انڈین خلائی ادارے کے سائنسدان استعفے کیوں دے رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہgettyimages
- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انڈیا کے خلائی شعبے میں سٹارٹ اپ کمپنیوں کا بڑھتا ہوا اثر اب ملک کے بڑے خلائی ادارے ’انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن‘ (آئی ایس آر او) تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سٹارٹ اپ سیکٹر نے انڈیا کے کئی شعبوں میں نئے معیار قائم کیے ہیں، تاہم اب اس نے ملک کے معروف خلائی ادارے کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
اب خلائی محکمے نے سائنسدانوں اور تکنیکی عملے کے استعفے منظور کرنے کے قواعد میں تبدیلی کر دی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ گذشتہ ایک سال میں اندازاً 100 سے 120 سائنسدان آئی ایس آر او چھوڑ کر خلائی شعبے کی نجی سٹارٹ اپ کمپنیوں سے وابستہ ہو گئے ہیں۔
مرکزی حکومت کے خلائی محکمے نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’گگن یان‘ اور دیگر اہم خلائی منصوبوں سے وابستہ تکنیکی عملے کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ یا استعفے اب عام طریقۂ کار کے تحت فوری طور پر منظور نہیں کیے جائیں گے۔‘ یہ فیصلہ گروپ ’اے‘ سائنسدانوں کے علاوہ دیگر تکنیکی ملازمین پر بھی لاگو ہوگا۔
اس فیصلے کے بعد آئی ایس آر او کے مختلف مراکز کے ڈائریکٹرز یا سربراہان کو اب براہِ راست استعفے منظور کرنے کا اختیار حاصل نہیں رہے گا۔
خلائی محکمے کے مطابق ’سائنسدان، انجینئر-ایس جی سے کم درجے کے افسران کی صورت میں بھی متعلقہ مراکز کے ڈائریکٹرز یا یونٹ سربراہان اپنی واضح سفارشات کے ساتھ درخواستیں محکمہ کو بھیجیں گے، جہاں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔‘
رپورٹ کے مطابق رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے والوں میں وکرم سارابھائی سپیس سینٹر کے ’لانچ وہیکل مارک تھری‘ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر وکٹر جوزف بھی شامل ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ آئی ایس آر او کے تمام مراکز میں ’یو آر راؤ سیٹلائٹ سینٹر‘ کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، جہاں تقریباً 14 ہزار 600 سائنسدانوں اور تکنیکی عملے میں سے متعدد افراد نے ادارہ چھوڑا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کے اس اہم خلائی ادارے کے فیصلے نے خلائی تحقیق سے جُڑے سائنسدانوں کے درمیان بحث چھیڑ دی ہے کہ سٹارٹ اپس خلائی شعبے کو کس طرح مضبوط کریں گے اور کیا دیگر اداروں سے باصلاحیت سائنسدانوں کو اس انداز میں اپنی جانب راغب کرنا مناسب ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا حکومتی پالیسی تبدیل ہوئی ہے؟
انڈیا کے خلائی ادارے ’آئی ایس آر او‘ کے سابق چیئرمین جی مادھون نائر کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ماضی میں آئی ٹی انقلاب کے دوران پیدا ہونے والے حالات سے ملتی جلتی ہے اور اب اسی رجحان کا دوبارہ سامنا ہے۔
انھوں نے بی بی سی نیوز ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر بڑی تعداد میں تجربہ کار افراد ’آئی ایس آر او‘ چھوڑ کر دوسرے اداروں میں جانے لگیں تو اس سے ادارے کے کام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
مادھون نائر کا کہنا تھا کہ ’باصلاحیت سائنسدانوں کو اس طرح دوسرے اداروں کی طرف منتقل نہیں ہونا چاہیے۔ خلائی صنعت کو ترقی کا حق حاصل ہے لیکن اسے اپنے ماہرین خود تیار کرنے چاہئیں نہ کہ آئی ایس آر او جیسے بڑے اور تجربہ کار اداروں سے ماہر افراد حاصل کرے۔‘
تاہم آئی ایس آر او کے سابق سیکریٹری پی جی دیواکر سائنسدانوں کے ادارہ چھوڑنے پر حیران نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پہلے آئی ایس آر او بڑی تعداد میں زمین کے مشاہدے اور مواصلاتی سیٹلائٹس تیار کرتا تھا، لیکن اب زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹس کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔
دیواکر کے مطابق حکومت کی پالیسی میں مکمل تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے حکومت ’اوشن سیٹ‘، ’ریسورس سیٹ‘، اور ’کارٹو سیٹ‘ جیسے منصوبوں کے لیے آئی ایس آر او کو فنڈز فراہم کرتی تھی اور ادارہ سماجی فوائد کے لیے یہ سیٹلائٹس تیار کرتا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’اب حکومت نے مختلف وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق خود سیٹلائٹس تیار یا لانچ کریں۔‘
دیواکر کا خیال ہے کہ ’مختلف وزارتوں کو سماجی فائدے کے لیے سیٹلائٹس میں سرمایہ کاری کی اہمیت سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا۔‘ تاہم وہ اس بات کے لیے پُرامید ہیں کہ انڈیا میں خلائی سٹارٹ اپس تیزی سے ترقی کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت سائنسدانوں کے لیے یہ ایک پُرکشش راستہ بن رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا نجی شعبے کے سائنسدان آئی ایس آر او جیسا کام کر سکیں گے؟
اب سوال یہ ہے کہ کیا خلائی سٹارٹ اپس میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو وہی سائنسی ترقی کے مواقع مل سکیں گے جو انھیں آئی ایس آر او جیسے بڑے ادارے میں حاصل ہوتے ہیں؟
آئی ایس آر او کے سابق سیکریٹری پی جی دیواکر کا کہنا ہے کہ ’شروع میں شاید سٹارٹ اپس میں ایسے مواقع محدود ہوں، لیکن اگر یہ کمپنیاں ترقی کرتی ہیں تو سائنسدانوں کو بھی فائدہ ہوگا اور معاملہ صرف زیادہ تنخواہ تک محدود نہیں رہے گا۔‘
تاہم سابق آئی ایس آر او چیئرمین جی مادھون نائر اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’نجی شعبہ زیادہ تنخواہیں تو دے سکتا ہے، لیکن وہاں اس نوعیت کا مشکل اور چیلنجنگ سائنسی کام کرنے کے مواقع شاید میسر نہ آسکیں کہ جیسے آئی ایس آر او میں مل سکتے ہیں۔‘
انھوں نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا آئی ایس آر او کے اندر موجود انتظامی یا نظام سے متعلق مسائل سائنسدانوں کو نجی شعبے کی طرف جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ سرکاری اور نجی شعبے کی تنخواہوں میں نمایاں فرق موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جی مادھون نائر نے کہا کہ ’خلائی شعبہ ایک انتہائی خاص شعبہ ہے جہاں غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو ایسے باصلاحیت لوگوں کو ادارے سے جوڑے رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کرنا ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئی اسی آر او کے سائنسدانوں کے لیے بنائی گئی خصوصی مراعاتی سکیمیں اب ختم ہو چکی ہیں۔‘
مادھون نائر کے مطابق ’سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورِ حکومت میں یہ مؤقف پیش کرنے میں کامیابی ملی تھی کہ خلائی اور جوہری توانائی کے شعبوں کو دیگر سرکاری ملازمتوں سے مختلف انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔‘
اس کے بعد کارکردگی کی بنیاد پر مراعات، نقد انعامات اور خصوصی تنخواہوں میں اضافے جیسی کئی سکیمیں شروع کی گئی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے کئی سکیمیں بتدریج ختم کر دی گئیں۔‘
مادھون نائر نے مزید کہا کہ ’ممکن ہے کہ ایسے فیصلے کرنے والے کچھ افراد خلائی ٹیکنالوجی کی پیچیدگیوں اور اس شعبے کی ضروریات کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خلائی سٹارٹ اپس کا وسیع ہوتا دائرہ کار
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایک وقت تھا جب انڈین خلائی ادارہ آئی ایس آر او مواصلاتی سیٹلائٹس، زمین کے مشاہدے والے سیٹلائٹس تیار کرنے کے ساتھ ساتھ چندریان اور منگل یان جیسے اہم خلائی مشنز بھی انجام دے رہا تھا۔
آئی ایس آر او کے سابق سائنسی سیکریٹری پی جی دیواکر کا کہنا ہے کہ ’اب صورتحال بدل چکی ہے۔‘ ان کے مطابق ’آج آنڈیا میں گلیکس آئی، پیگزل، سکایی روٹ اور اگنیکُل جیسی کئی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وہ 10 سے 15 ایسی بہترین خلائی سٹارٹ اپ کمپنیوں کے نام گنوا سکتے ہیں جو نہ صرف خلائی شعبے میں کام کر رہی ہیں بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی حاصل کر رہی ہیں۔‘
جنوری میں سائنس و ٹیکنالوجی اور خلائی امور کے وزیر جتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا کو بتایا تھا کہ ’انڈیا کی خلائی صنعت اور اس سے جُڑی معیشت تقریباً 8.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملک میں 399 خلائی سٹارٹ اپس کام کر رہے ہیں۔ یہ کمپنیاں لانچ وہیکلز، سیٹلائٹس، خلائی انجن (پروپلشن سسٹمز) اور خلائی معیار کی الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں سرگرم ہیں۔‘
جتیندر سنگھ نے دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سائنسدانوں کے استعفوں سے متعلق یہ یادداشت انتظامی وجوہات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے تاکہ فیصلے زیادہ غور و فکر کے بعد کیے جا سکیں۔‘ ان کے مطابق اس سے یہ بھی یقینی بنایا جا سکے گا کہ سائنسدانوں کی منتقلی سے اہم منصوبوں پر منفی اثر نہ پڑے۔
انڈین حکومت نے سنہ 2019 میں انڈین نیشنل سپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر کے قیام کے ذریعے خلائی شعبہ نجی کمپنیوں کے لیے کھول دیا تھا۔ یہ ادارہ نجی کمپنیوں اور آئی ایس آر او جیسے سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔



















