جے ڈی وینس کی 2028 کے صدارتی انتخابات پر نظریں اور ایران پالیسی پر ٹرمپ سے فاصلے, بی بی سی کے ٹام بیٹمین کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ری پبلکن پارٹی کو انتخابی شکست پر مایوس ہونے کے بجائے عوام کے سامنے اپنا مؤقف مضبوط بنانے اور سیاسی بحث جیتنے کا مشورہ دیا ہے۔
ان کے حالیہ پیغام کو 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی ممکنہ انتخابی مہم کی ابتدائی تیاری کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
وینس نے اپنے طویل پیغام میں مؤقف اختیار کیا کہ ری پبلکن پارٹی کو شکست اس لیے ہوئی کیونکہ اس نے 2024 کے انتخابات میں ووٹروں سے کیے گئے بنیادی وعدوں سے انحراف کیا۔ ان وعدوں میں مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور امریکہ کو بیرونی جنگوں سے دور رکھنا شامل تھا۔
تاہم گذشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ کی سیاسی تحریک کے اندر بھی ان معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔
خصوصاً ایران کے خلاف جنگ اور اسرائیل کی حمایت کے معاملے پر میگا تحریک کے اہم رہنماؤں اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔
جے ڈی وینس ایران کے ساتھ جنگ کے مخالف رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ وہ ٹکر کارلسن جیسی شخصیات کے اس مؤقف سے اتفاق کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ ٹرمپ کی صدارت کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وینس کا یہ مؤقف انھیں صدر ٹرمپ سے کسی حد تک الگ شناخت دینے اور ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے حامیوں میں اپنی ساکھ مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔
تجزیے کے مطابق وینس نے دراصل 2028 کے صدارتی انتخاب کے لیے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی ابتدائی کوشش شروع کر دی ہے، جہاں ٹرمپ کے بعد ری پبلکن قیادت کی جانشینی کا معاملہ اہم ہوگا۔
تاہم ان کے لیے یہ راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ صدر ٹرمپ اب بھی سیاسی طور پر اہم کردار رکھتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور بحران ان کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔


















