آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کی امریکہ سے مذاکرات کی تردید، نیتن یاہو، ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ، ایران ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا: اسرائیلی وزیرِاعظم

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ سے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے ایسی خبروں کو ’من گھڑت خبریں‘ قرار دیا ہے۔ ادھر نیتن یاہو، ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. نیتن یاہو، ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ، ایران ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا: اسرائیلی وزیرِاعظم

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جو صدر ٹرمپ کے دوسری مدتِ صدارت کے لیے منتخب ہونے کے بعد ان کے درمیان آٹھویں ملاقات ہو گی۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ یہ کسی بھی دوسرے بین الاقوامی رہنما کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی سب سے زیادہ ملاقاتیں ہیں۔ انھوں نے اسے اپنے لیے ’اعزاز‘ اور ’بڑی ذمہ داری‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ملاقات میں زیرِ غور تمام موضوعات پر بات چیت ہو گی، تاہم ایران اس ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔

    نیتن یاہو کے مطابق، ’ہمارا مقصد واضح ہے: اسرائیل کی سلامتی کا تحفظ، اس کی طاقت کو مضبوط بنانا اور اپنے اردگرد امن کے دائرے کو وسیع کرنا۔‘

    اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ اسرائیل کی سلامتی، قوت اور مستقبل کو یقینی بنانے کے عزم کے تحت اس مشن پر روانہ ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اپنے دورے کے دوران وہ اپنے اور ریاستِ اسرائیل کے ’حقیقی دوست‘ سینیٹر گراہم کو بھی خراجِ عقیدت پیش کریں گے، جنھیں انھوں نے ’اسرائیل کے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک‘ قرار دیا۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اس طرح وہ تمام اسرائیلی شہریوں کے جذبات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

  2. اسماعیل بقائی: اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج اپنی پریس کانفرنس میں کہا: ’اس وقت امریکی فریق کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘

    انھوں نے ایران کی جانب سے مذاکرات کی درخواست سے متعلق خبروں کو بھی ’من گھڑت خبریں‘ قرار دیا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا: ’ایسے وقت میں جب امریکہ ایران کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات اور جارحیت میں مصروف ہے، ہماری توجہ دفاع پر مرکوز ہے۔ ممکن ہے کہ ثالث موجودہ علاقائی پیش رفت کے بارے میں امریکی فریق کے پیغامات ہمیں پہنچائیں۔‘

    امریکی حملوں کے خاتمے کے بارے میں انھوں نے کہا: ’ایران امریکہ کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ جنگ اور امن کے اوقات کا تعین کرے۔‘

    بقائی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کو ’جنگ بندی‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    ان کے مطابق، ’گذشتہ چند روز کے دوران فضا نسبتاً پُرسکون رہی ہے، جو ایرانی مسلح افواج کی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، اور امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ہر کارروائی کا ہم دوٹوک جواب دیں گے۔‘

    اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کے ایک اور حصے میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔‘

    بقائی نے بحیرۂ خزر میں ایک جہاز پر یوکرین کے حملے کو ’غیر قانونی‘ اور ’بلاجواز‘ مہم جوئی قرار دیا اور ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ’اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔‘

  3. نفتالی بینیٹ: اگر میں دوبارہ اسرائیل کا وزیرِاعظم بنا تو قطر کو دشمن ملک قرار دوں گا

    اسرائیل کے سابق وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اگر وہ دوبارہ وزیرِاعظم بنے تو قطر کو ’فوراً‘ ایک ’دشمن‘ ملک قرار دیں گے۔

    بینیٹ نے ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ قطر کی حکومت ’پرتشدد‘ اور ’یہود مخالف سرطان‘ ہے، جس نے ’اپنی شاخیں پورے مغرب اور یہاں تک کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم کے دفتر تک پھیلا رکھی ہیں۔‘

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں انھوں نے ایسی معلومات دیکھی تھیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر پاسدارانِ انقلاب کو مالی مدد فراہم کر رہا تھا۔

    انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اس سیاست دان، جو اسرائیلی اپوزیشن کی نمایاں شخصیات میں سے ایک ہیں، نے قطر پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کی ’تباہی‘ کا خواہاں ہے۔

    بینیٹ نے کہا کہ ’قطر نے ایک طاقتور عالمی نیٹ ورکِ کے اثر و رسوخ پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جو اسرائیل کو بہت نقصان پہنچاتا ہے۔‘

    انھوں نے قطر پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے امریکی یونیورسٹیوں میں اور الجزیرہ ٹیلی وژن نیٹ ورک کے ذریعے ’اشتعال انگیزی کے مراکز‘ قائم کیے ہیں اور حماس کو بھی اربوں ڈالر کی مدد فراہم کی ہے۔

    قطر نے ابھی تک اسرائیلی سیاست دان کے ان بیانات پر ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔

    اسرائیل نے ستمبر 2025 میں قطر میں حماس کے دفتر پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی اور بین الاقوامی سطح پر وسیع ردِعمل سامنے آیا۔ اس حملے میں ایک قطری افسر اور حماس کے کئی ارکان ہلاک ہوئے، تاہم حماس کے رہنما محفوظ رہے۔

    ابتدائی ردِعمل میں اسرائیل کے صدر اور اقوامِ متحدہ میں اس ملک کے سفیر نے قطر پر حملے کا دفاع کیا تھا، تاہم کچھ عرصے بعد کہا گیا کہ اسرائیل نے اس حملے پر معذرت کر لی ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک سہ فریقی فون کال میں شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے کہا کہ انھیں اس حملے میں ایک قطری سکیورٹی افسر کی ہلاکت اور قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر افسوس ہے، اور انھوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ اسرائیل آئندہ اس نوعیت کا حملہ دوبارہ نہیں کرے گا۔

  4. اسرائیلی فوج اور اردنی حکام کا دو ڈرونز روکنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اردن کی سرحد کے قریب دو ڈرونز کو روک لیا گیا ہے۔

    مزید کہا گیا ہے کہ یہ ڈرونز کہاں سے آئے، اس مقام کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق دونوں ڈرونز کو اسرائیلی فضائی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم کہا ہے کہ معاملے کی چھان بین جاری ہے۔

    دوسری جانب اردنی فوج نے بھی ایک الگ بیان میں دو ڈرونز کو تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اردنی حکام نے یہ نہیہں بتیا کہ یہ ڈرونز کہاں سے آئے، البتہ کہا ہے کہ اس واقعے میں نہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تقریباً دس روز قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اردنی فورسز کی مدد سے بندرگاہِ عقبہ کی جانب داغا گیا ایک میزائل روک لیا گیا تھا۔ اردن کی بندرگاہِ عقبہ اسرائیلی بندرگاہ ایلات سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اُس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کے حملے کشیدگی میں اضافے اور جھڑپوں کے دائرہ کار کو اسرائیلی سرزمین تک پھیلا سکتے ہیں۔

  5. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: ضلع میرپور کے چار حلقوں میں ووٹنگ جاری

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع میرپور میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے اور ضلع کے چار انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر چار لاکھ 11 ہزار سے زائد ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

    الیکشن حکام کے مطابق حلقہ ایل اے ون میرپور ون ڈڈیال میں ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد ہے، جبکہ ایل اے 2 میرپور 2 چکسواری میں کل ووٹرز کی تعداد 99 ہزار 585 ہے۔

    اسی طرح حلقہ ایل اے 3 میرپور 3 میں ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ چھ ہزار ہے، جبکہ ایل اے 4 میرپور 4 میں 99 ہزار 600 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    ضلع میرپور کی چار نشستوں پر مجموعی طور پر 98 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق چاروں حلقوں میں پولنگ کے لیے 611 پولنگ سٹیشن اور 1011 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن اور شفاف انداز میں مکمل کیا جا سکے۔

    مزید برآں، حلقہ ایل اے 3 میرپور 3 میں ووٹنگ کے لیے 161 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

  6. اتوار کو آبنائے ہرمز سے آٹھ جہاز گزرے: انٹیلیجنس کمپنی

    میری ٹائم انٹیلیجنس کمپنی کپلر کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز اتوار کو آبنائے ہرمز سے آٹھ بحری جہاز گزرے ہیں۔

    کمپنی کے مطابق ان جہازوں میں پانچ آئل ٹینکرز، دو سامان بردار جہاز اور ایرانی پرچم بردار جہاز شامل تھا۔

    ان آٹھ میں سے تین جہاز ایران کے متعین کردہ راستے سے گزرے۔

  7. ایران امریکہ کو جنگ اور امن کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ایران امریکہ کو جنگ اور امن کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’ایران امریکہ کو یہ فیصلہ نہیں کرنے دے گا کہ جنگ اور امن کا وقت کیا ہو گا۔‘

    اس دوران ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق اسماعیل بقائی نے ان اطلاعات پر تبصرہ نہیں کیا جن میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ نے اسلام آباد اور دوحہ کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کی گئی مشترکہ تجویز کا جواب دیا ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران اسماعیل بقائی نے بحیرۂ کیسپین میں ایک بحری جہاز پر یوکرین کے حملے کو ’پہلی عالمی جنگ کے دوران انتشار پسند قوتوں کے طرزِ عمل‘ سے مماثل قرار دیا۔

    انھوں نے یوکرین کی کارروائی کو غیر قانونی اور بلاجواز مہم جوئی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کا جواب دیا جائے گا۔‘

  8. امریکہ: سیئٹل میں فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک، چار زخمی

    امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیئٹل میں فائرنگ کے ایک واقعے میں تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

    سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس نے کہا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق دو متاثرین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جائے وقوع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک تیسرا متاثرہ شخص، جسے ہاربر ویو میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا تھا، بعد میں زخموں کی وجہ سے چل بسا۔

    سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو جائے وقوع پر حراست میں لے لیا گیا جبکہ دوسرا پولیس اہلکاروں سے بچ کر فرار ہو گیا اور اس کی تلاش جاری ہے۔

    اتوار کو مقامی وقت کے مطابق چھ بج کر ایک منٹ پر اس وقت گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں جب ہزاروں خاندان ایک سالانہ فوڈ فیسٹیول سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

    پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوس نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں مشتبہ افراد ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق زیرِ حراست مشتبہ شخص ایک ’نوجوان‘ ہے تاہم انھوں نے تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ جان بچانے کے لیے بھاگے جبکہ بعض نے سیئٹل کی مشہور عمارت سپیس نیڈل کے اندر پناہ لی۔

    اس واقعے میں دو سالہ بچے سمیت چار افراد ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں ۔

    سیئٹل کی میئر کیٹی ولسن نے اس واقعے کو ناقابلِ یقین سانحہ اور تشدد کا ہولناک فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیئٹل اور امریکہ میں اسلحے کے تشدد سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    یاد رہے کہ پولیس ایک دوسرے ایسے شخص کو بھی تلاش کر رہی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل ہے اور تمام متاثرین کی حالت بہتر ہے۔

    سیئٹل کی میئر کیٹی ولسن نے فائرنگ کے اس واقعےکے حوالے سے کہا کہ ’اس شہر اور اس ملک میں اسلحے کے تشدد کی حد سے زیادہ وارداتیں ہیں۔‘

    ان کے مطابق یہ تازہ فائرنگ ایسے ہفتے کے بعد ہوئی ہے جس میں سیئٹل میں صرف چند دنوں کے اندر اسلحے کے تشدد کے تین بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

  9. امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں میں وقفے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکہ اور ایران کے درمیان دو روز سے حملوں میں وقفے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

    پیر کی صبح ہونے والی ٹریڈنگ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تیل کی قیمتوں کا عالمی معیار سمجھی جانے والی برینٹ کروڈ کی قیمت پیر کی صبح ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً پانچ فیصد گر کر تقریباً 92 ڈالر تک آ گئی۔

    حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتیں ایک موقع پر 100 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں کیونکہ دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں میں شدت آ گئی تھی۔

    یاد رہے کہ جمعرات کی شام سے دونوں فریقین کے درمیان کسی حملے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کو مزید وقت دینے کے لیے مسلسل دوسری رات ایران پر حملوں کا سلسلہ روکا ہوا ہے دوسری جانب تہران نے بھی جواباً خطے میں اپنے جوابی حملے روکنے کا بیان دیا ہے۔

    ثالثوں کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی منڈیوں کو امید ہے کہ فوجی جھڑپوں میں یہ وقفہ زیادہ مستحکم جنگ بندی کا سبب بنے گاجس سے ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملے گی۔

  10. ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کا جواب لازمی دیا جائے گا: ابراہیم عزیزی

    ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کا جواب لازمی دیا جائے گا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی ہمیشہ قیمت چکانی پڑتی ہے اور یہ اصول آج بھی برقرار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یوکرین کو بھی شاید جلد احساس ہو جائے گا کہ ایران اس کے اقدامات کو جواب دیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔‘

    یاد رہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے ایک ملاح کو ہلاک کر دیا، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

    عباس عراقچی نے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔‘

    یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ یوکرین نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اسے ایران کے لیے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    سوموار کے روز ابراہیم عزیزی نے بیان میں کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی قیادت اور روسی وزیرِ خارجہ کے ساتھ گفتگو میں انھوں نے زور دیا کہ یوکرین کے اقدامات کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

  11. نیتن یاہو کا اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کا عندیہ، نیویارک کے میئر نفرت کو ہوا دے رہے ہیں: اسرائیلی وزیر اعظم کا الزام

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ وہ رواں سال نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    نیتن یاہو نے اتوار کو فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وہ زہران ممدانی کے گرفتار کرنے بیان پر فکر مند نہیں ہیں تاہم ساتھ ہی انھوں نے الزام عائد کیا کہ نیویارک کے میئر نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ نیویارک کے میئر زہران ممدانی چند روز قبل انھیں گرفتار کرنے کی بات کر چکے ہیں تاہم اپنے دوسرے بیان میں انھوں نے اپنے اس موقف میں نرمی لاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ پر نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

    نیتن یاہو نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ’وہ تمام نیویارک والوں کے میئر ہیں خواہ وہ یہودی ہوں، عیسائی ہوں یا مسلمان لیکن وہ ایک گروہ کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے جمعرات کو نیویارک میں پیش آنے والے چاقو حملوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں ایک مشتبہ شخص نے الگ الگ مقامات پر ایک یہودی اور ایک ایشیائی شخص کو زخمی کر دیا تھا۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے بعد نیویارک میں یہودی برادری اس وقت خوف کا شکار ہے۔

    میئر زہران کے دفتر نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

    فلسطینی حقوق کے حامی زہران ممدانی نے گزشتہ سال اپنی انتخابی مہم میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مخالفت کو ایک اہم نکتہ بنایا تھا۔ گزشتہ ہفتے انھوں نے نیتن یاہو کو ’جنگی مجرم‘ قرار دیا تھا۔

    انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2024 میں آئی سی سی کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف جاری کیے گئے گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کریں گے۔ عدالت نے وارنٹ جاری کرتے وقت وزیرِ اعظم پر غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے تھے۔

    اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کی تردید کرتا ہے جبکہ نیتن یاہو ان الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دے چکے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز کی جانب سے اس وعدے کے بارے میں سوال کیے جانے پر زہران ممدانی نے کہا تھا کہ قانونی جائزے کے بعد ان کی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ’ہمارے پاس اس وارنٹ پر عمل درآمد کا قانونی اختیار موجود نہیں ہے۔‘

    تاہم انھوں نے وفاقی حکومت پر نیتن یاہو کو گرفتار کرنے پر زور دیا تھا۔

  12. ایران کی اولین ترجیح اپنے عوام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی اولین ترجیح اپنے عوام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے۔

    تہران اور واشنگٹن کی جانب سے حملوں کو روکنے اور دوبارہ مذاکرات کرنے پر آمادگی کے بارے میں قیاس آرائیوں کے بعد ایرانی خبر رساں ایجنسیوں میں اسماعیل بقائی کی جانب سے بیان سامنے آیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ ’یہ نہ بھولیں کہ اس سے پہلے جب ہم مذاکرات کر رہے تھے، ہمیں اس دوران دو بار امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا۔‘

    اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر امریکہ پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’اس مفاہمت کی یادداشت میں کوئی ابہام نہیں ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’امریکہ نے جو کچھ کیا وہ اس معاہدے کی مختلف شقوں کی کھلی خلاف ورزی تھی اور تیسری بار اسی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سفارت کاری کے ذریعے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ مفاہمت کی یادداشت، جس پر خود امریکی صدر نے دستخط کیے تھے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اپنے بیان میں ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی رائے میں ’ایران مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار نہیں اور جب بھی وہ کوئی معاہدہ کرتا ہے تو خود اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘

  13. ٹرمپ نے ’سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے‘ مسلسل دوسری رات ایران پر حملوں کو روکا ہوا ہے: مائیک والٹز

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کو مزید وقت دینے کے لیے مسلسل دوسری رات ایران پر حملوں کا سلسلہ روکا ہوا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مائیک والٹز نے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کو موقع دینا چاہتے ہیں اور اس عمل کے لیے مزید وقت دے رہے ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ تہران نے بھی اس کارروائی کے جواب میں خطے میں اپنے جوابی حملے روک دیے ہیں۔

    یہ پیش رفت تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والے امریکی حملوں اور دونوں جانب سے جوابی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

    ان جھڑپوں کے باعث جون میں ہونے والی جنگ بندی عملاً ختم ہو گئی تھی۔

    این بی سی سے گفتگو میں جب والٹز سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ نے کشیدگی بڑھانے کا امکان مسترد کر دیا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’مجھے ایسا نہیں لگتا۔ صدر نے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔‘

    مائیک والٹز نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بعض امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلا تو امریکہ کے فضائی دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے پاس اس کارروائی کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے درکار تمام وسائل موجود ہیں۔

    اتوار کی شام تک صدر ٹرمپ نے تازہ پیش رفت پر کوئی عوامی بیان نہیں دیا تھا۔

    تاہم اس سے چند گھنٹے قبل انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر شیئر کی تھیں جن میں امریکی فوجی طیارے کو ایرانی بحری جہازوں پر بمباری کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

  14. لبنان کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ایران- امریکہ مفاہمت کی پہلی شرط ہے: مجتبیٰ خامنہ ای کا حزب اللہ کے لیے خط

    ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ لبنان کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ایران، امریکہ مفاہمت کی پہلی شرط ہے

    ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بات مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک خط میں کہی گئی ہے جسے حزب اللہ کے رہنما کے خط کے جواب قرار دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ 28 فروری 2026 کو سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی رہائش گاہ پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی تصویر یا آڈیو پیغام سامنے نہیں آیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ ایران (علی خامنہ ای کی پالیسی کے تحت) لبنان میں حزب اللہ کے دفاع کو اپنی ’سٹریٹجک پالیسی‘ سمجھتا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق اس خط میں مجتبیٰ خامنہ ای نے لبنان کی حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف ’جہادی گروہوں کی صفِ اول‘ قرار دیا ہے۔

    خط کے مطابق لبنان کی علاقائی سالمیت کا تحفظ اور لبنانی سرزمین سے اسرائیل کا مکمل اور غیر مشروط انخلا ’ایران، امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شرط‘ ہے۔

  15. برلن میں ہم جنس پرستوں کی تقریب پر حملہ کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا: پولیس

    برلن پولیس کا کہنا ہے کہ برلن میں ہم جنس پرستوں کی تقریب پر گاڑی چڑھا کر اور خنجر سے حملہ کرنے والا شخص پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ شخص کو آج مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے برلن کے مغرب میں واقع ایک الاٹمنٹ گارڈن میں ڈھونڈ لیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ایک چاقو نما چیز لے کر ایمرجنسی فورسز کی طرف بڑھا، جس کے بعد سپیشل آپریشن کمانڈ کے اہلکاروں نے آتشیں اسلحے سے اس پر فائرنگ کر دی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ برلن فائر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے فوری طور پر حملہ آور کی جان بچانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ جائے وقوعہ پر ہی دم توڑ گیا۔

    اس سے قبل جرمن حکام نے 21 سالہ مشتبہ حملہ آور کی شناخت عبدالبلوط کے نام سے کی تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ وہ ایک لبنانی نژاد جرمن شہری ہیں۔

    جرمن وزیرِ داخلہ نے تصدیق کی تھی کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 29 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ مشتبہ حملہ آور نے پہلے ’ہجوم پر گاڑی چڑھائی‘ اور بعد میں گاڑی سے اتر کر ’ایک چاقو نما چیز‘ سے لوگوں پر حملہ کیا۔

    جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بھی اس حملے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ان شدت پسندوں کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں‘ اور جرمنی ’دہشتگردی کے اس زہر‘ کو معاشرے پر اثرانداز نہیں ہونے دے گا۔

    ’ہم اپنی آزادی کا دفاع کریں گے۔‘

  16. آئی اے ای اے کے سربراہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ: امید ہے اسلام آباد معاہدے کے بعد متعلقہ فریقین مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھیں گے، رافیل گروسی

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نےاتوار کے روز پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔

    دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارت کاری، مکالمے اور تعمیری روابط کا تسلسل ناگزیر ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ رافیل گروسی نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد متعلقہ فریقین مذاکرات اور رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھیں گے تاکہ ایک پائیدار اور پرامن حل تک پہنچا جا سکے۔

    گفتگو کے دوران رافیل گروسی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی امیدواری کے بارے میں بھی نائب وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

    اس موقع پر اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

  17. بلوچستان کے ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے پانچ گیس باؤزر ٹرک نذرآتش کر دیے, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے پانچ گیس باؤزر ٹرکوں کو نذرآتش کر دیا۔

    انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سے کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان باؤزر کو نوکچاہ کے علاقے میں نذرآتش کیا گیا۔

    اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تاہم آگ کی وجہ سے ان ٹرکوں کے انجنوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ یہ گیس باؤزرز خالی تھے جو ایران کے سرحدی شہر تفتان ایل پی جی لینے جا رہے تھے۔

    بلوچستان میں گذشتہ چند ماہ سے ایران سے ایل پی جی لانے والے گیس باؤزرز کے علاوہ معدنیات لے جانے والے مال بردار گاڑیوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

    اب تک ان حملوں میں درجنوں باؤزرز، ٹرک اور کنٹینرز کو نقصان پہنچا ہے۔

    تاجر رہنما صلاح الدین خلجی نے بتایا کہ کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ہونے والے حملوں کے علاوہ ایران کے ساتھ بارڈر مسائل کی وجہ سے سرحدی شہر تفتان میں 400 کے قریب گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز قافلے کی صورت میں بعض مال بردار گاڑیوں کو تفتان سے کوئٹہ لانے کی کوشش کی گئی لیکن نوشکی کے قریب ان پر حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ گاڑیاں تاحال صوبائی دارالحکومت نہیں پہنچ سکیں۔

    کوئٹہ تفتان اور کوئٹہ کراچی شاہراہ سمیت دیگر شاہراہوں پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے تاجر اور ٹرانسپورٹرز تشویش میں مبتلا ہیں۔

    گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کا کہنا ہے اہم قومی شاہراہوں اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو متحرک کیا جا رہا ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ان شاہراہوں میں چمن سے کراچی، تفتان سے کوئٹہ، اور کوئٹہ سے جیکب آباد اور ژوب تک کے راستے شامل ہیں۔

    دوسری جانب ضلع واشک میں نامعلوم مسلح افراد نے شمسی کے علاقے میں متحدہ عرب امارات کے شیوخ کے فارم ہاؤس پر حملہ کر کے چھ گاڑیاں چھین کر لے گئے۔

    ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کے شرط پر بتایا کہ دو روز قبل ہونے والے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    خیال رہے کہ اس علاقے میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے شیوخ سردیوں کے موسم میں تلور کے شکار کے لیے آتے ہیں۔

  18. عباس عراقچی کا یوکرین پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے اور یورپ کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کا الزام

    ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے ایک ملاح کو ہلاک کر دیا، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

    وزیرِ خارجہ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ’یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس اور روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ ’کئیو میں موجود مفت خور‘ کا اس اقدام کا جواب دیا جائے گا۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے بحیره قزوین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کے بعد تہران میں تعینات یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر لیا۔

    اتوار کی صبح وزارتِ خارجہ کے معاون وزیر اور یوریشیا امور کے ڈائریکٹر جنرل منوچہر مرادی نے یوکرینی سفارتی اہلکار کو طلب کر کے اس واقعے پر ایران کا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، جسے انھوں نے ’مجرمانہ اقدام‘ قرار دیا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی ملاح ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

    ملاقات کے دوران منوچہر مرادی نے کہا کہ بحیرہ قزوین میں ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی، جارحیت کا مظہر اور ساحلی ریاستوں کی سلامتی کے لیے واضح خطرہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یوکرینی حکومت اس واقعے کی ذمہ دار ہے اور اسے حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

    مرادی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور اپنے شہریوں کی جان و مال پر ہونے والے حملوں کو ’جواب دہ ٹھرایا جائے گا۔‘

    ادھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ یوکرین نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اسے ایران کے لیے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدام ایران کے خلاف یوکرین کے ’غیر دانشمندانہ اور دشمنانی پر مبنی رویے‘ کا تسلسل ہے۔

    وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ یہ حملہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی اور ’جارحیت‘ کے زمرے میں آتا ہے، جس کے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  19. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے دو مساجد، متعدد گاڑیوں اور زرعی اراضی کو آگ لگا دی۔ یہ تازہ حملے دو روز قبل گاؤں تال کے قریب اسرائیلی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ کے بعد سامنے آئے، جس میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔
    • ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر ایرانی حکام کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے سے ہٹنے کے بعد بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا۔
    • ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ’فوج نے حالیہ جنگ بندی کے عرصے کو اپنی فوجی صلاحیتوں کی بحالی اور مضبوطی کے لیے استعمال کیا، خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں۔‘ ان کا کہنا تھا ’فوج کے جنگی ڈھانچے میں نئے سازوسامان، بالخصوص فضائی دفاعی نظام کو فوج کے حوالے کیا گیا ہے، جس سے ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘
    • ایران کے ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’ماحولیاتی خدمات اور ماحولیاتی نقصانات کی فیس وصول کرنے کے ضوابط‘ تیار کر کے منظوری کے لیے حکومت کو بھیج دیے گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز سے ہر سال 50 ہزار سے زائد بحری جہاز اور آئل ٹینکر گزرتے ہیں جس سے خلیج فارس میں آلودگی پھیلتی ہے، اس سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ہونا چاہیے۔
    • امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے اور اس نے خلاف ورزی کرنے والے 12 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کیا۔
    • لبنانی فوج نے ملک کے جنوبی حصے میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات گزشتہ ماہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت فوج کی مکمل تعیناتی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ لبنانی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قابض اسرائیلی افواج مسلسل حملے کر رہی ہیں اور موجودہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘
  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔