آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران پر امریکی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، پاسدارانِ انقلاب کا خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کے صوبہ ہرمزگان کے گورنر کے دفتر کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات سے امریکی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن، کویت، قطر اور شام میں متعدد امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایرانی مسلح افواج کسی بھی وقت امریکی بحری افواج کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں: پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے ایک امریکی بحری جہاز کی تصویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کی ’نقل و حرکت اور ساز و سامان‘ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری یونٹس کی نگرانی میں ہیں۔

    مختصر بیان میں کہا گیا: ’ایرانی مسلح افواج کسی بھی وقت امریکی بحری افواج کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں۔‘

    جاری کی گئی تصویر کے کیپشن میں لکھا گیا: ’بحیرۂ عرب میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر بردار جہاز کو ایندھن بھرتے ہوئے دیکھا گیا۔‘

    اس سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر، میجر جنرل مجید موسوی نے بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا: ’ایران بھر سے دشمن پر ہمارے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ سکون بحال نہیں ہو جاتا۔‘

  2. گذشتہ رات سے امریکی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ہیں: ایرانی عہدیدار

    ایران کے صوبہ ہرمزگان کے گورنر کے دفتر کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات سے امریکی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا تھا کہ جولائی میں امریکی حملوں میں 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ صحت کے حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 16 جولائی کو صبح ساڑھے چھ بجے تک امریکی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اس دوران 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق زخمیوں میں 22 خواتین اور 18 برس سے کم عمر کے نو بچے شامل ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں بھی ایک 18 برس سے کم عمر نوجوان شامل ہے۔

    حکام کے مطابق 47 افراد اب بھی ایران کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

    ایران پر امریکی حملوں کا نیا سلسلہ 6 جولائی کو آبنائے ہرمز میں متعدد جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ایران جوابی حملے کر رہا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف خطے میں امریکی مفادات اور اڈے ہیں۔

  3. ایرانی ڈرون حملے میں کئی فوجی زخمی ہوئے ہیں: کویت

    کویت کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں اس کے کئی فوجی اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

    اس سے قبل کویت کی وزارتِ بجلی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے بجلی پیدا کرنے والے ایک پلانٹ اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں تنصیبات میں آگ لگ گئی اور کئی پیداواری یونٹ بند ہو گئے۔

    یاد رہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک اور بیان میں ’آپریشن نصر 2 کی 15ویں لہر‘ میں کویت میں امریکی افواج پر حملے کا دعویٰ کیا تھا۔

  4. ایرانی حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک ’جنوبی ساحلی پٹی اور آبنائے ہرمز میں امن بحال نہیں ہو جاتا‘: پاسدارانِ انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ’جنوبی ساحلی پٹی اور آبنائے ہرمز میں امن بحال نہیں ہو جاتا۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں مجید موسوی نے ایرانی حملوں کو ’مؤثر اور ہدفی کارروائیاں‘ قرار دیا ہے۔

    اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ گذشتہ رات ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں اس نے عمان، کویت، اردن، قطر اور شام میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران پر امریکی حملوں کا نیا سلسلہ چھ جولائی کو آبنائے ہرمز میں متعدد جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ایران جوابی حملے کر رہا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف خطے میں امریکی مفادات اور اڈے ہیں۔

  5. اسحاق ڈار کی شنگھائی میں چینی وزیرِ خارجہ سے ملاقات، امریکہ اور ایران سے حملے روکنے کا مطالبہ

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی چین کے شہر شنگھائی میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای سے ملاقات ہوئی ہے۔

    چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے ایران کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کارروائیاں بند کریں، مشکلات پر قابو پائیں، رکاوٹیں دور کر کے مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں۔

    بیان میں امریکہ اور ایران بات چیت کے ذریعے ایک جامع امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں۔

    چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ان کوششوں کی مسلسل حمایت جاری رکھے۔

  6. 24 گھنٹوں کے دوران بنوں اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 24 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پولیس کے خلاف شدت پسندانہ سرگرمیوں میں اضافے اور ضلع بنوں میں گاڑی کے ذریعے خودکش بم حملے کے پس منظر میں سکیورٹی فورسز نے ان حملوں میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے کے لیے وسیع پیمانے پر مشترکہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کی ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ضلع بنوں اور ملحقہ علاقوں میں شدید فائرنگ کے تبادلوں میں 24 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند دہشتگردانہ سرگرمیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’علاقے میں کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان گھناؤنے اور بزدلانہ اقدامات کے مرتکب عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

  7. پاسدارانِ انقلاب کا قطر کے العدید ایئر بیس پر حملے کا دعویٰ

    ایران کے پاسداران انقلاب نے قطر پر ایک بڑے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز نے قطر کے العدید ایئر بیس پر ایک بڑا حملہ کر کے طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ایک ریڈار نظام اور امریکی فضائیہ کے کئی سٹریٹجک ایندھن بردار طیارے مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں جبکہ کئی دیگر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    اس سے قبل پاسداران انقلاب نے عمان میں دو امریکی ریڈار مراکز کو تباہ کرنے اور اردن میں امریکی جنگی طیاروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

  8. شامی فوج کی التنف اڈے پر ایرانی حملے کی تردید

    شامی فوج کے ایک اہلکار نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے التنف اڈے پر حملوں کی تردید کی ہے۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے شامی فوجی ذریعے نے کہا کہ ’ہم التنف کے علاقے کو نشانہ بنانے والی کسی بھی ایرانی بمباری کی تردید کرتے ہیں۔‘

    اس سے قبل ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے شام کے علاقے التنف میں امریکی افواج کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں، پاسدارانِ انقلاب کی فضائی افواج نے ایران شہر میں فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں ’شام کے التنف علاقے میں امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا، جس میں ایک ریڈار سسٹم، کئی خصوصی ہیلی کاپٹروں اور متعدد امریکی افواج کو نشانہ بنایا۔‘

  9. ایرانی حملوں میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے پلانٹ اور بجلی گھر کو نقصان پہنچا ہے: کویت

    کویت کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے پلانٹ اور ایک بجلی گھر کو نقصان پہنچا ہے۔

    کویت کی وزارتِ بجلی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بجلی پیدا کرنے والے ایک پلانٹ اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کی ایک تنصیب کو ایرانی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں تنصیبات میں آگ لگ گئی اور کئی پیداواری یونٹ بند ہو گئے۔

    اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

    وزارت بجلی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’اس خصوصی دورانیے میں اپنی بجلی کے استعمال کو منظم کریں اور بجلی کی بچت کریں۔‘

  10. پاسدارانِ انقلاب کا اردن میں امریکی جنگی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کی رات ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں امریکی جنگی طیاروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی فورسز نے ’آپریشن نصر 2 کی 14ویں لہر میں... اردن میں تعینات امریکی لڑاکا طیاروں اور ایندھن بردار ٹینکرز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دو مرحلوں میں نشانہ بنایا۔‘

    بیان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کئی امریکی ٹینکرز اور لڑاکا طیارے تباہ ہو گئے جبکہ بڑی تعداد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے گذشتہ رات ’اردن میں اپنے اڈوں کو ایک بڑے جنگی جرم کے ارتکاب کے لیے استعمال کرتے ہوئے شہری اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں جنوبی ایران کے شہر بندر عباس میں کئی پل، رہائشی علاقے اور پانی پمپ کرنے کا ایک مرکز شامل ہیں۔‘

    اس بیان کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے ایک اور بیان میں ’آپریشن نصر 2 کی 15ویں لہر‘ میں کویت میں امریکی افواج پر حملے کا اعلان کیا ہے۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی فورسز نے ’جوابی کارروائی کے تسلسل اور گذشتہ رات کے جنگی جرائم کے جواب میں... کویت میں ہائمارس پلیٹ فارم اور میزائلوں کو تباہ کرنے کے علاوہ، ڈرون اور میزائل حملوں کی کارروائی کے دوران کئی ایسے مقامات کو بھی تباہ کیا جہاں امریکی اور اسرائیلی کرائے کے جنگجو اور مخالفِ انقلاب عناصر تعینات تھے۔‘

    اس بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے واضح نہیں کیا کہ ’مخالفِ انقلاب‘ سے اس کی مراد کیا ہے۔

  11. جولائی میں امریکی حملوں میں 38 افراد ہلاک، 400 سے زائد زخمی: ایرانی وزارت صحت

    ایران کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ جولائی میں امریکی حملوں میں 38 افراد ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ صحت کے حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 16 جولائی کو صبح ساڑھے چھ بجے تک امریکی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اس دوران 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق زخمیوں میں 22 خواتین اور 18 برس سے کم عمر کے نو بچے شامل ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں بھی ایک 18 برس سے کم عمر نوجوان شامل ہے۔

    حکام کے مطابق 47 افراد اب بھی ایران کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

  12. پاسداران انقلاب کا عمان میں دو امریکی ریڈار مراکز کو تباہ کرنے دعویٰ:’جوابی کارروائیاں بھرپور طاقت کے ساتھ جاری رہیں گی‘

    پاسداران انقلاب نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے عمان میں دو امریکی ریڈار مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آج علی الصبح صلالہ میں بحری کنٹرول ریڈار اور عمان کے علاقے غنم میں واقع امریکی فضائی کنٹرول ریڈار کو تباہ کر دیا ہے۔

    اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ ایران کی (دشمن کے خلاف) جوابی کارروائیاں طاقت کے ساتھ جاری رہیں گی اور آبنائے ہرمز پاسداران انقلاب نیوی کے کنٹرول میں رہے گا۔‘

  13. امریکی حملے میں چابہار نیول واچ ٹاور تباہ: ایرانی میڈیا

    ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا نے امریکی حملے میں چابہار میری ٹائم واچ ٹاور کے تباہ ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ارنا کے مطابق بندرگاہ پر نصب آلات اور آپریشنل انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    رپورٹ کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ اس کی وجہ سے ’ٹاور مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

    بی بی سی فارسی کی خبر کے مطابق اس حملے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا جبکہ اس ٹاور کی تباہی کے بعد تکنیکی اور آپریشنل ٹیمیں بندرگاہ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

  14. وائٹ ہاؤس اہلکار پر ٹرمپ کی تقاریر پر شرطیں لگا کر تقریباً ایک لاکھ ڈالر کمانے کا الزام, فرانسسکو ویلاسکیز، بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز

    وائٹ ہاؤس کے ایک ٹیلی پرومپٹر آپریٹر کے خلاف اس الزام پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ انھوں نے اندرونی معلومات کو اپنے استعمال میں لا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقاریر پر شرطیں لگائیں اور اس سے تقریباً ایک لاکھ ڈالر کمائے۔

    گیبریل پیریز 2016 سے وائٹ ہاؤس میں کام کر رہے تھے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر کی بڑی عوامی تقاریر بشمول سٹیٹ آف دی یونین کے خطاب میں استعمال ہونے والے الفاظ پر شرطیں لگائیں۔

    یہ لین دین کالشی (Kalshi) نامی ایک ایسے مارکیٹس پلیٹ فارم پر کیا گیا جہاں صارفین حقیقی دنیا کے واقعات پر شرط لگا سکتے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو ٹیلی پرومپٹر آپریٹر کے بارے میں آگاہی تھی اور یہ ملازم فی الحال بغیر تنخواہ کی رخصت پر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پیریز اب وائٹ ہاؤس میں کام نہیں کریں گے۔

    کالشی نامی کمپنی نے تصدیق کی کہ اس نے اس سرگرمی کی اطلاع کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کو دی جو اس پلیٹ فارم کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق کالشی نے پیریز کا اکاؤنٹ کسی بھی منافع کی رقم نکالے جانے سے پہلے ہی منجمد کر دیا تھا۔

    اس پلیٹ فارم نے بی بی سی کو بتایا کہ مارچ میں اس کے تجزیہ کاروں نے ’مینشن مارکیٹس‘ میں غیر معمولی شرطیں لگتی دیکھیں۔

    یہ ایسے معاہدے ہوتے ہیں جن میں صارفین پیش گوئی کرتے ہیں کہ آیا کوئی مقرر عام طور پر استعمال ہونے والی اصطلاحات، مثلاً مخصوص ممالک کے نام، معاشی الفاظ یا انتخابی نعروں کا ذکر کرے گا یا نہیں۔

    کالشی کا کہنا ہے کہ ’صدور اور فیڈرل ریزرو کے سربراہان جیسے سیاسی رہنماؤں کے الفاظ فارن ایکسچینج مارکیٹس، تیل کے فیوچرز اور سٹاک مارکیٹ میں اربوں ڈالر کی نقل و حرکت کا سبب بنتے ہیں۔‘

    کمپنی نے جب اکاؤنٹ کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے معلومات لیں تو ان کے علم میں آیا کہ یہ صارف ایک وفاقی ملازم تھا جو وائٹ ہاؤس میں ٹیلی پرومپٹر چلاتا تھا۔

    ایکسچینج نے 90 ہزار ڈالر سے زیادہ کی رقم کو نکالے جانے سے پہلے ہی منجمد کر دیا۔

    کالشی سے وابستہ رابرٹ ڈینالٹ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اس لین دین کی نشاندہی کی تھی اور شواہد ریگولیٹرز کے حوالے کر دیے تھے۔

  15. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ووٹنگ نظام میں ’حیران کن کمزوریوں‘ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم ٹی وی خطاب میں چین پر 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا اور امریکی ووٹنگ نظام میں ’حیران کن کمزوریوں‘ کا دعویٰ کیا۔

    ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر ووٹر دھاندلی اور 2020 کے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے ایسے دعوے دہرائے جن کے حق میں اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ان انتخابات میں وہ جو بائیڈن سے شکست کھا گئے تھے۔

    وسط مدتی انتخابات سے تین ماہ قبل کیے گئے اس آدھے گھنٹے کے خطاب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے انٹیلی جنس کی سینکڑوں خفیہ فائلیں عوام کے لیے جاری کر دی ہیں، جو ان کے بقول اس دعوے کی تائید کرتی ہیں کہ بیجنگ نے بائیڈن کے حق میں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔

    امریکی انٹیلی جنس ادارے پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کر چکے ہیں کہ چین نے 2020 کے انتخابات میں مداخلت نہیں کی تھی۔

    ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران اپنی اعلیٰ ٹیم کے کئی ارکان کو اپنے ساتھ رکھا، تاہم صحافیوں کو صدر سے سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    اپنی تقریر میں انہوں نے چین پر 22 کروڑ ووٹر فائلوں، جن میں ذاتی معلومات بھی شامل تھیں، کے ’غیر قانونی حصول‘ کا الزام لگایا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ 18 ریاستوں میں ووٹروں کا ڈیٹا ’چین نے خریدا، چوری کیا یا ہیک کیا‘ اور ان افراد پر تنقید کی جو ان کے بقول اس معاملے سے آگاہ تھے لیکن انھوں نے اس دریافت سے حکومتی حکام یا کانگریس کو مطلع نہیں کیا۔

    ٹرمپ نے اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ چین نے مبینہ طور پر حاصل کی گئی معلومات کو ووٹنگ نظام میں تبدیلی یا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا تھا۔

    ان کی تقریر کے جواب میں واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کہا کہ بیجنگ نے ’نہ کبھی امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ کبھی کرے گا‘۔

    بی بی سی نے بھی اس معاملے پر چینی وزارت خارجہ سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی ساکھ اور سلامتی پر شکوک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کے ذریعے ان کی باقی مدتِ صدارت کے دوران کانگریس کا کنٹرول طے ہوگا۔

    سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے سرکردہ رہنما چک شومر نے تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر لکھا: ’یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ امریکہ میں ووٹر اپنے رہنما منتخب کرتے ہیں، اس کا الٹ نہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’ڈیموکریٹس بھرپور جدوجہد کریں گے تاکہ ہر امریکی ووٹر ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی رکاوٹ یا مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر اپنا ووٹ ڈال سکے۔‘

    صدر کے ریمارکس امریکی انٹیلی جنس اداروں کے پہلے سے موجود جائزوں کے برعکس ہیں۔ 2021 میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ادارے کو ’بہت زیادہ یقین‘ ہے کہ چین نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت نہیں کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا: ’ہماری تشخیص یہ ہے کہ چین نے انتخابات میں مداخلت کی کوئی کارروائی نہیں کی اور اگرچہ اس نے اثر و رسوخ استعمال کرنے کے امکانات پر غور کیا، لیکن ایسے اقدامات نہیں کیے جن کا مقصد امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنا ہو۔‘

    رپورٹ کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ یہ تھی کہ چین ’کسی بھی انتخابی نتیجے کو اپنے لیے اتنا فائدہ مند نہیں سمجھتا تھا کہ پکڑے جانے کی صورت میں ممکنہ ردعمل کا خطرہ مول لیتا۔‘

    ٹرمپ نے یہ خطاب ایک نئے واشنگٹن پوسٹ-ایپسوس سروے کے بعد کیا، جس سے ظاہر ہوا کہ ان کی مقبولیت کی شرح کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ بہت سے ووٹر مہنگائی اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہیں۔

  16. پاسداران انقلاب کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر حملے کا دعویٰ

    ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دعویٰ گیا ہے کہ انھوں نے شام کے علاقے تنف میں امریکی افواج کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں، پاسدارانِ انقلاب کی فضائی افواج نے ایران شہر میں فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں ’شام کے تنف علاقے میں امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا، جس میں ایک ریڈار سسٹم، کئی خصوصی ہیلی کاپٹروں اور متعدد امریکی افواج کو نشانہ بنایا۔‘

    پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایرانی فورسز کے ہاتھ میں ہے اور جب تک لڑائی جاری رہے گی اس راستے سے تیل اور گیس کی برآمدات معطل رہیں گی۔

  17. 500 سے زائد روہنگیا باشندوں کے سمندر میں لاپتہ ہونے کا خدشہ, جوناتھن ہیڈ، جنوب مشرقی ایشیا کے نامہ نگار

    29 جون کو میانمار کی ریاست رخائن سے تقریباً 530 روہنگیا پناہ گزینوں کو لے جانے والی دو کشتیاں روانہ ہوئیں جن کے بارے میں اس کے بعد کوئی خبر نہیں ملی۔

    خدشہ ہے کہ دونوں کشتیاں الٹ گئی ہوں۔ مون سون کا موسم شروع ہو چکا ہے، سمندر میں طوفانی لہریں ہیں، اور یہ کشتیاں، جو عموماً پرانی ماہی گیری کی کشتیوں کو تبدیل کر کے بنائی جاتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سوار کیا جا سکے، بمشکل سمندر کے قابل ہوتی ہیں اور ان کے انجن بھی غیر قابلِ اعتماد ہوتے ہیں۔

    یہ بھی بہت ممکن ہے کہ بہت کم لوگ، یا شاید کوئی بھی زندہ نہ بچا ہو۔ ان مسافروں میں تقریباً نصف خواتین اور بچے ہو سکتے تھے۔

    رخائن کئی برسوں سے جنگ کی حالت میں ہے۔ باغیوں نے میانمار کی فوج کو زیادہ تر علاقوں سے باہر نکال دیا ہے اور ریاستی دارالحکومت سٹوے میں فوج کے آخری مضبوط ٹھکانے کا محاصرہ کر رکھا ہے، جہاں اب صرف فضائی یا سمندری راستے سے پہنچا جا سکتا ہے۔ فوج نے تقریباً تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کر دیے ہیں۔

    روہنگیا کے حالات بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والی تنظیم اراکان پروجیکٹ کی سربراہ کرس لیوا یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان دونوں کشتیوں کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔

    مختلف ذرائع اور معلومات کو ملا کر انھیں یقین ہے کہ دونوں کشتیاں واقعی 29 جون کو روانہ ہوئی تھیں، ایک صبح کے وقت اور دوسری دن میں بعد میں۔

    ان کے مطابق یہ کشتیاں میانمار کے جنوبی ساحل کی طرف جا رہی تھیں، جہاں مسافروں کو اتارا جانا تھا۔ وہاں سے انھیں سڑک کے ذریعے، جنگلوں میں قائم عارضی اور غیر منظم کیمپوں سے گزارتے ہوئے، تھائی لینڈ کے راستے ملائیشیا کی سرحد تک لے جایا جانا تھا۔

    عام طور پر ان کے خاندان ایک ہفتے یا دس دن کے اندر ان کی خیریت کی خبر کی توقع کرتے ہیں۔ لیکن تقریباً تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی انھیں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    بنگلہ دیشی حکام کو ایک خاتون کی لاش ملی ہے جو سمندر سے بہہ کر ساحل تک پہنچی تھی۔ ادھر ایراوادی ڈیلٹا اور مون ریاست کے ساحل کے درمیان سمندر میں ماہی گیری کرنے والوں کو نو دن بعد مزید کئی لاشیں بھی ملیں۔

    کرس لیوا کا خیال ہے کہ یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دونوں کشتیاں الٹ گئی تھیں۔ ایک سن ٹیٹ ماؤ سے روانگی کے چند گھنٹوں بعد، جبکہ دوسری جنوب مشرق کی سمت کئی دن سفر کرنے کے بعد۔

    بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں قائم گنجان آباد کیمپوں میں دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا رہتے ہیں، جہاں امداد کم ہوتی جا رہی ہے، روزگار کے مواقع تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں، اور منظم جرائم پیشہ گروہ آزادانہ طور پر سرگرم ہیں۔ انھیں کیمپوں سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

  18. ایران کے خلاف حملوں کی تازہ لہر مکمل ہو گئی: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف اس کے تازہ حملوں کی لہر مکمل ہو گئی ہے۔

    سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف اپنی تازہ بڑی کارروائی مکمل کر لی ہے۔

    امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان کے لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی جہازوں نے درجنوں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، فوجی رسد کا نظام اور بحری صلاحیتیں شامل تھیں۔

  19. قطر پر ایرانی حملوں میں چھرے سے بچہ زخمی، مسلح افواج فضائی حملوں کو روک رہی ہیں: قطری حکام

    قطر کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح ملک پر ایران کے حملے کے بعد ایک بچہ ملبے کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوا ہے۔

    وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ موصول ہونے والی اطلاعات اور موقع پر کی گئی تحقیقات کے مطابق ایک بچہ انٹرسیپشن آپریشن کے دوران گرنے والے ملبے سے زخمی ہوا، جسے ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب قطر کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی مسلح افواج اس وقت کئی فضائی حملوں کو روک رہی ہیں۔

  20. بغداد میں امریکی سفارت خانے کا عراق میں اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ

    بغداد میں امریکی سفارت خانے نے اربیل پر بدھ کو ہونے والے ڈرون حملے کے بعد عراق میں موجود امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی، اغوا، مسلح تصادم اور بدامنی کے خطرات کے باعث امریکی شہری عراق کا سفر نہ کریں۔

    سفارت خانے کے مطابق عراق کے ہنگامی حالات میں امریکی شہریوں کی مدد کرنے کی امریکی حکومت کی صلاحیت بھی محدود ہے۔

    امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت سے گریز کریں اور کسی حملے کی صورت میں ملبے یا ملبہ گرنے والی جگہوں کے قریب نہ جائیں۔