پاکستان ٹرائی سیریز کا فاتح: فخر زمان کی ’فائنل میں پرفارم کرنے کی صلاحیت‘ اور ’گھر کے بڑے بیٹے کی انرجی‘ والے عرفات منہاس

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

لاہور میں کھیلے گئے پاکستان ون ڈے ٹرائی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو تین وکٹوں سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی۔

پاکستان کی جانب سے فخر زمان نے 127، سعد بیگ نے 74 جبکہ عرفات منہاس نے محض 31 گیندں پر 61 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

فخر زمان کو ان کی سنچری کے لیے ’پلیئر آف دی میچ‘ جبکہ عرفات منہاس سیریز کے دوران بہترین کارکردگی پر ’پلیئر آف دی سیریز‘ کا ایوارڈ ملا۔

سری لنکا کی اننگز کا احوال

ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرنے والے پاکستان کو پہلی کامیابی کے لیے کافی انتظار کرنا پڑا۔ سری لنکا کے اوپنرز کمیندو مینڈس اور اویشکا فرنینڈو نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی وکٹ کے لیے 86 رنز کی شراکت قائم کی اور اپنی ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔

اویشکا فرنینڈو نے 49 گیندوں پر 38 رنز بنائے، جس میں تین چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، جبکہ کمیندو مینڈس نے شاندار فارم برقرار رکھتے ہوئے اپنے ون ڈے کیریئر کی پہلی سنچری سکور کی۔ انھوں نے 128 گیندوں پر 131 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 12 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

پاکستان کو 18ویں اوور میں اس وقت بریک تھرو ملا جب سلمان آغا نے اویشکا فرنینڈو کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ سری لنکن بلے باز نے ریویو لیا، تاہم امپائر کا فیصلہ برقرار رہا اور 86 رنز کی شراکت اختتام کو پہنچ گئی۔

پہلی وکٹ گرنے کے بعد پاکستان نے رنز کی رفتار کم کرنے کی کوشش کی۔ حارث رؤف نے تیز اور نپی تلی باؤلنگ کے ذریعے دباؤ بڑھایا، جبکہ سلمان آغا نے اپنی سپن سے سری لنکن بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔

پاکستان کو دوسری کامیابی 22ویں اوور میں ملی جب سری لنکن کپتان کُسل مینڈس نے سلمان آغا کی گیند کو سیدھا واپس کھیلنے کی کوشش کی، لیکن پاکستانی آل راؤنڈر نے برق رفتاری سے ردعمل دیتے ہوئے اپنے سر کے اوپر دونوں ہاتھوں سے شاندار ریفلیکس کیچ تھام لیا۔

کرکٹ تجزیہ کار تیز رفتاری سے آنے والی گیند پر اس کیچ کو فائنل کے اب تک کے بہترین لمحات میں شمار کر رہے ہیں۔

کُسل مینڈس کے آؤٹ ہونے کے بعد پاون رتھنائیکے نے کمیندو مینڈس کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں بلے بازوں نے تیسری وکٹ کے لیے 146 رنز کی شاندار شراکت قائم کی، جس نے سری لنکا کو بڑے مجموعے کی جانب گامزن کر دیا۔ رتھنائیکے نے 65 گیندوں پر 77 رنز بنائے، جس میں آٹھ چوکے شامل تھے۔

کمیندو مینڈس کی اننگز کا خاتمہ 42ویں اوور میں ہوا جب شاہین شاہ آفریدی نے انھیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد داسن شناکا نے مختصر مگر جارحانہ 17 رنز بنائے، تاہم پاکستانی فاسٹ باؤلرز نے آخری اوورز میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے مسلسل وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کے باؤلرز نے آخری 10 اوورز میں صرف 86 رنز دیے اور چھ وکٹیں حاصل کر کے سری لنکا کو 350 رنز کے قریب پہنچنے سے روک دیا۔ میزبان ٹیم کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ سلمان آغا نے بھی دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز بنائے اور اب پاکستان کو ٹرافی اپنے نام کرنے کے لیے 326 کا ہدف دیا۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کا آغاز اچھا نہیں رہا۔ دلشان مدوشنکا نے ابتدا ہی میں معاذ صداقت اور بابر اعظم کو پویلین واپس بھیج کر پاکستان کو دباؤ میں ڈال دیا۔ معاذ صداقت سات گیندوں پر پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ بابر اعظم پانچ گیندیں کھیلنے کے بعد بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔

تاہم ابتدائی نقصان کے بعد فخر زمان اور سعد بیگ نے پاکستان کی اننگز کو سہارا دیا اور 149 رنگز کی پارٹنر شپ کھیلی۔

سعد بیگ 27ویں اوور میں 163 کے مجموعی سکور پر مہیش تھیکشانا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے انھوں نے 75 گیندوں پر 11 چوکوں کی مدد سے 74 رنز بنائے۔

30ویں اوور میں فخر زمان نے پانچ چھکوں اور نو چوکوں کی مدد سے 84 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کر لی۔ یہ ان کی کریئر کی 12ویں سنچر ہے۔

فخر زمان 34ویں اوور میں 99 گیندوں پر 127 رنز بنا کر دلشان مدوشنکا کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

ان کے بعد 37ویں اوور میں سلمان علی آغا بھی 17 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد حسن نواز اور عرفات منہاس کی 94 رنز کی پارٹنرشپ نے پاکستان کی جیت یقینی بنا دی۔

عرفات جیت سے محض دو رنز قبل 61 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ حسن نواز 37 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔

سری لنکا کی جانب سے دلشان مدوشنکا نے تین جبکہ اسیتھا فرنینڈو نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

’عرفات منہاس کو ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کرنے والے شخص کا تہہ دل سے شکریہ‘

ٹرائی سیریز کے فائنل میں پاکستان کی فتح کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین پاکستانی کھلاڑیوں بالخصوص فخر زمان، سعد بیگ اور عرفات منہاس کی تعریفیں کرتے نظر آئے۔

ایکس صارف شیر علی لکھتے ہیں کہ ’پاکستان کو شاید وہ آل راؤنڈر مل گیا ہے جس کی اسے طویل عرصے سے تلاش تھی۔‘

عروج جاوید لکھتی ہیں کہ ’اس شخص کا تہہ دل سے شکریہ جس نے عرفات منہاس کو ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

ایک اور ایکس صارف عرفات منہاس کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یاد نہیں پڑتا کہ آخری بار پاکستانی ٹیم کے کسی 21 سالہ کھلاڑی سے اتنی پختگی اور تحمل کب دیکھنے کو ملی تھی۔

’عرفات منہاس سے گھر کے بڑے بیٹے والی انرجی آتی ہے۔‘

پاکستان کے اوپنر اور میچ میں سنچری سکور کرنے والے فخر زمان کے متعلق سپورٹس صحافی اور تجزیہ کار عظیم صدیقی ایکس پر لکھتے ہیں کہ فخر نے سب کو بڑے میچوں میں پرفارم کرنے کی اپنی صلاحیت کے بارے میں یاد دلا دیا ہے۔

’ٹاپ پلیئر، ٹاپ اننگز۔‘

علی ساجد نامی صارف لکھتے ہیں کہ فخر زمان کی سیریز زیادہ متاثر کن نہیں رہی، لیکن فائنل کھیلنا انھیں خوب آتا ہے!

ایک اور ایکس صارف عبداللہ لکھتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ فخر زمان کو پاکستان کے بہتری ون ڈے بلے بازوں میں شمار نہیں کرتے۔

’میری رائے میں سعید انور اور فخر زمان پاکستان کی آل ٹائم بہترین ون ڈے الیون میں بطور اوپنرز بلا شبہ جگہ بنتی ہے۔‘

کئی صارفین نے پاکستان کی فتح کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتے دکھائی دیے۔

صحافی سلیم خالق لکھتے ہیں ’ٹیم ورک ہی کسی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرتا ہے، اور پاکستان نے آج یہ ثابت کر دیا۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ایک جانب سینئر کھلاڑی فخر زمان نے شاندار سنچری سکور کی تو دوسری طرف نوجوان بلے باز سعد بیگ، حسن نواز اور عرفات منہاس نے بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

’انھوں نے بابر اعظم اور سلمان آغا کی ناکامیوں کو اپنی کوششوں پر اثرانداز نہیں ہونے دیا۔‘

کرکٹ تجزیہ کار مظہر اشد اسے 'پاکستان کی شاندار فتح' قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 326 رنز ون ڈے انٹرنیشنل کے فائنل میں کامیابی سے حاصل کیا جانے والا مشترکہ طور پر سب سے بڑا ہدف ہے۔

’فخر زمان، سعد بیگ اور عرفات منہاس نے بلے بازی میں بہترین کارکردگی دکھائی، لیکن شاہین آفریدی اور حارث رؤف کے آخری اوورز کو نہیں بھولنا چاہیے۔

’اگر ان کی عمدہ باؤلنگ نہ ہوتی تو سری لنکا کا سکور باآسانی 350 رنز کے قریب پہنچ سکتا تھا۔‘