’ہم اب آسمان کی طرف نہیں دیکھتے‘: جب فضا میں اُڑتا طیارہ اچانک عمارت پر آ گرا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, زویا متین
- مقام, احمد آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
صبح اٹھ کر آنکھیں کھولنے کے بعد پرہلود ٹھاکر سب سے پہلے اپنی دیواروں پر آویزاں تصاویر دیکھتے ہیں۔
یہ تصاویر احمد آباد میں ان کے چھوٹے سے گھر کی سبز دیواروں پر لٹکی ہیں۔ ایک فریم میں ان کی اہلیہ سرلا بین کا چہرہ ہے۔ دوسری تصویر ان کی پوتی آدھیا کی ہے، جو سفید لباس میں مسکرا رہی ہے۔
یہ دونوں گذشتہ سال جون میں احمد آباد ایئر پورٹ سے دو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں تھیں، جب ایئر انڈیا کا ایک طیارہ اس سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے میں مجموعی طور پر 260 افراد ہلاک ہوئے، ان میں سے 241 جہاز پر سوار تھے، جبکہ 19 افراد زمین پر ہلاک ہوئے۔
ان ہی میں سرلا بین اور آدھیا بھی تھیں۔ ایک سال گزر چکا لیکن ان سے بچھڑنے کا غم ابھی تک تازہ ہے۔
ٹھاکر کہتے ہیں: ’مجھے ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے، تصاویر دیکھتا ہوں تو رو پڑتا ہوں۔‘
ایئر انڈیا کی یہ پرواز لندن جا رہی تھی اور توقع ہے کہ تحقیقات کرنے والے حادثے سے متعلق رپورٹ جلد جاری کر دیں گے۔
ایک سال گزرنے کے بعد بھی حادثے کے نشانات اب تک موجود ہیں۔
طیارہ گرنے سے متاثر ہونے والا ہاسٹل ایک کھلے زخم کی طرح اپنی جگہ موجود ہے۔ اس کی بالائی منزلیں اب بھی چھت سے محروم ہیں، کنکریٹ لٹک رہا ہے، دیواروں پر دھوئیں کے نشان ہیں، جبکہ سوٹ کیس اور کپڑے دھول، ملبے اور فولاد کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام نے تباہ شدہ کمپلیکس کو گرانے اور نیا ہاسٹل تعمیر کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم فی الحال ملبہ جوں کا توں موجود ہے۔
طلبہ لیکچر کے لیے جاتے ہوئے اس ہاسٹل کے پاس سے گزرتے ہیں جبکہ ہر چند منٹ بعد اوپر سے جہازوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ دہائیوں تک یہ آواز شہر کے پس منظر کا حصہ تھی، سڑکوں کے شور کی طرح عام اور غیر نمایاں۔
ٹھاکر کہتے ہیں حادثے کے بعد کہ اس کا مطلب بالکل مختلف ہو گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’جب بھی کوئی جہاز گزرتا ہے، ہم وہی درد محسوس کرتے ہیں۔ ہم آسمان کی طرف دیکھتے بھی نہیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہZoya Mateen
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پرہلود ٹھاکر کا خاندان 15 برسوں سے قریبی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے لیے کھانا پکا کر ٹفن میں ان تک پہنچاتا تھا۔ ان کی دو سالہ پوتی زیادہ تر وقت وہیں گزارتی تھی اور کبھی کبھار ہی اپنی دادی سے الگ ہوتی تھی۔
حادثے کے وقت میس میں دوپہر کا کھانا پیش کیا جا رہا تھا۔ سرلابین وہیں کام کر رہی تھیں اور جب آدھیا کو واش روم جانے کی ضرورت پیش آئی تو وہ اسے اوپر لے گئیں۔ چند لمحوں بعد طیارہ آ گرا۔
اس وقت ٹھاکر دوسری عمارت میں کام کر رہے تھے، وہ سب کچھ چھوڑ کر دھوئیں کی طرف دوڑے۔ اب یہ تفصیلات انھیں ٹکڑوں کی صورت میں یاد ہیں: دھماکہ، تپش، باورچی خانے میں بکھرے گیس سلنڈر اور بیوی کی تلاش کے لیے ہر کمرے میں جا کر پکارنا؛ سرلا! سرلا!!
ان کے گرد کچھ لوگ ملبے میں پھنسے تھے، کچھ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور امدادی ٹیمیں دھوئیں اور ملبے سے لڑ رہی تھیں۔ تقریباً ایک ہفتے تک خاندان احمد آباد کے ہسپتالوں، وارڈز اور امدادی کیمپوں کے چکر لگاتا رہا۔ ہر بار وہ کسی افواہ کا پیچھا کرتا اور ہر بار وہی سوالات پوچھتا۔
چھ دن بعد انھیں سر لابین اور آدھیا ایک ہسپتال کے مردہ خانے میں ملیں۔
آج جب ٹھاکر آدھیا کو یاد کرتے ہیں تو انھیں یہ بات بھی یاد آتی ہے کہ کیسے وہ ان کے لیے بسکٹ لے کر گھر جاتے تھے اور کیسے وہ دوڑ کر ان کی بانہوں میں آیا کرتی تھیں۔ جب وہ سرلابین کا ذکر کرتے ہیں تو انھیں ایک ایسی خاتون یاد آتی ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کو کھانا کھلانے میں گزارا۔
وہ کہتے ہیں: ’ہر کوئی ان سے گھل مل جاتا تھا، وہ بہت اچھی خاتون تھیں۔‘
جس وقت ٹھاکر دھوئیں کی طرف دوڑ رہے تھے، میس کے اندر طلبہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہوا کیا ہے۔
ارمان خان پٹھان دوپہر کے کھانے کے لیے دیر سے پہنچے۔ ان کے بہترین دوست آدتیہ دیال اس سے بھی زیادہ دیر سے پہنچے۔
چند منٹ کی یہ تاخیر انھیں حادثے سے تو بچا گئی لیکن وہ ان کی یادوں کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔
پٹھان ابھی کھانے کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ ایک کان پھاڑ دینے والی آواز سنائی دی۔ چند لمحوں بعد عمارت کا ایک حصہ گر گیا اور ایک میز نے ان کی ٹانگوں کو دبا لیا۔ سلنڈر پھٹنے لگے اور ان کے دھماکوں نے امدادی کارکنوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ کمرہ گرد و غبار سے بھر چکا تھا، پٹھان کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی، انھوں نے ہاتھ کی ضرب سے کھڑکی کا شیشہ توڑ دیا۔
وہ یاد کرتے ہیں: ’وہاں گہرا اندھیرا تھا۔ میرا دم گھٹ رہا تھا۔‘
جب تک امدادی کارکنوں نے انھیں باہر نکالا اس وقت تک دیال بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔
دیال یاد کرتے ہیں کہ طلبہ ہر سمت میں بھاگ رہے تھے اور سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کیا ہوا ہے، جبکہ جس عمارت میں وہ اور ان کے دوست تقریباً روزانہ کھانا کھایا کرتے تھے، وہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
دیال نے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر پٹھان کو ایمبولینس تک پہنچایا۔
ایک سال بعد اپنے ہاسٹل کے کمرے میں بیٹھے یہ دونوں دوست یاد کرتے ہیں کہ اس دوپہر کتنی لاشیں لائی گئی تھیں۔ بطور زیر تربیت ڈاکٹر وہ موت سے ناواقف تو نہیں تھے، مگر اس صورتحال کے لیے تیار بھی نہیں تھے۔
بہت سے متاثرین اس بری طرح سے جل چکے تھے کہ انھیں پہچاننا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ دیال کہتے ہیں کہ جلے ہوئے جسموں کی بو انھیں آج بھی اچانک محسوس ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہZoya Mateen
وہ ان دوستوں کی باتیں کرتے ہیں جو اس حادثے میں جان سے چلے گئے۔ پٹھان ایک ہم جماعت کا ذکر کرتے ہیں جو کئی بہنوں کے واحد بھائی تھے اور سارے خاندان نے اپنی تمام امیدیں ان ہی سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، انھوں نے بھی اپنے مستقبل کے لیے کئی برس تک محنت کی تھی، لیکن چند سیکنڈز میں سب ختم ہو گیا۔
کچھ لوگ اب بھی اس حادثے کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
جب طیارہ گرا، اس وقت بریجیش دو دوستوں کے ساتھ سکوٹر پر میس کی طرف جا رہے تھے۔ آگ سے لگے زخموں کے لیے وہ اب بھی فزیوتھراپی کروا رہے ہی، وہ احمد آباد کی گرمی میں دباؤ والے کپڑے پہنتے ہیں اور کتابوں کے صفحات پلٹنے میں انھیں دقت ہوتی ہے۔
بریجش کہتے ہیں کہ ’یہ ہو گیا، اب کیا کیا جا سکتا ہے؟‘
وہ کبھی کبھار ملبے کے پاس سے گزرتے ہیں۔ بہت سے طلبہ کی طرح انھوں نے بھی نظر چرانے کی عادت ڈال لی ہے۔
لیکن کالج کے ارد گرد رہنے والے لوگوں کے پاس یہ اختیار کم ہے۔
حادثے کے دن دوپہر کو وجے تقریباً 200 میٹر دور اپنے گھر میں تھے، جب انھوں نے دھماکے کی آواز سنی۔ وہ اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اس طرف روانہ ہوئے۔ جب تک وہ پہنچے، طیارہ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا اور آگ عمارتوں میں پھیل رہی تھی۔
اس محلے کے لوگ فائرفائٹرز، فوجیوں اور ہنگامی عملے کے ساتھ مل کر امدادی کاموں میں حصہ لیتے رہے۔
حادثے کی یاد اب بھی انھیں پریشان کرتی ہے۔
وجے کہتے ہیں: ’جہاں بھی دیکھتا ہوں، آگ ہی نظر آتی ہے۔ کسی کا سر، کسی کا ہاتھ۔‘

،تصویر کا ذریعہZoya Mateen
آنے والے ہفتوں میں، شہر کی توجہ آہستہ آہستہ بٹ گئی۔ ایمبولینسز چلی گئیں، ٹیلی ویژن کے عملے بھی چلے گئے۔
اور پھر مشکل مرحلہ آیا، بی جے میڈیکل کالج میں زندگی کو دوبارہ شروع ہونا تھا۔
اس کا زیادہ تر بوجھ ڈین میناکشی پاریکھ پر آ پڑا، بے پناہ غم کے باوجود جنھیں کالج کو فعال رکھنا تھا۔
وہ یاد کرتی ہیں کہ یہ ایک نہیں کئی سانحات کا مجموعہ تھا: والدین اپنے بچوں کو تلاش کر رہے تھے، زخمی طلبہ کا علاج جاری تھا، کام کے بوجھ سے عملہ تھک چکا تھا، اور خاندان ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ایک جانب وہ ضروری کاموں میں مصروف تھیں اور دوسری جانب یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ یہ سب کیا ہوا۔
ایک گفتگو ان کے ذہن میں رہ گئی ہے۔
اپنے بیٹے، بہو اور پوتی کو کھو دینے والے ایک شخص اس وقت تک جانے پر آمادہ نہیں تھے جب تک وہ ان کی لاشیں نہ دیکھ لیں۔ حکام نے وضاحت کی کہ شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ ضروری ہے۔
اس شخص نے اصرار کیا کہ وہ اپنے خاندان کو کسی بھی حالت میں پہچان لیں گے اور کہا: ’میری آنکھیں ہی ڈی این اے ٹیسٹ ہیں۔‘
وقت کے ساتھ کالج میں زندگی لوٹ آئی۔ کلاسیں دوبارہ شروع ہوئیں، امتحانات منعقد ہوئے اور نئے طلبہ آئے۔
12 جون کو اس سانحے کی برسی پر کالج نے دعائیہ اجتماع منعقد کرنے، خون عطیہ کرنے کی مہم چلانے اور مرنے والوں کی یاد میں درخت لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
تاہم پاریکھ کہتی ہیں کہ آگے بڑھنا اور بات ہے، سب کچھ بھول جانا دوسری۔
وہ کہتی ہیں: ’ایسا کوئی ایک لمحہ بھی نہیں تھا جب مجھے لگا کہ میں نے اس صدمے کو مکمل طور پر سمجھ لیا ہے۔‘
ٹھاکر بھی یہی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ اپنا فون اٹھاتے ہیں۔ اس پر ایک ویڈیو ہے جسے وہ اکثر دیکھا کرتے ہیں۔ یہ حادثے سے ایک دن پہلے ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس میں آدھیا احتیاط سے اپنی دادی کو کھانے کا نوالہ کھلاتی ہیں اور سرلابین مسکراتی ہیں۔
باہر، احمد آباد کے آسمان پر ایک اور طیارہ پرواز کر رہا ہے۔
ٹھاکر اوپر نہیں دیکھتے۔



























