’بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر زوردار طمانچہ‘: پٹرول پمپ کے ملازم پر تشدد کرنے والے شخص کی گرفتاری اور ’مریم نواز کا انصاف‘

،تصویر کا ذریعہ@MaryamNSharif
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں چند روز کے وقفے سے پیش آنے والے دو واقعات کی ویڈیوز نے شہریوں کے رویوں، خواتین اور محنت کشوں کے تحفظ اور قانون کی عمل داری سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک واقعے میں سکوٹی سوار لڑکی کو راستے میں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرے میں پیٹرول پمپ کے ایک ملازم پر محض سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر تشدد کا الزام سامنے آیا۔ دونوں واقعات میں ملوث افراد کی گرفتاری کے بعد اب سوشل میڈیا پر یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ عوامی مقامات پر ایسے واقعات کی روک تھام اور قانون کی بالادستی کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے؟
20 اکتوبر کو لاہور کی مزنگ لنک روڈ پر پیش آنے والے پہلے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹرسائیکل سوار ایک شخص سکوٹی پر جانے والی لڑکی کو رکنے پر مجبور کرتا ہے اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ لڑکی زمین پر گر جاتی ہے، لیکن وہ شخص نہیں روکتا۔
وہاں موجود افراد مداخلت کر کے اسے روکتے ہیں، جبکہ پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث ملزم، جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں، گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
اس واقعے کے چند روز بعد لاہور ہی میں ایک پیٹرول پمپ کے ملازم پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئی۔ ایف آئی آر کے مطابق، ملازم نے ایک شخص کو پیٹرول پمپ پر سگریٹ نوشی سے منع کیا تو اس نے مبینہ طور پر عملے سے جھگڑا کیا، اسلحہ لہرایا اور دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق اس مقدمے میں بھی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کی وائرل فوٹیج کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں زیرِ حراست دکھائی دینے والے شخص کو بظاہر پٹرول پمپ کا وہی ملازم تھپڑ مار رہا ہے جسے اس نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
مریم نواز نے اسے اُن لوگوں کے لیے ’زور دار طمانچہ‘ قرار دیا جو دولت اور طاقت کے بل پر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
ان واقعات کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے، جہاں شہریوں کے تحفظ، خواتین کو ہراساں کرنے اور تشدد کے خلاف کارروائی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ قانون کی عمل داری کیسے یقینی بنائی جائے اور انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
پیٹرول پمپ پر کیا ہوا تھا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لاہور کے علاقے چوہنگ میں ایک پیٹرول پمپ پر ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر تھانہ چوہنگ میں درج کی گئی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق، منگل کے روز ایک شخص اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے آیا اور وہاں سگریٹ نوشی کرنے لگا۔ پیٹرول پمپ کے ملازم نے اسے اس لیے منع کیا کہ وہاں سگریٹ پینے سے آگ لگنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
ملازم کے مطابق سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر مذکورہ شخص نے عملے کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور بدتمیزی شروع کر دی۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ عملے کے دیگر افراد کے جمع ہونے پر ملزم مبینہ طور پر اسلحہ لہراتے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے اپنی گاڑی میں فرار ہو گیا۔
متاثرہ ملازم کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کیں۔ پولیس کے مطابق، گاڑی کی تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے اسے کرائے پر حاصل کیا تھا۔ کرایہ داری کے ریکارڈ اور رسیدوں کی مدد سے اس کی شناخت کی گئی اور بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت ملزم نے مزاحمت کی کوشش کی اور اس سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
مریم نواز نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیا کہا؟
جمعہ 23 اکتوبر کی رات وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 31 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو کے ابتدائی حصے میں پیٹرول پمپ پر تشدد کی وائرل سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی گئی ہے، جبکہ بعد کے حصے میں ایک کمرے میں زیرِ حراست دکھائی دینے والے شخص کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر وہاں موجود پولیس اہلکار مداخلت کرتے ہیں۔
مریم نواز نے ویڈیو کے ساتھ لکھا ’یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں گے کر کے بچ نکلیں گے۔‘
وزیرِ اعلیٰ نے ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا کہ ’بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں، انصاف صرف امیر اور طاقتور لوگوں کا حق نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا عزم واضح ہے، مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔‘
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کے ملزم کی ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
جہاں بعض صارفین ملزم کے خلاف کارروائی اور عام شہریوں کے حق میں آواز اٹھانے پر مریم نواز کی تعریف کر رہے ہیں، وہیں کچھ لوگ ان کے اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے تنقید بھی کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہونے والی اس بحث میں نہ صرف تشدد کے خلاف کارروائی بلکہ قانون کی عمل داری، ملزمان کے ساتھ سلوک اور حکومتی نمائندوں کے طرزِ عمل پر بھی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے اور وزیرِاعلیٰ کے بیان پر شروع ہونے والی بحث
میاں عمر نامی صارف نے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ’جب ہم اپنی سی ایم صاحبہ کی طرف سے ایسے واقعات پر فورا ایکشن ہوتا دیکھتے ہیں تو دل سے ایک ہی آواز آتی ہے۔ ہمارے ووٹ کا حق ادا ہو رہا ہے‘۔
کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسا انصاف طاقت ور اور سیاسی لوگوں کے حوالے سے اسمنے آنے والے واقعات میں بھی دیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر وقاص نواز نامی ایک ایکس صارف نے وزیرِاعلیٰ کی جانب سے ایکس پر دونوں ویڈیوز شیئر کرنے اور اُن کے بیان پر تنقید کی۔
انھوں نے لکھا کہ ’یہ کٹہرے کا انصاف ہے؟ یہ اس طرح جرگوں میں انصاف ہوتا ہے، اڈوں پہ انصاف ہوتا ہے، ڈیروں پہ انصاف ہوتا ہے، کٹہرے میں ایسے نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں اب جبکہ دوسرے شخص نے بھی اس کو تھپڑ مار لیا ہے تو اب دونوں کو ہی جیل میں بند کر دینا چاہیے کیونکہ دونوں نے ہی قانون توڑا ہے۔ دونوں نے فزیکل وائلنس کو پروموٹ کیا ہے اور مہذب دنیا اس کو فزیکل وائلنس ہی کہتی ہے۔‘
ڈاکٹر وقاص نواز نے مزید لکھا کہ ’انتقام اور انصاف میں فرق ہوتا ہے۔ آپ نے قانون اور جو آئین ہے اس کے تحت چلنا ہے۔ آپ نے کسی ڈیرے وڈیرے، اڈے یا کسی گلی محلے کے قانون کے حساب سے نہیں چلنا۔ یہ تماشا ہے اور اس سے فزیکل وائلنس پروموٹ ہوتی ہے۔‘
وقاص نواز کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے عامر نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’آپ لوگوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی کب عقل آئے گی؟ آپ گیارہ کروڑ کے ایک صوبے کی سربراہ ہیں اور اس غیرقانونی عمل کو گلیمرائز کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جو جرم اس بندے نے کیا اب وہی جرم دوسرے نے بھی کیا ہے۔ ملزم کو چاہیے کہ اب وہ بھی وہی کیس کر دے جس کے تحت اس کی گرفتاری ہوئی ہے کہ یہ اب دفاع نہیں بلکہ سوچا سمجھی حرکت اور حملہ ہے۔‘
فرح لودھی نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا اور کہا ’بی بی آپ اگر مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں گی تو کیا ضروری ہے کہ مظلوم کو ظالم اور بے حس بننے کی ترغیب دیں؟ آپ نے جس طرح قانون کو مفلوج کر کے تشدد اور بدلے کو فروغ دیا ہے اس کے مضمرات پنجاب کو دہائیوں تک بھگتنے ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہx.com
تاہم رانا یوسف نامی ایکس صارف نے وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سوشل میڈیا بیان اور دونوں ویڈیوز شئیر کیے جانے پر ان کے کام کی تعریف کی۔
رانا یوسف نے لکھا کہ ’یہ مریم نواز شریف صاحبہ کا پنجاب یہاں قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔‘
نعیم نامی ایک اور صارف نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کی تعریف کی اور لکھا کہ ’آپ ہمیں انڈین مووی جس میں انیل کپور ایک دن کے لیے سی ایم بنتے ہیں کی جیسی لگتیں ہیں جو ہر مُمکن ہر فرد کو انصاف دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
نعیم نے مزید لکھا کہ ’دعا ہے میرے بچوں کے بچے بھی آپ کی وزارت اعلیٰ میں جئیں۔ میں دبئی میں کام کرتا ہوں ایک عام اوور سیز پاکستانی کی طرح پاکستان میں موجود فیملی کو لیکر ہزار فکریں رہتی۔ مگر آپ کے ہونے سے تحفظ کا ایسا احساس ملا جو پہلے نہیں تھا۔‘
نعیم کے بعد طلحہٰ اشتیاق نے بھی وزیر اعلی کے کام کی تعریف کی اور لکھا کہ ’پنجاب میں بلاامتیاز قانون کی حاکمیت! مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں کوئی بااثر یا دولت مند ظالم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پختہ عزم اس بات کی ضمانت ہے کہ ریاست کی تمام تر طاقت مظلوم کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے وقف ہے۔‘
طلحہٰ اشتیاق کے ہی ایک اور ہم نام طلحہٰ نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے ایکس پر جاری بیان کے نیچے کُچھ یوں اپنے الفاظ کا استعمال کیا ’سراہنے کے قابل ہے، مگر یہ انصاف بھی وہاں نظر آتا ہے جہاں معاملے کو سوشل میڈیا کی بھرپور تنقید ملتی ہے۔ ورنہ کتنے ہی ایسے دردناک واقعات ہیں جو صرف داستانیں ہی رہ جاتے ہیں۔‘




















