کے ساتھ ہوا۔
انھوں نے لکھا کہ راہل نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کو روکنے کے لیے کسی حد تک جا سکتے ہیں۔ تو کیا سونیا گاندھی کی کتاب اس غیر معمولی فیصلے پر روشنی ڈالے گی یا کوئی نئی کہانی سامنے آئے گی؟

،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وجہ جو بھی رہی ہو، سونیا کے اس فیصلے نے انڈیا کی سیاست کو تبدیل کر دیا۔ لیکن یہ فیصلہ ایک بڑے معمے کا صرف ایک حصہ ہے کہ سونیا گاندھی نے سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیوں کیا تھا؟
بہت سال تک سونیا نے سیاست سے دوری رکھی۔ 1991 میں راجیو گاندھی کی موت کے بعد کافی عرصہ وہ سیاسی زندگی سے دور رہیں۔ لیکن 1990 کی دہائی میں کانگریس کی مقبولیت میں کمی ہوئی تو 1997 میں سونیا پارٹی میں شامل ہوئیں اور ایک سال میں پارٹی صدر بن گئیں۔
اس وقت حریفوں نے انھیں زیادہ اہمیت نہیں دی۔ 1998 دسمبر میں انڈیا ٹوڈے نے خبر دی کہ اپوزیشن کے اہم سیاسی رہنماؤں نے انھیں ایک گھریلو خاتون ہی سمجھا لیکن چند ہی ماہ میں انھوں نے پارٹی کو بدلنا شروع کر دیا۔ ایک کانگریس رہنما نے اس وقت کہا تھا کہ میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ خاتون یہ کام کر سکتی ہے۔
انڈیا ٹوڈے سونیا گاندھی میں ایک سیاسی شخصیت کو پنپتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ میگزین نے لکھا کہ سونیا نے ریشمی دستانوں کے اندر آہنی گرفت رکھی اور وہ جانتی تھیں کہ ہمالیائی اناوں کو زمین پر کیسے لانا ہے۔
اور پھر وہ واقعات بھی ہیں جنھوں نے ان کے سیاسی کریئر کو ممکن بنایا۔ سونیا نے اندرا گاندھی کے قتل کے بعد خاندان کو بدلتے دیکھا۔ سات سال بعد راجیو کا قتل ہوا۔ ان اموات نے سونیا کی زندگی اور انڈیا کی سیاست دونوں کو بدل کر رکھ دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ان برسوں پر سونیا کیا بتائیں گی؟ راجیو کی سیاسی زندگی جس کی انھوں نے مخالفت کی؟ اپنے بچوں کی سکیورٹی سے جڑے خدشات پر؟ اور اس لمحے کے بارے میں جب انھوں نے فیصلہ کیا کہ گاندھی خاندان کی سیاسی میراث کو یکسر ٹھکرایا نہیں جا سکتا؟
اس کے علاوہ کچھ اور سوال بھی ہیں۔ کیا وہ بوفرز توپوں کے سکینڈل پر بات کریں گے جس نے راجیو گاندھی کی حکومت کو بری طرح متاثر کیا تھا اور اطالوی کاروباری شخصیت اوٹاویو قواٹروچی سے گاندھی خاندان کے تعلقات پر دہائیوں طویل تنازع کھڑا کر دیا تھا؟ کیا وہ ان الزامات کی وضاحت کریں گی؟
اور ان کی اطالوی شہریت سے جڑے تنازعات؟ کئی سال تک سونیا کو ایک غیر ملکی کی حیثیت سے تنقید کا سامنا رہا کہ وہ انڈیا کی سربراہی کرنے کی اہل نہیں ہیں۔ بی جے پی رہنما سشما سوراج نے 2004 میں کہا تھا کہ ایک غیر ملکی کا انڈین وزیر اعظم بننا قوم کی توہین ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images
صحافی رشید قدوائی کہتے ہیں کہ 1999 میں کانگریس کے ایک گروہ نے بھی ایسا سوال اٹھایا تھا تو کیا سونیا نے کبھی ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچا؟ سیاسی تجزیہ کار سوچ رہے ہیں کہ کیا یہ کتاب 2004 سے 2014 تک کی کانگریس حکومت پر بھی بات کرے گی۔
سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے مسلسل دو الیکشن جیتے لیکن دوسری حکومتی مدت کرپشن الزامات میں گھری رہی۔ ان کے ناقدین انھیں حکومت کا ریموٹ کنٹرول کہتے تھے اور وزیر اعظم منموہن سنگھ پر سونیا گاندھی کتنا اثرورسوخ رکھتی ہیں، یہ سوال بھی اٹھایا جاتا رہا۔
اور پھر راہل گاندھی جنھیں سونیا نے 2017 میں پارٹی کی قیادت سونپی۔ 1994 میں اپنی کتاب راجیو میں سونیا نے لکھا کہ انھوں نے راجیو کو سیاست کرنے سے روکنے کے لیے بہت کوشش کی۔ پھر بھی وہ میراث انھوں نے اپنے بیٹے کو سونپ دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راہل کا سیاسی سفر آسان نہیں رہا۔ رشید قدوائی کہتے ہیں کہ سونیا اپنے بیٹے کے مختلف سیاسی سٹائل کو کیسے دیکھتی ہیں؟ اور راہل کی سیاست سے کس حد تک متفق ہیں؟ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب ان سوالوں کا جواب دے گی۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ سونیا نے پریانکا کے بجائے راہل کو کیوں چنا؟ رشید قدوائی کہتے ہیں کہ سونیا کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ان کے بچوں کا اپنا فیصلہ تھا کہ وہ سیاست میں آنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ سونیا گاندھی انڈیا کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟ انھوں نے کانگریس کی قیادت ایک ایسے وقت میں کی جب ملک میں سیاست اتحادی حکومتوں سے نکل کر نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کے ہاتھ میں جا رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSygma via Getty Images
نیرجا چوہدری کہتی ہیں کہ سوال کا جواب شاید کتاب کے عنوان میں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سونیا نہرو گاندھی خاندان کی سیاسی وارث ہونے کے ناطے اس پہلو سے با خبر ہیں کہ اس میراث کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔
لیکن وہ میراث مسلسل حملوں کی زد میں ہے۔ بی جے پی نے کانگریس فری انڈیا کی بات کی ہے جبکہ پارٹی کو خاندانی سیاسی قیادت کے معاملے پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ یکے بعد دیگرے سیاسی شکستوں اور کئی رہنماؤں کی جانب سے پارٹی چھوڑنے کے بعد اب سوال یہ نہیں کہ کیا گاندھی خاندان پارٹی کو نئی زندگی دے سکتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خاندان اس جماعت کو اکھٹا بھی رکھ سکتا ہے یا نہیں؟
سونیا نے اس کتاب کے بارے میں کہا ہے کہ میرے خاندان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا لیکن بہت کم اس کی سچائی تلاش کر پائے اور یہ کتاب ان کی انسانیت کے بارے میں ہے۔
یہ کتاب شاید ایک کوشش ہے یہ واضح کرنے کی کہ نہرو گاندھی سیاسی میراث سونیا کے لیے کیا معنی رکھتی ہے اور ان کے خیال میں اب بھی کیوں اہم ہے۔



















