آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: تین کروڑ 90 لاکھ ہسپانوی نژاد ووٹر کس حد تک فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں؟

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے۔ ملک بھر میں حکومت کی مختلف سطحوں پر انتخابات ہو رہے ہیں تاہم ووٹرز کے لیے سب سے اہم مرحلہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان کا انتخاب ہے۔ اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے۔ تاہم یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ووٹنگ کے دن بھی ٹرمپ کی توجہ ریفلیکٹنگ پول پر مرکوز, برنڈ ڈیبسمن جونئیر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج سوشل میڈیا پر خاصے متحرک رہے ہیں اور اپنی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر مختلف امیدواروں کی حمایت میں مسلسل پیغامات پوسٹ کر رہے ہیں۔

    وہ اپنے ریفلیکٹنگ پول کی تزئین و آرائش کے منصوبے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جو کل واشنگٹن میں ان کی تقریر کا اہم موضوع تھا۔ یہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کا آخری عوامی خطاب بھی تھا۔

    گذشتہ تقریباً ایک گھنٹے کے دوران ٹرمپ نے اس تالاب کے بارے میں دو مرتبہ پوسٹ کیا، جس کی متنازع تزئین و آرائش پہلے ہی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

    ایک پوسٹ میں انھوں نے ڈیلی میل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اخبار نے ان کے آخری انتخابی پروگرام کو غلط انداز میں پیش کیا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ایک ’نیوز کانفرنس‘ تھی، نہ کہ ’تقریر۔‘

    ایک اور پوسٹ میں انھوں نے کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ٹیڈ لیو پر الزام عائد کیا کہ وہ یہ ’بدنیتی پر مبنی، غلط اور ہتک آمیز‘ دعویٰ پھیلا رہے ہیں کہ ٹرمپ اس تالاب کا نام اپنے نام پر رکھنا چاہتے ہیں۔

    یہ تالاب اور واشنگٹن میں جاری دیگر بڑے تعمیراتی اور تزئین و آرائش کے منصوبے صدر ٹرمپ کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں اور وہ اکثر ان کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔

    تاہم کل تالاب پر ان کی غیر معمولی توجہ نے مبصرین کو حیران کیا، جو یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ ایسے بیانات سے انتخابی اعتبار سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جائزوں کے مطابق بہت سے امریکی ووٹرز کی بنیادی توجہ ملکی معیشت پر مرکوز ہے۔

  2. تین کروڑ 90 لاکھ ہسپانوی نژاد امریکی ووٹرز کا امریکی انتخابات میں کتنا اہم کردار ہے؟, نوربیرتو پاریڈیس، بی بی سی منڈو

    امریکہ میں ووٹ ڈالنے کے اہل تقریباً تین کروڑ 90 لاکھ ہسپانوی نژاد امریکیوں کی ترجیحات ان کے پس منظر، عمر اور رہائش کے مقام کے لحاظ سے خاصی مختلف ہیں۔ تاہم ان میں سے بہت سے خدشات وہی ہیں جو مجموعی امریکی ووٹرز کو درپیش ہیں۔

    معیشت، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی لاگت ان کے سرفہرست مسائل ہیں، ایک ایسے ملک میں جہاں پیٹرول کی اوسط قیمت چار ڈالر 17 سینٹ (تین پاؤنڈ) فی گیلن تک پہنچ چکی ہے۔

    2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہسپانوی ووٹرز کا اعتماد حاصل کیا تھا اور ان کے تقریباً نصف ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ یہ کامیابی خاص طور پر لاطینی نژاد مرد ووٹرز اور جنوبی ٹیکساس اور فلوریڈا میں زیادہ نمایاں تھی۔

    دو سال بعد ہونے والے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حمایت میں کچھ کمی آئی ہے۔

    لاطینی نژاد ووٹرز میں ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح کم ہوئی ہے، اور 2024 میں ان کی حمایت کرنے والوں میں سے بڑھتی ہوئی تعداد اب ان کی حکومت سے مایوسی کا اظہار کر رہی ہے۔

    پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق دو سال قبل ٹرمپ کو ووٹ دینے والے لاطینی ووٹروں میں ان کی مقبولیت 93 فیصد سے کم ہو کر 57 فیصد رہ گئی ہے۔

    معاشی مسائل کے علاوہ بہت سے لاطینی نژاد امریکی ان کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں سے بھی ناخوش ہیں۔ اگرچہ سخت سرحدی کنٹرول کے لیے ووٹروں میں عمومی حمایت پائی جاتی ہے، لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ملک بدری کی پالیسیوں کے معاملے میں حکومت حد سے آگے نکل گئی ہے۔

  3. صدر ٹرمپ کے لیے ٹیکساس اتنا اہم کیوں ہے؟, انتھونی زرچر، بی بی سی

    دو سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس کے شہر لباک میں 70 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ یہ امریکہ کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں قدامت پسند سیاست سب سے زیادہ مضبوط سمجھی جاتی ہے۔

    گذشتہ ہفتے اس گرد آلود میدانی شہر میں انتخابی مہم کے دو جلسے منعقد ہوئے، جہاں صدر ٹرمپ اور سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے ایک دوسرے سے چند میل کے فاصلے پر مہم چلائی۔

    ہزاروں افراد ایئرپورٹ کے اطراف سڑکوں پر کھڑے ہو کر ایئر فورس ون کی آمد دیکھتے رہے، جبکہ مزید لوگ ریپبلکن سینیٹ امیدوار کین پیکسٹن کے جلسے میں شریک ہوئے۔

    ٹالاریکو کے حامیوں سے بات چیت میں مجھے امید اور خدشات کا ملا جلا احساس نظر آیا۔

    ان کی امید یہ تھی کہ ان کا امیدوار تین دہائیوں سے زائد عرصے میں ٹیکساس بھر میں ہونے والا کوئی انتخاب جیتنے والا پہلا ڈیموکریٹ بن سکتا ہے۔ لیکن خدشہ یہ تھا کہ کہیں یہ ڈیموکریٹس کی امیدوں کے ٹوٹنے کی ایک اور مثال ثابت نہ ہو۔

    جن ریپبلکن انتخابی ماہرین سے میری بات ہوئی، وہ درپیش چیلنج سے بخوبی آگاہ تھے۔

    شاید ان کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر ڈیموکریٹس یہاں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل ان کی توجہ ٹیکساس پر مزید مرکوز ہو جائے گی، جس سے ریپبلکنز کو ان علاقوں کا دفاع کرنا پڑے گا جو چند سال پہلے تک ان کے لیے محفوظ سمجھے جاتے تھے۔

  4. سابق ماڈل، پیرا اولمپئن اور ٹی وی نیوز میزبان: آئیووا میں جیت کے لیے امیدواروں کی دلچسپ کشمکش, جیک گیلپ، آئیووا

    آئیووا ایک اور ایسی ریاست ہے جہاں ریپبلکنز کا دیرینہ مضبوط گڑھ خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل تین صدارتی انتخابات میں اس ریاست میں باآسانی کامیابی حاصل کر چکے ہیں، جبکہ آئیووا کے ووٹروں نے 2008 کے بعد سے کسی ڈیموکریٹ سینیٹر اور 2007 کے بعد سے کسی ڈیموکریٹ گورنر کو منتخب نہیں کیا۔

    لیکن صدر ٹرمپ کے محصولات نے ریاست کے ان کسانوں کے اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے جو اپنی زرعی سرگرمیوں کے لیے درآمدی مصنوعات پر انحصار کرتے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ نے بھی آئیووا کے ان باشندوں کو متاثر کیا ہے جو ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

    تو پھر کون انتخاب لڑ رہا ہے؟

    گورنر کے لیے مقابلہ

    ڈیموکریٹ روب سینڈ، جو ایک سابق ماڈل اور آئیووا کے ریاستی آڈیٹر ہیں، ریپبلکن امیدوار زیک لان کے مقابل ہیں۔ زیک لان آئیووا کے کسان ہیں جنھوں نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار کو شکست دے کر پارٹی نامزدگی حاصل کی۔

    امریکی سینیٹ کے لیے مقابلہ

    ڈیموکریٹ جوش ٹوریک، جو سابق پیرا اولمپک باسکٹ بال سٹار اور موجودہ ریاستی نمائندہ ہیں، ایشلے ہنسن کے مقابل انتخاب لڑ رہے ہیں، جو سابق ٹی وی نیوز میزبان ہیں اور 2021 سے امریکی کانگریس کی رکن ہیں۔

    ہنسن کو صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی، لیکن بعد میں انھوں نے ایران کے خلاف جنگ میں جانے کے ان کے فیصلے پر تنقید کی۔ آئیووا میں سینیٹ کی یہ نشست کانگریس میں طاقت کے توازن کو اکیلے ہی تبدیل کر سکتی ہے۔

  5. الاسکا کے ماہی گیروں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کے روزگار اور مستقبل کا تحفظ کون کرے گا؟, شائمہ خلیل، الاسکا

    الاسکا کے شہر سیوارڈ میں جن ماہی گیروں سے ہماری ملاقات ہوئی، ان کا کہنا ہے کہ سیاسی کھینچا تانی اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہے۔

    ان کے لیے اصل اہمیت مقامی مسائل کی ہے، جن میں سالمن مچھلیوں کی کم ہوتی تعداد، ڈیزل کی بڑھتی لاگت اور ماہی گیر کمیونٹی کا مستقبل شامل ہیں۔

    ایرک کلاک، جو یوکون دریا پر ماہی گیری کرتے ہوئے بڑے ہوئے اور بعد میں پرنس ولیم ساؤنڈ میں تجارتی ماہی گیری سے وابستہ رہے، کے لیے یہ تبدیلیاں نہایت ذاتی نوعیت کی ہیں۔

    وہ کہتے ہیں: ’یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ اب مچھلی پکڑنے کے وہ کیمپ باقی نہیں رہے۔‘ وہ ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب خاندان ہفتوں تک سالمن مچھلیاں پکڑتے تھے تاکہ اپنی ضرورت پوری کر سکیں۔

    مالی مشکلات کے باعث انھیں ایک وقت میں روزگار کی تلاش میں اپنی آبائی برادری کورڈووا چھوڑنا پڑی تھی۔

    وہ کہتے ہیں: ’ایک سال تو میں نے پوری گرمیوں میں شاید صرف 800 ڈالر (600 پاؤنڈ) کمائے تھے۔‘

    ایک اور تلخ تنازع بائی کیچ پر ہے، یعنی وہ مچھلیاں جو دوسری اقسام کو پکڑنے کے لیے ڈالے گئے جالوں میں غیر ارادی طور پر پھنس جاتی ہیں۔

    بندرگاہ پر ہماری ملاقات سالمن مچھلی کے ایک ماہی گیر ڈکوٹا رینالڈز سے ہوئی، جو صنعتی پیمانے پر کی جانے والی ماہی گیری پر مزید سخت پابندیاں چاہتے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں: ’اس کا براہِ راست اثر میری آمدن پر پڑتا ہے۔‘

    ان ماہی گیروں اور ان کی برادریوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ ان کے روزگار اور معاش کو کون تحفظ دے سکتا ہے۔

    انتخابات پر ایک اور سوال بھی منڈلا رہا ہے: نتائج کو کس حد تک چیلنج کیا جائے گا؟

  6. امریکی انتخابات: نتائج کے تین ممکنہ منظرنامے, انتھونی زرچر، بی بی سی

    1. ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی

    اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو وسط مدتی انتخابات عموماً اقتدار میں نہ ہونے والی جماعت کے حق میں جاتے ہیں، اور اس معاملے میں یہ جماعت ڈیموکریٹس ہے۔

    اگر صدر کی غیر مقبولیت، ایران کے ساتھ جنگ سے بڑھنے والے اخراجات اور بعض متنازع پالیسیوں کو مدنظر رکھا جائے تو یہ عوامل ڈیموکریٹس کے حق میں ایک بڑی انتخابی لہر پیدا کر سکتے ہیں۔

    ڈیموکریٹس نہ صرف ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اکثریت کے لیے درکار 218 نشستوں سے بھی کہیں زیادہ نشستیں جیت سکتے ہیں۔

    سینیٹ میں اس منظرنامے کے لیے ضروری ہوگا کہ ڈیموکریٹس ان تمام یا بیشتر موجودہ مقابلوں میں کامیاب ہوں جنھیں غیر یقینی قرار دیا جا رہا ہے، جن میں کچھ ایسی ریاستیں بھی شامل ہیں جو روایتی طور پر قدامت پسند سمجھی جاتی ہیں۔

    2. ڈیموکریٹس کی محدود کامیابی

    ممکن ہے کہ رائے عامہ کے جائزے نہ تو مکمل طور پر غلط ہوں اور نہ ہی مکمل طور پر درست۔

    اس منظرنامے میں ایسا ہو سکتا ہے کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں نسبتاً آسان مقابلوں میں کامیابی حاصل کر کے اکثریت تو لے لیں، لیکن یہ اکثریت بڑی نہ ہو۔

    اس ممکنہ صورتحال میں سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس صرف ایک یا دو نشستیں اپنی جانب منتقل کر سکیں گے۔

    اس کا نتیجہ ایک منقسم کانگریس کی صورت میں نکلے گا، جو سیاسی تعطل کا نسخہ سمجھی جاتی ہے۔

    3. ریپبلکنز کے لیے اچھی رات

    اس منظرنامے میں ریپبلکنز کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

    اس کے لیے ضروری ہو گا کہ رائے عامہ کے جائزے غلط ثابت ہوں اور زیادہ تر سخت مقابلوں میں کامیابی ریپبلکنز کے حصے میں آئے۔

    اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹرمپ بدھ کی صبح ایک نئے انتخابی مینڈیٹ کا دعویٰ کر سکتے ہیں اور ریپبلکن اکثریت والی کانگریس کی مسلسل حمایت کے ساتھ اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

  7. ایک ہی نام کے دو امیدوار، الاسکا میں غیر یقینی کی صورتحال صرف ووٹوں کی گنتی تک محدود نہیں, شائمہ خلیل، الاسکا

    اینکریج سے سیورڈ جانے والی سڑک پر برف سے ڈھکے پہاڑ پُرسکون پانیوں کے اوپر سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ یہاں سے واشنگٹن ڈی سی ایک بالکل دوسری دنیا محسوس ہوتا ہے۔

    لیکن اس ظاہری سکون کے نیچے سینیٹ کی ایک نہایت سخت انتخابی ریس جاری ہے، جو اس بات کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کہ سینیٹ پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔

    روایتی طور پر ریپبلکن ریاست میں پولنگ شروع ہو چکی ہے، جہاں ڈیموکریٹ میری پیلٹولا اور موجودہ ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔ واضح نتیجہ سامنے آنے میں کئی دن بلکہ ممکنہ طور پر کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

    اور غیر یقینی کی صورتحال صرف ووٹوں کی گنتی تک محدود نہیں۔

    اس انتخابی مقابلے پر تنازع، الجھن اور ایک قانونی جنگ نے سایہ ڈال رکھا ہے، جس کی وجہ ایک ہی نام رکھنے والے دو افراد ہیں: موجودہ سینیٹر ڈین سلیوان اور ایک ریٹائرڈ استاد، جو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔

    اپنی آخری ٹیلی ریلی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ ’بدعنوان میری پیلٹولا کو شکست دیں۔‘

    انھوں نے الزام لگایا کہ پیلٹولا نے ووٹروں کو الجھانے کے لیے سینیٹر کے ہم نام امیدوار کو میدان میں اتارا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر انھوں نے اس استاد کو ’الاسکا کا جعلی امیدوار‘ قرار دیا۔

    میری پیلٹولا اس معاملے میں کسی بھی کردار کی تردید کرتی ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے کوشش کی تھی کہ اگر ریپبلکن امیدوار ہار جائے اور اس کے ہم نام امیدوار کو ملنے والے ووٹ نتیجے پر اثر انداز ہو سکتے ہوں تو نتائج کو روک دیا جائے۔ تاہم ایک جج نے اتوار کے روز یہ درخواست مسترد کر دی۔ محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

    اس کے علاوہ ایف بی آئی علیحدہ طور پر ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ڈیموکریٹ کارکنوں نے ریٹائرڈ استاد کو ووٹ تقسیم کرنے والے امیدوار کے طور پر میدان میں اتارنے میں کردار ادا کیا یا نہیں۔

  8. ایرانی شہریوں کو امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے کیا امیدیں ہیں؟, خشایار جونیدی، بی بی سی فارسی

    جب امریکی اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ وسط مدتی انتخابات کے نتیجے پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے، ایرانی شہری ایک مختلف وجہ سے ان نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہیں: آیا یہ نتائج ایک اور جنگ کے امکانات کو بڑھائیں گے یا سفارت کاری کی راہ ہموار کریں گے۔

    تاہم اس بارے میں ایرانیوں کی رائے منقسم ہے۔

    بہت سے لوگ مہینوں سے جاری تنازع، معاشی مشکلات اور غیر یقینی کی صورتحال کے بعد دوبارہ لڑائی چھڑ جانے سے خوفزدہ ہیں۔ دوسری جانب خصوصاً حکومت کے مخالفین میں سے بعض افراد امریکی فوجی دباؤ کے تسلسل کو نظام کی تبدیلی کی جانب ممکنہ راستے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کر سکتے ہیں، تہران پر دباؤ کم ہو سکتا ہے اور سیاسی تبدیلی کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

    دوسرے امید رکھتے ہیں کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی مزید فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اگرچہ کانگریس کے اختیارات اس حوالے سے محدود ہیں۔

    اور کچھ ایرانی ایسے بھی ہیں جو حکومت اور بیرونی مداخلت، دونوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

  9. امریکی ووٹر بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ایک بڑے مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں, ریچل کلن، نیو یارک

    گذشتہ چند برسوں کے دوران وسط مدتی انتخابات سے قبل اخراجاتِ زندگی میں اضافہ بہت سے امریکیوں کے لیے ایک اہم مسئلہ رہا ہے، کیونکہ سال بھر کے دوران متعدد بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    لوگوں کو خاص طور پر اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ محسوس ہو رہا ہے، جو ستمبر تک کے ایک سال میں 2.5 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران مجموعی افراطِ زر 3.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

    اسی مدت میں اوسط فی گھنٹہ اجرت نسبتاً کم رفتار سے بڑھی اور اس میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ لوگوں کی آمدنی قیمتوں میں اضافے کا پورا ساتھ نہیں دے پا رہی۔

    افراطِ زر میں اضافے کی بڑی وجوہات میں امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ اور صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات شامل ہیں۔

    ستمبر تک کے ایک سال میں گاڑیوں کے ایندھن کی قیمتوں میں 34.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث جنگ کے دوران عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتیں اس سال نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔

  10. اوہائیو کی ووٹر نے ریاست میں انتخابی مہم کو ’پست سطح‘ کی قرار دے دیا, ٹام بیٹمین، اوہائیو

    میں اس وقت اوہائیو کے شہر کولمبس میں ایک لوتھرن چرچ کے باہر موجود ہوں، جسے عارضی طور پر پولنگ سٹیشن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم سورج نکلنے کے فوراً بعد یہاں پہنچے تھے اور تب سے ووٹ ڈالنے آنے والوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

    گذشتہ رات یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع اوہائیو کے شہر ٹولیڈو میں نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی انتخابی مہم کا اختتام ریپبلکن ووٹروں سے پولنگ میں بھرپور شرکت کی اپیل کے ساتھ کیا تھا۔

    انھوں نے مجمعے سے خطاب میں کہا ’غیر قانونی صومالی تارکینِ وطن کی غیر قانونی بستیاں پولنگ مراکز میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے منظم ہو رہی ہیں تاکہ آپ کے ووٹ کی اہمیت کم کر دی جائے۔‘

    تاہم انھوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور صرف اتنا کہا کہ انھوں نے یہ بات ایک ’رپورٹ‘ میں پڑھی تھی۔

    میں نے ابھی ایک خاتون ووٹر سے بات کی، جنھوں نے اوہائیو میں جاری انتخابی مہم کو ’انتہائی پست سطح کی‘ قرار دیا اور کہا کہ اسی وجہ سے وہ ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نکلیں۔

    ان کا کہنا تھا ’یہ نسل پرستی ہے۔ ہماری صومالی برادری کا کاروبار ہر طرف موجود ہیں... وہ ہمارے معاشرے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔‘

  11. امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا میں پولنگ کا آغاز, ڈیوڈ ولس، لاس اینجلس

    کچھ دیر قبل امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا میں پولنگ کا آغاز ہوا ہے۔

    پیر کے روز سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایک ہنگامی درخواست مسترد کر دی تھی، جس میں انتظامیہ نے ہزاروں ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے بیلٹ پیپرز سے متعلق تنازع میں مداخلت کی اپیل کی تھی۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ بیلٹ ریاست میں غیر شہری افراد کو جاری کیے گئے تھے۔

    کیلیفورنیا میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ یہ ریاست ڈیموکریٹس کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی ہے اور ایوانِ نمائندگان میں اس کی 52 نشستیں ہیں، جنھیں ڈیموکریٹس اپنے حق میں برقرار رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔

    گذشتہ سال بعض ریپبلکن ریاستوں میں کیے گئے اسی نوعیت کے اقدامات کے ردعمل میں، ووٹروں نے کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کی پیش کردہ ریاست گیر نئی حلقہ بندیِوں کی ایک تجویز کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد حکام نے کانگریس کے کئی حلقوں کے نقشوں میں تبدیلیاں کیں تاکہ وہ ڈیموکریٹ امیدواروں کے لیے زیادہ مسابقتی بن سکیں۔

    گیون نیوسم کے جانشین کے انتخاب اور لاس اینجلس کے میئر کے لیے سخت مقابلے کا فیصلہ کرنے کے علاوہ ووٹر ایک درجن سے زائد دیگر عوامی تجاویز پر بھی رائے دے رہے ہیں۔ ان میں ایک ایسی تجویز بھی شامل ہے، جس کے تحت صحت اور تعلیم کے شعبوں کی مالی معاونت کے لیے ارب پتی افراد پر ایک مرتبہ خصوصی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

  12. نیویارک کی ایک کاؤنٹی میں بیلٹ سکینرز میں خرابی کی اطلاعات

    نیویارک میں حکام ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں بیلٹ سکینرز میں خرابی کی اطلاع دے رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی پھر بھی کی جائے گی۔

    ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی حکومت کے مطابق یہ مسئلہ کاغذی بیلٹ پیپرز سے متعلق ہے، جس کے باعث ’کاؤنٹی بھر کے پولنگ مراکز پر ووٹنگ مشینیں بیلٹ قبول نہیں کر پا رہیں۔‘

    تاہم حکومت نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ وہ ’ہر ووٹر کو یقین دلانا چاہتی ہے کہ آپ کا ووٹ اہم ہے، آپ کا بیلٹ محفوظ رہے گا اور آپ کا ووٹ شمار کیا جائے گا۔‘

    ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی حکومت کا مزید کہنا ہے کہ اس کا بورڈ آف الیکشنز مسئلے کے حل کے لیے نیویارک ریاستی حکام کے ساتھ ’مسلسل رابطے‘ میں ہے اور ووٹروں کو چاہیے کہ وہ پولنگ عملے کی ہدایات کے مطابق اپنے ووٹ ڈالٹے رہیں۔

  13. ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ کا ایک اور دعویٰ مگر کیا یہ امریکی ووٹروں کے لیے کافی ہے؟, برنڈ ڈیبسمن جونئیر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس میں آج صبح معمول کے برعکس غیر معمولی خاموشی ہے، جہاں اس وقت موجود چند گنے چنے صحافیوں میں ایک میں بھی شامل ہوں۔

    زیادہ تر صحافی آج بعد میں آئیں گے کیونکہ وائٹ ہاؤس پریس کور کے بہت سے ارکان انتخابی کوریج کے لیے مختلف مقامات پر موجود ہیں۔

    تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی مصروف دکھائی دیتے ہیں اور ٹروتھ سوشل پر مسلسل امیدواروں کی حمایت میں پیغامات پوسٹ کر رہے ہیں۔ کچھ دیر قبل انھوں نے امریکی شہریوں کے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنے کے دوران فاکس نیوز کو ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو بھی دیا۔

    اس انٹرویو میں انھوں نے ایک بار پھر ووٹروں سے حمایت کی اپیل کی اور اپنی انتظامیہ کے دور میں معاشی پیش رفت کے ان نکات کا حوالہ دیا، جن میں ان کے بقول ٹپس اور اوور ٹائم پر ٹیکس کا خاتمہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار شامل ہیں۔

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز پر ان کا ’مکمل کنٹرول‘ ہے۔

    صدر اس نوعیت کے بیانات کثرت سے دیتے ہیں، لیکن رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا یہ پیغام بڑی حد تک امریکی ووٹروں پر اثر انداز نہیں ہوا۔

    جائزوں سے مسلسل یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ ان وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں کے لیے معیشت سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ کہ بہت سے امریکی، جن میں ریپبلکن ووٹر بھی شامل ہیں، معیشت سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار سے مایوس ہو چکے ہیں۔

    بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے لیے خاص تشویش کا باعث ہیں اور بہت سے ووٹروں نے اس کی ایک وجہ ایران کے ساتھ جنگ کو قرار دیا ہے۔

    فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کیا اور وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بارے میں اچھی امید کا اظہار کیا۔

    انھوں نے کہا ’ہم نے واقعی امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا دیا ہے۔‘

    صدر کے آج کے شیڈول میں متعدد تقریبات شامل ہیں، جن میں وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں ایک تقریب بھی شامل ہے۔ فی الحال ان کی آج کی تمام طے شدہ تقریبات میڈیا کے لیے بند ہیں۔

  14. ایران جنگ، مہنگائی اور امیگریشن: امریکی ووٹروں کے ذہنوں پر اثر انداز ہونے والے مسائل کیا ہیں؟

    آج ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنے والے امریکی ووٹروں کے ذہنوں پر جن مسائل کے اثر انداز ہونے کا امکان ہے، ان میں یہ موضوعات شامل ہیں:

    • مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی: بہت سے امریکی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ محصولات اور ایران کے ساتھ جنگ کے باعث جزوی طور پر بڑھنے والی یہ لاگت پٹرول اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
    • امیگریشن: ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سرحدی نگرانی سخت کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے، کیونکہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم بعض لوگوں کو تشویش ہے کہ اس حوالے سے کارروائیاں حد سے زیادہ سخت ہو گئی ہیں۔
    • ایران جنگ: اس تنازع کی مقبولیت میں وقت کے ساتھ کمی آئی کیونکہ اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے گئے اور بالآخر امریکی صارفین کو مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم بعض ووٹروں نے ایران کے خلاف فیصلہ کن اقدامات پر ٹرمپ کی تعریف بھی کی۔
    • ڈیٹا سینٹرز: امریکہ کے بعض حصوں میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف عوامی ردِعمل نے مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے ووٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے اور ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں ہی ان کی مزید تعمیر کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔
    • صحت کی سہولیات: بہت سے ڈیموکریٹ امیدوار ہیلتھ انشورنس کی قیمتوں کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی موضوع بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکنز نسخے پر ملنے والی ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔
  15. تمام 50 ریاستوں میں انتخابی نگران تعینات کیے گئے ہیں: امریکی محکمۂ انصاف

    امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار تقریباً 1,000 انتخابی نگرانوں اور مبصرین کو تمام 50 ریاستوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔

    محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ ان نگرانوں کو اس بات کی جانچ کے لیے استعمال کیا جائے گا کہ وفاقی انتخابی قوانین پر عمل درآمد ہو رہا ہے تاکہ ’آزادانہ اور منصفانہ انتخابات‘ کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔

    ماضی کی حکومتیں بھی اسی نوعیت کی نگرانی کرتی رہی ہیں، تاہم یہ اقدام اس پیمانے پر پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

    2022 کے وسط مدتی انتخابات کے دوران صدر جو بائیڈن کے دور میں محکمۂ انصاف نے 24 امریکی ریاستوں میں انتخابی نگران تعینات کیے تھے۔

  16. ڈیموکریٹ رکن کانگریس ہیلی سٹیونز اپنی جماعت کے امیداوار عبدل السیّد کی مخالفت پر قائم

    ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ہیلی سٹیونز نے مشیگن کی اہم سینیٹ نشست کے لیے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

    عبدل السیّد کے مقابلے میں ڈیموکریٹ پارٹی سے نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہنے والی سٹیونز کو اس اقدام پر اپنی جماعت کے ارکان کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    گذشتہ رات ایکس پر 890 الفاظ پر مشتمل ایک پوسٹ میں سٹیونز نے راجرز کی حمایت کی اپنی وجوہات بیان کیں، جن میں شامل ہیں:

    • سیاسی اشتہارات: سٹیونز نے مائیک راجرز کے خلاف چلنے والے تنقیدی اشتہارات، خواہ وہ غیر سرکاری ہوں یا عبدل السیّد کی انتخابی مہم کی جانب سے، کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ لوگوں کو ’ایک جگہ متحد کرنے‘ کا طریقہ نہیں ہیں۔
    • حسن پائیکر: انھوں نے عبدل السیّد کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر اور سٹریمر حسن پائیکر سے تعلق پر تنقید کی۔
    • ’الگ تھلگ رکھنا‘: سٹیونز کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ وہ عبدل السیّد کی انتخابی مہم کی تقریبات میں شرکت نہیں کر سکتیں اور ان کے مطابق اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ’ایک ایسی پوری ریاست کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں جس میں ان سے اختلاف رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔‘
  17. ڈیموکریٹس کو امید ہے وہ آئیووا کو ریپبلکنز سے چھین لیں گے, سمیرا حسین، آئیووا

    آئیووا کے شہر ڈی موئنز میں پولنگ کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ وہ اس ریاست کو، جو طویل عرصے سے ریپبلکنز کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی ہے، اپنے حق میں کر لیں گے۔

    اس انتخاب کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے بارے میں عوامی رائے شماری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    اگرچہ ٹرمپ خود اس انتخاب میں امیدوار نہیں ہیں، لیکن انھوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے ووٹ دیں جیسے وہ خود بیلٹ پر موجود ہوں۔

    تاہم، بہت سے لوگ عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے مطابق معیشت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سب سے اہم مسائل ہیں۔

    ڈیموکریٹس ملک کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار موجودہ انتظامیہ کو قرار دیتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکنز اس مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹس کو ووٹ دینا انتہا پسند اور بنیاد پرست عناصر کو ووٹ دینے کے مترادف ہے۔

    ملک بھر میں اب تک 5 کروڑ 80 لاکھ امریکی ابتدائی ووٹنگ میں اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں، جو وسط مدتی انتخابات کے لیے ریکارڈ ٹرن آؤٹ ہے۔

  18. شدید موسمی حالات کے باعث فلوریڈا میں پولنگ سٹیشن دوسرے مقامات پر منتقل

    فلوریڈا میں سیلاب کے باعث انتخابی حکام عارضی طور پر 19 پولنگ سٹیشنوں کو منتقل کر رہے ہیں۔

    پیر کے روز فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے متعدد کاؤنٹیوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔

    بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کے مطابق اس حکم نامے کے تحت انتخابی نگرانوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جب اصل پولنگ مراکز ووٹروں کے لیے غیر محفوظ یا ناقابلِ رسائی ہو جائیں تو وہ پولنگ اسٹیشنوں کا مقام تبدیل کر سکیں۔

    فلوریڈا کے محکمہ برائے ہنگامی انتظام کا کہنا ہے کہ وہ ریاست بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو پمپ، جنریٹرز اور دیگر وسائل فراہم کر رہا ہے۔

  19. وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی حکمت عملی: ’سمجھیں کہ میں خود بیلٹ پیپر پر ہوں‘, برنڈ ڈیبسمن جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    وسط مدتی انتخابات کی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً ہر انتخابی جلسے میں ووٹروں کے سامنے ایک ہی اپیل دہرائی ہے: ’سمجھیں کہ میں خود بیلٹ پیپر پر موجود ہوں۔‘

    بنیادی طور پر ٹرمپ کو امید ہے کہ 2024 کے صدارتی انتخاب کا منظرنامہ دوبارہ دہرایا جائے گا، جس میں لاکھوں ووٹروں کی ذاتی وفاداری اور صدر جو بائیڈن اور ڈیموکریٹس سے عدم اطمینان نے انھیں اور ریپبلکن پارٹی کو دوبارہ وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے کنٹرول تک پہنچایا تھا۔

    تاہم صدر خود بیلٹ پر موجود نہیں ہیں اور ان کی باضابطہ سیاسی زندگی ان کی مدتِ صدارت کے اختتام پر ختم ہو جائے گی۔

    ان کی حکمتِ عملی، یعنی ہزاروں مقامی اور ریاستی انتخابات کو قومی سیاست کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش، ایک غیر معمولی حکمتِ عملی ہے۔

    واضح طور پر ان کا خیال ہے کہ ان کی ذات کے لیے ووٹروں کا جوش و خروش ریپبلکن امیدواروں کو کامیابی دلائے گا اور اس تاریخی رجحان کو روک دے گا، جس کا وہ خود بارہا اعتراف کر چکے ہیں، یعنی یہ کہ اقتدار میں موجود جماعتیں وسط مدتی انتخابات میں عموماً سخت سیاسی نقصان اٹھاتی ہیں۔

  20. امریکی سینیٹ میں برتری کا فیصلہ کرنے والی اہم ریاستیں

    ریپبلکنز اس وقت ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

    رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں نشستوں کی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔

    تاہم سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی دوڑ کہیں زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔

    یہ وہ اہم ریاستیں ہیں جو یہ طے کریں گی کہ آئندہ دو برسوں میں سینیٹ کا کنٹرول کون سی جماعت جماعت کے پاس ہوگا:

    • الاسکا: ریپبلکن ڈین سلیوان، جو دوبارہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، کو اس بار ڈیموکریٹ امیدوار میری پیلٹولا اور آزاد امیدوار ڈینیئل جے سلیوان کا سامنا۔
    • مین: سوزن کولنز چھٹی مدت کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں، جہاں ان کا مقابلہ ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن سے ہے۔
    • ٹیکساس: اس مقابلے میں کوئی موجودہ سینیٹر شامل نہیں، جس کے باعث ڈیموکریٹ جیمز ٹالاریکو اور ریپبلکن کین پیکسٹن کے درمیان ایک انتہائی سخت مقابلہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
    • کنساس: میگا چرچ کے پادری ایڈم ہیملٹن موجودہ ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کے خلاف ڈیموکریٹ امیدوار ہیں۔ یہ غیر متوقع طور پر ایک سخت مقابلہ ہے حالانکہ یہ ریاست کئی دہائیوں سے مسلسل ریپبلکنز کو ووٹ دیتی رہی ہے۔
    • مشیگن: چونکہ اس انتخاب میں کوئی موجودہ سینیٹر امیدوار نہیں، اس لیے مشیگن میں یہ الیکشن سب سے زیادہ زیرِ نظر مقابلوں میں شامل ہے۔ یہاں ڈیموکریٹ عبدل السیّد امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن سکتے ہیں، تاہم انھیں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے خلاف سخت مقابلے کا سامنا ہے۔