پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اُن کے پانچ کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ایک درجن سے زاءد کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی ڈیڈ باڈیز راولا کوٹ کے علاقے دریک کے قریب قائم کیے گئے میڈیکل کیمپ میں رکھوا دی گئی ہیں۔
عابد شاہین کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کور کمیٹی کے رکن عمر نذیر کشمیری کا قریبی عزیز بھی شامل ہے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی تنظیم کے کارکنوں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ دریک کے مقام سے راولاکوٹ شہر اور پھر وہاں سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے جا رہے تھے۔
دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک نے اس دعوے پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں کسی ریکارڈ پر نہ ا جائیں اور یا ان کو پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال نہ لایا جائے۔ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ بھی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا تو اُنھوں نے 400 کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ریکارڈ پر پانچ ہلاکتیں سامنے ائی تھیں۔
’کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولا کوٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی‘
ڈپٹی انسپکٹر جنرل پونچھ ریجن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی شام کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولا کوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اُنھیں منتشر ہونے کا کہا۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان ’شرپسند عناصر‘ نے منتشر ہونے کے بجائے زبردستی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے حقائق کو مسخ کر کے من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔