لائیو, حوثیوں نے سعودی جنگی طیارے کی تباہی کی ویڈیو جاری کر دی

یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کا ایک ایف-15 جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔ اس حوالے سے حوثی عسکری میڈیا کی جانب سے 16 ستمبر کو ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں مسلح حوثی جنگجو ایک تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے قریب کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ناقابلِ برداشت، سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: پاکستان

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہMofa

    پاکستان نے مقدس شہر مکہ مکرمہ کی جانب کیے گئے حملے اور سعودی عرب پر حوثی باغیوں کی ’مسلسل جارحیت‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سعودی عرب کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک نہایت گھناؤنا اور تشویشناک اقدام ہے، جس نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے امن، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے برادر ملک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب کے شہری علاقوں اور اہم تنصیبات پر حوثی شدت پسندوں کے حملوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور تنازعات کے دیرپا حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی مؤثر راستہ ہیں، اور پاکستان ہمیشہ پرامن حل کی حمایت کرتا رہے گا۔

  2. ٹرمپ کی یورپی یونین کو کینیڈا سے قربت پر سخت تجارتی اقدامات کی دھمکی

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ کینیڈا کو اپنا پہلا ’ایسوسی ایٹ رکن‘ بنانے کی تجویز پر عمل کرتی ہے تو امریکہ یورپ کے خلاف سخت محصولات (ٹیرف) عائد کر سکتا ہے یا بعض شعبوں میں تجارتی تعلقات محدود کر سکتا ہے۔

    امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تعلقات، جو طویل عرصے تک انتہائی قریبی سمجھے جاتے تھے، حالیہ مہینوں میں کشیدہ ہوئے ہیں۔ اس دوران کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

    گذشتہ ہفتے مارک کارنی نے کہا تھا کہ وہ برسلز کے ساتھ ایک ’منفرد اتحاد‘ کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین نے اپنے سالانہ خطاب میں کہا کہ وہ کینیڈا کے لیے ’دروازہ کھولنے‘ پر کام کرنا چاہتی ہیں، جس کے تحت مختلف اہم شعبوں میں دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو وسعت دی جائے گی۔

    کینیڈا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ ایسا کرتے ہیں، اور اگر مجھے یہ کسی بھی حد تک مخاصمانہ اقدام محسوس ہوا، تو میں یورپ پر انتہائی سخت ٹیرف عائد کروں گا یا متعدد شعبوں میں یورپ کے ساتھ تجارت محدود کر دوں گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر اس اقدام کا مقصد مثبت ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر اس کے پیچھے کوئی منفی ارادہ ہوا تو ہم یورپ پر بہت بھاری محصولات عائد کریں گے۔‘

    ادھر کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی آج فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کریں گے۔ ان کی تقریر مقامی وقت کے مطابق صبح 11:30 بجے شروع ہونے کی توقع ہے، جس میں یورپ اور کینیڈا کے مستقبل کے تعلقات پر اہم اشارے سامنے آ سکتے ہیں۔

  3. امریکی دباؤ کے باوجود جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز کے لیے فوج تعیناتی کا فیصلہ مؤخر کر دیا

    جنوبی کوریا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی تعیناتی کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

    واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چو ہیون نے کہا کہ ’ہماری پوزیشن بدستور یہی ہے کہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور ہم تمام متعلقہ عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں جنوبی کوریا بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دے گا، تاہم اپنے شہریوں کی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کے لیے جنوبی کوریا پر دباؤ ڈالا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر سیول نے تعاون نہ کیا تو اگست میں ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے جنوبی کوریا کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ جنگ میں حصہ لیتا ہے تو اسے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون جمعے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، جس میں علاقائی اور عالمی امور سمیت مختلف اہم موضوعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

  4. فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا ترک ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    Tasnim

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے چین کے دورے کے دوران پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بعد اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق بُدھ کو ہونے والی اس گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کو درپیش اہم مسائل سمیت حالیہ علاقائی پیش رفت پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ ایران اور ترکیہ مختلف علاقائی معاملات پر مسلسل مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    تسنیم نے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر رابطوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  5. سعودی اتحاد کے یمن میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز پر فضائی حملے، حوثی میڈیا

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یمن کے صوبہ تعز میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں نے تین ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق فضائی حملے تعز ضلع کے علاقوں الذکرہ اور الحوبان جبکہ ضلع خدیر کے علاقے الراھدہ میں واقع مواصلاتی ٹاورز پر کیے گئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر جانی نقصان یا زخمیوں کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ان حملوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    یاد رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جاری تنازع کے دوران مواصلاتی اور دیگر اہم تنصیبات متعدد مرتبہ حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔

  6. یمن میں حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے، جہاں دونوں فریقوں نے مارب، تعز اور الحدیدہ سمیت مختلف محاذوں پر حملوں کے دعوے کیے ہیں۔

    حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بندرگاہی شہر مخا کے قریب حوثیوں کے ٹھکانوں اور عسکری سازوسامان کو نشانہ بنایا، جبکہ سرکاری فوج نے شمالی مارب میں ڈرون حملے بھی کیے۔

    دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی افواج نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر 40 فضائی حملے کیے۔ حوثیوں کے مطابق جواباً انھوں نے سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فضائی اڈے اور ینبع میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حوثی گروپ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے مارب کے علاقے میں سعودی فضائیہ کا ایک F-15 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    ادھر اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب نے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سے تعاون اور فضائی دفاعی معاونت کی درخواست کی ہے، کیونکہ مسلسل حملوں کے باعث اس کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے۔

    اس دوران امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ یمن میں جاری کارروائیوں میں براہِ راست کردار ادا نہیں کرے گا، تاہم خطے کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

  7. سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی فراہمی کی پیشکش، تیل کی قیمتوں میں کمی

    Saudi Arabia

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کم ہونے کے بعد جمعرات کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

    رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کے کارگو فراہم کرنے کی پیشکش کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید نیچے آ گئیں۔

    بین الاقوامی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت 1.24 ڈالر، یا 1.2 فیصد کمی کے بعد 104.59 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.14 ڈالر، یا 1.1 فیصد کمی کے ساتھ 101.29 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔

    اس سے ایک روز قبل بدھ کو بھی دونوں بینچ مارک تیل معاہدوں کی قیمتوں میں تقریباً تین ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

  8. آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی

    جنوبی ایران کے شہر بندر عباس کے نزدیک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کا منظر، 5 ستمبر 2026۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنجنوبی ایران کے شہر بندر عباس کے نزدیک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کا منظر، 5 ستمبر 2026

    ابتدائی بحری نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز آبنائے ہرمز سے صرف تین کموڈیٹی بردار جہاز گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 12 تھی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ تعداد گذشتہ 10 روز کے یومیہ اوسط، یعنی تقریباً 17 جہازوں، سے بھی خاصی کم ہے۔

    اعداد و شمار میں ایسے جہاز شامل نہیں ہیں جنھوں نے اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے آٹومیٹک آئیڈینٹیفیکیشن سسٹم (اے آئی ایس) ٹرانسپونڈر بند کر کے آبنائے ہرمز عبور کی ہو۔

    آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی ممالک سے تیل اور دیگر اشیا کی بڑی مقدار اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ جہازوں کی آمدورفت میں یہ کمی خطے میں سکیورٹی خدشات اور تجارتی سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔

  9. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا فون پر رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

    عباس عراقچی، عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورۂ چین کے دوران پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور مسلح افواج کے کمانڈر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق یہ رابطہ بدھ کے روز اس وقت ہوا جب عباس عراقچی بیجنگ میں موجود تھے۔ اس سے قبل بیجنگ میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران ایسے سفارتی حل کا خیرمقدم کرتا ہے جو عوام کے حقوق اور مفادات کی ضمانت دیں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اطلاعات ہیں کہ چینی صدر شی جن پنگ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر سکتے ہیں، تاہم بیجنگ نے تاحال اس دورے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    ادھر چند گھنٹے قبل شمالی کیرولینا میں ایک انتخابی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ’ایران ایک معاہدہ چاہتا ہے‘۔

  10. پاکستان اور چین نے مشترکہ سرحدی کمیشن فعال کر دیا، انڈیا کا اعتراض

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk

    ،تصویر کا کیپشناس کمیشن کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت چین کی وزارتِ خارجہ کے محکمہ سرحدی و سمندری امور کے نائب ڈائریکٹر جنرل لی یا اور پاکستان کے دفترِ خارجہ میں چین امور کے ڈائریکٹر جنرل بلال محمود چوہدری نے کی۔

    پاکستان اور چین نے اپنی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے ایک نیا مشترکہ کمیشن فعال کر دیا ہے جسے دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

    اسلام آباد میں ہونے والے کمیشن کے پہلے اجلاس میں دونوں ممالک کے حکام نے شرکت کی۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پلیٹ فارم سرحدی انتظام، تجارت، مشترکہ سروے اور عوامی روابط کے فروغ میں مدد دے گا۔

    یہ کمیشن 2013 میں پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے سرحدی انتظام کے معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا، تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر فعال کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے سرحدی نشانات کی دیکھ بھال، سرحد پار سہولیات کے انتظام، مشترکہ جائزوں اور دیگر عملی امور پر رابطہ کاری کی جائے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خنجراب گزرگاہ کے ذریعے ہونے والی آمدورفت، تجارت اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑے معاملات میں تعاون مزید مضبوط ہو سکے گا۔

    دوسری جانب انڈیا نے پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی امور سے متعلق مبینہ مشترکہ کمیشن کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کسی بھی قسم کی سرحد موجود نہیں اور اس نوعیت کا کوئی کمیشن قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ نئی دہلی کا اس معاملے پر مؤقف ’واضح اور مستقل‘ ہے اور وہ پاکستان-چین سرحدی کمیشن کے تصور کو تسلیم نہیں کرتے۔

    تاہم پاکستان اور چین کا مؤقف ہے کہ نیا کمیشن کسی سرحدی تنازع سے متعلق نہیں بلکہ پہلے سے متعین سرحد کے انتظام اور عملی مسائل کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

    China

    ،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان میں انڈیا نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام علاقے انڈیا کا ’اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ‘ حصہ ہیں اور پاکستان کو ان علاقوں سے متعلق کسی قسم کے انتظام یا معاہدے کا اختیار حاصل نہیں۔

    انڈین وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ 1963 کے چین-پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کرتی رہی اور اسے غیر قانونی قرار دیتی آئی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا ان علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے یا ’غیر قانونی قبضے‘ کو جائز قرار دینے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتا ہے۔ نئی دہلی کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان انڈین دعوے والے علاقوں سے متعلق ہونے والا کوئی بھی سرحدی تعاون انڈیا کی خودمختاری پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

    انڈیا نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو ایسے اقدامات کے بجائے ان علاقوں سے دستبردار ہونا چاہیے جنھیں نئی دہلی اپنے زیرِ دعویٰ علاقے قرار دیتا ہے۔

    پاکستان اور چین کی جانب سے انڈین بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  11. امریکہ کا فلسطینی صدر محمود عباس کو مسلسل دوسرے سال اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار, ٹام بیٹمین، محکمۂ خارجہ کے نامہ نگار، اور ٹیبی ولسن

    محمود عباس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے داخلے کا ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب عباس کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے فلسطینی حکام کے خلاف ویزا پابندیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) پر امن عمل سے متعلق وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیل-فلسطین تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے اور "دہشت گردی کی تعریف" کرنے میں ملوث ہیں۔

    امریکہ نے گذشتہ سال بھی سالانہ جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل تقریباً 80 فلسطینی حکام کے ویزے منسوخ یا مسترد کر دیے تھے۔ اس موقع پر محمود عباس کے نمائندے نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے منافی قرار دیا تھا۔

    اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت امریکہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ رکن ممالک کے سفارت کاروں اور نمائندوں کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دے۔ تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی، انتہا پسندی اور خارجہ پالیسی سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔

    گذشتہ سال محمود عباس نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا تھا۔ رواں سال بھی اقوامِ متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی جمعرات کو اس بات پر ووٹنگ کرے گی کہ آیا انھیں ویڈیو خطاب کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

    فلسطینی ریاست کو اس وقت اقوامِ متحدہ کے تقریباً 75 فیصد رکن ممالک تسلیم کرتے ہیں، جن میں برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ تاہم سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں امریکہ واحد ملک ہے جس نے اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔

    دوسری جانب یہ امریکی فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ غزہ میں انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ ادارے کے مطابق گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے اور دیگر کارروائیاں جاری ہیں جن کے باعث جانی نقصان، املاک کی تباہی اور مزید نقل مکانی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

    منگل کے روز غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں دو بچے اور حماس کا ایک کمانڈر بھی شامل تھا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی غزہ میں حماس کے ایک کمانڈر اور شمالی غزہ میں ایک جنگجو کو نشانہ بنایا، تاہم دونوں حملوں میں بچوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

    علاوہ ازیں برطانوی خیراتی ادارے ’میڈیکل ایڈ فار پیلسٹینینز‘ نے کہا ہے کہ شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں اس کے زیرِ معاونت ایک طبی مرکز پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک مریض ہلاک ہوا۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد ہوا تھا، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک جبکہ 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق اس کے بعد سے غزہ میں 73 ہزار 790 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ ان اعداد و شمار کو عمومی طور پر قابلِ اعتماد سمجھتی ہے۔

  12. حوثیوں نے سعودی جنگی طیارے کی تباہی کی ویڈیو جاری کر دی

    YEMAN

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کا ایک ایف-15 جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔ اس حوالے سے حوثی عسکری میڈیا کی جانب سے 16 ستمبر کو ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں مسلح حوثی جنگجو ایک تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے قریب کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

    ویڈیو کے ساتھ جاری بیان میں حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ حوثی فورسز نے سعودی فضائیہ کا ایک ایف-15 طیارہ نشانہ بنا کر تباہ کیا۔

    تاہم آزاد ذرائع سے نہ تو اس ویڈیو کے مقام کی تصدیق ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ ویڈیو کب فلمائی گئی۔ دستیاب معلومات کے مطابق 16 ستمبر سے قبل اس ویڈیو کا کوئی پرانا ورژن آن لائن نہیں ملا۔

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنحوثی فوج کے میڈیا وِنگ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کے ایک منظر میں یمن میں مبینہ طور پر مار گرائے گئے سعودی جنگی طیارے کے ملبے سے آگ کے شعلے اور دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ویڈیو 16 ستمبر 2026 کو جاری کی گئی تھی

    ویڈیو میں دکھائی دینے والے طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے فوری طور پر اس کے ماڈل کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔ البتہ طیارے کے دم والے حصے پر سعودی عرب کا قومی پرچم واضح طور پر نظر آتا ہے، جس سے اس کے سعودی فضائیہ سے تعلق رکھنے کا تاثر ملتا ہے۔

    ویڈیو کے مختلف مناظر میں ملبے کی شکل، ساخت اور جلنے کے آثار ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تمام تصاویر اور مناظر ایک ہی طیارے کے ملبے کی عکاسی کر رہے ہیں۔

    سعودی حکام کی جانب سے تاحال حوثیوں کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ طیارے کی تباہی اور اس کی نوعیت کے بارے میں آزادانہ تصدیق بھی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔

    Saudi-Yemani

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  13. ایران معاہدہ چاہتا ہے، جنگ کا خاتمہ قریب ہے: ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام شمالی کیرولینا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔

    ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیکل وہٹلی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں گیسٹونیا میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ ہم جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں۔ وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘

    ٹرمپ گذشتہ کئی ماہ سے یہ مؤقف دہراتے آ رہے ہیں کہ ایران مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کا خواہاں ہے۔ تاہم اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے متعدد رابطے اور مذاکرات کسی مستقل سمجھوتے پر منتج نہیں ہو سکے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی کرتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل، ایندھن اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے پر امریکی ووٹروں کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ صورتحال کئی ریپبلکن امیدواروں کے لیے سیاسی چیلنج بن چکی ہے۔

    مبصرین کے مطابق بڑھتے معاشی دباؤ اور عوامی خدشات نے ٹرمپ انتظامیہ کو کم از کم عوامی سطح پر ایران کے ساتھ مذاکرات کی حمایت اور جنگ کے خاتمے کی بات کرنے پر آمادہ کیا ہے۔

  14. امریکی حکام اور حوثی نمائندوں کے درمیان عمان میں خفیہ ملاقات، بحیرہ احمر کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنحوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع (فائل فوٹو)

    امریکی سفارتکاروں نے عمان میں یمن کے حوثی نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب حوثیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پسپا کر دیا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی سفارت کاروں نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں عمان میں امریکی سفارت خانے میں حوثی نمائندوں سے ملاقات کی اور بحیرہ احمر میں کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔

    ایگزیوس کے مطابق یہ ملاقات عمانی حکومت کی مدد سے مسقط میں ہوئی، اور اس میں امریکہ اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور آبنائے باب المندب کے تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    آبنائے باب المندب پر ​​حوثیوں کے بڑھتے ہوئے کنٹرول نے مشرق وسطیٰ میں جنگی مساوات کو ایک نئے مرحلے پر پہنچا دیا ہے۔ امریکہ باب المندب میں ٹریفک کے مسئلے کو توانائی کی منڈی کے بحران میں اضافے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ فوجی کارروائیوں سے بھی گریز کر رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے رؤئٹرز سے گفتگو کرنے والے پانچ باخبر ذرائع کے مطابق یہ غیر اعلانیہ ملاقات امریکی سفارت خانے، مسقط میں ہوئی جبکہ عمانی حکومت نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں حوثیوں نے امریکی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ ان کا امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ 2025 میں امریکہ کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی پر قائم ہیں۔

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک یمنی ذریعے کے مطابق حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیلی یا دیگر تجارتی جہازوں پر حملے نہیں کریں گے، تاہم سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہاز اس استثنا سے باہر ہوں گے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اس مخصوص ملاقات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ اور مشرق وسطیٰ سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کی روک تھام امریکہ کے بنیادی مفادات میں شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حوثی وفد میں عمان میں مقیم سینیئر رہنما محمد عبدالسلام اور حوثی سیاسی قیادت کے اہم رکن عبدالملک العجری بھی شامل تھے۔ امریکی وفد کی نمائندگی سفارت خانے کے اہلکاروں نے کی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ حوثیوں نے ان کی انتظامیہ سے رابطہ کرکے یمن کی جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی ہے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی تصدیق کی تھی کہ واشنگٹن کے حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے موجود ہیں۔

    حوثیوں نے گذشتہ ہفتے یمن کے تقریباً پورے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے، تاریخی بندرگاہ مخا اور باب المندب کی اہم گزرگاہ میں واقع جزیرہ پریم پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں طاقت کے توازن اور بحری تجارت کے مستقبل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

    ادھر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے حالیہ حوثی پیش قدمی کے بعد امریکہ سے فوجی تعاون کی درخواست کی تھی، تاہم روئٹرز کے مطابق واشنگٹن نے ریاض کو آگاہ کیا ہے کہ وہ یمن کی جنگ میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔

  15. امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران اور روس پر نئی پابندیوں کے بل کی منظوری دے دی

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ایوانِ نمائندگان نے بُدھ کو ایران اور روس کے خلاف وسیع پابندیوں پر مشتمل ایک بل 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کر لیا۔ اس بل کو پہلے ہی سینیٹ کی منظوری حاصل ہو چکی ہے اور اب اسے دستخط کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجا جائے گا۔

    ’لنڈسے گراہم روس اینڈ ایران سینکشنز ایکٹ‘ کے نام سے پیش کیے گئے اس قانون کا مقصد روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ تعاون کرنے والے ایرانی اداروں کے خلاف بھی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔

    بل کی اہم شقوں میں روسی حکام، مالیاتی اداروں، بینکوں اور روس کے توانائی و دفاعی شعبوں پر مزید پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ روسی تیل کی برآمدات میں پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

    قانون کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکیں۔

    سینیٹ نے اگست میں اس بل کو 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کیا تھا، جبکہ ایوانِ نمائندگان نے 16 ستمبر کو اسے حتمی منظوری دی۔ بل اب صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس بھیج دیا گیا ہے۔

    اس قانون کے ذریعے 1996 کے ایران پابندیوں کے ایکٹ کی مدت 2026 کے بجائے 2031 تک پانچ سال کے لیے بڑھا دی جائے گی۔ یہ شق موجودہ پابندیوں کے قانونی فریم ورک کو برقرار رکھتی ہے اور اس کے تحت فوری طور پر نئی کمپنیوں یا افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا رہا۔

    تاہم بل کے مطابق روس کے ساتھ ہتھیاروں یا دفاعی تعاون میں ملوث ایرانی کمپنیوں اور اداروں کو روس سے متعلق پابندیوں کے تحت نشانہ بنایا جا سکے گا، جس سے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

  16. امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں سے بڑے پیمانے پر تباہی، نئی تصاویر منظرِ عام پر

    USA

    ،تصویر کا ذریعہCBS

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کو ملنے والی تصاویر میں مشرقِ وسطیٰ میں واقع متعدد امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی حملوں کے بعد ہونے والے وسیع نقصان کو دکھایا گیا ہے۔ تصاویر مبینہ طور پر فعال امریکی فوجی اہلکاروں نے فراہم کی ہیں اور ان میں تباہ شدہ ریڈار طیارہ، مسمار شدہ رہائشی ٹریلرز اور شدید متاثرہ عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    یہ غیر تاریخ شدہ تصاویر سعودی عرب اور کویت میں موجود امریکی اڈوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی بی ایس کو بتایا کہ امریکی عوام کو اڈوں پر پہنچنے والے نقصان کے اصل حجم سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول، ’ہم آنکھیں بند کیے کھڑے ہیں اور مسلسل حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

    تصاویر کی آزادانہ تصدیق بی بی سی نے نہیں کی، تاہم یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی محکمہ دفاع کے نگران ادارے کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتیں اور تنصیبات تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    تصاویر میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود ایک بوئنگ ای-3 سینٹری طیارہ بھی دکھایا گیا ہے جو دو حصوں میں بٹا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ طیارے دور فاصلے پر ممکنہ اہداف اور خطرات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مارچ میں بھی اسی نوعیت کی ایک تصویر کی تصدیق بی بی سی ویریفائی کر چکا تھا۔ اس حملے کے بعد ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ 12 امریکی اہلکار زخمی ہوئے تھے جن میں دو کی حالت تشویش ناک تھی۔

    کویت کے کیمپ بیوہرنگ سے منسوب تصاویر میں تباہ شدہ ٹریلرز اور ایک بڑا خیمہ نما ڈھانچہ دکھایا گیا ہے جو مکمل طور پر ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ مقام سے دھواں اٹھتا نظر آ رہا ہے۔ مارچ میں اس مقام پر سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ نئی تصاویر اسی حملے کی ہیں یا کسی اور واقعے کی۔

    امریکی قومی سلامتی کے سابق اہلکار اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو برائن کاتولس کے مطابق تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’امریکہ اپنی تنصیبات کے دفاع کے لیے مناسب تیاری نہیں کر سکا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ چین اور روس جیسے امریکی حریف ممکنہ طور پر ایرانی ہدف بندی میں معاون ثابت ہوئے ہوں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔

    Pentagon

    ،تصویر کا ذریعہCBS

    پینٹاگون کے نگران ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں واقع امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتیں اور ڈھانچے متاثر ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق صرف فوجی سازوسامان کا نقصان 3.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 29 جون تک جنگ پر امریکی اخراجات 33.4 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں امریکی فضائیہ کے درجنوں طیارے تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے، جن میں سعودی عرب میں زمین پر موجود پانچ ایندھن بردار طیارے بھی شامل ہیں جو ایرانی حملوں میں متاثر ہوئے۔

    کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والا E-3 AWACS طیارہ اب پیداوار میں نہیں اور اس کی جگہ جدید E-7 طیارہ لینا پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایک E-3 طیارے کی مالیت تقریباً 500 ملین ڈالر ہے، جبکہ جنگ میں ضائع ہونے والے دیگر طیاروں، ڈرونز اور دفاعی نظاموں سمیت کل نقصانات کا تخمینہ 1.9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

    سی بی او نے واضح کیا کہ اس کے تخمینوں میں غیر یقینی کی گنجائش موجود ہے کیونکہ امریکی محکمہ دفاع نے معلومات کی فراہمی کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جس کے باعث ادارے کو سرکاری ڈیٹا بیسز اور عوامی رپورٹس پر انحصار کرنا پڑا۔

    برائن کاتولس کے مطابق مالی نقصان سے بھی زیادہ تشویش ناک اثر امریکی فوجی تیاریوں پر پڑا ہے۔ ان کے بقول امریکہ کو ایشیا سے فوجی وسائل مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا پڑے، جس سے خطے میں چین کے مقابلے میں امریکی اور اتحادی پوزیشن کمزور ہوئی۔ ساتھ ہی امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی نے روس کو بھی نیٹو اتحادیوں کے خلاف مزید جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔

    28

    ،تصویر کا ذریعہCBS

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے وائٹ ہاؤس پر عوامی اور سیاسی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران متعدد بار خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں، امریکی اتحادی ممالک اور اسرائیل کو نشانہ بنا چکا ہے۔

    منگل کی شب امریکی ایوانِ نمائندگان نے تیسری مرتبہ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا۔ منظور کیے گئے اقدام کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنا ہوں گی۔

    یہ قرارداد بعض ریپبلکن ارکان کی حمایت سے منظور ہوئی اور نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل اس معاملے پر ایوانِ نمائندگان کی ممکنہ طور پر آخری ووٹنگ تصور کی جا رہی ہے۔

    تاہم اس اقدام کی حتمی منظوری کا راستہ ابھی غیر یقینی ہے کیونکہ امریکی سینیٹ نے تاحال اس معاملے پر غور کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    اسی روز سبکدوش ہونے والے ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے انکشافات کے درمیان وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی کوشش کا اعلان بھی کیا۔

    دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے وزیرِ دفاع کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹ ہیگستھ ’بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔‘

    USA

    ،تصویر کا ذریعہCBS

  17. چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، فیصلے خطے کے تزویراتی توازن کا تعین کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ

    @araghchi

    ،تصویر کا ذریعہ@araghchi

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین میں چینی حکام اور شراکت داروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو کامياب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے فیصلے خطے میں مستقبل کے ’سٹریٹجک بیلنس‘ یعنی تزویراتی توازن کا تعین کریں گے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ پر جاری کردہ ایک پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران چین کے ساتھ وقت کے ساتھ قائم ہونے والی تزویراتی شراکت داری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اس وقت لیے جانے والے فیصلوں کے خطے پر انتہائی گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق خطے میں امن قائم کرنے کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ’چار بنیادی اصول‘ کلیدی اہمیت کے حامل ہیں اور ان پر عمل درآمد امن کے لیے لازمی ہے۔

  18. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی اسلام آباد آمد: راستوں کی بندش اور ٹریفک جام کے باعث شہری سڑکوں پر پھنس گئے

    sohail Afridi

    ،تصویر کا ذریعہ@PTI

    ،تصویر کا کیپشن’یہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں، جو رویہ ہمارے ساتھ روا رکھا گیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔‘

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کردہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے سلسلے میں کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے گذشتہ تین روز سے صوبہ پنجاب میں موجود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بدھ کی شام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    اُن کی اسلام آباد آمد کے موقع پر جڑواں شہروں کی پولیس کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی اقدامات کے باعث سڑکوں پر رات گئے تک شدید ٹریفک جام رہا جبکہ سینکڑوں شہری ٹریفک میں پھنسے رہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد ہائی وے پر پہنچنے والا سہیل آفریدی کا قافلہ ابتدائی طور پر نجی رہائشی سکیم گلبرگ کے قریب واقع پُل پر رُکا۔

    یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کے فاتحہ کے لیے جانا چاہتے تھے مگر پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور انھیں پنڈی کی طرف نہیں جانے دیا گیا۔

    اسلام آباد ایکسپریس وے پر اُن کی موجودگی کے باعث پنڈی، اسلام آباد کی اس مرکزی شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آئیں جبکہ ذیلی سڑکوں پر بھی ٹریفک جام کی صورتحال رہی۔

    ایکپسریس وے پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور پولیس کو ناصرف پنجاب بلکہ اسلام آباد میں بھی دھکے دیے جا رہے ہیں۔ ’یہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں، جو رویہ ہمارے ساتھ روا رکھا گیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔‘

    سہیل آفریدی کا قافلہ اس رپورٹ کے فائل ہونے پر ایکسپریس وے پر ہی موجود تھا۔

  19. ایرانی میڈیا میں حوثیوں کے حملے اور سعودی عرب کی ’تنہائی‘ کی خبریں نمایاں

    JAVAN

    ،تصویر کا ذریعہJAVAN

    ،تصویر کا کیپشنایرانی اخبار ’جاوان‘ نے بن سلمان کے مصر کے دورے کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے سعودی عرب کے دیگر اتحادوں کی ناکامی کے طور پر پیش کیا۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی اور اس سے منسلک ذرائع ابلاغ نے 15 اور 16 ستمبر کو یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں اور ان کی جانب سے پیش قدمی کی اطلاعات کو نمایاں طور پر کوریج دی گئی۔

    16 ستمبر کو ایرانی سرکاری ٹی وی نے حوثیوں کی جانب سے سعودی جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کے دعوے اور حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے بیان کو نشر کیا۔ یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر یمن میں حملے تیز کرنے، جن میں شہری اہداف بھی شامل ہیں، کا الزام عائد کرتے ہوئے حوثیوں کی جانب سے جواب دینے کا انتباہ کیا۔

    ایرانی میڈیا نے حوثیوں کے مذاکرات کار کے اس بیان کو بھی نمایاں کیا کہ سعودی فوجی کارروائی کامیاب نہیں ہوگی اور ماضی میں بھی ایسی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

    ایران کی سخت گیر خبر رساں ایجنسیوں تسنیم اور فارس نے حوثیوں کے حملوں میں سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچنے اور ان کے خلاف مزید پیش قدمی کے دعوے رپورٹ کیے۔

    ایرانی اخبارات نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے 15 ستمبر کو قاہرہ کے دورے کو بھی سعودی عرب پر بڑھتے دباؤ کے تناظر میں پیش کیا۔ سخت گیر اخبار وطنِ امروز نے اسے ’سعودی تنہائی‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل، برطانیہ، پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کی فوجی مدد کی درخواستیں مسترد کر دیں، جبکہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے صرف سیاسی حل کی حمایت کی۔

    ایرانی میڈیا نے سعودی عرب کی ترکی اور پاکستان کے ساتھ حالیہ دفاعی شراکت داری اور مصر کو اس میں شامل کرنے کی ممکنہ کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ فارس نے کہا کہ حوثیوں کے حملے اس دفاعی انتظام کے لیے پہلا امتحان ہیں اور اس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ یہ اتحاد ’صرف کاغذ‘ پر موجود ہے۔

    فارس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ’یمن سے ہونے والے حملوں کے باعث سعودی عرب نے یورپ کی بعض ریفائنریوں کو رواں ماہ لوڈ ہونے والی خام تیل کی کھیپیں منسوخ کرنے کی اطلاع دی ہے۔‘ ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے مشرق اور مغرب دونوں جانب تیل کی برآمدی گزرگاہوں کو دباؤ کا سامنا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے تجزیہ کاروں نے ان پیش رفت کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے ایک چیلنج کے طور پر پیش کیا۔ ایک تجزیہ کار نے دعویٰ کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں اپنی ’عملی صلاحیت‘ کھو چکا ہے، جبکہ ایک اور تجزیہ کار نے کہا کہ یمن اور عراق کی مزاحمتی کارروائیوں نے خطے میں ’مزاحمت‘ کے کمزور ہونے کا تاثر ختم کر دیا ہے۔

  20. عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عالمی منڈی میں بدھ کو تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی کھیپ کی پیشکش کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی رسد میں خلل سے متعلق خدشات میں کمی آئی ہے، تاہم یورپ میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ بلند سطح کے قریب رہیں۔

    روئٹرز کے مطابق بدھ کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے کاروبار کے حوالے سے اس خبر کے سامنے آنے کے بعد اس کی قیمت ایک ڈالر 30 سینٹ، یعنی 1.2 فیصد کم ہو کر 107.45 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت ایک ڈالر 96 سینٹ، یعنی 1.85 فیصد کمی کے ساتھ 103.87 ڈالر فی بیرل رہی۔

    اس سے ایک روز قبل تیل کی قیمتوں میں تین ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا تھا۔ شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے بتایا تھا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی اہم برآمدی بندرگاہ ینبع سے خام تیل کی لوڈنگ معطل کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ریاض نے یورپی صارفین کے لیے خام تیل کی کچھ کھیپوں کی ترسیل بھی منسوخ کر دی تھی۔ اس کے بعد اُن خدشات میں اضافہ ہوا تھا کہ تیل کی ایک اہم برآمدی گزرگاہ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔