لائیو , ریپبلکن پارٹی میں انتخابی شکست کے بعد الزام تراشی اور خود احتسابی کا آغاز

گذشتہ تین دہائیوں میں اپنی بدترین انتخابی ناکامیوں میں سے ایک کے بعد ریپبلکن پارٹی کے اندر خود احتسابی اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ملک بھر کے ووٹروں نے اپنے فیصلے کے ذریعے واضح پیغام دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ انتخابات میں ایک اہم مسئلہ بن گیا تھا۔ اب ٹرمپ کے بعض قریبی اتحادی بھی اس مؤقف سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

پیشکش: اعظم خان

  1. 40 برس بعد مسیسیپی سے ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب ہونے کا امکان

    USA

    امریکہ کی ریاست مسیسیپی میں سینیٹ کی نشست کے لیے جاری سخت مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار سکاٹ کولوم توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جہاں ان اور ریپبلکن سینیٹر سنڈی ہائیڈ سمتھ کے درمیان فرق ایک ہزار سے کچھ زیادہ ووٹوں کا ہے۔

    سکاٹ کولوم اس وقت ڈسٹرکٹ اٹارنی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ اس سے قبل وہ پراسیکیوٹر اور جج بھی رہ چکے ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے انھیں شمالی مسیسیپی کے لیے وفاقی جج نامزد کیا تھا، تاہم سینیٹ میں ان کی نامزدگی سنڈی ہائیڈ سمتھ نے روک دی تھی۔

    اگرچہ ابتدا میں یہ انتخابی مقابلہ قومی توجہ حاصل نہیں کر سکا تھا، لیکن حالیہ ہفتوں میں سابق صدر بل کلنٹن، سابق نائب صدر کملا ہیرس اور سینیٹر رافیل وارناک نے کولوم کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔

    کولوم نے ایک موقع پر ہائیڈ سمتھ کے اس بیان کو بھی انتخابی موضوع بنایا جس میں انھوں نے گوشت کی بڑھتی قیمتوں پر عوامی شکایات کے جواب میں لوگوں کو ’کوئی اور پروٹین استعمال کرنے‘ کا مشورہ دیا تھا۔ کولوم نے اس پر مبنی اشتہار میں ووٹروں سے کہا کہ وہ ’ایک اور سینیٹر منتخب کریں‘، جسے خاصی توجہ ملی۔

    اگر سکاٹ کولوم کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ تقریباً 40 برس میں امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ ہوں گے اور تعمیرِ نو کے دور کے بعد مسیسیپی کے پہلے سیاہ فام سینیٹر بھی بن جائیں گے۔

    ساتویں نسل کے مسیسیپی باشندے سکاٹ کولوم دو بچوں کے والد ہیں۔

  2. عوامی ریلیف اور ٹرمپ انتظامیہ کا احتساب، ڈیموکریٹس کا نیا ایجنڈا, سارہ سمتھ، واشنگٹن ڈی سی میں بی بی سی کی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر

    USA

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کو اب اپنے انتخابی وعدوں پر عملدرآمد کا چیلنج درپیش ہے، خصوصاً مہنگائی میں کمی اور حکومت کو جوابدہ بنانے کے حوالے سے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں بی بی سی کی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر

    ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نے کہا ہے کہ ان کی جماعت عوامی مسائل، خاص طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور حکومتی احتساب پر توجہ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوانِ نمائندگان کا کام ٹرمپ انتظامیہ کی توسیع بننا نہیں بلکہ امریکی عوام کی نمائندگی کرنا ہے۔

    دوسری جانب سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو محکمہ دفاع کی فنڈنگ محدود کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

    تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق ڈیموکریٹس کے اندر موجود نظریاتی اختلافات، خصوصاً اسرائیل سے متعلق پالیسی پر اختلافِ رائے، پارٹی کے لیے اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا مشکل بنا سکتے ہیں۔

  3. ڈیموکریٹس کی کامیابی کینیڈا کے لیے خوش آئند، ٹیرف میں نرمی کی امید پیدا, نادین یوسف، سینیئر رپورٹر

    USA

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کینیڈا میں بہت سے لوگوں کی خواہش کے مطابق سامنے آئے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں کامیابی کو امریکی ووٹروں کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی تجارتی شراکت داروں، خصوصاً کینیڈا، پر عائد محصولات کی پالیسی کے خلاف ایک ردعمل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے بدھ کے روز خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں تو خوشی سے سڑک پر قلابازیاں لگا رہا تھا۔‘

    انھوں نے ان نتائج کو ’کینیڈا کی فتح‘ قرار دیا۔

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کے باوجود کینیڈا کو فوری طور پر امریکی محصولات سے چھٹکارا ملنے کا امکان نہیں۔ اس کے باوجود توقع کی جا رہی ہے کہ نئی سیاسی صورتحال کے باعث دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔

    ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز اور چک شومر حالیہ مہینوں میں کینیڈا پر عائد ٹیرف کم کرنے یا ختم کرنے کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ کانگریس میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے اوٹاوا کو مذاکرات میں بہتر پوزیشن مل سکتی ہے۔

    تاہم ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ٹرمپ کے بیشتر محصولات کانگریس کی منظوری کے بغیر صدارتی اختیارات یعنی ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے نافذ کیے گئے تھے۔ اس لیے کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے باوجود ٹیرف پالیسی میں فوری اور بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا رہی۔

  4. امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف ووٹروں کا ردعمل، اے آئی صنعت کو بڑا سیاسی دھچکہ

    USA midterm

    امریکہ کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ ڈیٹا سینٹرز ایک اہم سیاسی مسئلہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ووٹروں نے تقریباً ہر اس تجویز کو مسترد یا محدود کرنے کے حق میں ووٹ دیا جس کا تعلق ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور توسیع سے تھا، جسے اے آئی صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

    منگل کو 10 ریاستوں میں ڈیٹا سینٹرز سے متعلق 41 مقامی بیلٹ اقدامات پر ووٹنگ ہوئی۔ نتائج کے مطابق صرف نارتھ ڈکوٹا کے شہر ہارووڈ میں ایک استثنا سامنے آیا، جبکہ باقی تقریباً تمام مقامات پر ووٹروں نے ڈیٹا سینٹرز پر پابندیوں یا سخت نگرانی کی حمایت کی۔

    اوہائیو میں مسئلہ مرکزی انتخابی موضوع بن گیا

    ریاست اوہائیو میں اکیلے 21 تجاویز ووٹ کے لیے پیش کی گئی تھیں۔ یہاں ڈیٹا سینٹرز کا معاملہ سینیٹ کے انتخاب میں بھی اہم موضوع رہا۔ ڈیموکریٹ امیدواروں نے ریپبلکن قیادت پر الزام لگایا کہ وہ مقامی آبادی کے مفادات پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ترجیح دے رہی ہے۔

    اوہائیو وہی ریاست ہے جہاں اوپن اے آئی نے رواں سال دنیا کے سب سے بڑے مجوزہ اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبوں میں سے ایک میں آٹھ گیگاواٹ کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے میں سافٹ بینک، ایس بی انرجی اور امریکی محکمہ توانائی شریک ہیں جبکہ این ویڈیا بھی اس کی معاون کمپنیوں میں شامل ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 500 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔

    تاہم اب اس منصوبے کو نئی سیاسی مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اوہائیو میں ڈیموکریٹ امیدوار ایمی ایکٹن نے گورنر کا انتخاب جیت لیا ہے اور وہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ’مشروط پابندی‘ کی حامی ہیں، جب تک یہ منصوبے اپنی مکمل توانائی لاگت خود برداشت نہ کریں اور یونین مزدوروں کو روزگار نہ دیں۔

    ٹیکساس میں بڑا انتخابی دھچکہ

    انتخابات کی ایک اہم خبر ٹیکساس سے آئی جہاں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوخوسا نے ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دی۔ ہینوخوسا نے اپنی مہم کے دوران الزام لگایا تھا کہ ایبٹ نے مقامی آبادی کے مفادات کے بجائے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مفادات کو ترجیح دی اور ریاست میں ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے توسیع کی حوصلہ افزائی کی۔

    ٹیکساس کو 2030 تک دنیا کی سب سے بڑی ڈیٹا سینٹر مارکیٹ بننے کا امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔

    سیلیکون ویلی کی بھاری سرمایہ کاری بھی مؤثر نہ رہی

    انتخابات میں سیلیکون ویلی اور ٹیکنالوجی صنعت سے وابستہ گروپوں نے ریکارڈ مالی سرمایہ کاری کی۔ کرپٹو کرنسی، مصنوعی ذہانت اور آن لائن جوئے سے وابستہ مفادات نے مجموعی طور پر 377 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔

    ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک، جو اس انتخابی دور کے سب سے بڑے انفرادی عطیہ دہندہ تھے، کم از کم 474 ملین ڈالر سیاسی مہمات پر خرچ کرنے کے باوجود ٹیکساس کی اہم انتخابی دوڑوں میں اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب نہ کرا سکے۔

    نتائج کے بعد مسک نے طنزیہ انداز میں ایکس پر لکھا، ’اس وقت خلا میں ڈیٹا سینٹرز کا خیال کافی پرکشش لگ رہا ہے۔‘

    عوامی تشویش کتنی بڑی تھی؟

    امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی این بی سی کے ایک سروے کے مطابق 56 فیصد ووٹروں نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز کا معاملہ ان کے ووٹ کا اہم یا فیصلہ کن عنصر تھا۔ ڈیموکریٹ ووٹروں میں اس مسئلے کی حساسیت نسبتاً زیادہ دیکھی گئی۔

    مقامی برادریوں کی شکایات میں بجلی کے بڑھتے استعمال، پانی کے وسائل پر دباؤ، ماحولیاتی اثرات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دی جانے والی مراعات شامل تھیں۔

    ڈیموکریٹس کی نئی حکمت عملی: اے آئی کمپنیوں کا احتساب

    انتخابی نتائج سامنے آنے کے چند گھنٹوں کے اندر ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اے آئی صنعت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا شروع کر دیا۔

    ٹیکساس سے ڈیموکریٹ رکن کانگریس گریگ کاسار نے مطالبہ کیا کہ اے آئی کمپنیوں کے سربراہوں کو کانگریس کے سامنے حلف کے تحت گواہی دینے کے لیے طلب کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ اکثریت کو امریکی ملازمتوں، آزادیوں اور عوامی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح بنانا چاہیے۔‘

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ووٹروں نے ارب پتی اے آئی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو مسترد کر دیا ہے۔

  5. ایلون مسک اور دیگر ارب پتیوں کا ردعمل: ڈیموکریٹک کامیابی کے کیا اثرات ہوں گے؟

    امریکی انتخابات

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں کامیابی کے بعد ملک کے بڑے کاروباری اور مالیاتی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک طرف بعض ارب پتی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی صنعت سے وابستہ شخصیات نے نتائج پر تشویش ظاہر کی، جبکہ دوسری جانب وال سٹریٹ نے ان نتائج کا بھرپور خیرمقدم کیا۔

    انتخابی نتائج کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج تقریباً 1,569 پوائنٹس یا تین فیصد بڑھ گیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک انڈیکس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاروں نے سیاسی غیر یقینی صورتحال میں کمی اور انتخابی نتائج کی قبولیت کو مارکیٹ کے لیے مثبت قرار دیا۔

    انتخابی اخراجات پر تنقید

    ورجن گروپ کے بانی رچرڈ برینسن نے انتخابات پر اربوں ڈالر خرچ کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے انتخابی فنڈنگ کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کاروباری شخصیات اور ہیج فنڈ مینیجرز کی جانب سے انتخابی مہمات پر اتنی بڑی رقوم خرچ کرنا باعثِ تشویش ہے۔

    دوسری جانب ایلون مسک، جو اس انتخابی دور کے سب سے بڑے انفرادی عطیہ دہندگان میں شمار ہوتے ہیں، اپنے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدواروں کی ٹیکساس سمیت کئی اہم ریاستوں میں شکست کے بعد مایوس نظر آئے۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں پر تقریباً 474 ملین ڈالر خرچ کیے، جن میں سے 224 ملین ڈالر صرف ٹیکساس میں خرچ ہوئے۔

    ’سیاست سے پیسے کا کردار ختم ہونا چاہیے‘

    لنکڈ اِن کے شریک بانی ریڈ ہوفمین نے بھی سیاست میں بڑے پیمانے پر مالی اثر و رسوخ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کو دولت کے اثر سے آزاد ہونا چاہیے۔ انھوں نے ایلون مسک پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انھوں نے مخصوص سیاسی قوتوں کو اقتدار میں رکھنے کے لیے غیر معمولی رقوم خرچ کیں۔

    ادھر معروف سرمایہ کار اور ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے حامی الیکس سوروس نے نتائج کو ’تاریخی کامیابی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نسل در نسل اثرات رکھنے والا سیاسی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت کی صنعت کو خدشات

    انتخابی نتائج کے بعد سب سے زیادہ تشویش مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے سے وابستہ سرمایہ کاروں اور کمپنیوں میں دیکھی گئی۔ پرشنگ سکوائر کے بانی بل ایکمین نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کی رفتار کم کر دی تو اس کی تکنیکی برتری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بقول، ’حقیقت یہ ہے کہ ہم رفتار سست نہیں کر سکتے۔‘

    ارب پتی سرمایہ کار چماتھ پالیہاپیتیا نے خبردار کیا کہ اگر نئی حکومتوں یا ریاستی قیادتوں نے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر محدود کر دی تو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

    یہ خدشات خاص طور پر ٹیکساس میں اس وقت بڑھ گئے جب نومنتخب ڈیموکریٹ گورنر جینا ہینوخوسا نے نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر عارضی پابندی کے حق میں موقف اختیار کیا، جب تک کہ ان کے لیے مزید سخت ضابطے اور حفاظتی اقدامات متعارف نہ کرائے جائیں۔

    سرمایہ کاری فرم آلٹی میٹر کیپیٹل کے سربراہ بریڈ گرسٹنر کا کہنا ہے کہ اس سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں 2027 تک متوقع اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ میں منصوبہ بندی کے مراحل میں موجود تقریباً 10 فیصد ڈیٹا سینٹرز شاید اب تعمیر نہ ہو سکیں۔

    اے آئی کے فوائد عوام تک پہنچانے کی ضرورت

    اے ایم ڈی کی چیف ایگزیکٹو لیزا سو نے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بڑھتی عوامی مزاحمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مقامی آبادی کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ان منصوبوں سے صرف کمپنیاں ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی فائدہ اٹھائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آخرکار ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت سے سب فائدہ اٹھائیں۔‘

    مارکیٹ کا مختلف نقطۂ نظر

    اگرچہ اے آئی صنعت کے حامیوں کو خدشات لاحق ہیں، لیکن وال سٹریٹ کے کچھ سرمایہ کار اس صورتحال کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی رفتار کم ہوتی ہے تو موجودہ مراکز کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اربوں ڈالر کے اضافی اخراجات کا دباؤ بھی کم ہوگا۔

    اسی تناظر میں انتخابی نتائج کے بعد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ان کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں ایک موقع پر 750 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  6. ریپبلکن پارٹی میں انتخابی شکست کے بعد الزام تراشی اور خود احتسابی کا آغاز, ول گرانٹ، شمالی امریکہ کے نامہ نگار

    USA

    گذشتہ تین دہائیوں میں اپنی بدترین انتخابی ناکامیوں میں سے ایک کے بعد ریپبلکن پارٹی کے اندر خود احتسابی اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ملک بھر کے ووٹروں نے اپنے فیصلے کے ذریعے واضح پیغام دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ انتخابات میں ایک اہم مسئلہ بن گیا تھا۔

    اب ٹرمپ کے بعض قریبی اتحادی بھی اس پالیسی سے فاصلہ اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سب سے نمایاں نائب صدر جے ڈی وینس ہیں۔ جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’ہماری شکست کی وجہ جنگ تھی، اور آئندہ کے راستے پر کوئی بھی دیانت دارانہ گفتگو اسی حقیقت سے شروع ہونی چاہیے۔‘

    یہ مؤقف وہی ہے جسے ٹرمپ نے بھی وائٹ ہاؤس میں ایک نئے بال روم کی تعمیر کے مقام پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کسی حد تک تسلیم کیا، تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ وہ اپنے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہ کرتے۔

    ٹرمپ نے کہا، ’آپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

    سیاسی مبصرین جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات کو 2028 کے صدارتی انتخاب کے لیے ان کی ممکنہ انتخابی مہم کے غیر اعلانیہ آغاز کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

    انتخابی نتائج کو بعض حلقے اس بات کی علامت قرار دے رہے ہیں کہ امریکہ میں ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ (میگا) تحریک، جس کی قیادت ٹرمپ کرتے رہے ہیں، اپنے زوال کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

  7. ’عوام مہنگائی اور غربت سے پریشان تھے، قیادت نے توجہ نہ دی‘: ٹیکساس سے ریپبلکن سینیٹر

    USA

    امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے کہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج صرف ’بلیو ویو‘ (ڈیموکریٹس کی کامیابی کی لہر) نہیں بلکہ ’بلیو سونامی‘ ہیں۔

    سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ اس انتخاب کے اثرات سب سے زیادہ ٹیکساس میں محسوس کیے جائیں گے، جہاں کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ 37 سالہ جیمز ٹالاریکو سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں۔

    اسی طرح ڈیموکریٹ سیاستدان جینا ہینوخوسا نے ملک کے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے ریپبلکن گورنروں میں شمار ہونے والے گریگ ایبٹ کو شکست دی۔

    ٹیڈ کروز نے مہنگائی، بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات اور غربت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’حقیقی امریکیوں کو حقیقی مشکلات کا سامنا تھا، لیکن بہت سے ریپبلکن سیاستدان یا تو اسے سمجھ نہیں سکے یا پھر انھیں اس کی پروا نہیں تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ٹیکساس اب بلیو (ڈیموکریٹ) ہے۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جسے زبان پر لانا بھی مشکل ہے۔‘

    کروز کے مطابق ریپبلکن جماعت کو دیہی علاقوں کے ووٹروں، ہسپانوی نژاد امریکیوں اور نوجوانوں میں اپنی کھوئی ہوئی حمایت دوبارہ حاصل کرتے ہوئے خود کو ایک ’حقیقی محنت کش طبقے کی جماعت‘ کے طور پر ازسرِ نو تعمیر کرنا ہوگا۔

  8. ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس کا ایران جنگ ختم کرنے، اسرائیل کی امداد روکنے اور ایپسٹین فائلیں منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ

    امریکہ

    امریکی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ نے کہا ہے کہ وہ نائب صدر جے ڈی وینس کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ریپبلکنز کی وسط مدتی انتخابات میں شکست کی وجوہات میں ایران کے خلاف جنگ اور جیفری ایپسٹین معاملے کو چھپانے سے جڑی بدعنوانی شامل ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جے ڈی وینس کی پوسٹ کے جواب میں رو کھنہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے تین تجاویز پیش کیں: ایک ایسی قرارداد کی حمایت کی جائے جو ایران میں امریکی فوج کی کسی بھی جنگی کارروائی کے لیے فنڈنگ پر پابندی عائد کرے۔ ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ کیا جائے، جسے کھنہ نے ویتنام جنگ کے خاتمے سے تشبیہ دی۔ قرارداد کے ذریعے اسرائیل کے لیے تمام امریکی امداد ختم کرنے کی حمایت کی جائے۔

    رو کھنہ نے مزید مطالبہ کیا کہ انتظامیہ ’ایپسٹین 2.0 ایکٹ‘ کی حمایت کرے تاکہ ریاستی اٹارنی جنرلز ان افراد کے خلاف مقدمات چلا سکیں جن پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانی سمگلنگ کے الزامات ہیں۔

    انھوں نے جے ڈی وینس سے سوال کرتے ہوئے کہا کیا آپ اب واقعی ان تین میں سے کسی ایک اقدام پر عمل کریں گے؟

  9. ٹرمپ خاندان کے کاروباری معاملات کی بڑھتی جانچ پڑتال پاکستان کے لیے بری خبر بن سکتی ہے، امریکی تجزیہ کار

    ٹرمپ

    جنوبی ایشیا کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار مائیکل کگلمین کا کہنا ہے کہ کانگریس پر ڈیموکریٹس کے متوقع کنٹرول کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کے کاروباری معاملات کی جانچ پڑتال میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی سفارت کاری پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک تبصرے میں مائیکل کگلمین نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے پاکستان کے لیے بھی منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

    Trump-Pakistan

    ان کے بقول، ’جب ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول سنبھالیں گے تو ٹرمپ اور ان کے خاندان کے کاروباری معاملات پر نگرانی اور چھان بین میں اضافہ ہوگا، جو ان کی انتظامیہ کی تجارتی سفارت کاری کو متاثر کر سکتا ہے۔‘

    کگلمین نے مزید کہا کہ ایسی صورت حال پاکستان کے لیے اچھی خبر نہیں ہوگی، کیونکہ پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کاروباری اور تجارتی روابط پر خاصا انحصار کیا ہے۔

  10. مِسِسپی سینیٹ کی دوڑ کانٹے کے مقابلے میں تبدیل، ڈیموکریٹ امیدوار معمولی برتری پر

    USA

    امریکی ریاست مِسِسپی میں سینیٹ کی نشست کے لیے ہونے والا مقابلہ بدستور انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہے، جہاں تقریباً 96 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

    تازہ ترین نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار سکاٹ کولوم اپنے ریپبلکن حریف سنڈی ہائیڈ-سمتھ پر 1,138 ووٹوں کی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، جو مجموعی ووٹوں کا تقریباً 0.1 فیصد بنتی ہے۔

    اس سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل کولوم کی برتری صرف 65 ووٹ تھی، تاہم مزید نتائج موصول ہونے کے بعد ان کی سبقت میں اضافہ ہوا ہے۔

    چند فیصد ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہونے کی وجہ سے مقابلہ تاحال غیر یقینی ہے، اور حتمی نتیجے کے لیے مزید نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  11. ’لوگ جھوٹ، معاشی مشکلات اور اس بات سے تنگ آ چکے ہیں کہ ملک کو کسی ریئلٹی شو کی طرح چلایا جا رہا ہے‘

    USA

    امریکی ریاست الاباما سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس شوماری فِگرز دوبارہ انتخاب جیتنے میں کامیاب ہو گئے، حالانکہ ریپبلکن قانون سازوں نے انتخابی حلقے کی نئی حد بندیاں (ری ڈسٹرکٹنگ) اس انداز میں مرتب کی تھیں کہ ان کی شکست کے امکانات بڑھ جائیں۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شوماری فِگرز نے کہا کہ ’ہم نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ اس انتخاب میں ہم کمزور امیدوار ہیں۔‘ انھوں نے یہ بیان ایسے حلقے میں کامیابی کے بعد دیا جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں دوہری ہندسوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔

    شوماری فِگرز ان متعدد امیدواروں میں شامل تھے جنھیں ’جیرّی مینڈرنگ‘ یا سیاسی فائدے کے لیے انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کے عمل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس طریقہ کار میں حلقوں کی سرحدیں اس طرح تبدیل کی جاتی ہیں کہ کسی ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچے۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنالاباما سے تعلق رکھنے والے امریکی رکنِ کانگریس شوماری فِگرز

    اگرچہ اس انتخابی دور میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں نے اس حکمتِ عملی کا استعمال کیا، تاہم ریپبلکن جماعت نے صدر ٹرمپ کی براہِ راست اپیل پر زیادہ جارحانہ انداز اپنایا۔

    تاہم کئی مقامات پر یہ حکمتِ عملی الٹا اثر دکھاتی نظر آئی۔

    ٹیکساس میں ریپبلکنز نے پانچ کانگریسی نشستوں کو اپنے حق میں ڈھالنے کی کوشش کی، لیکن ان میں سے چار نشستیں ڈیموکریٹس کے ہاتھوں چلی گئیں۔ اسی طرح فلوریڈا میں ریپبلکنز کو ان چاروں نشستوں پر ناکامی کا سامنا کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جن کی ازسرِنو حد بندی کی گئی تھی۔

    ڈیموکریٹس کی وسیع کامیابیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر شوماری فِگرز نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ لوگ تھک چکے ہیں۔ وہ مجموعی معاشی صورتحال سے تنگ آ چکے ہیں، جھوٹ سے تنگ آ چکے ہیں، اور اس بات سے بھی کہ ملک کو کسی ریئلٹی شو کی طرح چلایا جا رہا ہے۔‘

  12. انتخابات میں ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت غیرمتوقع تھی، اوپن اے آئی کے شریک بانی کا اعتراف

    Open AI
    ،تصویر کا کیپشناوپن اے آئی کے شریک بانی گریگ بروک مین اکتوبر میں مار-اے-لاگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک عشائیے میں شریک تھے

    اوپن اے آئی کے صدر اور شریک بانی گریگ بروک مین نے کہا ہے کہ انھیں انتخابات میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف عوامی ردعمل کی شدت پر حیرت ہوئی۔

    انھوں نے کلیفورنیا میں منعقدہ وال سٹریٹ جرنل ٹیک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے اس صورتحال پر حیرت نہیں ہوئی۔‘

    بروک مین کے مطابق، ’یہ ایک بالکل منفرد مسئلہ ہے۔ امریکی سیاست میں اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اس سال کے دوران اوپن اے آئی نے یہ محسوس کیا ہے کہ سان فرانسسکو میں بیٹھ کر ٹیکساس، جارجیا اور دیگر ریاستوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے صرف سوشل میڈیا پر پیغام دینا کافی نہیں۔

    ان کے بقول، ’آپ صرف ایک ٹویٹ کرکے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ منصوبہ سب کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ آپ کو مقامی برادریوں کے درمیان جانا ہوگا اور ان کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوگا۔‘

    بروک مین نے اعتراف کیا کہ ’ہمیں لوگوں اور مقامی کمیونٹیز کو بہتر انداز میں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ڈیٹا سینٹرز ان کے لیے کس طرح فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

  13. جے ڈی وینس کی 2028 کے صدارتی انتخابات پر نظریں اور ایران پالیسی پر ٹرمپ سے فاصلے, بی بی سی کے ٹام بیٹمین کا تجزیہ

    Reuters
    ،تصویر کا کیپشنامریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ری پبلکن پارٹی کو انتخابی شکست پر مایوس ہونے کے بجائے عوام کے سامنے اپنا مؤقف مضبوط بنانے اور سیاسی بحث جیتنے کا مشورہ دیا ہے۔

    ان کے حالیہ پیغام کو 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی ممکنہ انتخابی مہم کی ابتدائی تیاری کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    وینس نے اپنے طویل پیغام میں مؤقف اختیار کیا کہ ری پبلکن پارٹی کو شکست اس لیے ہوئی کیونکہ اس نے 2024 کے انتخابات میں ووٹروں سے کیے گئے بنیادی وعدوں سے انحراف کیا۔ ان وعدوں میں مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور امریکہ کو بیرونی جنگوں سے دور رکھنا شامل تھا۔

    تاہم گذشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ کی سیاسی تحریک کے اندر بھی ان معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔

    خصوصاً ایران کے خلاف جنگ اور اسرائیل کی حمایت کے معاملے پر میگا تحریک کے اہم رہنماؤں اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔

    جے ڈی وینس ایران کے ساتھ جنگ کے مخالف رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ وہ ٹکر کارلسن جیسی شخصیات کے اس مؤقف سے اتفاق کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ ٹرمپ کی صدارت کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق وینس کا یہ مؤقف انھیں صدر ٹرمپ سے کسی حد تک الگ شناخت دینے اور ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے حامیوں میں اپنی ساکھ مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔

    تجزیے کے مطابق وینس نے دراصل 2028 کے صدارتی انتخاب کے لیے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی ابتدائی کوشش شروع کر دی ہے، جہاں ٹرمپ کے بعد ری پبلکن قیادت کی جانشینی کا معاملہ اہم ہوگا۔

    تاہم ان کے لیے یہ راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ صدر ٹرمپ اب بھی سیاسی طور پر اہم کردار رکھتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور بحران ان کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

  14. سینیٹ انتخابات میں ری پبلکنز کی ریکارڈ اشتہاری مہم ناکام، 96 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کے باوجود کامیابی نہ مل سکی

    Getty Images

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن امیدواروں کی مہنگی انتخابی اشتہاری مہم بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکی۔ سینیٹ کی پانچ اہم ریاستوں میں ری پبلکن امیدواروں نے اپنے ڈیموکریٹک حریفوں کے مقابلے میں 28 کروڑ ڈالر سے زائد اضافی رقم اشتہارات پر خرچ کی، تاہم ان ریاستوں میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اشتہارات کے اخراجات کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے ایڈ امپیکٹ کے مطابق اکتوبر کے اختتام تک اوہائیو، ٹیکساس، مشی گن، آئیووا اور مین سینیٹ کی نشستوں کے لیے اشتہاری اخراجات کے لحاظ سے سرفہرست پانچ ریاستیں تھیں۔

    ان پانچوں انتخابی مقابلوں میں ری پبلکن امیدواروں نے مجموعی طور پر تقریباً 96 کروڑ ڈالر اشتہارات پر خرچ کیے، جبکہ اس کے باوجود ڈیموکریٹک امیدوار برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔

    سب سے زیادہ اخراجات کا فرق ٹیکساس میں سامنے آیا، جہاں ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن نے اپنے ڈیموکریٹک حریف جیمز ٹالاریکو کے مقابلے میں اشتہارات پر 14 کروڑ ڈالر سے زائد اضافی رقم خرچ کی۔ اس کے باوجود ٹالاریکو کو 10 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی برتری حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    پانچ ریاستوں میں صرف آئیووا ایسا انتخابی مقابلہ تھا جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جوش ٹوریک کو اپنے ری پبلکن حریف کے مقابلے میں اشتہارات پر کم رقم خرچ کرنا پڑی، جبکہ وہ تقریباً پانچ فیصد پوائنٹس کی برتری کے ساتھ کامیابی کی پوزیشن میں ہیں۔

    یہ انتخابی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بھاری اشتہاری اخراجات بھی ووٹروں کی حمایت کی ضمانت نہیں بن سکتے۔

  15. بریکنگ, امریکی ریاست مسی سپی میں سینیٹ کی نشست کا فیصلہ پیر تک متوقع

    امریکی ریاست مسی سپی میں سینیٹ کی نشست کے لیے کانٹے دار مقابلے کے نتائج کا اعلان پیر تک مؤخر ہونے کا امکان ہے۔

    ریاست میں آج مزید ووٹوں کی گنتی متوقع نہیں۔ مسی سپی ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین شیخ ٹیلر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں مستند معلومات کی بنیاد پر اندازہ ہے کہ سینیٹ کے انتخاب کا حتمی فیصلہ پیر سے پہلے نہیں ہو سکے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ریاست میں سینیٹ کی نشست کے لیے مقابلہ انتہائی سخت ہے اور حتمی نتائج کے لیے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔

  16. ڈیموکریٹس کو حاصل ہونے والے نئے سیاسی اختیار سے کیا ممکن ہوگا اور کن معاملات میں مشکلات ہوں گی؟

    Getty Images

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس کو کانگریس میں نیا سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہونے جا رہا ہے، تاہم انتخابی کامیابی کے بعد عملی سیاست کی حقیقتیں ان کے لیے کئی چیلنجز بھی پیدا کریں گی۔

    جنوری میں نئے ارکان کے عہدے سنبھالنے کے بعد ڈیموکریٹس بعض اہم معاملات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت اور حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں ہوں گے، لیکن کئی بڑے فیصلوں کے لیے انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ڈیموکریٹس کیا کچھ کر سکتے ہیں؟

    • کابینہ اور سپریم کورٹ کے نامزد امیدواروں کی منظوری روکنا: ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی جانب سے کابینہ اور سپریم کورٹ کے لیے نامزد امیدواروں کی تقرریوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جہاں انھیں متعلقہ آئینی اختیارات حاصل ہوں۔
    • ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت: صدر ٹرمپ کے اہم حکومتی منصوبوں اور ترجیحات کے خلاف کانگریس میں مزاحمت کر سکتے ہیں۔
    • کانگریسی تحقیقات: حکومتی معاملات، انتظامیہ کے اقدامات اور مختلف پالیسیوں کی نگرانی کے لیے تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔
    • مواخذے کی کارروائی: صدر یا کابینہ کے بعض عہدیداروں کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

    ڈیموکریٹس کو کن معاملات میں مشکلات ہوں گی؟

    • بڑے قوانین کی منظوری: صدر ٹرمپ کے تعاون کے بغیر بڑے اور اہم قوانین منظور کروانا ان کے لیے مشکل ہوگا، خصوصاً جہاں صدارتی منظوری یا ری پبلکنز کی حمایت درکار ہو۔
    • خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونا: ایران، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر عالمی معاملات میں صدر اور انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کو براہِ راست تبدیل کروانے کی صلاحیت محدود رہے گی۔

    سیاسی اثرات

    ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی انھیں کانگریس میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر نظر رکھنے، حکومتی فیصلوں کو چیلنج کرنے اور سیاسی احتساب کا عمل تیز کرنے کا موقع فراہم کرے گی، تاہم قانون سازی اور خارجہ پالیسی جیسے اہم شعبوں میں ان کے اختیارات محدود رہیں گے۔

  17. ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد عالمی منڈیوں میں تیزی، خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی فیصلہ کن کامیابی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا، جبکہ خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئیں۔

    عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کی سہ پہر آٹھ فیصد سے زائد کمی کے بعد تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جو گذشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح ہے۔

    تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک اہم وجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بیان قرار دیا جا رہا ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ری پبلکنز کی انتخابی شکست کی ایک وجہ بنی۔

    وینس کے بیان کے بعد سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا۔

    سرمایہ کاروں نے وینس کے جنگ ختم کرنے، عوام کو مہنگائی اور بڑھتے اخراجات سے ریلیف دینے اور اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات پر نظرثانی کے مطالبات کو بھی اہمیت دی۔ مارکیٹوں میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال ایران کے ساتھ بڑے تصادم کے امکانات کم کر سکتی ہے۔

    دوسری جانب امریکی سٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج تین فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں 1.6 فیصد اور ٹیکنالوجی شیئرز پر مشتمل نیسڈیک میں 1.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  18. حکیم جیفریز کا ایوانِ نمائندگان کے سپیکر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا اعلان

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنامریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز

    امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز نے ایوانِ نمائندگان کے سپیکر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

    حکیم جیفریز اس وقت ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی رہنما ہیں اور ان کی جانب سے سپیکر کے عہدے کے لیے امیدوار بننے کا اعلان غیر متوقع نہیں سمجھا جا رہا۔

    حکیم جیفریز کون ہیں؟

    بروکلین، نیویارک سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ حکیم جیفریز نے وکالت اور نیویارک کی مقامی سیاست میں کام کرنے کے بعد 2013 میں امریکی کانگریس میں قدم رکھا۔

    وہ 2018 میں ڈیموکریٹک کاکس کے چیئرمین منتخب ہوئے اور 2022 کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی رہنما بن گئے۔

    جیفریز کو ڈیموکریٹک پارٹی کے نسبتاً اعتدال پسند رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے 2021 میں امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کبھی بھی ’انتہائی بائیں بازو کے جمہوری سوشلزم‘ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

    امریکی سیاست میں تاریخی پیش رفت کا امکان

    حکیم جیفریز کی جانب سے سپیکر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس منصب کے لیے کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    اگر وہ منتخب ہو جاتے ہیں تو امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی سیاہ فام سیاست دان ایوانِ نمائندگان کا سپیکر بنے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کا سپیکر ملک کے صدر اور نائب صدر کے بعد صدارتی جانشینی کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔

  19. انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

    Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے ان کے غیرمقبول فیصلے نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ اب سوال یہ ہے کہ انتخابی شکست کے بعد وہ آگے کیا حکمتِ عملی اختیار کریں گے؟

    انتخابات سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ووٹنگ کے بعد ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع مزید بڑھا سکتے ہیں، تاہم اب بعض مبصرین کے نزدیک صدر ایسی راہ بھی تلاش کر سکتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنا سیاسی وقار برقرار رکھتے ہوئے اس جنگ سے نکل سکیں۔

    نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ریپبلکنز کی انتخابی ناکامی پر اپنے ایک طویل سوشل میڈیا بیان میں ایران تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کا اشارہ دیا تھا۔

    دوسری جانب امریکی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ ٹرمپ اپنے مشیروں سے یہ مشورہ کرتے رہے ہیں کہ آیا وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے پر برقرار رکھا جائے یا نہیں، اگرچہ صدر ان خبروں کی تردید کر چکے ہیں۔

    انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ کو ایک اور اہم سیاسی فیصلے کا سامنا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وہ اپنی مدتِ صدارت کے آخری دو برسوں میں ڈیموکریٹس کی ہر قانون سازی کی کوشش کو ویٹو کریں گے یا دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کی کوئی راہ نکلے گی۔

    Getty Images

    اگرچہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں نسبتاً مفاہمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن دوسری جانب انھوں نے سوشل میڈیا پر سرخ رنگ کی ’ویٹو‘ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی، جس سے ان کے آئندہ سیاسی مؤقف کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

    اسی دوران ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود ’میگا‘ دھڑے کے مستقبل پر بھی بحث جاری ہے۔ بعض دائیں بازو کے مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی شکست کی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ اپنی ہی تحریک کے بنیادی مؤقف سے ہٹ گئے تھے۔ تاہم یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا 80 سالہ ٹرمپ کے بغیر یہ تحریک اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہ سکے گی۔

    ریپبلکن پارٹی کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی مرتب کرنا ہے، کیونکہ انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کو اپنی آئندہ سمت کا تعین کرنا ہوگا۔

  20. امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت برقرار، چند نشستوں کے نتائج کا انتظار

    Getty Images

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل بعض ریاستوں میں اب بھی جاری ہے، تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر چکی ہے۔

    سینیٹ میں مسیسیپی اور الاسکا کی نشستوں کے حتمی نتائج کا ابھی انتظار ہے۔ مسیسیپی میں تازہ ترین نتائج کے مطابق 96 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جبکہ دونوں امیدواروں کے درمیان فرق صرف 65 ووٹوں کے لگ بھگ بتایا جا رہا ہے۔

    ادھر ایوانِ نمائندگان کی 435 نشستوں میں سے تقریباً 375 کے نتائج سامنے آ چکے ہیں، جبکہ باقی نشستوں پر ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    اگرچہ چند حلقوں کے نتائج ابھی باقی ہیں، لیکن ڈیموکریٹس سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں وہ تعداد حاصل کر چکے ہیں جو اکثریت برقرار رکھنے کے لیے درکار تھی۔

    اس صورتحال کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کے دوران کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول برقرار رکھے گی، جس سے قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر اس کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو جائے گا۔