لائیو , امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس نے پہلی سینیٹ نشست ریپبلکنز سے چھین لی، اکثریت حاصل کرنے کی امیدیں بڑھ گئیں

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ابتدائی نتائج ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا دکھائی دے رہے ہیں۔ شمالی کیرولائنا میں سینیٹ کی ایک نشست ریپبلکنز سے چھیننے کے بعد ڈیموکریٹس کی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، جبکہ جارجیا سمیت کئی اہم ریاستوں میں بھی انھیں مثبت نتائج ملے ہیں۔

خلاصہ

  • اپنے موبائل فون یا ٹیبلٹ پر بی بی سی اردو تک براہِ راست رسائی کے لیے BBC WORLD SERVICE ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے BBC News اردو ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں
  • امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: متعدد ریاستوں میں پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی جاری
  • سینیٹ کی 35 جبکہ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے لیے ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا
  • امریکہ کی 36 ریاستوں میں نئے گورنرز کے انتخاب کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے
  • امریکی سینیٹ میں برتری کا فیصلہ کرنے والی اہم ریاستیں کونسی ہیں؟
  • اس وقت امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے
  • یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. مزید تین سینیٹ نشستوں کے نتائج کے بعد اب تک کی صورتحال کیا ہے؟

    bbc

    سی بی ایس نیوز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے سینیٹ کی مزید تین نشستوں کے نتائج کی پیش گوئی کی ہے:

    • کولوراڈو: ڈیموکریٹ جان ہیکن لوپر دوبارہ منتخب ہو گئے۔
    • نیو میکسیکو: ڈیموکریٹ بین رے لوجان نے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی۔
    • وائیومنگ: ریپبلکن ہیریئٹ ہیج مین دوبارہ منتخب ہو گئی ہیں۔

    ان نتائج کے ساتھ دونوں جماعتیں اپنی اپنی موجودہ نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں، جبکہ توجہ اب بھی ان ریاستوں پر مرکوز ہے جہاں مقابلے تاحال سخت اور غیر یقینی ہیں۔

  2. پانچ اہم ریاستوں میں سینیٹ کے مقابلے تاحال سنسنی خیز مرحلے میں

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نے ان ریاستوں میں سینیٹ کے چند اہم مقابلوں کا جائزہ جاری کیا ہے جہاں پولنگ حال ہی میں ختم ہوئی ہے، تاہم نتائج ابھی واضح نہیں ہیں۔

    • جنوبی کیرولائنا: ڈیموکریٹس کو معمولی برتری
    • آئیوا: کانٹے دار مقابلہ جاری
    • کینساس: کانٹے دار مقابلہ جاری
    • مشی گن: کانٹے دار مقابلہ جاری
    • نیبراسکا: کانٹے دار مقابلہ جاری
    • ٹیکساس: کانٹے دار مقابلہ جاری
  3. کرس پاپاس امریکی سینیٹ میں منتخب ہونے والے پہلے ہم جنس پرست مرد رکن بن سکتے ہیں

    CQ-Roll Call, Inc via Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنکرس پاپاس (بائیں) اور ان کے شوہر وین بینٹلی کی اگست میں ایک انتخابی تقریب کے دوران لی گئی تصویر۔

    ڈیموکریٹ کرس پاپاس کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ وہ نیو ہیمپشائر سے سینیٹ کی نشست جیت جائیں گے۔

    جنوری میں حلف اٹھانے کے بعد پاپاس امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے ایسے مرد بن جائیں گے جنھوں نے کھلے عام خود کو ہم جنس پرست قرار دیا ہے۔

    وسکونسن سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ٹیمی بالڈون نے 2013 میں اس ایوان کے لیے منتخب ہونے والی پہلی کھلے عام ہم جنس پرست شخصیت بن کر تاریخ رقم کی تھی۔

    اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پاپاس نے کہا کہ وہ ریاست کے ووٹروں کے لیے ’لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘

  4. ’خون خرابہ‘: ٹیکساس میں ریپبلکن اپنی انتخابی صورتِ حال پر پریشان, ڈینیئل بش ، واشنگٹن سے نامہ نگار

    امریکہ میں رات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن ٹیکساس میں ایک ریپبلکن ذریعے کی جانب سے بھیجا گیا ایک ٹیکسٹ پیغام اس وقت پارٹی کے اندر پائی جانے والی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ریاست میں سینیٹ کے انتخابی مقابلے کے بارے میں ریپبلکنز کیا سوچتے ہیں تو طویل عرصے سے پارٹی سے وابستہ ایک کارکن نے صرف ایک لفظ میں جواب دیا: ’خون خرابہ۔‘

    سینیٹ کے اس مقابلے میں اب تک تقریباً 40 فیصد ووٹوں کی گنتی ہوئی ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار جیمز تالاریکو اپنے ریپبلکن حریف کین پیکسٹن پر تقریباً 20 فیصد پوائنٹس کی برتری رکھتے ہیں۔

    مزید ووٹوں کی گنتی کے ساتھ یہ مقابلہ ممکنہ طور پر زیادہ قریب ہو جائے گا، تاہم ریپبلکنز فی الحال زیادہ پُرامید دکھائی نہیں دیتے۔

  5. ڈیموکریٹس کے لیے پہلی بڑی کامیابی، سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی امیدیں بڑھ گئیں, انتھونی زرچر - واشنگٹن ڈی سی میں شمالی امریکہ کے نامہ نگار

    Reuters

    آج رات سینیٹ کے انتخابی نتائج میں پہلی بڑی پیش رفت ڈیموکریٹس کے حصے میں آئی ہے۔

    کئی ہفتوں سے یہ اندازے لگائے جا رہے تھے کہ سابق گورنر رائے کوپر شمالی کیرولائنا کی سینیٹ نشست جیت جائیں گے، کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں میں انھیں واضح برتری حاصل تھی، جبکہ ریپبلکنز اپنی انتخابی مہم کا رخ اس ریاست سے ہٹا کر دیگر اہم ریاستوں کی جانب موڑ چکے تھے۔

    اس کے باوجود یہ ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔

    ڈیموکریٹس نے اس سے قبل 2008 میں شمالی کیرولائنا میں سینیٹ کا انتخاب جیتا تھا۔ حالیہ برسوں میں پارٹی نے یہاں بڑے پیمانے پر وقت اور وسائل صرف کیے، لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

    جس مقابلے کو سخت اور کانٹے دار تصور کیا جا رہا تھا، اس میں ڈیموکریٹ امیدوار نے نسبتاً آسان فتح حاصل کی۔

    اس کامیابی کے بعد سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز کی مزید تین نشستیں جیتنا ہوں گی، جبکہ اپنی تمام موجودہ نشستیں بھی برقرار رکھنا ہوں گی۔

  6. امریکہ کی وسط مغربی ریاستوں میں اہم مقابلے جن پر ہماری نظر ہے, سکشی وینکٹ رامن، واشنگٹن ڈی سی سے

    پولنگ سٹیشنوں کے بند ہونے کا عمل عموماً مشرق سے مغرب کی جانب بڑھتا ہے (چند استثناؤں کے ساتھ)، اور اب ہم امریکہ کی وسط مغربی ریاستوں جیسے نیبراسکا، نیو میکسیکو، آئیوا اور منیسوٹا میں آخری ووٹ ڈالے جاتے دیکھنے والے ہیں۔

    خاص طور پر آخری دو ریاستیں توجہ کا مرکز ہیں۔

    آئیوا میں سینیٹ کی نشست کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے، جہاں ریپبلکن ایشلے ہنسن اور ڈیموکریٹ جوش ٹوریک ایک ایسی ریاست میں نشست کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں جسے ٹرمپ تین بار جیت چکے ہیں۔

    مِنیسوٹا میں ہماری نظر گورنر کے انتخاب پر ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ایمی کلوبوچار موجودہ گورنر ٹم والز کے چھوڑے ہوئے عہدے کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ ٹم والز نے سماجی خدمات سے متعلق دھوکہ دہی کے ایک سکینڈل کے باعث اپنی امیدواری واپس لے لی تھی۔

  7. اگر آپ قطار میں کھڑے ہیں تو وہاں ہی رہیں: ٹرمپ کی ووٹروں سے اپیل

    ٹرمپ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ریپبلکن پارٹی کے اکاؤنٹ سے جاری ایک مختصر ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ ان ووٹروں سے مخاطب ہوئے ہیں جو ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا: ’ریپبلکنز! ہماری صورتِ حال بہت اچھی ہے۔ اگر آپ قطار میں ہیں تو قطار میں رہیں۔‘

    امریکی ریاستوں کے انتخابی قوانین کے مطابق جو ووٹر پولنگ کا وقت ختم ہونے سے پہلے قطار میں موجود ہوں، وہ اپنی باری آنے پر ووٹ ڈال سکتے ہیں، چاہے پولنگ کا مقررہ وقت گزر چکا ہو۔

    ٹرمپ نے مزید کہا: ’ہم بڑی کامیابی حاصل کریں گے۔‘

  8. ووٹنگ ختم ہونے کے بعد ابتدائی نتائج سامنے آنے لگے, فریا اسکاٹ ٹرنر

    امریکہ کی متعدد ریاستوں میں ووٹنگ ختم ہو چکی ہے اور کچھ ابتدائی نتائج بھی سامنے آ گئے ہیں۔ اب تک کی اہم باتیں یہ ہیں:

    • ووٹروں کے اہم مسائل: امریکی ووٹروں کے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ معیشت اور جمہوریت کی صورتحال ان کی سب سے بڑی ترجیحات تھیں۔
    • ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا اشارہ: بی بی سی کے شمالی امریکہ میں نامہ نگار انتھونی زرچر کے مطابق ابتدائی ووٹر سروے کے نتائج فی الحال ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے کسی حد تک اطمینان کا باعث ہو سکتے ہیں۔
    • جہاں ووٹنگ ختم ہو چکی ہے: کینٹکی، انڈیانا، فلوریڈا، جنوبی کیرولائنا، ورمونٹ، ورجینیا، جارجیا، نیو ہیمپشائر، اوہائیو، شمالی کیرولائنا، مغربی ورجینیا، کنیکٹی کٹ، الاباما، ڈیلاویئر، الینوائے، مین، میری لینڈ، میساچوسٹس، مشیگن، میسوری، نیو جرسی، اوکلاہوما، پنسلوینیا، رہوڈ آئی لینڈ، ساؤتھ ڈکوٹا، ٹیکساس، واشنگٹن ڈی سی، مسیسیپی، کنساس اور ٹینیسی میں پولنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
    • ابتدائی نتائج: سی بی ایس نیوز کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹر مارک آر وارنر کے اپنی نشست برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو ایک متوقع نتیجہ سمجھا جا رہا تھا۔ اسی طرح جارجیا کی سینیٹ نشست کے بارے میں بھی اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موجودہ ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف کامیاب رہیں گے۔ ڈیلاویئر میں بھی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز کے اپنی سینیٹ نشست برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
    • ابھی فیصلہ کن مقابلے باقی: کانگریس کے کنٹرول کا تعین کرنے والی بعض اہم سینیٹ نشستوں پر مقابلہ اب بھی انتہائی سخت ہے۔ سی بی ایس نیوز نے فلوریڈا اور مین کی سینیٹ نشستوں کو ’ٹاس اپ‘ قرار دیا ہے، یعنی ان ریاستوں میں کسی بھی امیدوار کی جیت کے امکانات قریب قریب برابر سمجھے جا رہے ہیں۔
    • وائٹ ہاؤس کا ردعمل: وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نتائج دیکھنے کی تقریب جاری ہے۔ وہاں تعینات ایک عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں کا ماحول ’پُر امید بھی ہے اور محتاط بھی۔‘
  9. فلوریڈا، جارجیا اور ورجینیا سمیت اہم ریاستوں میں پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ شروع

    فلوریڈا، جارجیا، ساؤتھ کیرولائنا، ورمونٹ، ورجینیا اور نیو ہیمپشائر میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ اس سے کچھ دیر قبل کینٹکی اور انڈیانا میں بھی ووٹنگ کا عمل اختتام پذیر ہو چکا تھا۔ اب توجہ ووٹوں کی گنتی اور ابتدائی نتائج پر مرکوز ہے۔

  10. وائٹ ہاؤس میں ’محتاط امید‘ کی فضا, برنڈ ڈیبسمن جونئیر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    بی بی سی سے گفتگو میں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں فضا ’محتاط امید‘ کی ہے۔

    عہدے دار کے مطابق، ’صدر نے اپنی بھرپور انتخابی مہم چلائی اور جو کچھ ضروری تھا وہ سب کیا۔ ریپبلکن پارٹی آج سے چار ہفتے پہلے کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔‘

    تاہم عہدے دار نے ایسٹ روم میں مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے منعقد ہونے والی انتخابی نتائج کی تقریب میں شریک مہمانوں کی فہرست کے بارے میں سوال کا جواب نہیں دیا۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کچھ دیر قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ انتخابی نتائج ٹی وی پر دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  11. ’ٹرمپ کی پالیسیوں سے معیشت کو نقصان پہنچا:‘ ووٹرز سروے, کرس جیونز، ڈیٹا جرنلسٹ

    وسط مدتی انتخابات کے موقع پر ووٹرز کے سروے کے ابتدائی نتائج کے مطابق تقریباً دو تہائی ووٹرز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکی معیشت کی صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔

    اس کے برعکس 28 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے معاشی حالات میں بہتری آئی، جبکہ صرف آٹھ فیصد نے کہا کہ صدر کی پالیسیوں کا معیشت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔

    سروے میں ووٹرز سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا ان کے ووٹ ڈالنے کی ایک وجہ صدر ٹرمپ کی حمایت یا مخالفت کا اظہار تھا۔ 43 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے ووٹ کی ایک وجہ صدر کی مخالفت کا اظہار تھی، جبکہ 41 فیصد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ان کے فیصلے میں کوئی اہم عنصر نہیں تھے۔ صرف 16 فیصد ووٹرز نے کہا کہ اُنھوں نے صدر کی حمایت کے اظہار کے لیے ووٹ ڈالا۔

    تاہم یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور رات بھر مزید معلومات شامل ہونے کے ساتھ ان میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ابھی یہ تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ووٹرز کے درمیان ان آرا کی تقسیم کیا رہی۔

  12. امریکی انتخابات: مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کی رفتار کیوں مختلف ہوتی ہے؟, جیک ہورٹن، بی بی سی ویریفائی

    تصویر

    امریکہ میں ووٹوں کی گنتی کے قواعد ہر ریاست میں ایک جیسے نہیں ہیں، اسی لیے انتخابی نتائج آنے کی رفتار بھی مختلف ہو سکتی ہے۔

    اس فرق کی چند اہم وجوہات میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں (میل اِن بیلٹس) کی تعداد اور قبل از وقت ڈالے گئے ووٹوں کی جانچ اور گنتی کے قواعد شامل ہیں۔

    زیادہ تر ریاستیں انتخابی اہلکاروں کو پولنگ کے دن سے پہلے بیلٹس کو لفافوں سے نکالنے اور ووٹر کی اہلیت کی تصدیق کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔

    اس کے علاوہ تقریباً نصف ریاستوں، جن میں فلوریڈا بھی شامل ہے، میں انتخابی حکام ووٹوں کو الیکشن ڈے سے پہلے سکین کر سکتے ہیں، جس کے باعث ان ووٹوں کو پولنگ ختم ہوتے ہی فوری طور پر نتائج میں شامل کرنا ممکن ہوتا ہے۔

    تاہم مشی گن اور وسکونسن جیسی بعض ریاستوں میں انتخابی عملے کو پولنگ کے دن سے پہلے ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے بیلٹس کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ووٹوں کی گنتی نسبتاً سست ہو سکتی ہے اور ماضی کے انتخابات میں رات گئے نتائج آنے یا اچانک بڑی تعداد میں ووٹ شامل ہونے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

    بعض ریاستیں الیکشن ڈے کے بعد موصول ہونے والے میل اِن بیلٹس بھی قبول کرتی ہیں، جس کے باعث حتمی نتائج مرتب ہونے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

  13. مہنگائی امریکی ووٹرز کے لیے بدستور بڑا مسئلہ, کرس جیونز، ڈیٹا جرنلسٹ

    امریکی ووٹروں کے تازہ جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔

    سروے میں شامل تقریباً 79 فیصد ووٹرز نے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران مہنگائی نے ان اور ان کے خاندان کے لیے شدید یا معتدل مالی مشکلات پیدا کیں، جبکہ 21 فیصد کا کہنا تھا کہ انھیں اس سے کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی۔

    ایندھن اور خوراک کی قیمتوں پر بھی ووٹرز نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ تقریباً 59 فیصد افراد نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بارے میں خود کو ’بہت فکر مند‘ قرار دیا، جبکہ 58 فیصد نے خوراک اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی لاگت پر گہری تشویش ظاہر کی۔

    سروے کے مطابق 62 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ معمول سے زیادہ بلند قیمتیں زیادہ تر صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، جبکہ 38 فیصد نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ ایسے عوامل ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہیں۔

  14. امریکی انتخابات: ووٹرز کی بڑی تعداد ملک کی موجودہ صورتحال سے ناخوش: ووٹر پول, کرس جیونز، ڈیٹا جرنلسٹ

    تصویر

    امریکہ بھر میں ووٹرز کے ایک جائزے (ووٹر پول) سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں عوام میں بے چینی اور ناراضی پائی جاتی ہے۔

    سروے میں شامل تقریباً 38 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ ملک کے حالات پر غصے میں ہیں، جبکہ مزید 37 فیصد نے خود کو غیر مطمئن قرار دیا۔ اس کے مقابلے میں صرف 18 فیصد افراد نے موجودہ حالات پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ سات فیصد نے کہا کہ وہ پُرجوش محسوس کر رہے ہیں۔

    یوں مجموعی طور پر واضح اکثریت نے پولنگ ادارے کو بتایا کہ وہ امریکہ کی موجودہ سمت اور حالات سے خوش نہیں ہیں۔

  15. امریکی ووٹرز کے نزدیک معیشت سب سے بڑا مسئلہ: ووٹرز پول, کرس جیونز، ڈیٹا جرنلسٹ

    وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے امریکیوں کی بڑی تعداد نے معیشت کو ملک کو درپیش سب سے اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔

    79 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ایک سروے کے مطابق 39 فیصد ووٹرز نے کہا کہ ان کے نزدیک معیشت سب سے اہم مسئلہ ہے۔

    جمہوریت کی صورتحال 32 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ امیگریشن کو 14 فیصد ووٹرز نے اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔

    صحت، خارجہ پالیسی اور جرائم جیسے مسائل بھی ووٹرز کے لیے اہم رہے، تاہم نسبتاً کم افراد نے انھیں اپنی اولین ترجیح کے طور پر منتخب کیا۔

    یہ سروے، جسے باضابطہ طور پر ووٹر پول کہا جاتا ہے، انتخابات سے قبل اور ووٹنگ کے دوران امریکی ووٹرز کی رائے جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس میں قبل از وقت ووٹ ڈالنے والوں اور پولنگ ڈے پر ووٹ دینے والوں دونوں کی آرا شامل ہوتی ہیں۔

    تاہم یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں، اس لیے رات بھر مزید معلومات سامنے آنے کے ساتھ ان تناسب میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

  16. تصاویر: امریکہ بھر میں ووٹرز پولنگ سٹیشنز کا رخ کرتے ہوئے

    نیویارک سٹی کی مصروف سڑکوں سے لے کر اوہائیو کے دیہی علاقوں اور کیلیفورنیا کے ساحلی قصبوں تک، امریکہ بھر میں ووٹرز آج اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنز کا رخ کر رہے ہیں۔ دیکھیے یہ پکچر گیلری۔۔

    تصویر
    تصویر
    تصاویر
    تصاویر
  17. اس آخری بڑے انتخابی امتحان کے بعد ٹرمپ کو مزید انتخابی مہم چلانے کی ضرورت نہیں رہے گی, سارہ سمتھ، بی بی سی

    تصویر

    وسط مدتی انتخابات 2028 میں اپنی مدتِ صدارت کے اختتام سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے آخری بڑا انتخابی امتحان ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یہ حقیقت تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ تیسری بار صدر کے عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے۔ اس لیے انھیں دوبارہ ووٹرز کے فیصلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    ان انتخابات کے بعد ان کے پاس ملک بھر میں انتخابی مہم چلانے یا ایسے جلسے منعقد کرنے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی جہاں وہ اپنے وفادار حامیوں کی بھرپور حمایت اور ستائش حاصل کرتے رہے ہیں۔

    وسط مدتی انتخابات کے بعد صدر ٹرمپ جلد ہی اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں کمی محسوس کرنا شروع کر سکتے ہیں، چاہے ریپبلکنز کی کارکردگی رائے عامہ کے جائزوں کی پیش گوئیوں سے بہتر ہی کیوں نہ ہو۔

    ہر صدر اپنی مدت کے آخری دو برسوں میں کسی نہ کسی حد تک ’لیم ڈک‘ یعنی کمزور سیاسی حیثیت کے حامل رہنما کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ وہ زیادہ عرصے تک اقتدار میں نہیں رہیں گے، اور توجہ جلد اس سوال پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ اگلا صدر کون ہو سکتا ہے۔

    یہ منظرنامہ کسی بھی صدر کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔

    لیکن صدر ٹرمپ کے لیے یہ صورتِحال شاید غیر معمولی طور پر زیادہ تکلیف دہ ثابت ہو۔

  18. جارجیا میں ایک امیدوار امریکی تاریخ بدل سکتی ہیں, عاصمہ خالد، بی بی سی

    تصویر

    کسی بھی امریکی ریاست میں آج تک کوئی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب نہیں ہوئی۔ اگر ڈیموکریٹ امیدوار کیشا لانس بوٹمز آج جارجیا میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ تاریخ رقم کر دیں گی۔

    اٹلانٹا کی سابق ڈیموکریٹ میئر کیشا لانس بوٹمز کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار رِک جیکسن سے ہے، جو ایک ارب پتی کاروباری شخصیت اور صحت کے شعبے سے وابستہ ایگزیکٹو ہیں، اور یہ مقابلہ انتہائی سخت تصور کیا جا رہا ہے۔

    جارجیا میں گذشتہ 20 برس سے زیادہ عرصے سے کوئی ڈیموکریٹ گورنر منتخب نہیں ہوا۔ یہ مسلسل تیسرا موقع ہے جب ڈیموکریٹس نے گورنر کے عہدے کے لیے کسی سیاہ فام خاتون کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

    اس سے قبل سٹیسی ایبرامز 2018 اور 2022 کے انتخابات میں موجودہ ریپبلکن گورنر برائن کیمپ سے شکست کھا چکی تھیں۔ برائن کیمپ اس سال اپنی آخری مدت مکمل کر رہے ہیں اور اب بھی خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔

    بوٹمز کو درپیش چیلنج کی ایک جھلک ان ووٹروں سے ملتی ہے جن سے میری ملاقات ہوئی۔ ان میں سے بعض سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار جان اوساف کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن گورنر کے لیے ریپبلکن رِک جیکسن کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جو اوساف کو ووٹ دینا چاہتے ہیں مگر گورنر کے خانے کو خالی چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    اٹلانٹا کی میئر کے طور پر اپنے دورِ اقتدار میں بوٹمز کو کورونا لاک ڈاؤن کے دوران امن و امان اور جرائم سے متعلق مسائل پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ معاملہ اس قدر متنازع بن گیا تھا کہ اٹلانٹا کے خوشحال علاقے بک ہیڈ کے بعض رہائشیوں نے شہر سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔

  19. سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو کم از کم تین سخت مقابلوں میں کامیابی درکار

    امریکی سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو کم از کم چھ سخت مقابلوں میں سے تین میں کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔

    سینیٹ کی مجموعی 100 نشستیں ہیں، جن میں سے کسی ایک جماعت کو اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ آج صرف ایک تہائی نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں۔

    اس وقت سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے پاس 45 نشستیں ہیں، جبکہ ریپبلکنز کی 53 نشستیں ہیں۔ دو نشستیں آزاد ارکان کے پاس ہیں۔

    آزاد انتخابی تجزیاتی ادارے کک پولیٹیکل رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی چھ نشستوں پر مقابلہ اتنا سخت ہے کہ انھیں کسی ایک جماعت کے حق میں پیشگی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ریاستیں الاسکا، کنساس، آئیووا، مین، اوہائیو اور ٹیکساس ہیں۔

    مشی گن کو بھی پہلے سخت مقابلے والی ریاست قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کی درجہ بندی تبدیل کر دی گئی۔

  20. امریکہ کی تمام ریاستوں میں ووٹنگ جاری، اب تک کیا کچھ جاننا ضروری ہے؟, ریبیکا پیڈر، واشنگٹن ڈی سی

    تصویر

    امریکہ کی تمام ریاستوں میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ ہوائی میں مقامی وقت کے مطابق آخری پولنگ سٹیشن دوپہر 12 بجے کے قریب کھلے۔ ان انتخابات کو عموماً اقتدار میں موجود جماعت کی کارکردگی پر عوامی رائے سمجھا جاتا ہے۔

    ملک بھر میں پولنگ سٹیشن مشرق سے مغرب کی جانب مرحلہ وار کھولے گئے، جس کا آغاز ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے ہوا۔

    اہم ریاستیں

    الاسکا، آئیووا، کنساس، مین، اوہائیو اور ٹیکساس وہ ریاستیں ہیں جن پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    ان تمام مقابلوں کو نہایت سخت سمجھا جا رہا ہے، یعنی نتیجہ ڈیموکریٹس یا ریپبلکنز میں سے کسی کے بھی حق میں جا سکتا ہے۔

    نتائج کب معلوم ہوں گے؟

    نتائج امریکی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے بعد آنا شروع ہوں گے، تاہم حتمی نتائج کے وقت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مقابلے کتنے سخت ہیں۔

    اس سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ووٹر سروے سامنے آنے کی توقع ہے، جو یہ سمجھنے کا پہلا بڑا اشارہ فراہم کرے گا کہ ووٹرز کو کن عوامل نے متاثر کیا۔ تاہم یہ برطانیہ کے انتخابات کی طرح نہیں ہوگا، جہاں ایگزٹ پول مجموعی نتیجے کی پیش گوئی کر دیتے ہیں۔

    اب تک پیش آنے والے مسائل

    نیویارک کی ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں کچھ تکنیکی مسائل رپورٹ ہوئے، تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام ووٹ شمار کیے جائیں گے۔

    فلوریڈا میں سیلاب کے باعث بعض پولنگ مراکز کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا ہے۔

    ہمارے ساتھ رہیے، ہم ان انتخابات سے متعلق تازہ ترین اطلاعات آپ تک پہنچاتے رہیں گے۔