کنگنا کی تنقید پر کریتی سینن کا جواب: انڈیا میں راکھی کے تہوار پر اشتہار اور لباس کا تنازع

کریتی سینن، کنگنا رناوت

،تصویر کا ذریعہGetty Images/YouTube

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, ویمن افیئرز ایڈیٹر، انڈیا
    • مقام, دلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انڈیا میں زیورات کی ایک کمپنی کو رکشا بندھن کے تہوار سے متعلق اپنے اشتہار پر خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد اس نے اشتہار ہٹا دیا ہے۔ اشتہار پر تنقید کی ایک وجہ یہ تھی کہ بعض حلقوں نے مرکزی اداکارہ کے لباس کو نامناسب قرار دیا تھا۔

اس اشتہار میں بالی وڈ کی مقبول اداکارہ کریتی سینن کو ہندو تہوار مناتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس تہوار میں بہنیں اپنے بھائیوں کی کلائیوں پر ’راکھی‘ نامی دھاگا باندھتی ہیں۔

کریتی سینن نے اشتہار میں ایک ٹاپ اور سکرٹ پہنی ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنے لباس پر تنقید کے بعد کہا کہ ’ثقافت اور روایات ایک عورت کے دل میں ہوتی ہیں، قمیض کے گلے میں نہیں!‘

یہ تنازع منگل کو اس وقت شروع ہوا جب اداکارہ اور بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے کہا کہ اشتہار کو ’جان بوجھ کر‘ ایسا بنایا گیا ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کوئی شخص ’بِکنی پہن کر راکھی کیوں باندھے گا؟‘

لباس پر کنگنا کی تنقید مگر راہل گاندھی کی حمایت

سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے اپنے تبصروں میں رناوت نے سینن کا نام نہیں لیا۔ لیکن بظاہر وہ انھی کی جانب اشارہ کر رہی تھیں۔

انھوں نے لکھا کہ ’عورت ہونے کے لیے یہ ایک شاندار وقت ہے، ہماری الماریوں میں مختلف قسم کے کپڑوں کی بھرمار ہے۔۔۔ تمام کپڑوں میں سے آپ اپنے بھائی کو بِکنی یا زیر جامہ پہن کر راکھی کیوں باندھیں گی؟ آپ کے دوسرے لباس کہاں ہیں؟ یہ اشتہار جان بوجھ کر ایسا بنایا گیا۔‘

ان کے تبصروں نے تیزی سے آن لائن توجہ حاصل کی اور بعض صارفین نے سینن کے لباس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت زیادہ نمایاں اور روایتی تہوار کے لیے نامناسب تھا۔

ایک تبصرہ نگار نے ان کے ٹاپ کو ’بہت مختصر‘ قرار دیتے ہوئے اختلاف کیا کہ ’ہندو تہواروں کے حوالے سے حساس رہنے کی واضح حد موجود ہے۔‘

انھوں نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’راکھی بندھن جیسے مقدس موقع کے ساتھ اس طرز کے لباس کو جوڑنا مکمل طور پر ناموزوں اور غیر ضروری محسوس ہوا۔‘

بعض دیگر افراد نے اشتہار کے اس منظر پر بھی اعتراض کیا جس میں اداکارہ اپنے پالتو کتے کو بھی راکھی باندھتی ہیں۔

تاہم سینن کو حمایت بھی حاصل ہوئی، جن میں کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ راہل گاندھی بھی شامل ہیں۔ انھوں نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایک عورت کیا پہننا چاہتی ہے، یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے۔

کئی افراد نے رناوت پر ’اخلاقی پولیسنگ‘ کا الزام بھی لگایا۔

The Giva jewellery ad with Kriti Sanon
،تصویر کا کیپشناشتہار میں بالی وڈ کی مقبول اداکارہ کریتی سینن کو اپنے بھائی کی کلائی پر راکھی باندھتے ہوئے دکھایا گیا تھا

بعض لوگوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگرچہ سیاست دان بننے کے بعد رناوت حالیہ برسوں میں اپنے لباس کے معاملے میں زیادہ قدامت پسند ہو گئی ہیں، لیکن وہ خود اپنی فلموں اور سماجی تقریبات میں اکثر مختصر لباس اور مغربی طرز کے ملبوسات پہنتی رہی ہیں۔

سینن نے انسٹاگرام سٹوری میں ناقدین کو جواب دیتے ہوئے اس ذہنیت پر تنقید کی جس میں خواتین کے لباس کے انتخاب پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

رناوت کی طرح انھوں نے بھی کسی کا نام براہِ راست نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تہواروں کی اصل روح آپ کے پہننے والے کپڑوں میں نہیں ہوتی بلکہ ان جذبات اور معنوں میں ہوتی ہے جو آپ روایات کے لیے اپنے دل میں رکھتے ہیں۔‘

’ہم خواتین کو یہ بتانا کب بند کریں گے کہ انھیں کیا پہننا چاہیے؟ نسلی فیشن برسوں کے دوران بدل چکا ہے، لیکن اب بھی ایک عورت کے اپنی ثقافت کے احترام کو صرف اس کے کپڑوں سے ناپا جاتا ہے!‘

’ثقافت اور روایات اس کے دل میں ہوتی ہیں، اس کے قمیض کے گلے میں نہیں۔‘

کریتی سینن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکریتی سینن نے اپنے پالتو جانور کو راکھی باندھنے کے معاملے پر بھی بات کی

کتے کو راکھی پہنانے پر بھی بحث

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سینن نے اپنے پالتو جانور کو راکھی باندھنے کے معاملے پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ تہوار روایتی طور پر بھائی اور بہن کے رشتے کا جشن مناتا ہے، لیکن اس کی روح اپنے پیاروں کی حفاظت سے متعلق ہے، جن میں ان کے لیے ان کی بہن اور ان کا پالتو جانور بھی شامل ہیں۔

ان کے پُرجوش دفاع کے باوجود جیولری کمپنی جیوا نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ اشتہار ہٹا رہی ہے۔

جیوا نے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’ہم انڈین ثقافت، روایات اور تہواروں کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ ایک برانڈ کے طور پر ہم ہمیشہ پورے خاندان کے ساتھ ان خوشگوار لمحات کو منانے پر یقین رکھتے ہیں اور اس بار ہم اپنے پالتو جانوروں تک بھی اس محبت اور خوشی کو پھیلانا چاہتے تھے۔‘

’اگر ہمارے حالیہ اشتہار سے غیر ارادی طور پر معاشرے کے بعض طبقات کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو یہ ہرگز ہماری نیت نہیں تھی۔ احتراماً ہم نے یہ اشتہار تمام ذرائع ابلاغ سے واپس لے لیا ہے۔‘

جیوا پہلا انڈین برانڈ نہیں ہے جس نے سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد اشتہار واپس لیا ہو۔

سن 2020 میں مقبول جیولری برانڈ تنشق نے ایک ہندو مسلم جوڑے پر مبنی اشتہار اس وقت ہٹا دیا تھا جب اسے آن لائن دائیں بازو کے حلقوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

خواتین کو کیا پہننا چاہیے اور کیا نہیں، اس پر بحث بھی انڈیا میں بار بار تنازع کا باعث بنتی رہی ہے۔

گذشتہ سال حسن کے مقابلے کی ایک امیدوار کو اس وقت سراہا گیا جب انھوں نے ان مردوں کے ایک گروہ کا مقابلہ کیا جو ان کو اور دیگر امیدواروں کو ان کی سکرٹس اور مغربی طرز کے لباس کی وجہ سے ہراسانی کا نشانہ بناتے تھے۔

سنہ 2021 میں اس وقت غم و غصے کا اظہار کیا گیا جب 19 سالہ طالبہ، جو شارٹس پہن کر امتحان دینے آئی تھی، کو استاد کے اعتراض کے بعد اپنی ٹانگوں پر پردہ لپیٹنے پر مجبور کر دیا گیا۔

اسی سال ہزاروں خواتین اور بعض مردوں نے پھٹی ہوئی جینز پہن کر اپنی تصاویر شیئر کیں جب شمالی ریاست اتراکھنڈ کے وزیرِ اعلیٰ نے ایک خاتون کی جانب سے ایسا لباس پہننے پر تنقید کی تھی۔