آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, اقوامِ متحدہ کی سابق کمشنر ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا: ’اگر آپ تھوڑی اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے نام بھی کر دوں‘

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ممتاز قانون دان اور سابق اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ناوانیتھم ’ناوی‘ پلے کو امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں نوبیل امن انعام 2026 سے نوازا گیا ہے۔ انھوں نے انعام ملنے کی خبر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ابتدا میں یقین ہی نہیں آیا کہ یہ خبر واقعی درست ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. سابق اقوامِ متحدہ کمشنر ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا: ’اگر آپ تھوڑی اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے نام بھی کر دوں‘

    جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ممتاز قانون دان اور سابق اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ناوانیتھم ’ناوی‘ پلے کو امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں نوبیل امن انعام 2026 سے نوازا گیا ہے۔

    نوبیل کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فریدنیس نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ناوی پلے نے عالمی سطح پر امن، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا، جس کے اعتراف میں انہیں اس سال کا نوبیل امن انعام دیا جا رہا ہے۔

    نوبیل امن انعام جیتنے پر ناوی پلے کا ردِعمل: ’یہ کوئی مذاق ہی لگتا ہے‘

    نوبیل امن انعام 2026 کی فاتح ناوی پلے نے انعام ملنے کی خبر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ابتدا میں یقین ہی نہیں آیا کہ یہ خبر واقعی درست ہے۔

    انعام کے اعلان کے بعد اپنے مختصر خطاب میں سابق اقوامِ متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ انھیں ایک کال موصول ہوئی اور ایک شخص نے بتایا کہ وہ نوبیل امن انعام جیت گئی ہیں۔

    ناوی پلے نے ہنستے ہوئے کہا: ’یہ کوئی مذاق ہی ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’آپ کی تالیاں میرے لیے بہت معنی رکھتی ہیں، لیکن چونکہ میں ایک وکیل اور جج ہوں، اس لیے میں اب بھی اس خبر کی تصدیق کرنا چاہتی ہوں۔‘

    85 سالہ ناوی پلے نے حاضرین سے خوشگوار انداز میں مخاطب ہوتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی چٹکی لی۔ انھوں نے کہا: ’اگر آپ تھوڑی اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ بھی بانٹ لوں۔‘

    یہ تبصرہ گذشتہ سال کی نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کے اس اقدام کی جانب اشارہ تھا، جب انھوں نے جنوری میں اپنا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا تھا۔

    ناوی پلے کون ہیں؟

    85 سالہ ناوی پلے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک غریب انڈین نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد بس ڈرائیور تھے۔ نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے دور میں انھوں نے انسانی حقوق کے لیے کام کا آغاز کیا اور 1967 میں صوبہ نیٹل میں وکالت کا دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔

    بعد ازاں وہ جنوبی افریقہ میں ہائی کورٹ کی جج مقرر ہونے والی پہلی غیر سفید فام خاتون بھی بنیں۔ اپارتھائیڈ مخالف کارکنوں کے مقدمات لڑنے کے بعد انھیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روانڈا کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل کی جج منتخب کیا، جہاں انھوں نے آٹھ سال خدمات انجام دیں، جن میں چار سال بطور صدر شامل ہیں۔

    ناوی پلے حالیہ برسوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔ وہ اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اس مقدمے سے بھی وابستہ ہیں جس میں میانمار پر نسل کشی کے الزامات زیرِ سماعت ہیں۔

    ناوی پلے کو دنیا بھر میں انسانی حقوق، انصاف اور جوابدہی کے اصولوں کے فروغ کے لیے طویل خدمات کے باعث عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہے۔

  2. ایران کے خلاف جنگ میں 81 امریکی فوجی طیارے اور ڈرون تباہ یا متاثر، لاگت 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

    امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر (سی بی او) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی فوجی مہم ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے، جنگی جہاز اور ڈرون تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ان فضائی اثاثوں کے نقصان کی مالیت 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر کے درمیان تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ مستقل جنگ بندی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

    متاثر ہونے والے امریکی فضائی اثاثوں میں 12 ایف-15 ای سٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے، ایک ایف-35 اے لائٹننگ ٹو، سات کے سی-135 فضائی ایندھن بردار طیارے اور 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز شامل ہیں۔

    سابق امریکی بحری افسر اور دفاعی تجزیہ کار ہارلن اُلمین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں کم لاگت والے ڈرونز بڑی فوجی طاقتوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور فوجی اثاثوں کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچانے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’چھوٹے ڈرون بھی انتہائی قیمتی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور حالیہ تنازع کے دوران خلیجی ممالک میں اس کی مثالیں دیکھی گئی ہیں۔‘

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت نے روایتی فضائی برتری کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم وسائل رکھنے والے ممالک بھی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑی فوجی طاقتوں کو مؤثر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    اُدھر جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی درخواست کی ہے، تاہم کانگریس میں اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    گذشتہ ماہ 45 ڈیموکریٹ سینیٹرز اور ایک آزاد رکن نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو خط لکھ کر جنگی اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

    کانگریس کے بجٹ دفتر کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ایران کے ساتھ جنگ پر امریکی اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ ادارے کا اندازہ ہے کہ تنازع جاری رہنے کی صورت میں ہر اضافی ماہ کی لاگت دو سے تین ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے رپورٹ میں بیان کردہ نقصانات اور ان کے بجٹ پر ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

  3. پاکستان کی جانب سے نوبیل امن انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی: ’امید ہے اب کی بار صدر ٹرمپ کی کوششوں کو مناسب پذیرائی ملے گی‘

    آج (نو اکتوبر کو) نوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے نوبل امن انعام کا اعلان کیا جانا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔

    شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کو فروغ دینے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا۔

    ’اُن کی بروقت مداخلت نے پاکستان اور انڈیا کو کشیدگی کے دہانے سے واپس لانے اور جنگ بندی یقینی بنانے میں مدد دی، جو آج تک برقرار ہے۔‘

    وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔

    ’ہمیں خلوصِ دل سے امید ہے کہ ہمارے خطے میں امن کے فروغ اور تنازعات کی روک تھام کے لیے صدر کی کوششوں کو اس بار مناسب پذیرائی ملے گی۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ برس حکومتِ پاکستان نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا پاکستان اور انڈیا کے مابین حالیہ لڑائی کے دوران صدر ٹرمپ کی ’فیصلہ کن سفارتی مداخلت اور قائدانہ کردار‘ کے اعتراف میں انھیں 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔

  4. ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں سعودیہ ایئر لائن کے پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق

    سعودی عرب کی مقامی ایئر لائن سعودیہ نے جمعرات کے روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کے نتیجے میں اپنے ایک پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    ایئر لائن نے پائلٹ کی شناخت حمود علی الکلثامی کے نام سے کی ہے۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ریاض ہوائی اڈے کے ایک ٹرمینل پر کھڑے سرکاری ملکیت میں چلنے والی سعودیہ ایئرلائنز کا ایک مسافر طیارہ آگ لگنے سے شدید متاثر ہوا تھا۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا ہے کہ کہ جمعرات کے روز ریاض کے کنگ خالد بین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ ایک ہوائی جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔

  5. سعودی حکام کی کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق

    سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز ریاض کے کنگ خالد بین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں تین افراد ہلاک جبکہ ایک ہوائی جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔

    ادارے کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز ریاض ایئرپورٹ پر دو حملے کیے گئے۔

    بیان کے مطابق پہلے حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرے حملے میں سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

    سعودی حکام کے مطابق ان دونوں حملوں کے نتیجے میں تین سعودی شہری ہلاک جبکہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد غیر ملکی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    سول ایوی ایشن کا کہنا زخمیوں کو مختلف نوعیتوں کی چوٹیں آئی تھیں جنھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایئر پورٹ پر آپریشنل سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں اور فضائی آمدورفت معمول پر آ گئی ہے۔

  6. پی آئی اے نے ریاض کے لیے اپنا فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لیے اپنا فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

    پی آئی اے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر پی آئی اے نے ریاض کے لیے اپنا فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کیا ہے۔‘

    بیان میں مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے پی آئی اے کال سینٹر 786-786 -111 پر رابطہ کریں۔

    تاہم پی آئی اے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے دیگر شہروں کے لیے اس کی پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہِیں۔

    ریاض کے علاوہ پی آئی اے کی پروازیں جدہ، مدینہ، دمام اور القسیم بھی جاتی ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ تین روز کے دوران حوثیوں کی جانب سے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جمعرات کو ہونے والے تازہ حملے کے بعد ایئر انڈیا اور دیگر متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی دار الحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی تھیں۔

    دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز نے خبر دی تھی کہ جمعرات کو ہونے والے حملے کے نتیجے میں ایئر پورٹ پر موجود سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو نقصان پہنچا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی تصاویر میں ایک طیارے سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    بدھ کی رات سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے آگاہ کیا تھا کہ 6 اور 7 اکتوبر کی درمیانی شب بھی کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    سعودی حکام کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے اس حملے میں سوڈانی شہریت رکھنے والا ایک شخص ہلاک ہوا تھا جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں پانچ سعودی شہری، ایک مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل تھا۔

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی سعودی عرب پر ہوئے ان حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کو فوری طور پر یہ حملے بند کرنے چاہییں۔

  7. ریاض ایئر پورٹ پر حوثیوں کے حملوں میں ایک مسافر طیارے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے پر موجود دو عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے جمعرات کو ہونے والے حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو بظاہر نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ہوائی اڈے پر کم از کم ایک طیارے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق تین طیارے متاثر ہوئے۔

    یمن کے حوثیوں نے جمعرات کو ایئرپورٹ پر تین الگ الگ حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ دارالحکومت ریاض میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ سعودی قیادت میں قائم افواج نے کہا کہ ہوائی اڈے کی جانب داغے گئے میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا۔

    دونوں عینی شاہدین کے مطابق ٹرمینل 4 پر کھڑے سعودیہ کے ایک طیارے کے ڈھانچے پر واضح نقصان کے آثار تھے۔ یہ ٹرمینل اس وقت سعودیہ اور ریاض ایئر کی اندرونِ ملک پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ریاض ہوائی اڈے کے ایک ٹرمینل پر کھڑے سرکاری ملکیت میں چلنے والی سعودیہ ایئرلائنز کا ایک مسافر طیارہ آگ لگنے سے شدید متاثر ہوا تھا۔

    سعودی حکومت کے میڈیا دفتر، ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور سعودی عربین ایئرلائنز نے اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  8. پاکستان کی سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت: حوثیوں کو فوری طور پر یہ حملے بند کرنے چاہییں، وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حوثی ملیشیا سے حملے فوری طور بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بار بار کیے جانے والے حملوں بشمول ریاض کے کنگ خالد ایئر پورٹ اور ابھا انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتا ہوں جن کے نتیجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

    بیان میں سعودی عرب کی سعودی مسلح افواج اور اتحاد کی جانب سے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا گیا ہے۔

    وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے مطابق، سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے ہمارا عزم پختہ ہے۔ ہم سعودی عرب کی اپنے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ ’حوثی ملیشیا کو فوری طور پر یہ حملے بند کرنے چاہییں۔ ہم ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔‘

  9. پاکستان میں پیٹرول اور ہائی سپید ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

    پاکستان کی حکومت نے جمعرات کے روز پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا اعلان کیا ہے۔

    وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 31 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 78 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 398 روپے 96 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 395 روپے 72 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے لیے گذشتہ ماہ پاکستانی حکومت نے ایک خصوصی سکیم کا اعلان کیا تھا۔

    اس سکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔

    وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی سمیت دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔

    جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے۔

  10. سابق امریکی فوجی افسر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی: پینٹاگون

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ عوام سابق امریکی فوجی افسر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت دیکھ سکیں گے۔

    محکمۂ دفاع کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے ندال حسن ملک کی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں پہلی عوامی پھانسی ہوگی۔

    سزائے موت پانے والے قیدیوں کے مقدمات پر کام کرنے والے وکیل جان ملز کا کہنا ہے ہ سزائے موت کی کارروائی کو براہِ راست نشر کرنے کے فیصلہ کی جدید دور میں مثال نہیں ملتی اور قانونی اعتبار سے غیر واضح نکتے پر لیا گیا اقدام ہے۔

    پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، کہ یہ عوامی ہو۔‘

    ’لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔‘

    ہیگستھ نے قدامت پسند ٹی وی ’ریئل امریکا'ز وائس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو ’فوجیوں کے فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔ اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘

    پینٹاگون نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ حسن کو سزائے موت دی جائے گی، جو 60 برس سے زیادہ عرصے میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔

    امریکی فوج کے میجر اور معالج نِڈال ملک حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کر کے 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک جبکہ 32 دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

    سوموار کے روز پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس سزا کی سفارش کی تھی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظور کر لیا ہے۔

    یہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد فائرنگ سکواڈ کے ذریعے ہونے والی پہلی فوجی سزائے موت ہو گی۔

    حسن کو 13 افراد کے قتلِ عمد اور 32 افراد کے قتل کی کوشش کے الزامات میں فوجی افسران پر مشتمل 13 رکنی جیوری نے مجرم قرار دیا تھا۔ جیوری نے متفقہ طور پر انھیں سزائے موت دینے کی سفارش کی تھی۔

  11. مسعود پزشکیان کی ترکمانستان میں ولادیمیر پوتن سے ملاقات: ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہیں، روسی صدر

    ترکمانستان سے روسی خبر رساں ذرائع نے خبر دی ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران۔امریکہ جنگ کے خاتمے میں مدد کے لیے روس ’تمام ضروری اقدامات‘ کرنے کے لیے تیار ہے۔

    خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق پوتن کا کہنا تھا کہ ’آپ ہمارے مؤقف سے واقف ہیں۔ ہم اپنی طرف سے، اس صورتحال کے حل میں مدد کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہیں۔‘

    پوتن اور مسعود پزشکیان بحیرۂ کیسپین سے ملحق ممالک کے سربراہی اجلاس اور دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (سی آئی ایس) کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کے لیے ترکمانستان میں موجود ہیں۔

    روسی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ایران اس تنازع کے خاتمے کے لیے حقیقی کوششیں کر رہا ہے، ایک ایسا تنازع جس کے شروع ہونے میں ایران کی کوئی غلطی نہیں۔‘

    پوتن نے ایران اور روس کے تعلقات میں ’مثبت پیش رفت‘ کی بھی نشاندہی کی۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، ملاقات کے دوران مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتا ہے، لیکن ہم پھر بھی بات چیت اور مذاکرات کی میز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

    ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے بارے میں کہا ’ہم نے کچھ تجاویز پیش کی تھیں اور امریکیوں نے بھی نئی تجاویز دی تھیں۔ ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم شامل کی ہیں۔ ان کے حتمی ہونے کے بعد، ہم موجودہ روابط کے ذریعے بیٹھ کر ان کا خلاصہ مرتب کریں گے۔‘

    ’ہماری کوشش ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہو اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ایرانی عوام کے حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے، لیکن اگر امریکہ یکطرفہ طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایران صدر کے اس بیان سے چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا ’ہم ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت میں مصروف ہیں اور تین نومبر کو امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی صورت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔‘

  12. ٹرمپ کی تہران کے ساتھ ’نتیجہ خیز‘ بات چیت کی تصدیق: امریکی وسط مدتی انتخابات تک ایران پر حملہ نہیں کریں گے، امریکی صدر

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کر رہا ہے اور امریکی وسط مدتی انتخابات تک ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران معاشی اور عسکری دونوں لحاظ سے انتہائی ابتر حالت میں ہے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پوری طرح برقرار رہے گی،۔

    ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز سے ریکارڈ تعداد میں تیل گزر رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایک روز قبل اس آبی گزرگاہ سے ایک روز 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی ہے اور ’اس میں سے ایک بھی بیرل ایران سے نہ آیا اور نہ ایران گیا۔‘

    امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ’ہم تین نومبر کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔‘

  13. حوثی سعودی عرب کے ایئر پورٹس پر بھی حملے کر رہے ہیں، شہری غیر معمولی احتیاط برتیں: امریکی سفارتخانہ

    سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ وہ 8 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں سے آگاہ ہے اور تمام امریکی شہریوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی یاددہانی کروا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ حوثی سعودی عرب کے خلاف حملے کر رہے ہیں، جن میں ایئر پورٹس کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ’موجودہ فوجی تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان موجود ہے۔‘

    ’امریکی شہریوں کو پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری خلل کے امکانات سے آگاہ رہنا چاہیے۔ ہم تجویز دے رہے ہیں کہ آپ اپنی پرواز کی صورتحال براہِ راست متعلقہ فضائی کمپنی اور ایئر پورٹ سے معلوم کریں۔‘

    امریکی سفارتخانے نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی شہری یمن کی سرحد کے قریب سفر نہ کریں۔

    بیان میں امریکی سرکاری ملازمین کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ وہ ریاض کے کنگ خالد ایئر پورٹ کے استعمال سے قبل خصوصی اجازت لیں۔

    ’سعودی عرب میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کو سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر یمن کی سرحد سے 20 میل کے اندر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح جیزان، عسیر اور نجران کے صوبوں اور قطیف، ینبع اور طائف کے شہروں کے سفر کے لیے بھی خصوصی اجازت درکار ہے۔‘

  14. برطانوی شہری سعودی عرب کے صوبوں عسیر، نجران، جیزان اور شہر طائف سفر نہ کریں: برطانیہ

    برطانوی دفتر خارجہ نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے صوبوں عسیر، نجران، جیزان اور طائف شہر اور اس کے ایئرپورٹ کی طرف سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    برطانوی دفتر خارجہ نے شہریوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ یمن کی سرحد سے 10 کلومیٹر تک کے علاقے میں کسی بھی قسم کے سفر سے گریز کریں۔

    برطانوی دفتر خارجہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب کے درالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک بچوں کی نرسری اور ایک میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔

    ترکی المالکی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا ہے جبکہ ریاض کی جانب داغے گئے دو مزید بیلسٹک میزائل بھی فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔

  15. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • مکہ معاہدے کے تحت ترکی پر لازم نہیں کہ فوجی دستے کسی دوسرے ملک جارحانہ کارروائیوں کے لیے بھیجے: ہاکان فیدان
    • پاکستان کی حکومت نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان فضائیہ کے طیارے استعمال ہو رہے ہیں۔
    • یوکرین کے ریسکیو حکام کے مطابق مشرقی محاذ پر کراماتورسک شہر میں روسی گلائیڈ بم حملے میں دو سویلین بسوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کے روز چارسدہ میں کارکنوں کو آئندہ کے لائحہ عمل کا کچھ حصہ بتایا جائے گا، جبکہ مکمل منصوبہ صوابی پہنچ کر ظاہر کیا جائے گا۔
    • جمعرات کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے حوثی دعوے کے بعد متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی دار الحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں جبکہ شہر میں سکیورٹی خدشات کے باعث سفارت کاروں اور تعلیمی اداروں نے بھی حفاظتی اقدامات کیے۔
    • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اب بھی اس تجویز پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔