علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں چھپا پیغام: بی بی سی نے تہران میں کیا دیکھا؟

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
- مصنف, لیز ڈوسیٹ
- عہدہ, عالمی اُمور کی نامہ نگار، بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
سابق ایرانی رہبر اعلی کی ہلاکت پر تہران میں تین روزہ سوگ ایک ایسے سیاسی مظاہرے میں بدل گیا جو کہ ایران کی موجودہ قیادت دنیا کو دکھانا چاہتی تھی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار افراد کے تابوت 10 کلومیٹر کے راستے پر آہستہ آہستہ آگے بڑھے۔ اس کی رفتار لاکھوں سوگواروں کی وجہ سے سست رہی اور یہ قافلہ کئی بار رُکا بھی۔ یہ ایران میں گذشتہ کئی برسوں کے دوران سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک تھا۔
ایک ہفتے تک جاری الوداعی رسومات میں پیر کا جلوس سب سے اہم تھا جسے کچھ اس طرح ترتیب دیا گیا تاکہ اسے مزاحمت اور انتقام کا سیاسی پیغام بنایا جا سکے۔
تاہم بہت سے لوگ اس سے دور بھی رہے۔ وہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دو جنگوں، تقریباً 80 فیصد تک افراط زر اور جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاج اور کریک ڈاؤن کے درد سے دوچار تھے۔
بعض لوگ علی خامنہ ای کو اس کریک ڈاؤن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے کیونکہ اس وقت مسلح افواج کے سربراہ بھی تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہر اور اس کے مضافات میں قائم متعدد ’موکب‘ میں سے ایک کے باہر ایک شخص نے ہمیں بتایا کہ ’میں یقیناً اس جنازے میں نہیں جا رہا۔‘ یہ وہ آرام گاہیں ہیں جہاں مفت کھانا اور پانی فراہم کیا جاتا ہے اور جن کا بیشتر خرچ نجی عطیات سے پورا ہوتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’بہت سے لوگوں کے پاس روزگار نہیں اور وہ بہت ناخوش ہیں۔‘
پیر کے جلوس کی فضائی تصاویر میں تہران کی ایک اہم شاہراہ سوگ میں ڈوبے وفادار افراد سے بھری ہوئی دکھائی دی۔ وہاں لوگ اسلامی جمہوریہ ایران کے معروف نعرے ’امریکہ مردہ باد‘ اور ’اسرائیل مردہ باد‘ لگا رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ یہ ’جعلی آنسو‘ ہیں۔ پزشکیان نے کہا کہ ’آنسو اس درد اور غم سے پیدا ہوتے ہیں جو انسان کے اندر ہو۔ اور دنیا اس حقیقت کو سمجھتی ہے۔‘
اب یہ تقریبات شیعہ مسلمانوں کے سب سے مقدس مقامات کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ یہ تقاریب منگل کو تہران کے جنوب میں واقع قم اور پھر پڑوسی ملک عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں ہوں گی۔
تدفین جمعرات کو مشہد میں واقع وسیع امام رضا مزار پر ہو گی جو علی خامنہ ای کی جائے پیدائش اور ایران کا سب سے مقدس شہر ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تہران یونیورسٹی کے محقق محمد اسلامی نے کہا کہ ’جنازے کی کارروائیاں اس انداز میں ترتیب دی گئی ہیں کہ انھیں صرف ایک قومی رہنما نہیں بلکہ ایک ایسی مذہبی اور سیاسی شخصیت کے طور پر پیش کیا جائے جو قومی حدود سے بالاتر ہو اور جس کا اختیار عالم اسلام، خصوصاً شیعہ اسلام، تک پھیلا ہوا تھا۔‘
مگر ان کی پہچان کے بارے میں سخت رائے بھی پائی جاتی ہے۔ جیسے کتاب 'ریڈنگ خامنہ ای: دی ورلڈ ویو آف ایرانز موسٹ پاورفُل لیڈر' کے مصنف کریم سجاد پور کے مطابق ’جس انقلاب کو انھوں نے محفوظ رکھا، وہ ایک ایسی دنیا کے لیے تھا جو اب موجود نہیں رہی۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تہران میں ایک کھلے ٹرک پر، جسے نفیس جالی دار نقش و نگار اور عربی اسلامی خطاطی سے سجایا گیا تھا، پانچ تابوت رکھے گئے تھے۔ ان پر ایران کے پرچم کے سبز، سفید اور سرخ رنگ تھے۔ ان میں خامنہ ای کی 14 ماہ کی پوتی زارا کا سب سے چھوٹا تابوت بھی شامل تھا۔
یہ سب 28 فروری کو جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ہونے والے اسرائیلی و امریکی فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔
سیاہ لباس میں ملبوس سوگواروں کے ہجوم میں سرخ رنگ سب سے نمایاں تھا۔ خون اور شہادت کی علامت مذہبی جھنڈوں نے رہبر اعلیٰ کے قتل کا بدلہ لینے کے مطالبات کو مزید تقویت دی۔
انگریزی زبان میں چھپے ہوئے ایسے پوسٹر بلند کیے گئے جن میں ٹرمپ کو مرکزی ہدف قرار دیا گیا تھا۔ ان کا مقصد ان سینکڑوں غیر ملکی صحافیوں تک پیغام پہنچانا تھا جنھیں اس جنازے کی کوریج کے لیے غیر معمولی رسائی دی گئی تھی۔
ایک ایرانی میسجنگ ایپ نے حکومت کے حامیوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ’ہمارا انتقام ناگزیر ہے‘ اور ’وہ قیمت چکائیں گے، سخت قیمت‘ جیسے نعرے استعمال کریں۔
سفید بالوں والے ایک شخص موجتبیٰ، جو خود ہمارے پاس آئے اور کہا کہ وہ ایک پیغام دینا چاہتے ہیں، نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ اور دنیا سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔‘
’بہت جلد، بہت جلد آپ وائٹ ہاؤس کی چوٹی پر انتقام کے آثار دیکھیں گے اور جلد ہی وائٹ ہاؤس کا رنگ میرے سرخ پرچم جیسا ہو جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایک حکومتی عہدیدار نے مجھے بتایا کہ ’ان میں سے بعض مطالبات محض رسمی نوعیت کے ہیں لیکن نظام کے اندر سخت گیر ناقدین میں غصہ حقیقی ہے۔ وہ امریکہ، جس نے ہمارے رہنما کو قتل کیا، کے ساتھ اس نئے معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں۔‘
کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ سے بچ نکلنے کے بعد سنگین مالی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایران کی نئی قیادت اب مذاکرات جاری رکھنے پر مجبور ہے۔ وہ پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے ذریعے معاشی ریلیف حاصل کرنا چاہتی ہے۔
حکومت کے حامیوں پر مشتمل خوش آمدیدی ہجوم میں لوگ مسلسل غیر ملکیوں، جن میں حکومت کے مطابق 400 سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی شامل تھے، کے پاس آتے ہیں اور پوچھتے تھے کہ ’آپ کہاں سے ہیں؟‘
وہ اکثر آنے والے میڈیا کے نمائندوں سے کہتے تھے کہ ’سچ بتائیں۔‘
تاہم اس ہجوم میں دوسری آوازیں بھی موجود تھیں۔ دو نوجوان ایرانی خواتین، جو بیشتر خواتین سوگواروں کی طرح سیاہ عبایا پہنے ہوئے تھیں، ہمیں ایک طرف لے گئیں اور دھیمی آواز میں کہا کہ 'انقلاب کی حقیقی آوازیں' چند ماہ قبل انھی سڑکوں پر ہونے والے احتجاج میں سنائی دی تھیں۔
1979 کے انقلاب کے بانیوں کی پہلی نسل کے آخری فرد کی تدفین کے ساتھ ایران کے لیے آگے کا راستہ اب بھی غیر یقینی ہے۔
تقریباً چار دہائیاں قبل میں ایران میں موجود تھی جب وہاں پہلے رہبر اعلی آیت اللہ خمینی کی تدفین ہو رہی تھی۔ ہجوم کی بے قابو بھگدڑ میں ان کا کمزور لکڑی کا تابوت ٹوٹ گیا تھا اور سفید کفن میں لپٹا ان کا جسد ہجوم میں جا گرا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنے تیسرے رہبر اعلی 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ایران ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اپنے والد کی جان لینے والے فضائی حملوں میں شدید زخمی ہونے کے بعد وہ اب تک عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔
گرینڈ مصلیٰ مسجد کے وسیع و عریض کھلے احاطے میں جہاں ان کے والد کی میت عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی تھی، ان کے تین بھائیوں کی موجودگی نے ان کی غیر موجودگی کو اور زیادہ نمایاں کر دیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے انھیں قتل کرنے کی دھمکیاں اب بھی جاری ہیں۔
ہمدان سے چار گھنٹے کی مسافت کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ جلوس میں شرکت کرنے والی ایک خاتون نے کہا کہ 'وہ میرے دل میں ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ٹرمپ اور نیتن یاہو سے محفوظ رہیں گے۔'
تاہم جسے ایرانی منتظمین نے ’ایک صدی کی سب سے بڑی تقریب‘ قرار دیا، اس میں دیگر علامتوں کو بھی نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان میں سب سے بڑی علامت ایک بہت بڑا مجسمہ ہے جس میں بند مٹھی دکھائی گئی ہے اور جو اب 'انقلاب چوک' پر بلند کھڑا ہے۔
یہ ’مزاحمت کی مٹھی‘ ایران کے اندر اور باہر موجود دشمنوں کو یہ پیغام دینے کے لیے بنائی گئی ہے کہ اسلامی جمہوریہ کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
























