لائیو , ’ہماری شکست کی وجہ جنگ تھی‘: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی پر وینس کا بیان

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی انتخابات میں شکست پر ردِعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ ہی ان کی جماعت کی شکست کی وجہ بنی۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ ’ٹرمپ اب بھی آپ کے صدر ہیں۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. انتخابات میں ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت غیرمتوقع تھی، اوپن اے آئی کے شریک بانی کا اعتراف

    Open AI
    ،تصویر کا کیپشناوپن اے آئی کے شریک بانی گریگ بروک مین اکتوبر میں مار-اے-لاگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک عشائیے میں شریک تھے

    اوپن اے آئی کے صدر اور شریک بانی گریگ بروک مین نے کہا ہے کہ انھیں انتخابات میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف عوامی ردعمل کی شدت پر حیرت ہوئی۔

    انھوں نے کلیفورنیا میں منعقدہ وال سٹریٹ جرنل ٹیک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے اس صورتحال پر حیرت نہیں ہوئی۔‘

    بروک مین کے مطابق، ’یہ ایک بالکل منفرد مسئلہ ہے۔ امریکی سیاست میں اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اس سال کے دوران اوپن اے آئی نے یہ محسوس کیا ہے کہ سان فرانسسکو میں بیٹھ کر ٹیکساس، جارجیا اور دیگر ریاستوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے صرف سوشل میڈیا پر پیغام دینا کافی نہیں۔

    ان کے بقول، ’آپ صرف ایک ٹویٹ کرکے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ منصوبہ سب کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ آپ کو مقامی برادریوں کے درمیان جانا ہوگا اور ان کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوگا۔‘

    بروک مین نے اعتراف کیا کہ ’ہمیں لوگوں اور مقامی کمیونٹیز کو بہتر انداز میں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ڈیٹا سینٹرز ان کے لیے کس طرح فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

  2. جے ڈی وینس کی 2028 کے صدارتی انتخابات پر نظریں اور ایران پالیسی پر ٹرمپ سے فاصلے, بی بی سی کے ٹام بیٹمین کا تجزیہ

    Reuters
    ،تصویر کا کیپشنامریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ری پبلکن پارٹی کو انتخابی شکست پر مایوس ہونے کے بجائے عوام کے سامنے اپنا مؤقف مضبوط بنانے اور سیاسی بحث جیتنے کا مشورہ دیا ہے۔

    ان کے حالیہ پیغام کو 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی ممکنہ انتخابی مہم کی ابتدائی تیاری کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    وینس نے اپنے طویل پیغام میں مؤقف اختیار کیا کہ ری پبلکن پارٹی کو شکست اس لیے ہوئی کیونکہ اس نے 2024 کے انتخابات میں ووٹروں سے کیے گئے بنیادی وعدوں سے انحراف کیا۔ ان وعدوں میں مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور امریکہ کو بیرونی جنگوں سے دور رکھنا شامل تھا۔

    تاہم گذشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ کی سیاسی تحریک کے اندر بھی ان معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔

    خصوصاً ایران کے خلاف جنگ اور اسرائیل کی حمایت کے معاملے پر میگا تحریک کے اہم رہنماؤں اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔

    جے ڈی وینس ایران کے ساتھ جنگ کے مخالف رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ وہ ٹکر کارلسن جیسی شخصیات کے اس مؤقف سے اتفاق کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ ٹرمپ کی صدارت کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق وینس کا یہ مؤقف انھیں صدر ٹرمپ سے کسی حد تک الگ شناخت دینے اور ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے حامیوں میں اپنی ساکھ مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔

    تجزیے کے مطابق وینس نے دراصل 2028 کے صدارتی انتخاب کے لیے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی ابتدائی کوشش شروع کر دی ہے، جہاں ٹرمپ کے بعد ری پبلکن قیادت کی جانشینی کا معاملہ اہم ہوگا۔

    تاہم ان کے لیے یہ راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ صدر ٹرمپ اب بھی سیاسی طور پر اہم کردار رکھتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور بحران ان کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

  3. سینیٹ انتخابات میں ری پبلکنز کی ریکارڈ اشتہاری مہم ناکام، 96 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کے باوجود کامیابی نہ مل سکی

    Getty Images

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن امیدواروں کی مہنگی انتخابی اشتہاری مہم بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکی۔ سینیٹ کی پانچ اہم ریاستوں میں ری پبلکن امیدواروں نے اپنے ڈیموکریٹک حریفوں کے مقابلے میں 28 کروڑ ڈالر سے زائد اضافی رقم اشتہارات پر خرچ کی، تاہم ان ریاستوں میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اشتہارات کے اخراجات کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے ایڈ امپیکٹ کے مطابق اکتوبر کے اختتام تک اوہائیو، ٹیکساس، مشی گن، آئیووا اور مین سینیٹ کی نشستوں کے لیے اشتہاری اخراجات کے لحاظ سے سرفہرست پانچ ریاستیں تھیں۔

    ان پانچوں انتخابی مقابلوں میں ری پبلکن امیدواروں نے مجموعی طور پر تقریباً 96 کروڑ ڈالر اشتہارات پر خرچ کیے، جبکہ اس کے باوجود ڈیموکریٹک امیدوار برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔

    سب سے زیادہ اخراجات کا فرق ٹیکساس میں سامنے آیا، جہاں ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن نے اپنے ڈیموکریٹک حریف جیمز ٹالاریکو کے مقابلے میں اشتہارات پر 14 کروڑ ڈالر سے زائد اضافی رقم خرچ کی۔ اس کے باوجود ٹالاریکو کو 10 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی برتری حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    پانچ ریاستوں میں صرف آئیووا ایسا انتخابی مقابلہ تھا جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جوش ٹوریک کو اپنے ری پبلکن حریف کے مقابلے میں اشتہارات پر کم رقم خرچ کرنا پڑی، جبکہ وہ تقریباً پانچ فیصد پوائنٹس کی برتری کے ساتھ کامیابی کی پوزیشن میں ہیں۔

    یہ انتخابی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بھاری اشتہاری اخراجات بھی ووٹروں کی حمایت کی ضمانت نہیں بن سکتے۔

  4. بریکنگ, امریکی ریاست مسی سپی میں سینیٹ کی نشست کا فیصلہ پیر تک متوقع

    امریکی ریاست مسی سپی میں سینیٹ کی نشست کے لیے کانٹے دار مقابلے کے نتائج کا اعلان پیر تک مؤخر ہونے کا امکان ہے۔

    ریاست میں آج مزید ووٹوں کی گنتی متوقع نہیں۔ مسی سپی ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین شیخ ٹیلر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں مستند معلومات کی بنیاد پر اندازہ ہے کہ سینیٹ کے انتخاب کا حتمی فیصلہ پیر سے پہلے نہیں ہو سکے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ریاست میں سینیٹ کی نشست کے لیے مقابلہ انتہائی سخت ہے اور حتمی نتائج کے لیے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔

  5. ڈیموکریٹس کو حاصل ہونے والے نئے سیاسی اختیار سے کیا ممکن ہوگا اور کن معاملات میں مشکلات ہوں گی؟

    Getty Images

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس کو کانگریس میں نیا سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہونے جا رہا ہے، تاہم انتخابی کامیابی کے بعد عملی سیاست کی حقیقتیں ان کے لیے کئی چیلنجز بھی پیدا کریں گی۔

    جنوری میں نئے ارکان کے عہدے سنبھالنے کے بعد ڈیموکریٹس بعض اہم معاملات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت اور حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں ہوں گے، لیکن کئی بڑے فیصلوں کے لیے انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ڈیموکریٹس کیا کچھ کر سکتے ہیں؟

    • کابینہ اور سپریم کورٹ کے نامزد امیدواروں کی منظوری روکنا: ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی جانب سے کابینہ اور سپریم کورٹ کے لیے نامزد امیدواروں کی تقرریوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جہاں انھیں متعلقہ آئینی اختیارات حاصل ہوں۔
    • ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت: صدر ٹرمپ کے اہم حکومتی منصوبوں اور ترجیحات کے خلاف کانگریس میں مزاحمت کر سکتے ہیں۔
    • کانگریسی تحقیقات: حکومتی معاملات، انتظامیہ کے اقدامات اور مختلف پالیسیوں کی نگرانی کے لیے تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔
    • مواخذے کی کارروائی: صدر یا کابینہ کے بعض عہدیداروں کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

    ڈیموکریٹس کو کن معاملات میں مشکلات ہوں گی؟

    • بڑے قوانین کی منظوری: صدر ٹرمپ کے تعاون کے بغیر بڑے اور اہم قوانین منظور کروانا ان کے لیے مشکل ہوگا، خصوصاً جہاں صدارتی منظوری یا ری پبلکنز کی حمایت درکار ہو۔
    • خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونا: ایران، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر عالمی معاملات میں صدر اور انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کو براہِ راست تبدیل کروانے کی صلاحیت محدود رہے گی۔

    سیاسی اثرات

    ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی انھیں کانگریس میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر نظر رکھنے، حکومتی فیصلوں کو چیلنج کرنے اور سیاسی احتساب کا عمل تیز کرنے کا موقع فراہم کرے گی، تاہم قانون سازی اور خارجہ پالیسی جیسے اہم شعبوں میں ان کے اختیارات محدود رہیں گے۔

  6. ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد عالمی منڈیوں میں تیزی، خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی فیصلہ کن کامیابی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا، جبکہ خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئیں۔

    عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کی سہ پہر آٹھ فیصد سے زائد کمی کے بعد تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جو گذشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح ہے۔

    تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک اہم وجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بیان قرار دیا جا رہا ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ری پبلکنز کی انتخابی شکست کی ایک وجہ بنی۔

    وینس کے بیان کے بعد سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا۔

    سرمایہ کاروں نے وینس کے جنگ ختم کرنے، عوام کو مہنگائی اور بڑھتے اخراجات سے ریلیف دینے اور اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات پر نظرثانی کے مطالبات کو بھی اہمیت دی۔ مارکیٹوں میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال ایران کے ساتھ بڑے تصادم کے امکانات کم کر سکتی ہے۔

    دوسری جانب امریکی سٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج تین فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں 1.6 فیصد اور ٹیکنالوجی شیئرز پر مشتمل نیسڈیک میں 1.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  7. حکیم جیفریز کا ایوانِ نمائندگان کے سپیکر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا اعلان

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنامریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز

    امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز نے ایوانِ نمائندگان کے سپیکر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

    حکیم جیفریز اس وقت ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی رہنما ہیں اور ان کی جانب سے سپیکر کے عہدے کے لیے امیدوار بننے کا اعلان غیر متوقع نہیں سمجھا جا رہا۔

    حکیم جیفریز کون ہیں؟

    بروکلین، نیویارک سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ حکیم جیفریز نے وکالت اور نیویارک کی مقامی سیاست میں کام کرنے کے بعد 2013 میں امریکی کانگریس میں قدم رکھا۔

    وہ 2018 میں ڈیموکریٹک کاکس کے چیئرمین منتخب ہوئے اور 2022 کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی رہنما بن گئے۔

    جیفریز کو ڈیموکریٹک پارٹی کے نسبتاً اعتدال پسند رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے 2021 میں امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کبھی بھی ’انتہائی بائیں بازو کے جمہوری سوشلزم‘ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

    امریکی سیاست میں تاریخی پیش رفت کا امکان

    حکیم جیفریز کی جانب سے سپیکر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس منصب کے لیے کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    اگر وہ منتخب ہو جاتے ہیں تو امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی سیاہ فام سیاست دان ایوانِ نمائندگان کا سپیکر بنے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کا سپیکر ملک کے صدر اور نائب صدر کے بعد صدارتی جانشینی کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔

  8. انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

    Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے ان کے غیرمقبول فیصلے نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ اب سوال یہ ہے کہ انتخابی شکست کے بعد وہ آگے کیا حکمتِ عملی اختیار کریں گے؟

    انتخابات سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ووٹنگ کے بعد ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع مزید بڑھا سکتے ہیں، تاہم اب بعض مبصرین کے نزدیک صدر ایسی راہ بھی تلاش کر سکتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنا سیاسی وقار برقرار رکھتے ہوئے اس جنگ سے نکل سکیں۔

    نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ریپبلکنز کی انتخابی ناکامی پر اپنے ایک طویل سوشل میڈیا بیان میں ایران تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کا اشارہ دیا تھا۔

    دوسری جانب امریکی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ ٹرمپ اپنے مشیروں سے یہ مشورہ کرتے رہے ہیں کہ آیا وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے پر برقرار رکھا جائے یا نہیں، اگرچہ صدر ان خبروں کی تردید کر چکے ہیں۔

    انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ کو ایک اور اہم سیاسی فیصلے کا سامنا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وہ اپنی مدتِ صدارت کے آخری دو برسوں میں ڈیموکریٹس کی ہر قانون سازی کی کوشش کو ویٹو کریں گے یا دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کی کوئی راہ نکلے گی۔

    Getty Images

    اگرچہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں نسبتاً مفاہمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن دوسری جانب انھوں نے سوشل میڈیا پر سرخ رنگ کی ’ویٹو‘ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی، جس سے ان کے آئندہ سیاسی مؤقف کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

    اسی دوران ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود ’میگا‘ دھڑے کے مستقبل پر بھی بحث جاری ہے۔ بعض دائیں بازو کے مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی شکست کی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ اپنی ہی تحریک کے بنیادی مؤقف سے ہٹ گئے تھے۔ تاہم یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا 80 سالہ ٹرمپ کے بغیر یہ تحریک اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہ سکے گی۔

    ریپبلکن پارٹی کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی مرتب کرنا ہے، کیونکہ انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کو اپنی آئندہ سمت کا تعین کرنا ہوگا۔

  9. امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت برقرار، چند نشستوں کے نتائج کا انتظار

    Getty Images

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل بعض ریاستوں میں اب بھی جاری ہے، تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر چکی ہے۔

    سینیٹ میں مسیسیپی اور الاسکا کی نشستوں کے حتمی نتائج کا ابھی انتظار ہے۔ مسیسیپی میں تازہ ترین نتائج کے مطابق 96 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جبکہ دونوں امیدواروں کے درمیان فرق صرف 65 ووٹوں کے لگ بھگ بتایا جا رہا ہے۔

    ادھر ایوانِ نمائندگان کی 435 نشستوں میں سے تقریباً 375 کے نتائج سامنے آ چکے ہیں، جبکہ باقی نشستوں پر ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    اگرچہ چند حلقوں کے نتائج ابھی باقی ہیں، لیکن ڈیموکریٹس سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں وہ تعداد حاصل کر چکے ہیں جو اکثریت برقرار رکھنے کے لیے درکار تھی۔

    اس صورتحال کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کے دوران کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول برقرار رکھے گی، جس سے قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر اس کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو جائے گا۔

  10. ڈیموکریٹس تاریخی اکثریت کے ساتھ امریکہ کی سمت بدل دیں گے: حکیم جیفریز

    Reuters

    امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سرکردہ رہنما حکیم جیفریز نے کہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں تاریخی اکثریت حاصل کرنے کے بعد ان کی جماعت ملک کی پالیسیوں کی سمت میں ’ڈرامائی تبدیلی‘ لائے گی۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جیفریز نے کہا کہ ’امریکی ووٹروں نے انتہاپسندی کے بجائے معیشت کا انتخاب کیا ہے اور ڈیموکریٹس کی توجہ ایک ایسے امریکہ کے قیام پر ہوگی جہاں زندگی کے اخراجات عام لوگوں کی پہنچ میں ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ہر ایک امریکی کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔‘

    جیفریز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی نے وسط مدتی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔

    اس کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کے دوران کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیں گے، جس سے قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر ان کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔

  11. ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی مزید کامیابیاں

    Getty Images

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کی مزید کئی نشستیں اپنے نام کر لی ہیں۔

    تازہ نتائج کے مطابق ریاست کیلیفورنیا کے 22ویں کانگریشنل نشت پر ڈیموکریٹ امیدوار رینڈی ویلیگاس نے ریپبلکن رکنِ کانگریس ڈیوڈ والاداؤ کو شکست دے کر کامیابی حاصل کر لی۔

    ادھر ریاست مشی گن کے چوتھی کانگریشنل نشست پر ڈیموکریٹ امیدوار شان میک کین نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریپبلکنز کے زیرِ قبضہ نشست ڈیموکریٹس کے حق میں کر لی۔

    مشی گن کے دسویں کانگریشنل نشست پر بھی ڈیموکریٹ امیدوار کرسٹینا برٹرانڈ نے کامیابی حاصل کی، جس سے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔

    ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان کا عمل بعض حلقوں میں اب بھی جاری ہے، تاہم تازہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان میں اپنی نمائندگی بڑھانے میں کامیاب رہی ہے۔

  12. ٹرمپ نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ پر اعتماد کا اظہار کر دیا، برطرفی کی قیاس آرائیاں مسترد

    Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے پر غور نہیں کر رہے اور ان کے بقول ہیگسیتھ نے اپنے فرائض ’بہت اچھے طریقے سے‘ انجام دیے ہیں۔

    ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ناکامی کے بعد امریکی میڈیا میں وزیرِ دفاع کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔

    اس سے قبل سی بی ایس نیوز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کے ساتھ نجی گفتگو اور فون کالز میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا پیٹ ہیگسیتھ کو وزیرِ دفاع کے عہدے پر برقرار رکھا جانا چاہیے یا نہیں۔

    رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے بعض معاونین انتخابی شکست کی ذمہ داری ایران جنگ سے متعلق فوجی حکمتِ عملی میں کردار ادا کرنے والے اعلیٰ فوجی حکام پر بھی عائد کر رہے تھے۔

    سی بی ایس نیوز نے یہ بھی کہا تھا کہ فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر ران ڈی سینٹس کا نام ممکنہ متبادل کے طور پر زیرِ غور آنے کی اطلاعات تھیں۔

    دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے ریپبلکنز کی انتخابی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ایران جنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ نے ووٹروں کے فیصلوں پر اثر ڈالا۔

    تاہم ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی ممکنہ برطرفی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور قیاس آرائیوں کی تردید ہو گئی ہے۔

  13. ٹرمپ کا اعتراف، ایران جنگ ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی بڑی وجہ بنی، تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ووٹرز کو ناراض کیا

    Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران جنگ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی ایک بڑی وجہ بنی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جنگ کے باعث مختصر مدت کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے ووٹرز ناراض ہوئے۔‘

    وائٹ ہاؤس میں ڈیموکریٹس کی جانب سے کانگریس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان سے اتفاق کیا کہ ایران جنگ ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی اہم وجوہات میں شامل تھی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ ایران جنگ نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا، تاہم ان کے بقول ووٹرز کو جنگ سے زیادہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر اعتراض تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر انھیں دوبارہ یہی فیصلہ کرنے کا موقع ملتا تو وہ پھر بھی ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ کرتے۔

    انتخابی مہم کے اختتام پر کسی پچھتاوے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ خود انتخابی امیدوار ہوتے تو ریپبلکنز کامیاب ہو جاتے۔

    انھوں نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی ان کی انتخابی ریلیوں میں ملنے والی محبت اور حمایت کو اپنے امیدواروں تک منتقل کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے بقول ان کی ریلیوں میں عوام کی محبت غیر معمولی تھی۔

    دوسری جانب ڈیموکریٹس کے کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد مواخذے کے ممکنہ خطرے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں اس حوالے سے ذرا بھی تشویش نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ڈیموکریٹس کی جانب سے مواخذے کی کوشش ان کی اپنی جماعت کو تباہ کر دے گی اور یہ بلاجواز اقدام ہوگا۔‘ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’امریکہ اپنی تاریخ کے کسی بھی دور سے زیادہ کامیاب ہے۔‘

    واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان اس سے قبل دو مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کر چکا ہے، تاہم دونوں مرتبہ سینیٹ نے انھیں الزامات سے بری کر دیا تھا۔

  14. کیا ٹرمپ ڈیموکریٹس کے منظور کردہ قوانین کو ویٹو کر سکتے ہیں؟, بی بی سی کے ٹام ایڈنگٹن کا تجزیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر سرخ رنگ کی ایک بیس بال کیپ کی تصویر شیئر کی، جس پر لفظ ’ویٹو‘ درج تھا۔

    ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ کانگریس سے منظور ہونے والے قانون کو ’ویٹو‘ کی مہر لگا کر واپس بھیج سکتے ہیں اور اس معاملے میں کوئی انھیں روک نہیں سکتا۔

    یہ درست ہے کہ امریکی صدر کو آئین کے تحت کانگریس سے منظور ہونے والے قوانین کو مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ اختیار غیر مشروط نہیں ہے۔

    امریکی آئین کے مطابق کانگریس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں دو تہائی اکثریت سے ووٹ دے کر صدر کے ویٹو کو مسترد کر سکتی ہے۔ تاہم ڈیموکریٹس کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے اور اس کے لیے انھیں ریپبلکن ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

    تاہم ماضی میں ٹرمپ کے ایک ویٹو، جس کا تعلق دفاعی اخراجات سے تھا، کو سنہ 2021 میں کانگریس نے مسترد کر دیا تھا، اگرچہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

    کانگریس کے اعداد و شمار کے مطابق صدر کی جانب سے کیے گئے مجموعی ویٹو میں سے صرف تقریباً 4 فیصد کو ہی کانگریس ناکام بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔

    ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایگزیکٹو آرڈرز (صدارتی احکامات) جاری کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔

    یونیورسٹی کالج کارک کی امریکی سیاست کی ماہر کلوڈاگ ہیرنگٹن نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ایگزیکٹو آرڈرز کو روکنے یا مسترد کرنے کے معاملے میں کانگریس کا اختیار محدود ہے۔

    ان کے مطابق، تاہم ایسے صدارتی احکامات کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور انہیں روکنے کا یہی زیادہ مؤثر اور روایتی قانونی طریقہ ہے۔

    @realDonaldTrump
  15. وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ناکامی ’تقریباً معدومیت کے درجے کا دھچکا‘ ہے: ران ڈی سینٹس

    فلوریڈا کے گورنر

    فلوریڈا کے گورنر ران ڈی سینٹس نے کہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد ریپبلکن پارٹی کو ’تقریباً معدومیت کے درجے کا دھچکا‘ لگا ہے۔

    ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے ریپبلکن گورنر نے کہا کہ ان نتائج کے اثرات ’بہت بڑے‘ ہوں گے اور یہ ’شاید وسط مدتی انتخابات کے لیے بدترین ممکنہ سیاسی منظرنامہ‘ ثابت ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی جماعت سینیٹ میں دو یا تین نشستیں بھی کھو دیتی، تب بھی امریکی سینیٹ کا کنٹرول برقرار رکھنا ’ایک کامیابی‘ سمجھا جاتا۔

    انھوں نے کہا ’ہم جانتے تھے کہ صورتحال اس سے زیادہ خراب ہو سکتی ہے، لیکن میرا نہیں خیال کہ ہم میں سے اکثر نے اتنی بری کارکردگی کے بارے میں سوچا ہوگا۔‘

    ڈی سینٹس نے مزید کہا کہ اس انتخاب کے بعد پارٹی ’قومی سطح پر ایک گہرے گڑھے میں جا گری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ واشنگٹن میں ریپبلکنز کو مسترد کیے جانے کا اظہار تھا‘، نہ کہ اس بات کا کہ ووٹروں نے ڈیموکریٹس کے بارے میں کوئی ’مثبت رائے‘ قائم کر لی ہے۔

  16. ٹرمپ کا مشیروں سے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ہٹانے یا نہیں ہٹانے کے حوالے سے مشورہ: ذرائع

    پیٹ ہیگسیتھ

    بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ناکامیوں کے بعد اپنے قریبی مشیروں سے ذاتی طور پر اور فون پر بات چیت کے دوران یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو اپنے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے یا نہیں۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے بعض معاونین کا کہنا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی ناکامی کا کچھ الزام ایڈمرل بریڈ کوپر، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہیں، اور جنرل ڈین کین، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، پر بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ دونوں نے ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق پالیسی اور فوجی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    تاہم سی بی ایس کو دیگر ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ صدر نے ابھی تک ہیگسیتھ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

    انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس پہلے ہی ہیگسیتھ کے مواخذے کی کوشش کر رہے تھے اور اب جبکہ ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مضبوط اکثریت رکھتے ہیں، ایسی کسی کوشش کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

    نائب صدر جے ڈی وینس نے ریپبلکنز کی شکست کا ذمہ دار ایران کے ساتھ جنگ کو قرار دیا ہے۔ انھوں نے بدھ کی صبح ایکس پر ایک تفصیلی پیغام میں لکھا: ’ہماری شکست کی وجہ جنگ تھی۔‘

    سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرنے والے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر ران ڈی سینٹس کا نام ہیگسیتھ کے ممکنہ متبادل کے طور پر زیرِ غور آ رہا ہے۔ اس مؤقف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ڈی سینٹس موجودہ کانگریس کے اختتامی عرصے میں سینیٹ سے توثیق حاصل کر سکتے ہیں اور پھر 5 جنوری کو بطور گورنر اپنی مدت ختم ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔

  17. ’یہ سیاسی تباہی ہے‘: ناراض ریپبلکن رہنماؤں نے شکست کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرا دیا, ڈینیئل بش، واشنگٹن

    Trump

    ’ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوتی ہے۔ کسی اور پر نہیں۔ یہ صدر ٹرمپ کو مکمل اور دوٹوک طور پر مسترد کیے جانے کا اظہار ہے۔’ ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج واضح ہونے کے فوراً بعد مجھ سے گفتگو میں یہ بات کہی۔

    انھوں نے مزید کہا: ’یہ انتہائی درجے کی سیاسی تباہی ہے۔ کسی نے بھی اس پیمانے کے نتائج کی توقع نہیں کی تھی۔‘

    ریپبلکن پارٹی میں منگل کی رات سامنے آنے والے حیران کن انتخابی نتائج پر ابتدائی صدمے نے جلد ہی امریکی صدر کے خلاف غصے کی شکل اختیار کر لی۔

    ٹیکساس، کنساس اور جنوبی کیرولائنا جیسی مضبوط ریپبلکن ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی غیر متوقع کامیابیوں کے بعد بعض ریپبلکن رہنماؤں نے اپنی ناراضی کا رخ ٹرمپ کی جانب موڑ دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اپنی سیاسی میراث پر ضرورت سے زیادہ توجہ اور ووٹروں کے مسائل سے لاتعلقی نے پارٹی سے کانگریس کا کنٹرول چھین لیا۔

    مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن حکمتِ عملی ساز گریگ پیپن نے کہا: ’یہ ایک کے بعد ایک غلطی تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’واضح طور پر ریاست در ریاست لوگوں نے صدر کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔‘

    ٹرمپ کے ایک قریبی وائٹ ہاؤس اتحادی نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ، محصولات اور انتظامیہ کی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی نے ایک ’مکمل طوفانی صورتحال‘ پیدا کر دی، جس کے بعد صدر کے خلاف غصہ ’انتہائی بلند سطح‘ پر پہنچ گیا ہے۔

  18. ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ریپبلکن سٹریٹجی ساز کا اعتراف: پارٹی کو ’حقیقت کا سامنا‘ کرنا ہوگا, گریس ایلیزا گڈون، امریکہ

    ریپبلکن پارٹی گذشتہ رات ڈیموکریٹس کی کامیابی کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟ میں نے یہ سوال پارٹی کے ایک سٹریٹجسٹ (حکمت عملی ساز) سے کیا۔

    مارک بیڈنار، جو صدارتی انتخاب کے بعد ٹرمپ-وینس ٹیم کے ساتھ کام کر چکے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بات واضح ہے کہ ان کی جماعت ’اس ٹرمپ اتحاد کو متحرک کرنے میں ناکام رہی جس نے 2024 میں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس اپنی توانائی کا بڑا حصہ صدر ٹرمپ کے خلاف تحقیقات پر صرف کریں گے اور ممکن ہے کہ ان کے مواخذے کی کوشش بھی کریں۔

    تاہم بیڈنار نے مزید کہا ’لیکن ڈیموکریٹس کو اندرونی کشمکش کا بھی سامنا ہوگا اور یہ وقت کے ساتھ مزید بڑھے گی۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’ریپبلکنز کو اس حقیقت کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا کہ صرف صدر ٹرمپ ہی ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں تک لانے کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔‘

  19. امریکی صدر جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں ناکامی کی وجہ ایران جنگ کو قرار دے دیا, ڈینیئل بش، واشنگٹن

    Vance

    جے ڈی وینس کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ریپبلکنز کے کانگریس کا کنٹرول کھونے کا سبب بنی۔ نائب صدر نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایک تفصیلی بیان میں کہا: ’ہماری شکست کی وجہ جنگ تھی۔‘ یہ بیان انتخابات کے بارے میں غیر معمولی طور پر کھلا اور صاف گو تجزیہ سمجھا جا رہا ہے۔

    وینس نے تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دیگر مسائل کے باعث وہ ریپبلکن ووٹرز، جنھوں نے 2024 میں انھیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی تھی، اس سال جماعت سے دور ہو گئے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ووٹرز کو انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر بھی اعتراضات تھے اور وہ بعض اصلاحات کے لیے آمادگی رکھتے ہیں۔

    وینس نے نشاندہی کی کہ گذشتہ شب ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے عوامی ناراضی کا ذکر کیا تھا۔ تاہم عوامی سطح پر کئی ماہ تک جنگ کی حمایت کرنے کے بعد نائب صدر نے اس معاملے پر ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔

    اس بیان کے بعد 2028 کے صدارتی انتخاب کے حوالے سے وینس کے ممکنہ منصوبوں پر قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ مبصرین کا خیال ہے کہ انھوں نے اس موقع کو وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں شامل ہونے کے اشارے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

    وینس اب تک اس سوال سے گریز کرتے رہے ہیں۔ تاہم، وسط مدتی انتخابات کے اختتام کے بعد ان پر جلد کوئی فیصلہ ظاہر کرنے کے لیے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

  20. بریکنگ, ہماری شکست کی وجہ جنگ تھی: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی انتخابات میں شکست پر ردِعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکی جنگ ہی ان کی جماعت کی شکست کی وجہ بنی۔

    انھوں نے کہا: ’ہماری شکست کی وجہ جنگ تھی۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’سب جانتے ہیں کہ ہم کیوں ہارے۔ اور ہم یہاں سے آگے کیسے بڑھیں گے، اس بارے میں کوئی بھی دیانت دارانہ گفتگو اسی نکتے سے شروع ہونی چاہیے۔‘