’اوورسپیڈنگ کے جرمانے واپس کیے جائیں‘: پاکستان میں موٹر ویز پر 100 کلو میٹر فی گھنٹہ کی حد رفتار کی مخالفت کیوں؟

پاکستان، موٹر وے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران پاکستان میں موٹر ویز اور ہائی ویز پر کفایت شعاری کی خاطر حدِ رفتار کم کی گئی تھی مگر اب کئی لوگ اس اقدام سے ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے موٹرویز اور ہائی ویز پر گاڑیوں کی حدِ رفتار میں کمی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر اس میں نامزد فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اس درخواست پر وفاق کے علاوہ وزارت مواصلات، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی اور موٹروے و ہائی وے پولیس کے سربراہ کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

عدالت نے فریقین سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے اور درخواست کی اگلی سماعت 23 جون کو ہو گی۔

دریں اثنا نیشنل ہائی ویز اور موٹروے پولیس کے ترجمان ثاقب وحید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ فیصلہ وفاقی حکومت نے کیا تھا جس کا مقصد ایندھن کی بچت ہے۔

’ایندھن میں بچت کی بنیاد پر رفتار کی حد کم نہیں کی جا سکتی‘

بیرسٹر منصور اعظم کے توسط سے دائر اس درخواست میں 26 مارچ 2026 کو نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر رفتار کی حد میں اچانک کی جانے والی کمی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست میں درخواست گزار قیصر اکرام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موٹروے پولیس نے اس اقدام کو ایندھن کی بچت، توانائی کے مؤثر استعمال اور حکومتی کفایت شعاری پالیسی کا حصہ قرار دیا، جس کے تحت موٹرویز پر کاروں اور لائٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی۔

رِٹ پٹیشن میں یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ مذکورہ اقدام نیشنل ہائی ویز سیفٹی آرڈیننس 2000 کی دفعات 42، 46 اور 64 کے صریح منافی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق قانون رفتار کی حد میں کمی کی اجازت صرف اس صورت میں دیتا ہے جب ایسا اقدام عوامی تحفظ، عوامی سہولت یا کسی مخصوص سڑک یا پل کی نوعیت کے باعث ضروری ہو۔

موٹر وے پولیس

،تصویر کا ذریعہMotorway Police/X

،تصویر کا کیپشنموٹر وے پولیس اس وقت 100 کلو میٹر فی گھنٹے کی حدِ رفتار پر عملدرآمد کرا رہی ہے اور اوورسپیڈنگ پر 2500 روپے کے جرمانے کیے جا رہے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور موٹروے پولیس نے رفتار میں کمی کی جو وجوہات بیان کی ہیں، جن میں ایندھن کی بچت اور توانائی کا تحفظ شامل ہیں، وہ قانون میں درج مجاز بنیادوں میں شامل نہیں ہیں اور اس طرح کے اقدامات قانونی اختیار سے تجاوز اور آئین کے منافی ہیں۔

رِٹ پٹیشن میں نشاندہی کی گئی ہے کہ قانون کے تحت گاڑیوں کی رفتار میں تبدیلی کے لیے مخصوص طریقۂ کار، مجاز اتھارٹی کی کارروائی اور سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن ضروری ہوتا ہے۔

درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رفتار کی حد ایک انتظامی اعلان کے ذریعے نافذ کی گئی، جس کے نتیجے میں موٹرویز اور ہائی ویز پر سفر کرنے والے ہزاروں صارفین کو جرمانوں، چالانوں اور دیگر تعزیری کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

درخواست میں آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاستی ادارے صرف قانون کے مطابق ہی اختیارات استعمال کر سکتے ہیں، اور کسی شہری پر ایسی پابندیاں یا تعزیری اقدامات نافذ نہیں کیے جا سکتے جن کی واضح قانونی اجازت موجود نہ ہو۔ مزید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی انتظامی حکم قانون کے دائرے سے باہر دیا جائے تو وہ اقدام ماورائے قانون تصور ہو گا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر رفتار کی حد میں کی گئی کمی کو غیر قانونی، بلااختیار اور کالعدم قرار دیا جائے اور اس بنیاد پر عائد جرمانوں اور دیگر کارروائیوں کو غیر مؤثر قرار دیا جائے۔

یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کو قانون میں درج شرائط اور طریقۂ کار کے بغیر ایسی پابندیاں نافذ کرنے سے روکا جائے۔

موٹروے پولیس کا کیا موقف ہے؟

دوسری جانب نیشنل ہائی ویز اور موٹروے پولیس کے ترجمان ثاقب وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ ہائی ویز اور موٹرویز پر رفتار میں کمی کا فیصلہ وفاقی حکومت کا تھا، جس پر ان کے ادارے نے عمل درآمد یقینی بنایا۔

انھوں نے کہا کہ ایندھن کی بچت کے لیے ان شاہراہوں پر گاڑیوں کی رفتار کم کی گئی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ رفتار میں کمی سے قبل پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر آگاہی مہم بھی چلائی گئی۔

ثاقب وحید کے مطابق اس سلسلے میں موٹرویز اور ہائی ویز اور وہاں قائم ٹول پلازوں پر بڑے بینرز بھی آویزاں کیے گئے تاکہ لوگوں کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ رفتار کی حد میں کمی کے بعد سے موٹرویز پر کتنی مالیت کے چالان کیے جا چکے ہیں۔ خیال رہے کہ موٹروے پر حدِ رفتار سے تیز کار چلانے پر 2500 روپے جرمانہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ رفتار کی خلاف ورزی پر جرمانوں سے حاصل ہونے والی رقم موٹروے پولیس کے پاس نہیں جاتی بلکہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی وصول کرتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر وفاقی حکومت کی جانب سے رفتار سے متعلق مزید ہدایات موصول ہوئیں تو موٹروے و ہائی وے پولیس ان پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

فیول

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبعض ماہرین کا ماننا ہے کہ موٹر وے پر رفتار میں کمی سے گاڑیوں کی فیول اکانومی بہتر ہوتی ہے

ایندھن کی بچت یا سفر کے دورانیے میں اضافہ؟

اس کا کہنا ہے کہ تیز رفتاری سے ’ہائی وے پر تقریباً 15 فیصد سے 30 فیصد تک اور رُک رُک کر چلنے والی ٹریفک میں 10 فیصد سے 40 فیصد تک زیادہ‘ کار کی فیول اکانومی متاثر ہوتی ہے۔

ماضی میں نیدر لینڈز میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق حد رفتار 120 سے 100 کلو میٹر فی گھنٹہ کرنے سے ایندھن کی کھپت اور کاربن اخراج میں کمی ہوئی تھی۔

لیکن پاکستان میں سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس اقدام پر ناراضی ظاہر کی ہے اور ان کا موقف ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف سفر کا دورانیہ بڑھ گیا ہے بلکہ اوور سپیڈنگ کے چالان کی مد میں اضافی خرچ بھی جھیلنا پڑ رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ موٹروے پر سپیڈ کم کر دی تاکہ پیٹرول کی بچت ہو سکے۔۔۔ اب اسی ایک روڈ پر ٹریفک جام سے کتنا پیٹرول روزانہ ضائع ہوتا ہوگا؟‘

عزیز الرحمن نے پوچھا کہ ’آج کل جب بھی میں موٹر وے پر سفر کرتا ہوں تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ موٹر وے کی سپیڈ لمٹ کم کر کے حکومت نے ’فیول‘ زیادہ بچایا ہے یا اوورسپیڈ پر چالان کی مد میں ریوینیو زیادہ اکٹھا کیا ہے؟‘

سہیل نامی صارف نے بتایا کہ کیسے ان کا موٹروے پر اوورسپیڈنگ پر 2500 روپے چالان ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ایم 2 اسلام آباد۔لاہور موٹروے پر سفر کے دوران مجھے 118 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر 2,500 روپے کا چالان کیا گیا۔

’مجھے لگا کہ موٹروے کی رفتار کی حد بدستور 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے لیکن بتایا گیا کہ ایندھن کے بحران کے باعث اسے عارضی طور پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی واضح سائن بورڈ موجود نہیں تھا۔‘

جبکہ سعدیہ کہتی ہیں کہ موٹروے پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ’سفر غیر ضروری طور پر طویل ہو جاتا ہے۔ جب منزل تک پہنچنے میں چھ گھنٹے لگیں تو پھر موٹروے استعمال کرنے کا کیا فائدہ؟‘

وہ پوچھتی ہیں کہ ’دنیا میں کہاں موٹرویز یا ہائی ویز پر رفتار کی حد 100 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی جاتی ہے؟‘

اسی طرح عبداللہ خان نے بتایا کہ اب ایک دن میں لاہور سے اسلام آباد اور پھر لاہور واپسی کا دورانیہ بڑھ کر ’تقریباً 13 سے 14 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔‘

دریں اثنا سعد قیصر کی تجویز ہے کہ ’موٹرویز پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی حد کا اطلاق الیکٹرک، پلگ اِن ہائبرڈ اور ہائبرڈ گاڑیوں پر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ گاڑیاں ایندھن کے بجائے بجلی پر چلتی ہیں۔‘