پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش روکنے کے لیے حملہ کیا گیا: سینٹکام

،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کے خلاف امریکی فورسز کی حالیہ کارروائی ’محدود اور انتہائی درست‘ تھی اور اسے جہاز رانی کے لیے موجود ’فوری خطرے‘ کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا۔‘
سینٹکام نے پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ کارروائی ’جارحیت‘ تھی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’ایرانی فورسز نے خود یہ خطرہ پیدا کیا تھا اور امریکی فوج نے شہری ملاحوں، تجارتی جہازوں اور عالمی تجارت کے آزادانہ بہاؤ کے تحفظ کے لیے اسے ختم کیا۔‘
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے کہا ہے کہ ’امریکی فورسز نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی گزرگاہوں سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام مکمل کر لیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکی فورسز علاقے کی نگرانی کر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز میں ’تجارت کے آزادانہ بہاؤ‘ کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔‘
دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر سمیت مختلف ممالک کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس سے ایران میں پیٹرول کی فراہمی پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ ملک میں مقامی پیداوار کی کمی بھی موجود ہے۔






