آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم:‘ مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ چار افراد کی گرفتاری کا سبب کیسے بنا؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں تین نو عمر لڑکوں کو ایک بچے کے جوتے چاٹنے پر مجبور کرنے والی پنچایت میں شریک چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جس پنچایت میں تین نو عمر بچوں کو ایک اور نوعمر لڑکے کے جوتے چومنے کا حکم دیا تھا اس پنچایت میں مجموعی طور پر 27 افراد شریک تھے۔
مظفر گڑھ پولیس کے ترجمان افتخار ملکانی نے بی بی سی کو بتایا کہ21 اکتوبر کو خان گڑھ کے علاقے میں اس واقعے پر ایک پنچایت بلائی گئی کہ تین نوعمر بچوں نے معمولی رنجش کی بنا پر ایک نوعمر لڑکے کو زنجیروں سے باندھا اور اس پر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے جوتے چاٹنے پر مجبور کیا۔
انھوں نے کہا کہ نوعمر بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے کا یہ واقعہ 15 اکتوبر کو پیش آیا تھا اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔
مقامی پولیس کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والے بچے کے والدین نے اس واقعے کی شکایت علاقے کے کچھ بااثر لوگوں سے کی جنھوں نے اس واقعہ پر پنچایت طلب کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ پنچایت نے ان تینوں نوعمر بچوں کو طلب کیا اور متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ تینوں نوعمر بچے سرعام بالکل اُسی طرح اس بچے کے جوتے چاٹیں گے جس طرح اُنھوں نے اسے اپنے جوتے چومنے کا کہا تھا۔
افتخار ملکانی کا کہنا تھا کہ پنچایت کے اس فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر پولیس کے اعلی حکام نے نوٹس لیا اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر کی ہدایت کی روشنی میں پنچایت میں شامل 27 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کا مقدمہ پولیس نے اپنی مدعیت میں درج کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظفر گڑھ پولیس کے ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ 15 اکتوبر کو جب پہلے والا واقعہ رونما ہوا تھا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو اس وقت مقامی پولیس نے ان تین نوعمر بچوں کے خلاف ضابطے کی کارروائی کیوں نہیں کی؟
اس پر افتخار ملکانی کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ معاملہ پولیس کے نوٹس میں نہیں آیا تھا اور جب 21 اکتوبر کو اس واقعے سے متعلق پنچایت بلائی گئی اور پنچایت کے فیصلے پر سزا پر عمل درآمد ہوا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پھر پولیس حکام نے اس واقعے کا نوٹس لیا۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقوعہ سے متعلق درج ہونے والے مقدمے میں نامزد چار ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور انھیں متعلقہ عدالت میں پیش کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس پنچایت میں شامل دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
اس واقعے سے متعلق تھانہ خان گڑھ میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کچھ نامعلوم افراد نے غیر قانونی طور پر ایک پنچایت بلائی جس میں تین نوعمر بچوں کو سزا کے طور پر ایک اور نوممر بچے کے پاؤں چومنے کی سزا سنائی اور پھر یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس واقعے سے متعلق ویڈیو ریاض نامی شخص نے سوشل میڈیا پر وائرل کی۔
اس مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں واقعات نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ انسانی وقار کے منافی ہیں۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پنچایت میں شامل افراد نے تین نوعمر بچوں کو متاثرہ بچے کے پاؤں چومنے کے احکامات دے کر نہ صرف غیر قانونی کردار ادا کیا ہے بلکہ وہ انسانیت کی تذلیل کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔
مظفر گڑھ پولیس کے ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اس مقدمے میں وہ تین نوعمر بچے بھی بطور ملزم شامل ہیں جنھوں نے 15 اکتوبر کو ایک اور نوعمر بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسے ان تینوں کے پاوں چومنے کو کہا تھا تو انھوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔