ساؤتھ ایئر: پاکستان میں اے ٹی آر طیاروں کے ساتھ شروع کی گئی ایئر لائن کی ضرورت کیوں پڑی؟

Pakistan Airports Authority

،تصویر کا ذریعہPakistan Airports Authority

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان میں ایئر لائن کے شعبے میں ایک نئی ایئر لائن ساؤتھ ایئر نے اندرون ملک اپنی پروازوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ گذشتہ روز جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے ساؤتھ ایئر کی افتتاحی پرواز تربت کے لیے روانہ ہوئی، جہاں سے پھر یہ کوئٹہ گئی جبکہ ساؤتھ ایئر لائن کی دوسری پرواز بہاولپور سے ہوتی ہوئی اسلام آباد پہنچی۔

پاکستان میں ساؤتھ ایئر کے فلائٹ آپریشن کے آغاز کو پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی نے ملک کے ڈومیسٹک فضائی رابطوں میں ایک اہم اضافہ قرار دیا ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں مہنگے کرایوں کے باعث ہوائی جہاز کے سفر کو اپر اور اپر مڈل کلاس طبقے کی ہی دسترس میں سمجھتا جاتا ہے۔

پاکستان میں پہلے ہی چار ایئرلائنز اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازیں چلا رہی ہیں، جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، ایئر سیال، ایئر بلیو اور فلائی جناح شامل ہیں۔ فلائی جناح میں متحدہ عرب امارات کی ایئر عربیہ کا حصہ ہے، جبکہ دیگر تین ایئرلائنز مقامی ملکیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں نئی ایئرلائن کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی اور پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات کیا ہیں؟

ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے بی بی سی اردو نے ساؤتھ ایئر کی انتظامیہ اور شعبۂ ہوا بازی کے ماہرین سے گفتگو کی۔

ساؤتھ ایئر

،تصویر کا ذریعہPakistan Airports Authority

ساؤتھ ایئر کا اندرون ملک فلائٹ آپریشن کہاں ہو گا؟

جمعرات کے روز ساؤتھ ایئر کی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے دو افتتاحی پروازیں روانہ ہوئیں۔ پہلی پرواز تربت کے لیے روانہ ہوئی جہاں سے اس نے کوئٹہ کے لیے پرواز جاری رکھی جبکہ ساؤتھ ایئر کی دوسری پرواز کا پہلا سٹاپ بہاولپور تھا جہاں سے اس نے پھر آگے اسلام آباد کے لیے اڑان بھری۔

ساؤتھ ایئر کراچی ۔ تربت ۔ کوئٹہ کے روٹ پر ہفتہ وار ایک جبکہ کراچی ۔ بہاولپور ۔ اسلام آباد روٹ پر ہفتہ وار تین پروازیں چلائے گی۔

اس کے علاوہ ایئر لائن کراچی سے پشاور، رحیم یار خان، سکھر اور گوادر کے لیے بھی پروازیں چلائے گی۔

ساؤتھ ایئر کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو محسن جمیل نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساؤتھ ایئر کا فلائٹ آپریشن سکھر، نواب شاہ، رحیم یار خان، بہاولپور، ڈی جی خان، فیصل آباد، تربت، پنجگور، کوئٹہ، گوادر، چترال، سکردو اور گلگت میں ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ ایئر لائن نے اپنے آپریشن کا آغاز دو اے ٹی آر سے شروع کیا ہے جو چھوٹے جہاز ہوتے ہیں اور نسبتاً چھوٹے رن ویز پر بھی لینڈ کر سکتے ہیں۔

ساؤتھ ایئر کی پہلی پرواز

،تصویر کا ذریعہSouth Air/Facebook

،تصویر کا کیپشنجمعرات کے روز ساؤتھ ایئر کی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے دو افتتاحی پروازیں روانہ ہوئیں۔

ساؤتھ ایئر کس کی ملکیت ہے؟

پاکستان میں فلائٹ آپریشن کا آغاز کرنے والی نئی ایئر لائن ایس او ایس یعنی سکیورٹی آرگنائزینگ سسٹم کی ملکیت ہے۔

محسن جمیل نے بتایا ایس او ایس نے ایک سکیورٹی کمپنی کے طور پر کام شروع کیا تھا تاہم اب یہ گروپ آف کمپنیز ہے جس میں ٹیکنالوجی، فارما، انرجی اور دوسرے شعبوں کی بہت ساری کمپنیاں شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس گروپ نے اپنے کام کا آغاز ملتان سے کیا تھا اس ہی لیے جب ایئر لائن چلانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس کا نام ساؤتھ پنجاب کی نسبت سے ساؤتھ ایئر لائن رکھا گیا۔

محسن جمیل نے دعویٰ کیا کہ ساؤتھ ایئر کی چیف ایگزیکٹو افسر نشاط فاطمہ پاکستان میں کسی بھی ایئر لائن کی پہلی خاتون چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔

ساؤتھ ایئر کیسے دوسری ایئر لائن سے مختلف ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان میں اس وقت کام کرنے والی تمام ائیر لائن کمپنیوں کا تعلق نجی شعبے سے ہے۔ حکومت کی جانب سے رواں سال قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے بعد اب حکومت کی زیر نگرانی کوئی بھی ایئر لائن نہیں چل رہی۔

ساؤتھ ایئر کی ہوابازی کے شعبے میں انٹری اور اس کے دوسری ایئر لائنز سے مختلف ہونے کے بارے میں محسن جمیل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے سے کام کر رہی ایئر لائنز ریگولر پیسنجرز ایئر لائن کے لائسنس کے تحت کام کر رہی ہیں جبکہ ساؤتھ ایئر نے ٹورازم پروموشن اینڈ ریجنل انٹیگریشن (ٹی پی آر آئی) لائسنس کے تحت اپنی پروازوں کا آغاز کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس لائسنس کے تحت حکومت کی جانب سے لائسنس فیس میں رعایت کے ساتھ ساتھ ایئر پورٹ پر جہاز کے لینڈنگ چارجز میں بھی رعایت دی جاتی ہے۔ ساؤتھ ایئر کے ڈپٹی سی ای او کا کہنا ہے کہ اس لائسنس کا اجرا تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہوا تھا جس کے لیے ساؤتھ ایئر کے ملکیتی گروپ کے علاوہ کچھ اور کمپنیوں نے بھی لائسنس کے لیے اپلائی کیا تھا۔

تاہم صرف ساؤتھ ایئر نے پیسنجر فضائی آپریشن شروع کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ساؤتھ ایئر کے جو فلائٹ روٹس ہیں انھیں سوشو اکنامک روٹس کہا جاتا ہے، یہ پاکستان کے چھوٹے شہروں کے روٹس ہیں اور اس ایئر لائن کے جہاز چھوٹے رن وے بھی اتر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا ان کی ایئر لائین کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ کراچی ۔ تربت ۔ کوئٹہ روٹ پر ہفتہ وار ایک جبکہ کراچی۔بہاولپور۔اسلام آباد روٹ پر ہفتہ وار تین پروازیں آپریٹ کرے گی۔

ساوتھ ایئر کراچی سے پشاور، رحیم یار خان، سکھر اور گوادر کے لیے بھی پروازیں چلائے گی، جس سے ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان فضائی روابط مزید مستحکم ہوں گے۔

Pakistan Airports Authority

،تصویر کا ذریعہPakistan Airports Authority

،تصویر کا کیپشنساؤتھ ایئر نے اپنے آپریشن کا آغاز دو اے ٹی آر (ATRs) سے شروع کیا ہے۔

پاکستان میں نئی ایئر لائن کی ضرورت اور ایوی ایشن شعبے میں سرمایہ کاری

پاکستان کے ایوی ایشن شعبے میں نئی ایئرلائن کی گنجائش کے بارے میں محسن جمیل کا کہنا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی میں سے اس وقت صرف پانچ سے سات فیصد اپر اور اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد ہی فضائی سفر کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت اندرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے مجموعی طور پر 40 جہاز ہیں جو ان کے مطابق کم ہیں اور پاکستان میں نئی ایئر لائن کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایئر لائن کے شعبے میں کافی ڈیمانڈ موجود ہے۔

ایوی ایشن شعبے کے ماہر عمران اسلم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایوی ایشن شعبے میں نئی ایئر لائن کی ضرورت ہے خاص طور پر 19 سے 70 سیٹوں والے جہازوں کی ضرورت ہے۔

عمران اسلم کے مطابق پاکستان میں کئی ایئر پورٹس ایسے ہیں جہاں کوئی فلائٹ نہیں جاتی۔ انھوں نے بلوچستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک دو فلائٹس ہی جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے سوشل اکنامک حالات متاثر ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر چھوٹے جہازوں کے ساتھ چھوٹے شہروں کے لئے فلائٹس شروع کی جائیں تو وہ ایئر لائن کے لیے بھی منافع بخش ہو گا اور اس سے کرایے بھی کم ہوں گے۔

ساؤتھ ایئر

،تصویر کا ذریعہSouth Air

تاہم ایوی ایشن شعبے کے ایک اور ماہر افسر ملک کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت کسی نئی ایئر لائن کی گنجائش نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایئر لائنز کی ترقی کسی ملک کی معاشی ترقی اور وہاں کے لوگوں کی آمدن سے جڑی ہوتی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں مڈل کلاس ختم ہو رہی ہے اور فضائی سفر صرف اپر کلاس تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق ’ساؤتھ ایئر کے روٹس اتنے پرکشش نہیں کہ یہ کہا جا سکے کہ ایئر لائن کے لیے اس میں بہت زیادہ پوٹینشل ہے۔‘

افسر ملک کا کہنا ہے کہ ساؤتھ ایئر کو لینڈنگ چارجز کی مد میں ملنے والی رعایت اتنی زیادہ بڑی رعایت نہیں کہ اس سے ایئر لائن کے مالی شعبے پر بڑا اثر پڑے۔

جب ساؤتھ ایئر کے محسن جمیل سے چھوٹے روٹس کے منافع بخش نہ ہونے کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جہاں چیلنجز ہوتے ہیں وہاں مواقع بھی ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ایئر لائن کے شعبے کا نفع پندرہ سے بیس فیصد ہوتا ہے جو ہوٹل اور تعلیم کے شعبوں کے مقابلے میں بہت کم ہے تاہم ایئر لائن چلانا کسی گروپ کے لیے خاصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

افسر ملک کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ ہوا بازی کے شعبے میں ’نیم اینڈ فیم‘ (نام اور مشہوری) ہوتا ہے اس لیے کم نفع کے باوجود کاروباری گروپ اس میں داخل ہوتے ہیں۔

عمران اسلم نے پاکستان میں ہوابازی سے متعلق کچھ قواعدِ و ضوابط کو بھی ایئر لائن انڈسٹری کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیا جس میں پندرہ سے اٹھارہ سال پرانے جہاز کی درآمد کی اجازت نہ دینا بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق ’اس کی وجہ سے یہ انڈسٹری ترقی نہیں کر سکی اور اس کا فائدہ مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز کو ہوا جن کے پاس وسائل بہت زیادہ ہیں۔‘