ایرانی افسران پر جاسوسی کے الزام سے رہبر اعلی کے ساتھ اختلافات اور نااہلی تک، محمود احمدی نژاد کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہFARS
- مصنف, شہاب میرزائی
- عہدہ, بی بی سی فارسی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 17 منٹ
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک خبر شائع کی، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فورسز ’آپریشن آزادی‘ کے ذریعے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو ’نظر بندی‘ سے آزاد کروا کر ایران میں ’حکومت کی تبدیلی کا عمل‘ شروع کروانا چاہتی تھیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق احمدی نژاد کے گھر کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے پہلے روز نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ وہ مارے گئے ہیں۔
ایرانی حکومت سے منسلک ایک اخبار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خبر دی تھی کہ اس دن احمدی نژاد کے گھر پر حملے میں ان کے تین محافظ ہلاک ہوئے تھے تاہم اخبار نے سابق صدر کی صحت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔
اب اس جنگ کی ابتدا کے تین مہینوں بعد نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ احمدی نژاد کے گھر پر حملہ اس لیے کیا گیا تھا تاکہ علی خامنہ ای کی موت کی صورت میں وہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔
امریکی اخبار نے صورتحال سے ’آگاہ امریکی حکام‘ کی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’اسرائیل نے منصوبہ تشکیل دیا تھا لیکن وہ فوراً ہی پٹڑی سے اُتر گیا۔‘
امریکی اخبار کی خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس منصوبے سے متعلق احمدی نژاد سے بھی بات کی گئی تھی تاہم حملے میں زخمی ہونے کے بعد انھوں نے اس منصوبے کے حوالے سے اپنی سوچ تبدیل کر لی۔
امریکی اخبار نے اس خبر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بہتر ہوگا کہ ایران کے ’اندر سے ہی کوئی‘ اقتدار حاصل کر لے۔ اس وقت اس شخص کی شناخت کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی ہو رہی تھیں اور محمد باقر قالیباف کے ساتھ ساتھ سابق صدر حسن روحانی کے نام بھی گردش کر رہے تھے۔
امریکی اخبار نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’اب یہ واضح ہو چکا کہ امریکہ اور اسرائیل اس تنازع میں ایک واضح اور حیران کُن انتخاب کے ساتھ داخل ہوئے تھے: محمود احمدی نژاد۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ برسوں میں احمدی نژاد متعدد بار خبروں میں رہے ہیں۔ کبھی وہ رہبرِ اعلیٰ کی تنبیہ کے باوجود انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کرتے رہے اور نااہل قرار دیے گئے تو کبھی اپنے ہی ملک کی حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر متنازع اور سخت بیانات جاری کرتے رہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نیو یارک ٹائمز نے اسرائیل کے منصوبے کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا کہ احمد نژاد نے اپنے دورِ صدارت میں متعدد بار ہولوکاسٹ کو ’افسانہ‘ اور اسرائیلی حکومت کو ’نسل پرست اور جعلی‘ قرار دیا۔ تہران میں ایک کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’دنیا اسرائیل کی عدم موجودگی میں محفوظ ہو گی۔‘
مئی 2009 میں اقوام متحدہ میں ان کی تقریر اور اسرائیل اور فلسطین پر ان کے مؤقف پے درپے تنازعات کھڑے کرتے رہے ہیں۔
اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام نسل پرستی کے خلاف منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں ان کی تقریر پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور مغربی ممالک کے سربراہوں نے بھی سخت تنقید کی تھی۔
اپنی اس تقریر میں انھوں نے اسرائیل کے حوالے سے کہا تھا کہ ’ہولوکاسٹ کی آڑ میں انھوں نے ایک قوم کو جارحیت کے ذریعے بے گھر کر دیا، کچھ لوگوں کو امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک سے اس زمین پر منتقل کیا گیا، جعلی حکومت بنائی گئی اور فلسطین نامی جگہ پر پُرتشدد اور نسل پرست اقتدار قائم کیا گیا۔‘
حالیہ جنگ سے قبل اور اس کے بعد احمد نژاد کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔ دسمبر 2015 میں بہن کے جنازے میں شرکت کے موقع پر ان کی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی تھی جب ان سے ایک صحافی نے ’قومی اتحاد‘ کے بارے میں ایک سوال پوچھا تھا لیکن اس وقت بظاہر احمدی نژاد کے محافظ نظر آنے والے شخص نے کہا تھا کہ ’انٹرویو نہ کرنا بہتر رہے گا۔‘
اس کے بعد احمدی نژاد نے صحافی کے اصرار کرنے پر جواب دیا تھا کہ ’آپ نے سُنا نہیں کہ (محافظوں) نے کیا کہا؟‘
اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں ہوئی تھیں کہ احمدی نژاد کی سیاسی سرگرمیوں اور رائے کے اظہار پر پابندی ہے۔
علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد دیگر سابق صدور محمد خاتمی اور حسن روحانی کی طرح احمدی نژاد نے بھی ایک پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای کو رہبرِ اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی تھی۔
انھوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

،تصویر کا ذریعہkhamenei.ir
’نہ مشرق نہ مغرب‘
ماکو اور خوی کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد محمود احمدی نژاد اکبر ہاشمی رفسنجانی کی صدارت کے آغاز میں اردبیل کے گورنر بن گئے۔
تاہم حکومتی ڈھانچے میں داخل ہونے سے قبل وہ دفترِ تحکیمِ وحدت کے رکن تھے اور اس تحریک کے اس حصے کی نمائندگی کرتے تھے جو بائیں بازو مخالف نقطۂ نظر رکھتا تھا۔
مثال کے طور پر اسی وقت جب روح اللہ خمینی کی پیروی کرنے والے طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضے کا مطالبہ کیا تو احمدی ںژاد نے خمینی کے نعرے ’نہ مشرق نہ مغرب‘ کا حوالہ دیتے ہوئے تہران میں سوویت سفارت خانے پر بیک وقت قبضے کا مطالبہ کیا تھا۔
ان برسوں کے دوران انھوں نے اور ان کے ہم خیال افراد نے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ’جیغ اور داد‘ کے نام سے ایک طلبہ میگزین شائع کیا۔ یہ ایک ایسا عنوان ہے جسے بعض لوگ سیاسی میدان میں ان کی موجودگی کی وضاحت قرار دیتے ہیں۔
اردبیل کے گورنر کے طور پر صوبے کے زلزلہ زدہ علاقوں کی تیز رفتار تعمیرِ نو کے باعث اکبر ہاشمی رفسنجانی کی حکومت نے انھیں ’مثالی گورنر‘ قرار دیا تھا۔
ان برسوں میں جب ہاشمی رفسنجانی ملک کے سیاسی ڈھانچے میں اپنے عروج پر تھے احمدی نژاد نے ان کی یوں تعریف کی: ’ہاشمی کا نام اسلامی انقلاب کی شاندار تاریخ میں عمدگی اور نیکی کے ساتھ درج کیا جائے گا۔‘
ایک دہائی بعد جب دونوں افراد نے 2005 کے صدارتی انتخابات کے لیے خود کو نامزد کیا تو یہ تعریف نافرمانی اور اپنے سابق سربراہ اور موجودہ حریف کے خلاف ناشکری میں بدل گئی۔
محمود احمدی نژاد کے لہجے اور الفاظ میں یہ تبدیلی اس کے بعد سے ان کی شخصیت کے نمایاں عوامل میں سے ایک بن گئی: خود سے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز افراد کی تعریف کرنا اور پھر خود اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے کے بعد ان ہی پر تنقید کرنا اور تمسخر اڑانا۔

،تصویر کا ذریعہTABNAK.IR
تہران کے میئر
احمدی نژاد کی سیاسی زندگی کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب وہ سنہ 2003 میں تہران کے میئر مقرر ہوئے۔
تہران کی پہلی سٹی کونسل میں اصلاح پسندوں کا ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں تھا۔ دوسری کونسل کے انتخابات اور عوام کے سرد ردِعمل کے بعد وہاں قدامت پسندوں نے کامیابی حاصل کی اور احمدی نژاد میئر منتخب ہوئے۔ ایک ایسا میئر جو خود کو سابق ایرانی صدر محمد علی رجائی کا تسلسل سمجھتا تھا اور سادہ زندگی پر زور دیتا تھا۔
بطور میئر محمود احمدی نژاد کے دور کے دوران تہران میں بہت سے متنازع اقدامات کیے گئے۔ بڑی تعداد میں ثقافتی مراکز، جن میں تھیٹر ہاؤس، تھیٹر ڈیپارٹمنٹ اور سکول آف سکلپچر شامل تھے، بند کر دیے گئے اور ثقافتی مراکز میں فلموں کی نمائش اور لیکچرز روک دیے گئے، اور ان کی جگہ قرآن خوانی اور کڑھائی کی کلاسز شروع کر دی گئیں۔
انھوں نے بارہا اور واضح طور پر ’ثقافتی مراکز کو بدعنوانی اور برائی کی جگہ‘ قرار دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تہران میونسپیلیٹی کے بجٹ کا ایک حصہ ان مراکز پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اسی دوران انھوں نے حال ہی میں ملنے والی جنگ کے ہلاک شدگان کی لاشوں کو تہران کے چوراہوں میں دفن کرنے کی تجویز بھی پیش کی، تاہم پارلیمان کی مخالفت کے بعد یہ منصوبہ فراموش کر دیا گیا۔
ان کی قیادت میں میونسپیلیٹی کو 300 ارب تومان کی بے ضابطگی کے معاملے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اس وقت کے رکنِ پارلیمنٹ اسماعیل گرامی مقدم نے غلام علی حداد عادل کی جانب سے اس معاملے کو پارلیمان سے نکالنے کے دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تین سو ارب تومان کے استعمال کے لیے کوئی رسیدیں یا مالی دستاویزات موجود نہیں اور جب ہم نے انھیں دیوانی امور کی کمیٹی میں مدعو کیا تو انھوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔‘
ان کے بطور میئر دور کی یادگاروں میں سے ایک شہر بھر میں بنائے گئی چورنگیاں بھی تھیں۔
چوراہوں اور ریڈ لائٹس کو ختم کر کے تہران کی شاہراہوں پر گول چکربنانے کے اس منصوبے پر ماہرین کی جانب سے شدید تنقید بھی کی گئی تھی۔
اس منصوبے کے بانی اور تہران میونسپیلیٹی میں محکمۂ ٹرانسپورٹ کے نائب اور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں احمدی نژاد کے استاد حمید بہبہانی، جو بعد میں اپنے شاگرد کی حکومت میں وزیرِ سڑک و شہری ترقی کے منصب تک پہنچے، نے برسوں بعد ہمشہری کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس منصوبے نے نہ صرف تہران کی شاہراہوں پر ٹریفک کو رواں رکھا بلکہ متعدد یورپی ممالک نے بھی اس کی پیروی کی۔‘

،تصویر کا ذریعہkhamenei.ir
علی خامنہ ای سے اختلافات
محمود احمدی نژاد کو تہران کا میئر بنے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ وہ 2005 کے صدارتی انتخاب میں قدامت پسندوں کے نمائندے بن گئے۔ ان کے مخالفین کے ووٹ اکبر ہاشمی رفسنجانی، مہدی کروبی اور مصطفیٰ معین کے درمیان تقسیم ہونے کی وجہ سے انتخابات دوسرے مرحلے تک پہنچے اور انھوں نے اپنے سابق رول ماڈل اور موجودہ حریف ہاشمی کو شکست دے کر صدارت سنبھال لی۔
ان انتخابات کے نتائج کو ہاشمی اور کروبی کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جنھوں نے خاص طور پر پہلے مرحلے میں ووٹوں میں رد و بدل پر اعتراض کیا۔
محمود احمدی نژاد کے انتخاب کے ساتھ، آیت اللہ خامنہ ای بظاہر اپنے دیرینہ خواب تک پہنچتے دکھائی دیے: ایک ایسا صدر منتخب کرنا جو ملک کی حکمرانی کے حوالے سے ان کی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہو اور جو انتظامیہ کی قیادت کرنے کے لیے ایک ’غیر معروف اور بے ضرر منتظم‘ کا کردار ادا کرے۔
متعدد مواقع پر، جن میں 2009 کے متنازع صدارتی انتخاب کے بعد کے واقعات بھی شامل ہیں، ایرانی رہنما نے کھل کر ان کی حمایت کی اور کہا کہ ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ اپنی 50 سالہ دوستی کے باوجود خارجہ پالیسی، سماجی انصاف اور ثقافتی امور جیسے معاملات پر ان کے خیالات احمدی نژاد کے زیادہ قریب ہیں۔
محمود احمدی نژاد کے دورِ صدارت کے دوران سپریم لیڈر کے دفتر اور پاسدارانِ انقلاب کی طاقت اور اثر و رسوخ میں حکومت اور معاشرے کے تمام شعبوں میں اضافہ ہوا۔
اس عرصے میں، جب آیت اللہ خامنہ ای نے روح اللہ خمینی کے قریبی حلقے کو اقتدار کے مراکز سے ہٹایا، اسی وقت احمدی نژاد نے بھی اصلاحات کے دور کے وزرا اور معروف شخصیات اور ان کے پروگراموں کو وزارتوں اور سرکاری اداروں سے نکالنا شروع کیا۔
تاہم انقلاب کے پہلے عشرے کی معروف شخصیات کی مخالفت 2009 کے انتخابات کے دوران اپنے عروج پر پہنچی۔ انتخابی مباحثوں میں احمدی نژاد نے میر حسین موسوی اور مہدی کروبی پر حملے شروع کیے اور اپنے دائرہ کار کو علی اکبر ناطق نوری اور اکبر ہاشمی رفسنجانی تک بڑھا دیا۔ یہ سخت اور تلخ حملے اس وقت قدامت پسندوں کو متاثر کرنے لگے۔
لیکن زیادہ دیر نہیں گزری کہ احمدی نژاد نے اپنے سابق اتحادیوں کے خلاف جو تلوار اٹھائی تھی وہ ان پر بھی چلنے لگی۔
اس تبدیلی کی پہلی علامت شاید اس وقت ظاہر ہوئی جب 2009 کے احتجاج کے ’خونی اور پرتشدد کچلنے‘ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر کے ساتھ ان کا جھگڑا ہوا، مظاہرین کو ’گندگی اور دھول‘ کہا گیا اور اسی سال حلف برداری کی تقریب میں علی خامنہ ای کا ہاتھ چومنے کے بجائے ان کے کندھے کو بوسہ دیا گیا۔
صدر کے طور پر ان کے دوسرے دور کے آغاز سے ہی علی خامنہ ای اور محمود احمدی نژاد کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے۔ یہ اختلاف اس وقت کھل کر سامنے آیا جب آیت اللہ خامنہ ای نے نائب صدر اسفندیار رحیم مشائی کی مخالفت کی۔ صدر اس وقت تک پیچھے نہ ہٹے جب تک رہبر کے دفتر کی جانب سے ایک بیان جاری کر کے مشائی کی نااہلی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
ان تنازعات اور وزیر اطلاعات حیدر مصلحی کو تبدیل کرنے کی درخواست، جسے آیت اللہ خامنہ ای نے مسترد کر دیا، کے بعد احمدی نژاد 14 دن تک گھر میں رہے۔
تشدد اور تعطل کا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور احمدی نژاد کی واپسی کے ساتھ بظاہر اختلافات ختم ہو گئے۔ تاہم قدامت پسندوں اور رہبر کے حامیوں نے ان کے رویے میں تبدیلی اور علی خامنہ ای کی پالیسیوں سے ان کے اختلاف کو محسوس کر لیا تھا۔
اس سے اگلے صدارتی انتخابات سے قبل مشہد میں ایرانی رہبر کے نمائندے احمد علم الہدیٰ نے نااہلی کے بعد احمدی نژاد کے بیانات کو ’عوام کی توہین‘ قرار دیا، جبکہ گارڈین کونسل کے رکن احمد خاتمی نے کہا کہ جو شخص فقیہ کی ولایت کو قبول نہیں کرتا وہ امیدوار بننے کے قابل نہیں۔
ادھر ان کے متعدد قریبی ساتھیوں نے بھی ان کے بیانات اور اقدامات پر غصے کا اظہار کیا، یہاں تک کہ عبد الرضا داوری، جو کبھی احمدی نژاد کے سخت حامی اور مشیر تھے، نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ’امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے منتظر ہیں تاکہ نظام کو گرا دیا جائے۔‘ داوری نے یہ بھی الزام لگایا کہ احمدی نژاد نے ایرانی رہبر کے خلاف ’گھٹیا، فحش کلمات‘ استعمال کیے۔
معاشی پابندیوں پر تنقید اور پھر یوٹرن
ان کا دورِ صدارت ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ احمدی نژاد مغرب کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کی کشمکش کی ایک علامت بن گئے تھے۔
ان کا سادہ لباس اور جذباتی و مذہبی تقاریر، جن میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ ہوتا تھا، دنیا بھر کے کئی مسلمانوں کے لیے دلچسپی کا باعث تھا۔
اس وقت کے صدر نے اپنی تقاریر میں ایران کے خلاف پابندیوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیانات کا بارہا مذاق اڑایا اور اس بات پر زور دیا کہ ان پابندیوں کا ایران کی سیاست، معیشت یا عوام کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
انھوں نے یہاں تک کہا کہ اگر پابندیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ’گذشتہ تین برسوں میں ملک میں اتنی خوشحالی آئی جتنی پچھلے 50 برس میں نہیں آئی، تو ایسی پابندیاں ہمارے لیے فائدہ مند ہیں اور ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘
تاہم اقتدار چھوڑنے کے بعد ان کے کئی متنازع بیانات میں تبدیلی آتی گئی۔ مکمل یوٹرن لیتے ہوئے انھوں نے ایران کے معاشی مسائل کے حل کے لیے دنیا کے ساتھ بات چیت اور تعلقات کی ضرورت پر زور دیا اور بعد میں امریکی صدور کو خطوط لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا جن کا جواب نہیں ملا۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ احمدی نژاد اور ان کے حامی ’ایرانی مکتب‘، قوم پرستانہ پالیسیوں اور پاسدارانِ انقلاب کے بارے میں طنزیہ بیانات جیسے ’سمگلنگ برادرز‘ کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ حکومتی ڈھانچے کے اندر اپنے مخالفین کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ کی صورت میں ان کے پاس زیادہ سیاسی وزن ہو۔
رحیم مشائی اور حمید بقائی جیسے ان کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ، وہ ان برسوں میں ایرانی معاشرے کے اس حصے کو متوجہ کرنا چاہتے تھے جو ملک کے مسائل کا حل دیگر ممالک کے ساتھ روابط میں دیکھتا ہے اور ایران کی مغرب مخالف پالیسیوں سے تھک چکا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر، خاص طور پر جب انھوں نے دوبارہ صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کیا، متعدد سیاست دانوں، ماہرین اور عوام نے ان کے متضاد بیانات اور مؤقف پر تنقید کی اور ان کے ماضی کے اقدامات کا حوالہ دیا، جو ان کے حالیہ بیانات سے مختلف تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نااہلی سے جنگ کی وارننگ تک
محمود احمدی نژاد آٹھ سال تک ایران کے صدر رہے۔ انھوں نے 2017، 2019 اور 2024 میں تین مرتبہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی کوشش کی مگر ہر بار گارڈین کونسل نے انھیں نااہل قرار دیا۔
اس کی آخری مثال ابراہیم رئیسی کی اچانک وفات کے بعد تھی۔ احمدی نژاد رئیسی کی تعزیتی تقریبات میں شریک نہیں ہوئے اور مجلس خبرگان کے افتتاحی اجلاس میں ان کی سفید قمیض نے بعض قدامت پسند حلقوں کو تنقید کا موقع دیا۔
ایرانی صدارتی انتخاب کے آخری مرحلے میں ان کے بحیثیت امیدوار کا اعلان، جو ان کے حامیوں کی موجودگی اور وزارت داخلہ کے انتخابی دفتر میں مائیک بند کیے جانے کے واقعے کے ساتھ تھا، نے ایک بار پھر ان کا نام سرخیوں میں لا دیا۔
اپنے اس اعلان سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ملک اور عوام کے مفاد میں کون سا اقدام بہتر ہے۔
انھوں نے دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان اس کے باوجود کیا جب سابق ایرانی رہبر نے بارہا انھیں ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
2016 کے موسم خزاں میں علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ ذاتی اور ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے انھیں انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔
ایک نشست میں انھوں نے کہا کہ ان کی تشویش ملک میں قطبیت پیدا ہونے سے متعلق ہے اور انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا انتخابات میں آنا مناسب ہے، یہ کوئی خاص اہم معاملہ نہیں اور یہ ایک سادہ بات ہے۔
ان برسوں کے دوران احمدی نژاد نے اس وقت کے صدر حسن روحانی کو خط لکھ کر خطے میں ’ممکنہ جنگ‘ سے خبردار کیا اور حکام سے مطالبہ کیا کہ جنگ کو فوری طور پر روکا جائے۔
انھوں نے لکھا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے حساس خطے میں ایک نئی تباہ کن جنگ کی منصوبہ بندی ہو چکی ہے اور اس کے نفاذ کا آغاز قریب ہے۔
انھوں نے اس سے قبل اپنے صدارتی دور میں بھی امریکہ اور خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اگر اسرائیل یا امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو تہران کے پاس ردعمل کے لیے بے حد وسیع آپشن ہوں گے۔
اگست 2010 میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ ایران پر حملے پر غور کر رہے ہیں، خاص طور پر ’صیہونی ریاست‘ کے اندر، مگر وہ جانتے ہیں کہ ایران مضبوط قلعہ ہے اور ’مجھے نہیں لگتا کہ ان کے امریکی آقا انہیں ایسا کرنے دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متنازع سفر اور ’وزارت انٹیلیجنس پر جاسوسی کا الزام‘
محمود احمدی نژاد نے اپنے تمام اقدامات اسلامی جمہوریہ ایران کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے انجام دیے۔
ان کا احتجاج زیادہ تر علامتی رہا، جیسا کہ ابراہیم رئیسی کی تعزیت کے موقع پر سیاہ لباس پہننے والوں کے درمیان سفید قمیض پہننا۔ حکومت نے ان کے تنقیدی بیانات کو برداشت کیا اور انھیں قید کیا گیا نہ نظر بند بلکہ کبھی کبھار انھیں کم بولنے یا بالکل نہ بولنے کا مشورہ دیا گیا۔
2018 میں ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، عوامی اعتماد تقریباً ختم ہو چکا، عدم اطمینان عروج پر ہے اور غربت پھیل رہی ہے اور اس کے ذمہ دار ملک کے تمام حکام ہیں، خاص طور پر صدر روحانی۔
’عورت، زندگی، آزادی‘ تحریک کے آغاز میں علی خامنہ ای نے مصلحتِ نظام کونسل کے نئے ارکان کا اعلان کیا اور توقعات کے برعکس احمدی نژاد کو ایک اور مدت کے لیے برقرار رکھا گیا۔
ان برسوں میں نہ تو انھیں اس کونسل سے نکالا گیا، جیسا کہ محمد خاتمی اور حسن روحانی کے ساتھ ہوا، اور نہ ہی انھوں نے اجلاسوں میں شرکت سے گریز کیا جیسا کہ میر حسین موسوی نے 2009 کے بعد کیا۔
2019 کے احتجاج کے دوران انھوں نے حکومتی رویے پر تنقید کی لیکن ’عورت، زندگی، آزادی‘ احتجاج کے دوران خاموش رہے۔
فروری 2020 میں ان سے منسوب ایک ٹیلی گرام چینل نے وزارت انٹیلیجنس پر مشرقی تہران میں ان کے گھر کی نگرانی کا الزام لگایا۔

،تصویر کا ذریعہDolatebahar
بیان میں کہا گیا کہ وزارت انٹیلیجنس نے ان کے گھر کے قریب واقع سکول کی چھت پر جدید کیمرے نصب کر کے ان کی نقل و حرکت، گاڑیوں اور سکیورٹی عملے کی جاسوسی کی۔
2011 کے ایک متنازع انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اسرائیل سے متعلق امور سنبھالنے والا ایک اعلیٰ افسر خود اسرائیلی جاسوس تھا۔
اس عرصے کے دوران انھوں نے بیرون ملک کئی دورے بھی کیے۔ اکتوبر 2023 میں امام خمینی ایئرپورٹ پر سات گھنٹے کے تعطل کے بعد انھوں نے پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس کے اہلکاروں سے اپنا پاسپورٹ واپس لیا اور گواتیمالا روانہ ہو گئے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ گواتیمالا کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تاہم اس دورے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
انھوں نے گواتیمالا میں ماحولیاتی کانفرنس میں عالمی آبی بحران پر بات کی جبکہ ماہرین ان کے دور کی آبی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انھیں مصلحت کونسل کے اجلاسوں تک محدود رہنا چاہیے تھا اور اپنے قانونی مشیر غلام حسین الہام کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے تھا، جنھوں نے کہا تھا کہ بے روزگار افراد کو اس کونسل میں شامل کرنا اس لیے ہوتا ہے تاکہ وہ نظام کے لیے مسائل پیدا نہ کریں۔
دیگر صدور کی طرح محمود احمدی نژاد بھی برسوں سے اقتدار کے مرکزی دائرے سے دور ہیں تاہم بعض اندازوں کے مطابق وہ اب بھی معاشرے کے کچھ طبقات میں مقبول ہیں اور ایک اہم سیاسی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
سابق رہبر کے قتل کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے جانشین کے بارے میں گفتگو میں کہا کہ ان کے خیال میں کوئی مقامی اور مقبول شخصیت زیادہ موزوں ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے ذہن میں چند نام ہیں جو بہتر کام کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کی فہرست میں شامل افراد جنگ کے دوران محفوظ رہیں۔
یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کی قیادت کے لیے ان کا انتخاب ایران میں بعض قیاس آرائیوں کے برعکس تھا۔
























