محمود احمدی نژاد ایران جنگ کا سب سے عجیب معمہ کیسے بنے؟

،تصویر کا ذریعہIsna
- مصنف, سعید جعفری
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 15 منٹ
’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ناپسندیدہ نظام زوال کے دہانے پر ہے۔ یہ خدا کے فضل سے گِر جائے گا اور کوئی بھی اسے بچا نہیں سکے گا۔ یہ نظام اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور جلد ہی جغرافیائی منظرنامے سے غائب ہو جائے گا۔‘
اس بیان نے محمود احمدی نژاد کو برسوں تک دنیا کے سب سے معروف اسرائیل مخالف رہنماؤں میں شامل رکھا۔
انھوں نے ہولوکاسٹ پر سوال اٹھایا، اسرائیل کو ایک ’جعلی ریاست‘ قرار دیا اور بین الاقوامی پابندیوں کی پروا کیے بغیر ایران کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کی ضرورت کا دفاع کیا۔
اس نوعیت کے موقف اور بیانات نے احمدی نژاد کو اُن شخصیات میں شامل کر دیا جن کا حوالہ اسرائیلی حکام اکثر دنیا کو ’ایرانی خطرے‘ کی وضاحت کے لیے دیتے رہے۔
اب یہی نام ایک بار پھر حالیہ ایران جنگ کی عجیب ترین کہانیوں میں سامنے آیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ اور اسرائیل نے ایک ایسے منظرنامے پر غور کیا تھا جس میں محمود احمدی نژاد اسلامی جمہوریہ ایران کی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول سے نکل کر ایران میں مستقبل کے اقتدار کی ایک ممکنہ شکل کے طور پر پیش کیے جائیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ خیال دراصل اسرائیل کے اُس منصوبے کا حصہ تھا جو آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور ایران میں طاقت کے مرکزی ڈھانچے میں عدم استحکام کے بعد کے دور کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
محمود احمدی نژاد اور اُن کے قریبی ساتھیوں نے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے اور احمدی نژاد اس وقت کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں، اس کے بارے میں بھی کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیویارک ٹائمز کی یہ کہانی اتنی غیر معمولی تھی کہ بہت سے امریکی اور اسرائیلی تجزیہ کاروں نے بھی اسے شک کی نظر سے دیکھا۔ بنیادی سوال سادہ ہے: اسرائیل اور امریکہ ایک ایسے شخص پر کیوں اعتماد کریں گے جو برسوں تک اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے سخت اسرائیل مخالف بیانیے کی علامت بنا رہا؟
اس تضاد نے بعض مبصرین کو یہ بھی سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا احمدی نژاد کی شبیہ اتنی سادہ نہیں تھی، جتنی گذشتہ برسوں میں دکھائی جاتی رہی؟
احمدی نژاد کیا ایک ایسا دشمن تھے جو اسرائیل کے لیے فائدہ مند تھے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کہانی کی حساسیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں محمود احمدی نژاد کے ایرانی سیاست میں عروج کے زمانے کی طرف واپس جانا ہو گا۔
وہ سنہ 2003 میں تہران کے میئر منتخب ہوئے تھے اور اُس وقت تک وہ ایران کے سیاسی منظرنامے میں زیادہ مشہور شخصیت نہیں تھے۔ احمدی نژاد سنہ 2005 میں انصاف، سادگی اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، لیکن وہ جلد ہی عالمی سطح پر ایک نمایاں شخصیت بن گئے، اپنے داخلی ایجنڈے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اسرائیل، امریکہ اور ہولوکاسٹ کے بارے میں اپنے بیانات کی وجہ سے۔
اکتوبر 2005 میں تہران میں ’عالمی سطح پر صہیونیت کے بغیر دنیا‘ کے عنوان سے ہونے والی ایک کانفرنس میں محمود احمدی نژاد نے کہا تھا کہ ’امریکہ اور صہیونیت کے بغیر دنیا ممکن ہے۔‘ اِسی تقریر میں انھوں نے روح اللہ خمینی سے منسوب ایک جملہ دہرایا، جسے مغربی میڈیا نے اس طور پر پیش کیا کہ گویا انھوں نے اسرائیل کو ’نقشے یا صفحہ ہستی سے مٹا دینے‘ کی بات کی ہو۔
تقریباً ایک سال بعد تہران میں ’ہولوکاسٹ پر نظرثانی‘ کے موضوع پر ایک متنازع کانفرنس منعقد ہوئی تھی اور اس اجلاس میں ہولوکاسٹ کی اصلیت کا انکار کرنے والی معروف شخصیات کی شرکت نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔
کئی اسرائیلی عہدیداروں اور تجزیہ کاروں نے بعد کے برسوں میں کُھل کر کہا کہ محمود احمدی نژاد نے اپنے سخت بیانیے اور ہولوکاسٹ کے انکار کے ذریعے دراصل اسرائیل کے مفاد میں کام کیا۔ سنہ 2008 میں موساد کے سابق سربراہ افرائیم ہلیوی نے انھیں ’اسرائیل کے لیے ایران کا سب سے بڑا تحفہ‘ قرار دیا کیونکہ، اُن کے مطابق، احمدی نژاد کے بیانات نے دنیا کے لیے ایرانی خطرے کو سنجیدگی سے لینا آسان بنا دیا۔
اس معاملے نے احمدی نژاد کے کچھ ناقدین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا کہ کیا اُن کی پالیسیوں اور بیانات نے عملی طور پر ایران یا اس کی حکومت کے بجائے اسرائیل کو زیادہ فائدہ پہنچایا؟
احمدی نژاد نے ایران پر عائد پابندیوں کو ’پھٹا ہوا کاغذ‘ قرار دیا، جوہری معاملے کو ایک زیادہ نازک مرحلے تک پہنچایا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف کئی قراردادوں کا باعث بنے، اور ملک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے ’باب ہفتم‘ کے تحت ڈال دیا، جس کا مطلب ہے اسے ’عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا گیا۔
کچھ بین الاقوامی مبصرین کا خیال تھا کہ انھوں نے بالواسطہ طور پر اسرائیل کو ’ایرانی خطرے‘ کے بیانیے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ایک زندہ اور بلند آواز مثال بنانے کے طور پر مدد دی۔
یقیناً، احمدی نژاد کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انھوں نے اس دور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری بیانیے کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک جارحانہ اور نظریاتی پالیسی اختیار کی، اور ان کا مقصد درحقیقت اسرائیل اور مغرب کا مقابلہ کرنا تھا، نہ کہ اُن کی مدد کرنا۔
اقتدار کے بعد تبدیلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن محمود احمدی نژاد اپنی صدارت کے خاتمے کے بعد پہلے جیسے نہیں رہے۔ اُن کے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کے طاقتور سکیورٹی اداروں کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے، ایران کی نگہبان کونسل نے انھیں کئی بار نااہل قرار دیا، اور وہ آہستہ آہستہ خود کو ایک مکمل حکومتی حامی شخصیت سے بدل کر ایک تنقیدی، عوامی اور حتیٰٰ کہ اقتدار کے کچھ ڈھانچوں کے مخالف سیاستدان کے طور پر پیش کرنے لگے۔
تاہم، پاستور (ایوانِ صدر) میں اپنے دور کے دوران سپریم لیڈر کی حمایت نے کم از کم ظاہری طور پر یہ یقینی بنایا کہ احمدی نژاد کو دیگر سابق سربراہانِ مملکت کی طرح مکمل طور پر نظرانداز نہ کیا جائے، اور وہ مصلحت تشخیص کونسل کے رکن کے طور پر کام کرتے رہے۔
ان برسوں میں سوشل میڈیا پر احمدی نژاد نے اپنے لیے ایک نئی شبیہ بنانے کی کوشش کی، انگریزی میں ٹویٹس کرنا، یونیورسٹی آف مشی گن کی فٹ بال ٹیم کو مبارکباد دینا یا امریکہ کے معروف ریپر اور ہپ ہاپ گلوکار ٹوپاک شکور کے اقوال کا حوالہ دینا۔ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی اس بات پر تعریف کی جسے وہ 'امریکی سیاسی بدعنوانی کے خلاف جدوجہد' قرار دیتے ہیں۔
اسرائیلی انسٹیٹیوٹ برائے قومی سلامتی میں ایران اور شیعہ محور پروگرام کے ڈائریکٹر راز زیمت نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا: ’احمدی نژاد اپنی صدارت کے دوران عوامیت پسندی اور موقع پرستی کا ایک امتزاج تھے۔ ایک ایسا شخص جو ایک طرف اسرائیل کی تباہی کی بات کرتا اور ہولوکاسٹ کا انکار کرتا تھا لیکن دوسری طرف کبھی کبھار متضاد اور غیر متوقع مؤقف اختیار بھی کر لیتا تھا۔‘
زیمت نے مزید لکھا کہ حالیہ برسوں میں محمود احمدی نژاد نے خود کو زیادہ ’معتدل‘ اور ایرانی و مغربی عوام کے لیے قابلِ قبول دکھانے کی کوشش کی ہے، لیکن اگرچہ بعض جائزوں کے مطابق انھیں ایرانی معاشرے کے ایک حصے کی حمایت حاصل ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ حمایت نو کروڑ سے زائد آبادی والے ملک ایران میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
ان کے مطابق اس طرح کے کسی منظرنامے میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ احمدی نژاد کے پاس نہ تو کوئی مضبوط تنظیمی بنیاد ہے اور نہ ہی پاسدارانِ انقلاب انھیں حمایت دینے کے لیے تیار ہیں۔
گوئٹے مالا اور ہنگری کے دورے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محمود احمدی نژاد کے نئے کردار کے بارے میں سوالات صرف نیویارک ٹائمز کی رپورٹ تک محدود نہیں ہیں۔
’نیو لائنز‘ نامی ایک تجزیاتی جریدے، جو خارجہ پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ پر رپورٹ کرتا ہے، نے پانچ اگست 2025 کو رپورٹ کیا کہ احمدی نژاد نے گوئٹے مالا اور ہنگری کا سفر کیا تھا، یعنی ایسے دورے جنھیں بعض مبصرین نے غیر معمولی قرار دیا، خاص طور پر اِن ممالک کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
احمدی نژاد نے سنہ 2023 میں گوئٹے مالا کا دورہ کیا، جو امریکہ کے بعد تل ابیب سے یروشلم اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے والا دوسرا ملک ہے۔ انھوں نے 2025 میں ہنگری کا بھی دورہ کیا، جہاں اُس وقت کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کی حکومت کو یورپ میں اسرائیل کے قریبی اتحادیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
ہنگری کے دورے کے بارے میں تفصیلات واضح نہیں ہیں۔
احمدی نژاد کے بوڈاپیسٹ کے دورے کے ختم ہونے کے چھ دن بعد ایران پر اسرائیل کے ابتدائی حملے شروع ہوئے، یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے، تاہم بعض مبصرین نے اسے مشکوک قرار دیا، اس سے قطع نظر کہ ان دونوں واقعات کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کا ثبوت نہیں ملتا۔
دی اٹلانٹک اور ’احمدی نژاد کو آزاد کرنے‘ کا بیانیہ
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ سے پہلے امریکی جریدہ ’دی اٹلانٹک‘ نرماک میں واقع محمود احمدی نژاد کے گھر پر حملے کی خبر دے چکا تھا۔ اس اشاعت میں لکھا گیا تھا کہ احمدی نژاد کے بعض رشتہ داروں کے مطابق، ایران جنگ کے پہلے دن ہونے والا یہ حملہ انھیں نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ درحقیقت اس میں ان کے گھر کی گلی کے داخلی راستے پر تعینات سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اُن کے بقول یہی فورسز دراصل احمدی نژاد کی حرکات و سکنات کو کنٹرول کر رہی تھیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ نے اس بیانیے کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے لکھا کہ احمدی نژاد کے حوالے سے امریکی، اسرائیلی منصوبہ ایران کی قیادت میں تبدیلی کے ایک بڑے منظرنامے کا حصہ تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق محمود احمدی نژاد کو اس منصوبے کے کچھ حصوں کا علم تھا، لیکن بعد میں وہ اس سے بددل ہو گئے۔ اسی موضوع پر نیویارک پوسٹ نے ایک تنقیدی رپورٹ میں لکھا کہ اس بیانیے کو ماہرین کی جانب سے سنجیدہ شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔
کہانی کا یہ حصہ معاملے کو مزید حساس بنا دیتا ہے: اگر احمدی نژاد کو حملے سے پہلے اس منظرنامے کے کسی حصے کا علم تھا تو یہ معلومات انھیں کیسے اور کن ذرائع کے ذریعے پہنچیں؟ اور اگر وہ اس سے لاعلم تھے تو پھر اس منصوبے بنانے والوں نے کیوں یہ تصور کیا کہ بحران کے وقت وہ اُن کے کھیل کا حصہ بن سکتے ہیں؟
ان سوالات کے واضح اور حتمی جوابات ابھی تک سامنے نہیں آئے۔
امریکی ماہرین کے شکوک و شبہات

،تصویر کا ذریعہkhamenei.ir
اس رپورٹ کے لیے بی بی سی فارسی سے گفتگو کرنے والے تین امریکی ماہرین اِس بات پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں کہ احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کا کوئی 'سنجیدہ عملی منصوبہ' موجود تھا۔
نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اور امریکن فارن پالیسی کونسل میں انسداد دہشت گردی کے سیینئر فیلو میکس ابراہمز کہتے ہیں کہ اس بیانیے کو 'بہت زیادہ احتیاط اور شکوک' کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔
اُن کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بڑی تعداد میں غلط معلومات گردش کر رہی تھیں اور ’یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اسرائیل احمدی نژاد جیسے شخص کی واپسی کا خیرمقدم کرے گا، جو ہولوکاسٹ کا انکار کرتا رہا ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کی ایک معروف تاریخ رکھتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی احمدی نژاد ایران کی قیادت کے لیے کوئی پرکشش آپشن نہیں تھے، کیونکہ اُن کی اقتدار میں واپسی ایک فاتح اور تبدیلی لانے والے صدر کی شبیہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔
امریکن فارن پالیسی کونسل کے سیینئر نائب صدر اور سٹیٹ کرافٹ اینڈ سٹریٹیجی کے ایڈیٹر ایلان برمن کا بھی کہنا ہے کہ اس واقعے کو اسرائیل اور امریکہ کے کسی قابلِ اعتبار عملی منصوبے کے طور پر دیکھنا مشکل ہے۔
ان کے مطابق احمدی نژاد کا ہولوکاسٹ سے انکار اور ایران کے جوہری پروگرام کو تیز کرنے میں اُن کا کردار دونوں ہی ایسے عوامل ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے اس طرح کے آپشن کو انتہائی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ برمن کے خیال میں زیادہ امکان یہ ہے کہ احمدی نژاد کا نام دیگر ممکنہ آپشنز کے ساتھ زیرِ غور آیا ہو گا، لیکن آخرکار وہ امریکہ اور اسرائیل کی اولین ترجیح نہیں تھے۔
تاہم یہ بات خود میں ہی سوالیہ نشان ہے کہ احمدی نژاد کو ایران کی مستقبل کی قیادت کے ممکنہ آپشنز میں شمار کیا گیا۔
امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ کے سیینئر فیلو اور پینٹاگون کے سابق عہدیدار مائیکل روبن اس بیانیے کو ’خیالی‘ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نیویارک ٹائمز اپنے قارئین سے بے نام ذرائع پر حد سے زیادہ انحصار کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
تاہم روبن کا یہ بھی ماننا ہے کہ مغرب میں بہت سے لوگ اب تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ایرانی معاشرے کے ایک حصے میں محمود احمدی نژاد کیوں مقبول رہے ہیں۔
ان کے مطابق اپنی صدارت کے دوران احمدی نژاد نے خود کو ایک عوامی اور بدعنوانی کے مخالف سیاستدان کے طور پر پیش کیا، وہ صوبوں کے دورے کرتے، عوامی اجتماعات میں لوگوں کے مسائل سنتے، مقامی حکام سے کھلے عام سوال کرتے اور بعض اوقات مسائل کے حل کے لیے براہِ راست رقم بھی تقسیم کرتے تھے۔
یقیناً بعد میں احمدی نژاد کے قریبی ساتھیوں پر بھی بدعنوانی کے الزامات عائد ہوئے، اگرچہ احمدی نژاد نے اُن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان کی حکومت نے 'چوروں کے ہاتھ پکڑے'، اس لیے اب عدلیہ کی طرف سے اُن پر چوری اور بدعنوانی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
مائیکل روبن کے مطابق یہ رویے شاید زیادہ تر ایک سیاسی مظاہرہ تھے، لیکن انھوں نے ایرانی معاشرے کے نچلے اور محروم طبقات کے کچھ حصوں کے لیے احمدی نژاد کو اسلامی جمہوریہ کے روایتی سیاستدانوں سے مختلف بنا کر پیش کیا۔
ایک ایسی مقبولیت جس کے آثار بعض مبصرین کے مطابق آج بھی ایرانی معاشرے کے کچھ حصوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
اسی دوران، نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ پر اٹھنے والے شکوک کے جواب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اخبار کو اپنی رپورٹ پر 'مکمل اعتماد' ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ شائع شدہ بیانیہ امریکی، اسرائیلی اور ایرانی عہدیداروں اور واقعے کی تفصیلات سے آگاہ ذرائع کے ساتھ گفتگو کا نتیجہ ہے۔
اسرائیل کے اندر تنقید، لازمی نہیں کہ مکمل تردید ہو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بعض امریکی تجزیہ کاروں کے برعکس جنھوں نے بی بی سی فارسی سے گفتگو میں ابتدائی بیانیے پر سوال اٹھایا، اسرائیل کے چند صحافیوں اور سکیورٹی ماہرین نے زیادہ توجہ اس نکتے پر دی کہ اگر ایسا کوئی منظرنامہ واقعی موجود تھا تو یہ ایران کے طاقت کے ڈھانچے اور معاشرے کے بارے میں اسرائیل کی گہری غلط فہمی کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈینی سیٹرینووِچ، جو اسرائیلی انسٹیٹیوٹ برائے قومی سلامتی کے سیینئر فیلو اور اسرائیل کے فوجی انٹیلیجنس کے تحقیقی شعبے میں ایران ڈویژن کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں، نے ایکس پر لکھا کہ احمدی نژاد کو 'تاج پہنانے' کی کوشش ایرانی سیاسی نظام کی گہری ناسمجھی کو ظاہر کرتی ہے۔
انھوں نے لکھا کہ احمدی نژاد کی اینٹی سیمیٹک بیانات کی تاریخ ہے، اور اگرچہ ان کے علی خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ اختلافات رہے ہیں لیکن اُن کی طاقت کے ڈھانچے کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں تھی، اور پاسدارانِ انقلاب نے کبھی اُن کی حمایت نہیں کی۔
سیٹرینووِچ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ احمدی نژاد کو اقتدار میں لانے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے پورے نظام کا منہدم ہونا ضروری ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’ایسا کوئی واقعہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائی کے نتیجے میں ممکن نہیں۔‘
اسرائیلی صحافی اور سکیورٹی تجزیہ کار یوسی میل مین، جو برسوں سے موساد اور اسرائیلی انٹیلیجنس اداروں پر رپورٹنگ کرتے رہے ہیں، نے بھی ایکس پر لکھا کہ 'یہ کہانی کئی حوالوں سے پاگل پن پر مبنی لگتی ہے۔'
ان کے مطابق اگر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ درست ہے، تو یہ ظاہر کرتی ہے کہ موساد اور اسرائیل کی فوجی انٹیلیجنس نے ایران کو کس حد تک غلط سمجھا۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر نسلی اقلیتوں (کُرد) کے حملوں اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے ایران کے خاتمے کے خیال کو ایک طرف رکھ دیا جائے، تو اسرائیل اور امریکہ کے جنگی منصوبہ ساز ’خیالی دنیا میں رہ رہے تھے۔‘
راز زیمت، جو اسی ادارے میں ایران اور شیعہ محور پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں، نے بھی اسی طرح کے مؤقف میں کہا کہ ایسے منظرناموں کا بنیادی مسئلہ ایرانی معاشرے کو حد سے زیادہ سادہ تصور کرنا اور ایران کے طاقت کے پیچیدہ ڈھانچے کو نظرانداز کرنا ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل واقعی ایران میں سیاسی تبدیلی چاہتے ہیں، تو انھیں ’جادوئی نوعیت کے حل‘ کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے، چاہے وہ جلاوطن رہنما ہوں، نسلی گروہ ہوں یا ایسے سیاست دان جن کے پاس کوئی حقیقی تنظیمی ڈھانچہ یا عوامی بنیاد موجود نہ ہو۔
احمدی نژاد کا نام آخر کیوں سامنے لایا گیا؟
ان تمام شکوک و شبہات کے باوجود ایک سوال برقرار رہتا ہے اور وہ یہ کہ آخر احمدی نژاد ہی کیوں؟
شاید اس کا جواب اُن کی تین خصوصیات کے ایک عجیب امتزاج میں پوشیدہ ہے: شہرت، داخلی تجربہ اور کسی مرحلے پر علی خامنہ ای سے فاصلہ۔
احمدی نژاد ایران کے اندر ایک معروف شخصیت ہیں، حکومت چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں، معاشرے کے نچلے طبقات کی زبان اور نفسیات کو سمجھتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے طاقت کے نظام سے اچھی طرح واقف ہیں۔
کچھ غیر ملکی ماہرین کے نقطۂ نظر سے یہی خصوصیات انھیں انتشار کے وقت ایک ممکنہ آپشن بنا سکتی تھیں، ایک اتحادی کے طور پر نہیں بلکہ ایک عارضی چہرے کے طور پر جو طاقت کے ڈھانچے میں دراڑ ڈالنے کے لیے استعمال ہو سکے۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ محمود احمدی نژاد میں اس طرح کے کردار کو حاصل کرنے کے لیے نمایاں کمزوریاں بھی موجود ہیں۔ ان کے پاس نہ تو مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہے اور نہ ہی فوج اور پاسدارانِ انقلاب میں انھیں قبولیت حاصل ہے۔
اسی دوران، مختلف اندرونی اور بیرونی اپوزیشن گروہوں نے بھی اب تک اُن کے ساتھ کسی اتحاد میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، اور احمدی نژاد کی اس صلاحیت پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں کہ وہ کوئی قومی سطح کا اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔
یہی حدود اس سوال کو جنم دیتی ہیں کہ اگر محمود احمدی نژاد بیرونی مداخلت کی لہر پر سوار ہو کر منظرِ عام پر آتے بھی، تو بہت جلد انھیں اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا کہ آخر وہ کس کی نمائندگی کرتے ہیں۔
بڑا مغالطہ یا پوشیدہ حقیقت؟
ان تمام باتوں نے ایران کے سیاسی ماحول میں ایک پرانا سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے اور وہ یہ کہ کیا احمدی نژاد واقعی وہی تھے جو وہ خود کو ظاہر کرتے تھے؟
ان کے بعض ناقدین کے نزدیک ان کے بدلتے رویے کا سلسلہ، صدارت کے دور سے لے کر بیرونِ ملک دوروں تک اور حالیہ جنگ کے بارے میں خاموشی تک، حد سے زیادہ بے ترتیب محسوس ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ احمدی نژاد کی پالیسیوں نے ایران کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار کیا، جوہری تنازع کو بحران کی سطح تک پہنچایا، ایران پر عائد پابندیوں میں اضافہ کیا اور اسرائیل کو بہترین پروپیگنڈا مواد فراہم کیا۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ محمود احمدی نژاد پر ان قوتوں کے قریب جانے کی کوشش کا الزام لگا ہو، جن کے ساتھ دشمنی کو وہ برسوں اپنی سیاسی شناخت کا حصہ بناتے رہے۔
احمدی نژاد، جو اپنی صدارت کے دوران اپنی سیاسی ساکھ کا بڑا حصہ اصلاح پسند رہنماؤں محمد خاتمی اور میر حسین موسوی کے ساتھ محاذ آرائی سے حاصل کرتے تھے، اقتدار سے باہر ہونے کے بعد آہستہ آہستہ اپنا رویہ بدلتے ہوئے دکھائی دیے۔
ستمبر 2014 میں بعض مقامی ذرائع نے خبر دی کہ انھوں نے اصلاح پسندوں سے رابطے بڑھانے کی کوشش کی اور یہاں تک کہ محمد خاتمی سے ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی، تاہم یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور دونوں کے درمیان کوئی سیاسی تعاون قائم نہیں ہو سکا۔
تاہم احمدی نژاد کے ناقدین کے لیے، ایک ایسی تحریک کے قریب جانے کی کوشش جسے وہ برسوں تک ’فتنہ‘ اور ظام کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے، اس بات کا اشارہ تھا کہ احمدی نژاد اپنے سیاسی موقف کو بدلنے اور نئے اتحاد قائم کرنے کے لیے تیار ہیں، بجائے اس کے کہ وہ نظریاتی حدود کے پابند رہیں۔ یہی تاثر اب نئے بیانیوں، جن میں رابطوں اور جنگی منظرناموں کا ذکر ہے، کی روشنی میں دوبارہ زیرِ بحث آیا ہے۔
دوسری جانب، اس بات کا کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں کہ محمود احمدی نژاد کا اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ کوئی رابطہ رہا ہو۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ احمدی نژاد کے بارے میں ابھرتی ہوئی تصویر دراصل عوامیت پسندی، اسلامی جمہوریہ کے اندرونی اختلافات، اور بیرونی طاقتوں کی غلط فہمیوں کا مجموعہ ہے، نہ کہ کسی خفیہ تعلق کا آئینہ دار۔
آخر میں شاید سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ احمدی نژاد نے کبھی دانستہ طور پر اسرائیل کے مفادات کی خدمت نہ بھی کی ہو، ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ اُن کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں نے عملی طور پر ’ایرانی خطرے‘ کے اسرائیلی بیانیے کو تقویت دی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے منظرناموں میں ان کا نام بیک وقت عجیب بھی لگتا ہے اور کسی حد تک قابلِ فہم بھی۔
ابھی کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں۔ لیکن بنیادی تضاد یہی ہے: ایک ایسا سیاست دان جو برسوں تک سخت ترین مخالفِ اسرائیل موقف کے لیے جانا جاتا رہا، آج بعض رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے کچھ حلقوں کی نظر میں ایران کے مستقبل کے لیے ایک ممکنہ آپشن بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔
یہی تضاد ایرانی سیاست کے سب سے عجیب سوالات میں سے ایک کو دوبارہ زندہ کرتا ہے: محمود احمدی نژاد آخر حقیقت میں ہیں کون؟























