آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیلابی ریلے میں گھرے گھر کی بالکونی میں پھنسے افراد کا کیا بنا؟
نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کی ہولناک تصاویر اور ویڈیوز اب سامنے آ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مناظر سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں آنے والے اس سیلاب نے کس قدر وسیع پیمانے پر تباہی مچائی۔
وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیلابی ریلے اور اس کے ساتھ بہہ کر آنے والا ملبہ ایک کے بعد ایک علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، جبکہ کئی پکے مکانات بھی پانی کے تیز بہاؤ میں تنکوں کی مانند بہتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم ان دل دہلا دینے والی ویڈیوز کے درمیان ایک اور ویڈیو بھی خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے، جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔
ویڈیو میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک کم عمر بچی دوسری منزل کی بالکونی میں محصور دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ان کے چاروں طرف کیچڑ سے بھرا سیلابی ریلا، بڑے پتھر اور ملبہ گزر رہا ہے۔ مسلسل ٹکراتے سیلابی بہاؤ کے درمیان ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی بھی لمحے سیلابی ریلا اس گھر کو بھی بہا لے جا سکتا ہے۔۔۔ اور یہ خاندان بے بسی سے مدد کا منتظر کھڑا ہے۔
بدھ کے روز نیپال میں آنے والے سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 600 سے تجاوز کر گئی ہے۔
نیپال پولیس نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی گئی تھی۔ ادھر چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
سیلاب کے بعد نیپال میں بین الاقوامی امدادی اداروں اور کئی ممالک کی حکومتوں نے ہنگامی امداد اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ سیلاب کے بعد نیپال میں تقریباً 2,000 افراد اب بھی لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔
یورپی یونین، کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نیپال کو امدادی سامان یا مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق دس ہزار سے زیادہ خاندانوں کو خوراک اور صاف پینے کے پانی کی فوری ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویڈیو دریائے تریشولی سے ملحقہ علاقے کی ہے، بی بی سی ویریفائی
بی بی سی ویریفائی کے مطابق اس وقت یہ افراد اسی مکان میں محصور تھے۔ بی بی سی ویریفائی نے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم یہ بتایا کہ خاندان کسی نہ کسی طرح محفوظ رہا۔ ویڈیو میں گھر کی چھت پر موجود ایک شخص مدد کے لیے سرخ دوپٹہ لہراتا دکھائی دیتا ہے۔
سیلاب کا زور کم ہونے کے بعد مقامی لوگ مدد کے لیے وہاں پہنچے۔
ویڈیو میں کم از کم تین افراد، ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچہ، جو غالباً کم عمر لڑکی ہے، نظر آتے ہیں۔ یہ افراد مکان کی دوسری منزل پر بالکونی نما حصے میں پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے چاروں طرف کیچڑ سے بھرا سیلابی ریلا گردش کر رہا ہے جبکہ بڑے بڑے پتھر اور ملبہ پانی کے ساتھ بہتا جا رہا ہے۔
یہ تمام چیزیں مسلسل مکان سے ٹکرا رہی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیلاب اسے بھی اپنے ساتھ بہا لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دوران مکان میں موجود افراد بے بسی کے عالم میں بالکونی میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
ویڈیو میں ایک خاتون مکان کی چھت پر جا کر مدد کے لیے سرخ دوپٹہ لہراتی بھی دکھائی دیتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ایرک چِن نے اس ویڈیو کے مناظر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’حالیہ برسوں میں شاید ہی کوئی منظر اس سے زیادہ دل دہلا دینے والا دیکھا ہو۔ ایک مکان اب بھی اس تباہ کن ریلے کے بیچ کھڑا ہے جس نے اس کے گرد موجود تقریباً ہر چیز کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا ہے۔‘
لوگ کسی طرح بالکونی اور چھت پر پناہ لیے ہوئے ہیں، جبکہ کیچڑ، برف، چٹانوں اور پانی کا ایک بڑا ریلا نیپال اور تبت کے درمیان واقع اس وادی کو چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے خاندان کی داستان ہے جو اس خوف میں مبتلا ہے کہ کہیں پانی کی اگلی لہر ان کی آخری محفوظ پناہ گاہ کو بھی نہ بہا لے جائے۔
دعا ہے کہ وہ زندہ رہیں، اور دعا ہے کہ امدادی ٹیمیں اگلا سیلابی ریلا آنے سے پہلے ان تک پہنچ جائیں۔
اس منظر کو ناقابلِ برداشت بنانے والی بات صرف فطرت کی ہولناک طاقت نہیں۔ نیپالی حکام اور مقامی ذرائع کے مطابق سیلاب کا آغاز تبت کی جانب لہینڈے بھوٹیکوشی دریا میں گلیشیئر کے ایک حصے کے ٹوٹ کر گرنے سے ہوا، جس کے بعد بڑی مقدار میں ملبہ دریا میں آ گرا۔
نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انھیں چینی حکام کی جانب سے بروقت کوئی سرکاری انتباہ موصول نہیں ہوا۔ ان کے مطابق خطرے کی پہلی اطلاعات مقامی افراد ہی سے ملیں۔ دریائے تریشولی میں پانی کی سطح محض 30 منٹ کے اندر تقریباً نو میٹر بلند ہو گئی۔ بظاہر یہی آدھا گھنٹہ محفوظ مقام تک پہنچ جانے اور اپنی آنکھوں کے سامنے سب کچھ بکھرتا دیکھنے کے درمیان فیصلہ کن فرق ثابت ہوا۔
چین نے بعد میں بروقت وارننگ نہ دینے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برف اور چٹانوں کا تودہ اس قدر اچانک گرا کہ دریا کی نگرانی کرنے والے آلات بھی مشکل سے اس کی درست پیمائش کر سکے۔
تاہم یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ 2025 میں اسی دریا میں آنے والے سیلاب کے بعد جس سرحد پار ابتدائی انتباہی نظام پر بات چیت ہوئی تھی، وہ اس سانحے سے پہلے عملی شکل کیوں اختیار نہ کر سکا۔ یہ محض ایک تکنیکی یا انتظامی خامی نہیں۔ یہ ان قیمتی منٹوں کا معاملہ ہے جو شاید ان لوگوں کی جانیں بچا سکتے تھے جن کے پاس فرار ہونے کے لیے وقت ہی نہیں تھا۔
ایرک چِن کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد لوگ تاحال لاپتا ہیں، جن میں غیر ملکی سیاح اور ٹریکرز بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول وہ مکان جو اب تک سیلاب کے سامنے کھڑا دکھائی دے رہا ہے، کسی معجزے کی علامت نہیں بلکہ زندگی اور تباہی کے درمیان موجود آخری باریک لکیر کی نمائندگی کرتا ہے۔ دعا ہے کہ اس کے اندر موجود خاندان اب بھی محفوظ ہو۔‘