’بیوی، بچے بضد تھے کہ مری دیکھنا ہے‘: وین حادثے میں پانچ بچوں، اہلیہ اور والدہ کو کھونے والے ملتان کے کاشف علی کی کہانی

،تصویر کا ذریعہEhtisham Shami
- مصنف, احتشام احمد شامی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
’بیوی اور بچوں کی ضد تھی کہ ہم نے مری دیکھنا ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو منع بھی کیا کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے، اتنا خرچہ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ لیکن بچوں کی خواہشں کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ بھی بضد تھی۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ ہم نے آپ کو کبھی باہر لے جانے کا نہیں کہا مگر اب رشتہ دار بھی جا رہے ہیں، تو بچوں کی بھی خواہش ہے کہ وہ مری کی سیر کر لیں۔‘
یہ کہنا ہے جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کے رہائشی سید کاشف علی کا، جن کی والدہ، اہلیہ اور پانچ بچے پنجاب کے معروف سیاحتی مقام مری کے قریب وین میں ہونے والی آتشزدگی کے واقعے میں جل کر ہلاک ہوئے ہیں۔
کاشف علی کے ہلاک ہونے والے پانچ بچوں میں تین سے 15 سال تک کی عمر کے چار بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
ملتان کے محلہ ’سوتری وٹ‘ کا رہائشی یہ خاندان سیر و تفریح کے لیے ملتان سے تین گاڑیوں میں روانہ ہوا تھا۔ اِن تین گاڑیوں میں سید کاشف علی کے اہلخانہ اور دیگر قریبی رشتہ دار سوار تھے۔
اُن کے مطابق اس قافلے میں شامل دو گاڑیاں اُن کے خاندان کے لوگوں کی تھیں جبکہ ایک ہائی روف گاڑی (جو حادثے کا شکار ہوئی) کرایہ پر حاصل کی گئی تھی۔ اس ہائی روف میں صرف خواتین اور بچوں کو سوار کیا گیا تھا۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے ترجمان کے مطابق مری ایکسپریس وے پر کھجوٹ کے مقام پر یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا تھا جب ہائی ایس وین ایک موڑ کاٹتے ہوئے سڑک کے ساتھ نالے میں اُتر گئی اور اُلٹی ہو گئی۔
ترجمان کے مطابق اس کے فوراً بعد وین میں آگ بھڑک اٹھی۔
اُن کے مطابق گاڑی اس انداز میں الٹی کہ دروازے کھولنا ممکن نہ رہا۔ گاڑی میں لگنے والی آگ پر کافی دیر بعد قابو پایا جا سکا اور حکام کے مطابق دس افراد، جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے میں 13 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں شامل آٹھ بچوں کی عمریں ڈیڑھ سے 13 سال کے درمیان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی حکام کے مطابق ’آگ اِس قدر شدید تھی کہ مرنے والوں کی لاشیں ناقابل شناخت ہو گئیں۔ گاڑی کا درواز ہ دیوار کی جانب ہونے کے باعث جام ہو گیا جس کی وجہ سے کچھ خواتین اور بچے باہر نہ نکل سکے۔‘
’میری کُل کائنات ہی ختم ہو گئی‘

ملتان میں چوک علمدار کے قریب مارکیٹ میں فروٹ کی دکان چلانے والے سید کاشف علی پانچ بچوں، بیوی اور والدہ کو کھونے کے بعد غم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے پیسوں کا مسئلہ نہیں تھا، اصل میں مجھے بچے اتنی دور بھیجنے سے ڈر لگ رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ بچے ناسمجھ ہوتے ہیں اور مری پہاڑی علاقہ ہے، کہیں کوئی چوٹ ہی نہ لگوا بیٹھیں لیکن میری بیوی نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں دل چھوٹا کرتے ہیں، ہمارے بچے اب اتنے چھوٹے بھی نہیں۔‘
’میں نے ابتدا میں بچوں اور بیوی کی مسلسل ضد کے باوجود انھیں جانے کی اجازت نہیں دی، جس پر بچوں نے اپنی دادی کو کہا کہ ’آپ ہمارے ساتھ چلیں گی تو ابو ہمیں جانے سے نہیں روکیں گے۔‘ پھر میری والدہ نے مجھے کہا کہ ’تم پریشان نہ ہو، میں بچوں کے ساتھ چلی جاتی ہوں۔‘ میری والدہ نے کہا کہ بچے زندگی میں پہلی بار سیر کرنے مری جانا چاہتے ہیں تو انھیں مت روکو۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کاشف علی بتاتے ہیں کہ ’جب میری والدہ کا بھی جانے کا پروگرام بن گیا، تو بچوں کی خالہ نے کہا کہ میں بھی ساتھ چلتی ہوں، یوں خالہ بھی اُن کے ساتھ مری جانے کےلئے تیار ہو گئیں۔‘
کاشف کہتے ہیں کہ ’میں نے ساری زندگی اپنی ماں کا حکم نہیں ٹالا، اب جب انھوں نے کہا کہ تم بچوں کی فکر نہ کرو، تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی خاموش ہو گیا۔‘
سید کاشف علی بتاتے ہیں کہ اس سب کے باوجود ’میرے دل میں انجانا سا خوف موجود رہا۔ گھر سے روانہ ہونے سے پہلے میں نے بچوں کو تاکید کی کہ پہاڑی علاقے میں چڑھنے سے احتیاط کریں، کوئی اکیلا نہ گھومے بلکہ سب مل کر اکٹھے ہی سیر کرنا۔ اپنی بیوی کو بھی کہا کہ بچوں کو اپنی نظروں کے سامنے رکھے اور موبائل فون پر مجھے آگاہ کرتی رہے تاکہ تسلی رہے۔‘
کاشف کہتے ہیں کہ ’ہم نے ڈرائیور کو کہا تھا کہ مری جانے کے لیے دن کے وقت ملتان سے نکلے لیکن ڈرائیور کا کہنا تھا کہ لمبا سفر ہے، اس لیے رات کو نکلنا ہی بہتر ہے کیونکہ دن کے وقت شدید گرمی ہوتی ہے تو لمبا سفر بہتر نہیں۔ ڈرائیو نے کہا کہ صبح جب دن نکلے گا اور سورج کی تپش بڑھے گی تو ہم پہاڑی علاقے میں پہنچ چکے ہوں گے۔‘
کاشف کہتے ہیں کہ بدھ کے روز اُن کے ایک رشتہ دار نے انھیں بتایا کہ ’کاشی بھائی ایک بُری خبر ہے، جو گاڑی مری جا رہی تھی، اس کو حادثہ پیش آ گیا۔‘
کاشف کہتے ہیں کہ اگرچہ تین گاڑیاں گئی تھیں مگر یہ سنتے ہی ’مجھے یوں لگا جیسے میرا دل بند ہو گیا ہو، میرے دل میں پہلے ہی وسوسے چل رہے تھے۔‘
’میں نے اپنے رشتہ دار سے پوچھا کہ ’تمھیں کس نے بتایا؟‘ تو اس نے جواب دیا غلام عباس بھائی نے۔‘
غلام عباس اس قافلے کے ساتھ تھے اور اُس گاڑی میں موجود تھے جس میں مرد تھے۔
سید کاشف علی کہتے ہیں کہ ’میرے تو الفاظ ہی ختم ہو گئے ہیں۔ میری کُل کائنات میری ماں، میری بیوی اور پھول جیسے بچے سب ختم ہو گئے ہیں۔ میرے لیے یہ کسی قیامت سے کم نہیں۔‘
’گھر سے روانگی کے دس گھنٹے بعد حادثہ ہوا‘

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
ملتان سے سیر و تفریح کے لیے مری جانے والا یہ خاندان نو اور دس جون کی درمیانی شب دو بجے کے قریب ملتان سے روانہ ہوا تھا اور اُن کی گاڑی کو حادثہ 10 جون کی دوپہر 12 بجے کے قریب پیش آیا۔
سٹی ٹریفک پولیس مری کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ’ملتان سے مری آنے والی گاڑی ایکسپریس وے پر کھجوٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ ڈرائیور کو نیند آنے کے باعث پیش آیا، حادثے کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔‘
سٹی ٹریفک پولیس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شہری طویل سفر کے دوران آرام کریں، نیند یا تھکاوٹ کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے سے مکمل گریز کریں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اس حادثے کی مکمل رپورٹ طلب کی ہے۔
’پورا علاقہ سوگوار ہے‘
شاہد عباس حادثے کا شکار ہونے والی فیملی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ وہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اس معاملے میں کرائے پر حاصل کی گئی گاڑی اور ڈرائیور کا قصور ہے۔
شاہد عباس کہتے ہیں کہ ’آپ جنرل بس سٹینڈ پر چلے جائیں وہاں آپ کو کئی ایسی مسافر گاڑیاں نظر آئیں گی جو کہ فٹنس کے معیار پر پورا نہیں اتُرتیں لیکن سرکاری ادارے ان کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کر دیتے ہیں۔‘
’دس افراد کی ہلاکت کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ کئی گھر اجڑ گئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مزید گھروں کو اجڑنے سے بچائے اور جو گاڑیاں فٹنس کے ایس او پیز پر پورا نہیں اُترتیں اُن کو بند کیا جائے۔‘
احمد رضا بھی محلہ سوتری وٹ کے رہائشی ہیں اور حادثہ کا شکار ہونے والے افراد کے قریبی رشتہ دار تھے۔
احمد رضا کہتے ہیں کہ ایک فیملی انگلینڈ سے آئی ہوئی تھی جو کہ مری جانے والوں میں شامل تھے تاہم یہ خاندان زخمیوں میں شامل ہے اور فی الحال ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

























