اتحادیوں سے پیچھے رہ جانے کا خوف یا ’ٹرمپ کی دھمکی کا اثر‘: کینیڈا میں تین دہائیوں کے دوران سب سے بڑی فوجی بھرتی کی وجہ کیا؟

کینیڈا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نادین یوسف
    • عہدہ, سینیئر رپورٹرکینیڈا
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

کئی دہائیوں تک کینیڈا کو دفاعی اخراجات کے حوالے سے عالمی سطح پر پیچھے سمجھا جاتا رہا اور صرف دو سال پہلے بھرتی کی صورتحال اس قدر خراب تھی کہ ایک سابق وزیرِ دفاع نے خبردار کیا تھا کہ مسلح افواج تباہی کے دہانے پر ہیں۔

لیکن اب کینیڈا کی فوج اس رفتار سے بڑھ رہی ہے جو کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی اور یہ 30 سال میں بھرتی کی سب سے زیادہ سطح تک پہنچ گئی ہے، جبکہ یہ ممکنہ طور پر عملے کی کمی کے مسئلے کو بھی ختم کر سکتی ہے جو طویل عرصے سے ملک کی فوج کو متاثر کر رہا تھا۔

گذشتہ دو سال میں اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بڑے تنازعات اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور کینیڈا برسوں تک نیٹو کی ذمہ داریوں پر پورا نہ اترنے کے بعد اب فوج کے لیے اربوں ڈالر کی نئی فنڈنگ مختص کر رہا ہے۔

یہ تبدیلی ایک غیر معمولی قوم پرستی کے اضافے کے ساتھ بھی آئی، جو اُس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو ’51ویں ریاست‘ کہا، یہ ایک ایسا بیان تھا جسے بہت سے لوگوں نے قریبی ہمسایہ ملک کی طرف سے اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھا۔

کینیڈین گلوبل افیئرز انسٹیٹیوٹ کی ماہر شارلٹ ڈووال لانتوان، جو کینیڈا کی فوجی ثقافت پر تحقیق کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ حالیہ بھرتیوں میں اضافے کے پیچھے ’ٹرمپ اثر‘ ہو سکتا ہے لیکن فوجی درخواستوں میں اضافہ 2022 میں ہی شروع ہو گیا تھا، جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’جب لوگ دیکھتے ہیں کہ دنیا اتنی محفوظ نہیں رہی اور ان کا ملک خطرے میں ہو سکتا ہے۔۔۔ تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ فوج میں شامل ہونے لگتے ہیں۔‘

لیکن عالمی تنازعات ہی اس اضافے کی واحد وجہ نہیں۔ کینیڈا میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی بلند شرح جو مارچ میں تقریباً 14 فیصد کے قریب تھی اس کے ساتھ ساتھ ملازمت کے تحفظ اور بہتر تنخواہوں کا وعدہ، جو وزیر اعظم مارک کارنی نے کیا اور اس سلسلے میں فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں بڑے اضافے کا اعلان بھی کیا، یہ بھی اس رجحان میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

An image showing three Canadian military members in a snowy landscape, wearing white camouflage uniforms, face covers, gloves and holding various types of ammunition as they walk towards the right of the frame. Behind them is a parked snowmobile.

،تصویر کا ذریعہReuters

گذشتہ سال عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، کارنی نے فوج کو اپنی حکومت کی توجہ کا مرکز بنا لیا اور بقول ان کے ایک ’پرعزم‘ منصوبہ پیش کیا، جس کے تحت کینیڈین مسلح افواج کو تیزی سے جدید بنایا جائے اور اس میں توسیع کی جائے۔

مارچ میں انھوں نے اعلان کیا کہ کینیڈا نے باضابطہ طور پر دفاع پر اپنی جی ڈی پی کا 2 فیصد خرچ کرنے کا نیٹو ہدف حاصل کر لیا، جو 1980 کی دہائی کے اواخر کے بعد پہلی بار ہوا اور ایک سال میں یہ رقم 63 ارب کینیڈین ڈالر (46 ارب امریکی ڈالر؛ 34 ارب برطانوی پاؤنڈ) سے زائد بنتی ہے۔

کارنی نے 2035 تک دفاع پر جی ڈی پی کا 5 فیصد تک خرچ کرنے کے نیٹو عہد میں بھی شمولیت اختیار کی۔

کینیڈا نے 2 فیصد کے اس ہدف کو تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ حاصل کیا، اس کے علاوہ نئے ساز و سامان خریدنے، موجودہ اڈوں کو اپ گریڈ کرنے اور آرکٹک میں نیا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے وعدے بھی کیے۔

Prime Minister Mark Carney is seen shaking hands with a service member of the Canadian Armed Forces. Behind them are rows of service members from different units, standing in front of a military aircraft inside a hangar.

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکینیڈا نے اس سال 1980 کی دہائی کے بعد پہلی بار نیٹو کے دفاعی اخراجات کے ہدف کو حاصل کیا، جو کارنی حکومت کی جانب سے فوجی فنڈنگ میں اضافے کی بدولت ممکن ہوا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

لیکن نئی بھرتیوں کے باوجود، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی فوج اب بھی اپنے اتحادیوں سے نمایاں طور پر پیچھے ہے اور خبردار کرتے ہیں کہ فنڈنگ کے نتیجے میں بہتری آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

میکڈونلڈ لوریئر انسٹیٹیوٹ، جو ایک عوامی پالیسی تھنک ٹینک ہے، اس کے سینیئر فیلو رچرڈ شیموکا نے کہا کہ کینیڈین مسلح افواج اس وقت صرف چند ہزار فوجیوں کو ایک وقت میں تعینات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس کے ساتھ محدود تعداد میں لڑاکا طیارے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں برطانیہ کی فوج ضرورت پڑنے پر 10,000 فوجی تعینات کر سکتی ہے۔

شیموکا نے کہا کہ ’کینیڈین مسلح افواج کی موجودہ حالت بہت نچلی سطح پر ہے اور حقیقی بہتری دیکھنے میں پانچ یا دس سال لگیں گے۔‘

شیموکا کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ کینیڈا کا تاریخی طور پر اپنے دفاع کے لیے امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار ہے جو اس کا پڑوسی اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔

مختلف ادوار کے امریکی صدور اور حکام بار بار کینیڈا پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں اور ناقدین نے کینیڈا کو فوجی ’مفت خور‘ قرار دیا۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے 2024 میں کینیڈا پر الزام لگایا کہ وہ ’امریکہ کی چھتری تلے فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘

گذشتہ سال، ٹرمپ نے کینیڈا کو نیٹو کے ’کم ادائیگی کرنے والوں‘ میں شامل کرتے ہوئے جون میں صحافیوں سے کہا کہ ’کینیڈا کہتا ہے کہ ہم کیوں ادائیگی کریں جب امریکہ ہمیں مفت میں تحفظ فراہم کرے گا؟‘

گذشتہ سال جاری ہونے والی دفاعی اتحاد کی رپورٹ کے مطابق 2 فیصد ہدف حاصل کرنے کے باوجود بھی کینیڈا نیٹو کے کم خرچ کرنے والے ارکان میں شامل ہے اور امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے پیچھے ہے۔

کینیڈا فوج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کم کاغذی کارروائی اور غیر ملکی شہریوں کو خوش آمدید

کینیڈا کی جانب سے مزید بھرتیاں کرنا اس بات کی علامت ہے کہ حالات شاید آہستہ آہستہ بہتر ہو رہے ہیں۔ کینیڈا کے وزیرِ دفاع ڈیوڈ مک گینٹی نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ملک اپنی بھرتی کے اہداف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر سکتا ہے۔

فوج سے علیحدگی کی شرح، یعنی وہ تعداد جس میں فوجی اہلکار فوج سے علیحدہ ہو رہے ہیں، میں بھی کچھ کمی آئی، حالانکہ 2024 میں سابق وزیرِ دفاع بل بلیئر نے اسے ’موت کا چکر‘ قرار دیا تھا۔

فعال سروس کے ارکان نے حال ہی میں کینیڈا کے شمالی علاقے نوناؤٹ میں آرکٹک خودمختاری اور سکیورٹی آپریشن کے دوران بی بی سی کو بتایا کہ نئی فنڈنگ خوش آئند ہے اور بعض صورتوں میں کافی عرصے سے درکار تھی۔

رائل کینیڈین ایئر فورس کے فرسٹ آفیسر ایلڈن کیمبل نے کہا کہ ’ہم چند دہائیوں سے پیچھے ہیں لیکن کم از کم اب ہم کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حالیہ تنخواہوں کے ڈھانچے میں تبدیلی سے حوصلہ افزائی میں اضافہ ہوا اور جدید ساز و سامان کے وعدے نے بھی مثبت اثر ڈالا۔

انھوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ میں اپنی عمر اور کیریئر کے ایسے مرحلے پر ہوں کہ ان تبدیلیوں سے فائدہ اٹھا سکوں۔‘

کینیڈا فوج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اپریل کے آخر میں کینیڈا کی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ مالی سال میں 7,000 سے زائد نئے ارکان کو شامل کیا جو گذشتہ تین دہائیوں میں نئی بھرتیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

یہ تعداد اُن لوگوں کی مجموعی تعداد کا ایک حصہ ہے جنھوں نے فوج میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی۔

کینیڈا کے محکمہ قومی دفاع کی جانب سے بی بی سی کے ساتھ شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق فروری تک کینیڈین مسلح افواج میں تصدیق شدہ درخواستوں کی تعداد سال بہ سال تقریباً دوگنی ہو گئی، جو 21,700 سے بڑھ کر 40,116 ہو گئی۔

یہ اعداد و شمار اُن درخواست دہندگان کی عکاسی کرتے ہیں جنھوں نے فوج میں اپنی اہلیت کی تصدیق کے لیے مطلوبہ دستاویزات جمع کروائیں۔

درخواستوں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی، جو گذشتہ سال کے دوران تقریباً 100,000 تک پہنچ گئی۔

یہ 2019-20 کے مقابلے میں بڑا اضافہ ہے، جب تقریباً 36,000 افراد نے درخواست دی تھی۔

کینیڈین مسلح افواج کے لیفٹیننٹ کرنل ٹریوس ہینز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں بھرتیوں میں اضافے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فوج نے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کیا۔

کینیڈا کی فوج کو طویل عرصے سے اس بات پر تنقید کا سامنا رہا کہ وہ درخواست دہندگان کا جائزہ لینے اور انھیں جلد شامل کرنے میں ناکام رہی اور حال ہی میں اس نے درخواست کے کچھ مراحل کو ڈیجیٹل بنا دیا جس میں دستاویزات کو الیکٹرانک طور پر جمع کروانے کی اجازت شامل ہے تاکہ عمل کو تیز کیا جا سکے۔

ہینز نے کہا کہ ’دلچسپی ہمیشہ موجود تھی، بس نظام سے گزرنا مشکل تھا۔‘

حالیہ برسوں میں بھرتی میں ایک اور اہم تبدیلی یہ ہے کہ درخواستوں کو صرف شہریوں کے بجائے کینیڈا کے مستقل رہائشیوں کے لیے بھی کھول دیا گیا ہے، یہ تبدیلی 2022 میں نافذ ہوئی تھی۔ گذشتہ سال کی نئی بھرتیوں میں تقریباً 20 فیصد غیر ملکی شہری شامل تھے۔

کینیڈا اب اپنی فوج کو بڑے پیمانے پر بڑھانے کی طرف دیکھ رہا ہے، جس میں کل 85,500 ریگولر سروس ارکان اور 300,000 تک ریزرو اہلکاروں کی متحرک فورس کا منصوبہ شامل ہے۔

ڈووال لانتوان نے کہا کہ کینیڈا نے 2004 کے بعد اس پیمانے پر کسی متحرک منصوبے پر عمل نہیں کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک یوکرین میں جاری جنگ کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، جس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ بڑی حد تک یوکرین کی فوجی افرادی قوت کی وجہ سے جاری رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کینیڈا، اپنے یورپی اتحادیوں کی طرح ’موجودہ جنگ کا تجزیہ کر کے مستقبل کی جنگوں کے لیے تیاری‘ کر رہا ہے۔