’بازار میں دستیاب عام پرزے اور سمارٹ فون سے بھی کم جدید‘: پابندیوں کے باوجود ایران ’خودکش شاہد ڈرونز‘ کیسے بنا رہا ہے؟

Iran
،تصویر کا کیپشن ایران کے شاہد ڈرونز کو امریکہ، ایران جنگ کے دوران اس کا ایک اہم ہتھیار قرار دیا گیا ہے
    • مصنف, رضا ثابتی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ڈرونز کی تیاری میں استعمال ہونے والے بہت سے پرزے عام تصور کے برعکس نہ تو بہت زیادہ جدید ہیں اور نہ ہی مہنگے۔

ستمبر 2023 میں امریکی وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ ایک شاہد-136 ڈرون کے ملبے سے ایسا پرزہ ملا ہے جو ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعے ایران کے ڈرون پروگرام کے لیے خریدا گیا تھا۔

یہ ڈرون روس نے یوکرین کی جنگ میں استعمال کیا تھا اور مذکورہ پرزہ ایک چھوٹی سی سروو موٹر تھی جو ڈرون کی حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق ایک ایرانی کمپنی نے ہانگ کانگ، ترکی اور متحدہ عرب امارات میں موجود کمپنیوں کے ذریعے سپاہِ پاسداران کی فضائیہ کے لیے ہزاروں سروو موٹرز حاصل کی تھیں۔

اپریل اور مئی 2026 میں بھی امریکی وزارتِ خزانہ نے ایسے افراد اور کمپنیوں کے خلاف نئے اقدامات کا اعلان کیا جن کے بارے میں وزارت کا کہنا تھا کہ وہ ایران کی فوجی صنعت کے لیے درکار پرزوں اور خام مال کی فراہمی میں کردار ادا کرتے ہیں۔

وسیع پابندیوں کا سامنا کرنے والا ایران اب بھی اپنے ڈرونز کی تیاری کے لیے غیر ملکی پرزوں پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی پابندیوں سے متعلق دستاویزات کمپنیوں اور تجارتی ثالثوں کے ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی کرتی ہیں جو، امریکہ کے مطابق، ان پرزوں کی فراہمی میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ انھی دستاویزات، شائع شدہ تحقیق اور ماہرین کی آرا کی بنیاد پر جائزہ لیتی ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کیسے کام کرتے ہیں اور پابندیوں کا ایران کے ڈرون پروگرام کے لیے پرزوں کی فراہمی پر کیا اثر پڑتا ہے۔

دفاعی امور کے ماہر اور مشاورتی کمپنی ہائمڈال کے بانی ڈیمین سپلیٹرز کا کہنا ہے کہ اکثر یہ اندازہ درست طریقے سے نہیں لگایا جاتا کہ پابندیاں کتنی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ یہ سمجھنے کے لیے کہ کوئی پُرزہ ایران تک کیسے پہنچا، تین باتیں جاننا ضروری ہیں۔ ’وہ کس ملک میں بنا، اسے کس نے فروخت کیا اور وہ ایران تک کیسے پہنچایا گیا۔‘

Iran United States
،تصویر کا کیپشن

پیداوار میں ’خود کفالت‘ اور غیر ملکی پرزوں پر انحصار

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایران کے حکام متعدد بار ڈرون پروگرام کو دفاعی ’خود کفالت‘ کی علامت قرار دے چکے ہیں۔ زمینی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے گذشتہ کئی دہائیوں میں ڈرونز کے ڈیزائن، باڈی، اسمبلنگ اور ریورس انجینیئرنگ کی اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔

تاہم ڈرون بنانے کی صلاحیت کا یہ مطلب نہیں کہ اسے اب غیر ملکی پرزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یوکرین جنگ میں روس کے زیرِ استعمال ایرانی ڈرونز کے ملبے کے جائزے سے واضح ہوا ہے کہ یہ بغیر پائلٹ طیارے غیر ملکی پرزوں پر انحصار کرتے ہیں۔

ستمبر 2025 میں آرمامنٹ ریسرچ سروسز اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا کہ پابندیوں کے باوجود ایرانی اور روسی ہتھیار اب بھی غیر ملکی تجارتی پرزے استعمال کرتے ہیں۔

ان میں سے بہت سے پرزے، عام تاثر کے برخلاف، نہ بہت جدید ہیں اور نہ ہی مہنگے۔

امریکی تحقیقی ادارے ’سی ایس آئی ایس‘ کی نائب سربراہ کیٹ کارن کے مطابق ایران اپنے ڈرونز اور میزائلوں کی تیاری کے لیے دوسرے ممالک سے حاصل کیے گئے پُرزوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ایران ان ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی مخصوص الیکٹرانک چِپس خود نہیں بنا سکتا، اس لیے اسے یہ چِپس بیرونِ ملک سے منگوانا پڑتی ہیں۔

Iran Drones

وہ کہتی ہیں کہ شاہد ڈرونز میں استعمال ہونے والے بہت سے اہم پرزے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نہیں اور کئی برسوں سے مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

کیٹ کارن کے مطابق: ’میں نے شاہد ڈرونز کے اندرونی پرزے دیکھے ہیں۔ ان میں اب بھی امریکی کمپنی ٹیکساس انسٹرومنٹس کے سادہ مائیکرو پروسیسر استعمال ہوتے ہیں جو پہلی بار 2008 میں مارکیٹ میں آئے تھے۔‘

ان کے مطابق ایک عام سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ الیکٹرانک آلات کے لحاظ سے ’شاہد ڈرون سے کہیں زیادہ جدید‘ ہے۔

تاہم یہی سادگی ان پرزوں کی برآمدات کو کنٹرول کرنے میں مشکل پیدا کرتی ہے۔ ان میں سے بہت سے پرزے بڑی تعداد میں تیار ہوتے ہیں اور صنعتی آلات، کھلونوں اور تفریحی ڈرونز میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

’سی ایس آئی ایس‘ کی جون میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بعض انجنوں کی ریورس انجینیئرنگ کی صلاحیت حاصل کرنے کے باوجود ایران اب بھی خام مال، انجن کے پرزوں، نیوی گیشن سینسرز اور الیکٹرانک آلات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

اس کے علاوہ پیداوار اور جانچ کے لیے استعمال ہونے والی بعض مشینری اور سازوسامان بھی بیرونِ ملک سے حاصل کیے جاتے ہیں۔

پرزے ایران تک کیسے پہنچتے ہیں؟

ڈیمین سپلیٹرز کے مطابق سپلائی چین کو سمجھنے کے لیے تین سوالات الگ الگ دیکھنے ضروری ہیں: پرزہ کہاں تیار ہوا، اسے کس نے فروخت کیا اور وہ آخری صارف تک کیسے پہنچا؟

ان کا کہنا ہے: ’چینی کمپنی کے ذریعے کسی مغربی برانڈ کے پرزے کا ایران پہنچنا، اس بات سے مختلف معاملہ ہے کہ اس کی جگہ چینی ساختہ پرزہ استعمال کیا جائے۔‘

ان کے مطابق ایران کے فوجی اداروں کے خریداری نیٹ ورکس چین، ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں موجود ثالثوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ ثالث پرزے خریدنے، ادائیگیاں کرنے اور آخری خریدار کی شناخت چھپانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر اپریل 2025 میں امریکی وزارتِ خزانہ نے ایک ایسے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کیں جو، وزارت کے مطابق، ایران کی فوجی صنعت کے لیے پرزے اور آلات فراہم کرتا تھا۔

اس مقدمے سے متعلق دستاویزات میں چین اور امارات کی متعدد کمپنیوں کا ذکر کیا گیا جن پر امریکی حکام نے آلات کی فراہمی، پرزوں کی خریداری اور غیر ملکی سپلائرز کو رقوم منتقل کرنے کا الزام عائد کیا۔

امریکی پابندیوں سے متعلق دستاویزات میں ہانگ کانگ میں قائم ایسی دیگر کمپنیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن پر ایران کی فوجی صنعت کے لیے مغربی پرزے خریدنے کا الزام ہے۔

Iran Drones

ایک نیٹ ورک پر پابندی، نئے ثالثوں کا ظہور

حالیہ برسوں میں شائع ہونے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثالث کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں ہوتا کہ سپلائی کے راستے بند ہو جائیں یا خریداری کی کوششیں رک جائیں۔

ڈیمین سپلیٹرز امریکی پابندیوں کی دستاویزات کی ایک مثال دیتے ہیں: فروری 2024 میں ہانگ کانگ کی چند کمپنیوں پر پابندیوں کے بعد، ایک سال بعد امریکی وزارتِ خزانہ نے کہا کہ ایک ایرانی کمپنی سے منسلک خریداری نیٹ ورک نے چین اور ہانگ کانگ میں نئے ثالثوں کے ذریعے بدستور فضائی صنعت کے پرزے اور الیکٹرانک آلات حاصل کرنا جاری رکھا۔

ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے سپلائی نیٹ ورکس پابندیوں کے بعد نئی ثالث کمپنیوں کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔

تصویر
،تصویر کا کیپشن

جعلی پرزے: پابندیوں کا ممکنہ نتیجہ

پابندیوں کے باعث خریداری کے راستے بدلنے کا ایک اور نتیجہ بھی ہو سکتا ہے: پرزوں کی اصلیت کی تصدیق مزید مشکل ہو جانا۔

ڈیمین سپلیٹرز کے مطابق جب سرکاری مینوفیکچررز اور مجاز ڈسٹری بیوٹرز تک رسائی محدود ہو جائے تو خریدار ایسے ثالثوں اور فروخت کنندگان پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جن کے فراہم کردہ پرزوں کی اصلیت کا تعین کرنا زیادہ دشوار ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں جنگی پیداوار بڑھانے کا دباؤ بھی سپلائرز کی جانچ اور پرزوں کے ٹیسٹ کے لیے کم وقت چھوڑ سکتا ہے۔

ان کے مطابق جعلی پرزے پیداوار میں تاخیر، خراب حصوں کی تبدیلی کی ضرورت اور ہتھیاروں کی کارکردگی میں خرابی کا باعث بن سکتے ہیں۔

کیا ڈرونز کی مسلسل پیداوار پابندیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے؟

ڈیمین سپلیٹرز کے نزدیک سب سے اہم سوال پابندیوں کے موثر ہونے کو جانچنے کا طریقہ ہے۔

ان کے مطابق عام بحث میں اکثر ایک سادہ پیمانہ استعمال کیا جاتا ہے: اگر ایران اب بھی ڈرون بنا سکتا ہے تو پھر پابندیاں ناکام ہو چکی ہیں۔

لیکن ان کے بقول یہ نتیجہ اس وقت کے فرق کو نظر انداز کرتا ہے جو پابندیوں کے نفاذ اور ان کے اثرات ظاہر ہونے کے درمیان موجود ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’آج عائد کی گئی پابندیاں گوداموں میں موجود پرزوں یا پہلے سے تیار شدہ ہتھیاروں کو ختم نہیں کرتیں۔ موجودہ ذخائر کچھ عرصے تک پیداوار جاری رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں، چاہے نئے پرزوں تک رسائی مشکل ہو گئی ہو۔‘

سنہ 2023 میں امریکی ادارے ’وسکونسن پروجیکٹ آن نیوکلیئر آرمز کنٹرول‘ کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں ماہرین کے خیالات کا خلاصہ پیش کیا گیا جس کے مطابق پابندیاں اور برآمدی کنٹرول، اخراجات میں اضافہ اور ترقیاتی عمل کو طول دے کر ایران کی بڑے پیمانے پر جدید ڈرونز بنانے کی صلاحیت محدود کر سکتے ہیں۔

کیٹ کارن کا بھی کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں دستیاب سستے اور عام استعمال کے پرزوں کی منتقلی کو مکمل طور پر روکنا حقیقت پسندانہ نہیں، تاہم برآمدی پابندیاں ان پرزوں کے حصول کو زیادہ مہنگا اور وقت طلب بنا سکتی ہیں اور استعمال شدہ ذخائر کی جگہ نئے ذخائر لانے کے عمل میں تاخیر کر سکتی ہیں۔

Iran
،تصویر کا کیپشن

جنگ کے بعد پیداوار کی بحالی

اسرائیل اور امریکہ کے ایران کی فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد ان سوالات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

سابق سی آئی اے تجزیہ کار جم لیمسن نے اکتوبر 2026 میں آن لائن جریدے War on the Rocks میں شائع ایک مضمون میں اندازہ لگایا کہ ان حملوں نے ایران کے میزائل اور ڈرون پیداوار کے بنیادی ڈھانچے کے ایک اہم حصے کو نقصان پہنچایا ہے۔

ان کے مطابق ایران مختصر مدت میں جنگ سے پہلے ذخیرہ کیے گئے پرزوں کی مدد سے اپنی بعض ہتھیاروں کی پیداوار یا اسمبلنگ جاری رکھ سکتا ہے، لیکن فوجی صنعت کی پائیدار بحالی کے لیے خام مال، پرزوں، مشینری اور نئے آلات کی مسلسل فراہمی ضروری ہو گی۔

ان کا خیال ہے کہ بیرونی سپلائرز اور ’غیر قانونی خریداری نیٹ ورکس‘ پر ایران کا انحصار مختصر مدت میں بڑھ سکتا ہے۔

تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نقصان کی اصل مقدار، باقی ماندہ ذخائر اور چین یا روس کی ممکنہ مدد کے بارے میں ناکافی معلومات دستیاب ہیں۔

ستمبر 2026 میں مرکز برائے سٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات کی رپورٹ کے مطابق روس نے ان ڈرونز کی بعض اقسام میں ایرانی انجنوں اور نیوی گیشن نظاموں کی جگہ چینی اور روسی متبادل استعمال کیے ہیں۔

اگرچہ یہ رپورٹ ایران کی پیداواری لائنوں میں ایسی تبدیلیوں کی تصدیق نہیں کرتی، لیکن یہ ظاہر کرتی ہے کہ متبادل پرزوں کے ذریعے کسی ڈرون کی پیداوار اور ترقی کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ حالیہ نقصانات کے بعد ایران کی فوجی صنعت اپنے مطلوبہ پرزے اندرونی یا بیرونی ذرائع سے کس حد تک حاصل کر سکے گی۔

پابندیوں سے متعلق دستاویزات آلات کی خریداری کی مسلسل کوششوں کی نشاندہی کرتی ہیں، لیکن درآمدات کی حقیقی مقدار، موجودہ ذخائر کے حجم اور ایران کی موجودہ ڈرون پیداواری صلاحیت کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

بالآخر ایران کی ڈرون صنعت کی بحالی صرف فیکٹریوں کی مرمت اور پروڈکشن لائنوں کی دوبارہ بحالی پر منحصر نہیں ہو گی۔ غیر ملکی پرزوں، خام مال اور آلات تک مسلسل رسائی بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے، اور ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کے سپلائی نیٹ ورکس اس ضرورت کو کس حد تک پورا کر سکیں گے۔