انتخابات میں ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت غیرمتوقع تھی، اوپن اے آئی کے شریک بانی کا اعتراف

،تصویر کا ذریعہReuters
اوپن اے آئی کے صدر اور شریک بانی گریگ بروک مین نے کہا ہے کہ انھیں انتخابات میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف عوامی ردعمل کی شدت پر حیرت ہوئی۔
انھوں نے کلیفورنیا میں منعقدہ وال سٹریٹ جرنل ٹیک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے اس صورتحال پر حیرت نہیں ہوئی۔‘
بروک مین کے مطابق، ’یہ ایک بالکل منفرد مسئلہ ہے۔ امریکی سیاست میں اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اس سال کے دوران اوپن اے آئی نے یہ محسوس کیا ہے کہ سان فرانسسکو میں بیٹھ کر ٹیکساس، جارجیا اور دیگر ریاستوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے صرف سوشل میڈیا پر پیغام دینا کافی نہیں۔
ان کے بقول، ’آپ صرف ایک ٹویٹ کرکے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ منصوبہ سب کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ آپ کو مقامی برادریوں کے درمیان جانا ہوگا اور ان کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوگا۔‘
بروک مین نے اعتراف کیا کہ ’ہمیں لوگوں اور مقامی کمیونٹیز کو بہتر انداز میں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ڈیٹا سینٹرز ان کے لیے کس طرح فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

















