نامعلوم کالر کی معلومات سمیت واٹس ایپ کے نئے سکیورٹی فیچرز

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

کئی برسوں سے واٹس ایپ اکاؤنٹ کی حفاظت کا ایک اہم ذریعہ صرف چھ ہندسوں پر مشتمل ’پِن‘ تھا۔ مگر اب یہ طریقہ تبدیل ہونے جا رہا ہے۔

میٹا کی اس میسجنگ ایپ نے صارفین کے اکاؤنٹس کو ہیکرز اور آن لائن فراڈ سے مزید محفوظ رکھنے کے لیے نئے سکیورٹی فیچرز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

سب سے بڑی تبدیلی ’ٹو سٹپ ویریفیکیشن‘ میں آ رہی ہے۔ اب صارفین صرف چھ ہندسوں پر مشتمل پِن کے بجائے حروف، نمبرز اور خاص علامات والا مضبوط پاس ورڈ بھی رکھ سکیں گے۔

واٹس ایپ ’پاس کی‘ کا آپشن بھی مزید بہتر کر رہا ہے۔ اینڈرائیڈ صارفین کو نامعلوم نمبرز سے آنے والی کالز کے بارے میں پہلے ہی مزید معلومات فراہم کی جائیں گی، تاکہ وہ آسانی سے فیصلہ کر سکیں کہ کال اٹھانی ہے یا نہیں۔

یہ اپ ڈیٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب ہیکرز فِشنگ اور سوشل انجینیئرنگ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے کر ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یعنی اب نشانہ صرف ایپ کی سکیورٹی نہیں، خود صارف بھی ہے۔

دنیا بھر میں تین ارب سے زیادہ لوگ واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں، اس لیے سکیورٹی میں یہ تبدیلی چھوٹی ضرور لگتی ہے، لیکن اس کا فائدہ بہت بڑی تعداد میں صارفین کو ہوگا۔

سادہ لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ واٹس ایپ اب اکاؤنٹ کی حفاظت کے لیے صرف چھ ہندسوں کے پن پر انحصار نہیں کرنا چاہتا، بلکہ صارفین کو زیادہ مضبوط سکیورٹی دینا چاہتا ہے۔

واٹس ایپ

،تصویر کا ذریعہWHATSAPP

،تصویر کا کیپشنواٹس ایپ کے نئے سکیورٹی فیچرز کے بارے میں ایک تصویر

واٹس ایپ کے نئے سکیورٹی فیچرز کیا ہیں؟

واٹس ایپ کے مطابق آپ کی چیٹس صرف آپ اور جن لوگوں سے آپ بات کر رہے ہیں، انہی کی ہیں۔ اسی لیے واٹس ایپ پر چیٹس پہلے ہی اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوتی ہیں اور اب اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید آپشنز بھی دیے جا رہے ہیں۔

  • ایک ارب سے زیادہ لوگ ’پاس کی‘ استعمال کر رہے ہیں جس کے ذریعے آپ فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا فون کے سکرین لاک سے واٹس ایپ میں دوبارہ لاگ اِن کر سکتے ہیں۔ اس میں کسی کوڈ یا پن کو یاد رکھنے کی ضرورت نہیں۔ واٹس ایپ کے مطابق ایک ارب سے زیادہ لوگ پہلے ہی پاس کی سیٹ کر چکے ہیں۔ اگر آپ اینڈرائیڈ اور آئی فون، دونوں استعمال کرتے ہیں تو اب ایک اکاؤنٹ میں ایک سے زیادہ پاس کی بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ اسے سیٹ کرنے کے لیے سیٹنگز میں جائیں، پھر اکاؤنٹ اور اس کے بعد پاس کی کے آپشن میں جائیں۔
  • ٹو سٹپ ویریفیکیشن اب زیادہ مضبوط ہوگی۔ یہ اکاؤنٹ کے لیے سکیورٹی کی ایک اضافی تہہ یعنی شیلڈ ہے۔ اگر کسی کے ہاتھ آپ کا ون ٹائم کوڈ بھی لگ جائے، تب بھی اکاؤنٹ پر قبضہ کرنا مشکل ہوگا۔ پہلے یہاں صرف چھ ہندسوں کا پن ہوتا تھا، لیکن اب آپ لمبا پاس ورڈ، حروف، نمبرز اور خصوصی علامات کے ساتھ بنا سکیں گے۔ اگر آپ اب بھی ’123456‘ جیسا پاس ورڈ استعمال کر رہے ہیں تو اسے بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔
  • نامعلوم کال سے پہلے مزید معلومات یعنی اگر کسی ایسے نمبر سے کال آئے جو آپ کے کانٹیکٹس میں محفوظ نہیں، تو فوراً کال اٹھانے کے بجائے کچھ اضافی معلومات مددگار ہو سکتی ہیں۔ اینڈرائیڈ پر اب واٹس ایپ یہ بھی بتائے گا کہ نمبر کسی دوسرے ملک کا تو نہیں اور کیا آپ کی اس شخص کے ساتھ کوئی مشترکہ گروپ ہے۔ اس طرح اگر کال مشکوک ہو تو آپ کے پاس جواب دینے سے پہلے سوچنے کا ایک موقع ہوگا۔

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ فراڈ کرنے والے اکثر لوگوں کو جلدی میں فیصلہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس لیے نامعلوم کال کے بارے میں تھوڑی سی اضافی معلومات بھی آپ کو دھوکے سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

واٹس ایپ اپنی سکیورٹی اور پرائیویسی کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل نئے فیچر متعارف کر رہا ہے۔

اسی سلسلے میں رواں سال جون میں کمپنی نے ایک اور سہولت پیش کی تھی، جس کا مقصد اُن صارفین کی مشکل حل کرنا تھا جو کچھ لوگوں سے رابطے میں رہنا تو چاہتے ہیں مگر اپنا فون نمبر شیئر نہیں کرنا چاہتے۔

اس کے لیے واٹس ایپ نے یوزر نیم فیچر متعارف کرایا تھا، جس کے ذریعے کوئی بھی شخص صرف آپ کے یوزر نیم کے ذریعے آپ سے رابطہ کر سکتا ہے۔

یوں آپ کا فون نمبر خفیہ رہتا ہے اور سامنے والا نہ آپ کو براہِ راست کال کر سکتا ہے اور نہ ہی ایس ایم ایس بھیج سکتا ہے۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مگر اس سے بھی قبل سنہ 2023 میں واٹس ایپ نے نامعلوم کالر کی کال سائلنٹ پر لگانے کا فیچر بھی متعارف کرایا تھا۔

سنہ 2023 میں واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی پرائیویسی مزید مضبوط بنانے کے لیے ’سائلنس اَن نون کالرز‘ اور ’پرائیویسی چیک اَپ‘ کے دو فیچرز اپنے سسٹم میں شامل کیے تھے۔

’سائلنس اَن نون کالرز‘ نامعلوم، سپیم اور فراڈ کالز کو فون پر رنگ کیے بغیر خاموش کر دیتا ہے، تاہم یہ کالز کال لسٹ میں نظر آتی رہیں گی۔

دوسری جانب ’پرائیویسی چیک اَپ‘ صارفین کو مرحلہ وار پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لینے اور پیغامات، کالز اور ذاتی معلومات کے لیے اپنی پسند کے مطابق حفاظتی اقدامات منتخب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ساتھ ہی واٹس ایپ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ ایپ نجی رابطوں کو محفوظ بنانا اس کی ترجیح ہے، اسی لیے کمپنی صارفین کو محفوظ ماحول میں دوستوں اور اہل خانہ سے نجی پیغام کے ذریعے رابطہ رکھنے کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔