مری ٹریفک حادثے میں ماں اور تین بیٹیوں سمیت سات افراد ہلاک: ’والد جھلسنے کے باوجود بیٹیوں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

’کاش میرے بھائی کچھ دیر اور رک جاتے تو ان کی بیوی اور تین بیٹیوں کی زندگی بچ سکتی تھی۔‘

یہ الفاظ محمد تنویر کے کزن جمشید عباسی کے ہیں۔ محمد تنویر کی اہلیہ اور تین بیٹیوں سمیت سات افراد اتوار کی رات مری کے علاقے چھتر کے قریب ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوئی تھیں۔

جمشید عباسی کے مطابق تنویر اور ان کا خاندان اپنے ایک عزیز کی شادی میں شرکت کے لیے مری کے علاقے دلیہہ سے اپنی گاڑی پر آئے تھے۔

ان کے مطابق شادی کی تقریب سے واپسی میں تنویر اپنے ایک اور عزیز ممتاز کی اہلیہ اور بیٹیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے تھے۔

’ہم نے کہا تھا کچھ دیر اور رک جائیں‘

جمشید عباسی، جو راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے لیے موجود تھے اور ریسکیو آپریشن میں بھی شامل رہے، نے بتایا کہ اتوار کو شادی کی تقریب کے بعد جب تنویر اور ان کے رشتہ دار ممتاز اپنے خاندانوں کے ساتھ واپس جانے لگے تو ان سے کہا گیا کہ ’کچھ دیر اور رک جائیں اور رات کا کھانا کھانے کے بعد چلے جائیے گا۔‘

تاہم ان کے بقول تنویر کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کی بچیاں سکول جاتی ہیں اور پیر کے روز ان کے سکول دوبارہ کھلنے والے ہیں، اس لیے وہ گھر واپس جانا چاہتے تھے۔

جمشید کے مطابق تنویر کی بچیاں کچھ دیر اور رکنا چاہتی تھیں کیونکہ ان کی وہاں اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ دوستی ہو گئی تھی، تاہم ان کے والدین گھر واپس جانا چاہتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تنویر اور ممتاز کے خاندانوں کو رخصت کیے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اطلاع ملی کہ ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آ گیا ہے۔

’گاڑی میں آگ لگی ہوئی تھی‘

تنویر کے کزن جمشید عباسی کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی وہ اور خاندان کے دیگر افراد جائے حادثہ پر پہنچے تو گاڑی میں آگ لگی ہوئی تھی جبکہ کچھ زخمی گاڑی سے باہر گرے ہوئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ جائے حادثہ پر موجود لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو باہر نکالا۔

جمشید کا کہنا تھا کہ گاڑی میں سوار پانچوں بچیاں، جن کی عمریں سات سے 14 سال کے درمیان تھیں، موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں جبکہ تنویر کی اہلیہ الماس اور ممتاز کی اہلیہ شاہین کی سانسیں چل رہی تھیں۔

ان کے مطابق ’تنویر بھی حادثے میں جھلس گئے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی بچیوں کو بچانے کے لیے بار بار اس گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے جس میں آگ لگی ہوئی تھی اور اس وقت ان کی تینوں بیٹیاں گاڑی کے اندر موجود تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اسی دوران ریسکیو 1122 اور مقامی پولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں جنہوں نے زخمیوں اور ہلاک ہونے والی بچیوں کی لاشوں کو وہاں سے نکالا۔

جمشید کے مطابق مری میں ابھی تک ڈسٹرکٹ ہسپتال موجود نہیں اور وہاں برن یونٹ بھی نہیں ہے، اس لیے زخمیوں کو راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ تنویر کی اہلیہ الماس اور ممتاز کی اہلیہ شاہین ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران راستے میں ہی دم توڑ گئیں۔

پولیس کا کیا کہنا ہے؟

مقامی پولیس کے مطابق چھتر کے قریبی علاقے رکھالا کے قریب ایک کیری ڈبہ تیز رفتاری سے موڑ کاٹتے ہوئے گہری کھائی میں جا گرا جس سے سات افراد ہلاک ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں محمد تنویر کی اہلیہ اور ان کی تین بیٹیاں شامل ہیں جبکہ دوسرے رشتہ دار ممتاز کی اہلیہ اور ان کی دو بیٹیاں بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت کیری ڈبے میں 14 افراد سوار تھے، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کھائی میں گرتے ہی اس میں آگ لگ گئی اور زیادہ تر ہلاکتیں جھلسنے کی وجہ سے ہوئیں۔

دوسری جانب راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال کے ڈیوٹی ڈاکٹر اسفدیار کے مطابق زخمیوں کو دیگر چوٹیں کم اور آگ کی وجہ سے زیادہ زخم آئے ہیں، جس کی وجہ سے تمام زخمیوں کو برن یونٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ زخمیوں میں سے دو افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

مری کے مقامی صحافی سردار حمید کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین ان کے آبائی علاقے میں کر دی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والی دو کمسن بچیاں بری طرح جھلس چکی تھیں اور ان کی لاشیں قابل شناخت بھی نہیں تھیں۔

مری میں گاڑیوں میں آگ لگنے کے حالیہ واقعات

واضح رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران مری میں گاڑی میں آگ لگنے کے تین واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

پہلے واقعے میں ملتان سے سیرو سیاحت کے لیے مری آنے والے ایک خاندان کی گاڑی کو آگ لگ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جبکہ گذشتہ ماہ ایک سکول وین میں آگ لگنے کے واقعے میں اس میں سوار سات سکول کی بچیاں جھلس کر زخمی ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں ان میں سے ایک طالبہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی تھی۔