لائیو, ایران کے جزیرہ لارک پر حملے کے بعد اردن میں امریکی فوج پر حملے کی اطلاعات، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی ایرو سپیس فورس نے امریکہ کی جانب سے لارک جزیرے پر حملے کے جواب میں اردن میں کنگ حسین اور الازرق ایئربیسز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اردن کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک لیا۔

خلاصہ

  • امریکی حکام کے مطابق امریکی افواج نے جزیرہ لارک پر موجود دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا ہے
  • جزیرہ لارک پر حملے کے نتائج امریکہ کو معاشی اور عسکری میدان میں بھگتنا پڑیں گے: ترجمان پاسدارانِ انقلاب
  • مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے اجلاس کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر ترکی پہنچ گئے
  • نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 788 ہو گئی ہے، جبکہ 2,5000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں
  • مغربی کنارے میں آبادکاروں کا قُصرہ پر حملہ 'جرائم پر مبنی تشدد' قرار: نیتن یاہو کی مذمت
  • ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب‌آبادی کے مطابق 'آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنے وعدے پورے نہیں کرتا۔'

لائیو کوریج

  1. پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش روکنے کے لیے حملہ کیا گیا: سینٹکام

    @CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کے خلاف امریکی فورسز کی حالیہ کارروائی ’محدود اور انتہائی درست‘ تھی اور اسے جہاز رانی کے لیے موجود ’فوری خطرے‘ کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا۔‘

    سینٹکام نے پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ کارروائی ’جارحیت‘ تھی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’ایرانی فورسز نے خود یہ خطرہ پیدا کیا تھا اور امریکی فوج نے شہری ملاحوں، تجارتی جہازوں اور عالمی تجارت کے آزادانہ بہاؤ کے تحفظ کے لیے اسے ختم کیا۔‘

    تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے کہا ہے کہ ’امریکی فورسز نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی گزرگاہوں سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام مکمل کر لیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکی فورسز علاقے کی نگرانی کر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز میں ’تجارت کے آزادانہ بہاؤ‘ کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر سمیت مختلف ممالک کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

    امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس سے ایران میں پیٹرول کی فراہمی پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ ملک میں مقامی پیداوار کی کمی بھی موجود ہے۔

  2. واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کرے گا: امریکی وزیرِ خزانہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ’واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کرے گا، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے باعث چین کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمد کم ہوئی ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے کہ ایران پر معاشی دباؤ کی مہم کی کامیابی کا انحصار چینی کمپنیوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے پر ہے۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے روئٹرز کو بتایا کہ ’جمعے کو متحدہ عرب امارات میں بینک آف مصر کی شاخوں کے خلاف کارروائی کے بعد اگلا قدم کسی مالیاتی ادارے کی ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی مکمل طور پر ختم کرنا ہو سکتا ہے۔ ان شاخوں پر ایران کے ساتھ مبینہ مالی روابط کا الزام ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’آپ ہر ہفتے اس طرح کی مزید کارروائیاں دیکھیں گے۔ ہم بینکوں سے آغاز کر رہے ہیں اور انھیں بتا رہے ہیں کہ ایرانی رقم رکھنا اور ایرانی حکومت کی مدد کرنا قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ ’گروپ 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس میں وہ دیگر ممالک سے بھی ایران کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کم کرنے کا مطالبہ کریں گے، بصورتِ دیگر انھیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

  3. ایران کی ناکہ بندی کے دوران 83 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا: سینٹکام

    CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’30 اگست تک ایران کی ناکہ بندی کے دوران اُن کی فورسز نے 83 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا، تین کو ناکارہ بنایا اور دو جہازوں کی تلاشی لی۔‘

    سینٹکام نے یہ اعداد و شمار ایک تصویر کے ساتھ جاری کیے، جس میں ایک امریکی ملاح کو ’ایم ایچ 60 ایس‘ سی ہاک ہیلی کاپٹر کو یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک پر اترنے کے لیے رہنمائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق یہ جنگی جہاز بحیرۂ عرب میں ایران کی امریکی ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

  4. پاسدارانِ انقلاب کا اردن میں دو امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناردن میں الازرق ایئربیس (فائل فوٹو)

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایرو سپیس فورس نے امریکہ کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے جواب میں اردن میں کنگ حسین اور الازرق ایئربیسز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔‘

    تاہم اردن کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک لیا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق دونوں اڈوں پر تکنیکی اور مرمتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ’شدید نقصان‘ پہنچا۔

    آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا جواب ’مزید تباہ کن کارروائیوں‘ سے دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ’لارک جزیرے پر امریکی حملہ اسلامی جمہوریہ ایران کی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو کمزور نہیں کر سکے گا۔‘

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے فاکس نیوز کے ایک رپورٹر اور ایک امریکی ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’ایران نے اردن میں امریکی فورسز کو نشانہ بنایا، تاہم اب تک کسی ’اہم نقصان‘ کی اطلاع نہیں ملی اور تقریباً تمام آنے والے میزائلوں کو روک لیا گیا ہے۔

  5. جزیرہ لارک پر حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا: ابراہیم عزیزی

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی

    ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے جزیرہ لارک پر حملے کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس کارروائی کا جواب لازمی دیا جائے گا۔

    انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ ’ہماری قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے‘ کی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں کی قیمت مزید بھاری کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دے گا۔

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاسدارانِ انقلاب نے جزیرہ لارک پر حملے میں اپنے متعدد اہلکاروں اور شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  6. جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی افواج کی جانب سے جزیرہ لارک پر ایران کے دو لانچرز کو نشانہ بنانا جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ ہے۔

    یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کی شدت میں کمی آئی تھی اور جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں یا تو ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ کوئی بھی جہاز یا کشتی جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گی، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ ہو چکے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور اسے بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان تنازع بدستور جاری ہے۔

  7. ترجمان پاسدارانِ انقلاب: جزیرہ لارک پر حملے کے نتائج امریکہ کو معاشی اور عسکری میدان میں بھگتنا پڑیں گے

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین محبی

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین محبی کا کہنا ہے کہ ’جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتائج امریکہ کو ’اقتصادی اور عسکری محاذوں پر‘ بھگتنا ہوں گے۔‘

    انھوں نے اس حملے کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ’نام نہاد اقتصادی جنگ‘ کے دوران کی جانے والی ایک ’مہلک سٹریٹجک غلطی‘ قرار دیا ہے۔

    حسین محبی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ اقدام اس کے منصوبہ سازوں کے خلاف طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا اور امریکہ کو ’بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔‘

    واضح رہے کہ چند گھنٹے قبل پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس ونگ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوام کی 200 روزہ مزاحمت‘ کے بعد ’دشمن‘ اب نفسیاتی جنگ کے ذریعے ’قومی استحکام اور عوامی ثابت قدمی کو کمزور کرنے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’ایران کے خلاف جاری دباؤ کا مقصد عوامی اعتماد کو متاثر کرنا اور داخلی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنا ہے، تاہم ایرانی قوم ان کوششوں کے مقابلے میں اپنی مزاحمت برقرار رکھے ہوئے ہے۔‘

  8. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج دن میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے جزیرہ لارک پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے ’چند‘ اہلکاروں اور علاقے مکینوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
    • گذشتہ روز پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے استنبول میں ملاقات ہوئی۔ ترکی کی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا کہ ’وینزویلا کے تیل کو امریکہ کے سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وینزویلا کے تیل کو امریکی عوام کے لیے ایک ’تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سٹریٹجک تیل ذخائر کو دوبارہ بھرنے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
    • ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست یعنی آج استنبول میں منعقد ہوگا۔
  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔