ایران کو عالمی توانائی مارکیٹ کو یرغمال بنانے نہیں دیا جائے گا: امریکی وزیرِ خارجہ
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انڈیا کے چار روزہ دورے کے دوران نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ہے۔
وزیرِ خارجہ روبیو کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ’امریکہ ایران کو عالمی توانائی مارکیٹ کو یرغمال بنانے نہیں دے گا اور امریکی توانائی مصنوعات انڈیا کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور اسے مستحکم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔‘
واضح رہے کہ روبیو سنیچر کی صبح مشرقی شہر کلکتہ پہنچے جہاں سے وہ دارالحکومت نئی دہلی روانہ ہوئے۔ اپنے دورے کے دوران وہ جئے پور اور آگرہ کا دورہ بھی کریں گے۔
امریکی حکام کے مطابق ملاقات میں روبیو نے وزیراعظم مودی کو وائٹ ہاؤس کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔ انڈین وزیراعظم نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات میں بہتری کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والا عالمی توانائی بحران انڈیا کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا دورۂ انڈیا ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی مذاکرات اور گزشتہ سال کے انڈیا پاکستان تنازعے کے حل سے متعلق متضاد دعووں نے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر رکھی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی ان کی ثالثی سے ختم ہوئی، تاہم انڈیا نے اس دعوے کی مسلسل تردید کی ہے اور اپنی پالیسی کے مطابق واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں۔
انڈیا کو یہ بات بھی ناگوار گزری ہے کہ ٹرمپ نے پاکستانی فیلڈ مارشل اور آرمی چیف عاصم منیر کے لیے کھل کر پسندیدگی کا اظہار کیا اور انھیں اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دیا۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات کو مزید قریب کر دیا ہے، جسے خطے کی سفارتی ماحول میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔