لائیو, امریکہ نے سعودی عرب کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ’اس مجوزہ فروخت سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کو تقویت ملے گی کیونکہ اس کے ذریعے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ملک کی سکیورٹی بہتر بنائی جائے گی، جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک مؤثر قوت سمجھا جاتا ہے۔‘
خلاصہ
مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے: ایران
وفاقی حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان فیول ریلیف پیکج پر اتفاق، عمل درآمد شروع
لائیو کوریج
امریکہ نے سعودی عرب کو 48 ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے سعودی عرب کو ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹرائیک فائٹر لڑاکا طیاروں اور متعلقہ دفاعی سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق اس دفاعی معاہدے کی کل مالیت 24.3 ارب ڈالر ہے۔
بیان کے مطابق سعودی عرب نے 48 عدد ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹرائیک فائٹرلڑاکا طیارے خریدنے کی درخواست کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ’اس مجوزہ فروخت سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کو تقویت ملے گی کیونکہ اس کے ذریعے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ملک کی سکیورٹی بہتر بنائی جائے گی، جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک مؤثر قوت سمجھا جاتا ہے۔‘
’یہ مجوزہ معاہدہ سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا، اس کی سرزمین کے دفاع کو مضبوط بنائے گا اور امریکی افواج، دیگر علاقائی شراکت داروں اور نیٹو افواج کے ساتھ باہمی عملی تعاون کو بہتر بنائے گا۔‘
’دفاعی سازوسامان کی مجوزہ فروخت اور معاونت سے خطے میں فوجی طاقت کا توازن تبدیل نہیں ہوگا۔‘
سیستان و بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے تین افراد ہلاک کر دیے: ایرانی وزارتِ اطلاعات کا دعویٰ
ایران کی وزارتِ اطلاعات نے دعویٰ
کیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان میں تین ایسے سیلز کے خلاف کارروائی کی گئی جو صوبے
کے جنوبی علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
وزارتِ اطلاعات کے جاری کردہ بیان
میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران تین افراد ہلاک جبکہ نو
دیگر کو گرفتار کر لیا گیا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ یہ افراد بیرونِ
ملک سے فوجی تربیت، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد خفیہ
طریقے سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
وزارتِ اطلاعات نے مزید دعویٰ کیا کہ
گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جبکہ ایک علیحدہ
کارروائی میں سیستان و بلوچستان سے ہلکے اور نیم بھاری ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔
مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے: ایران
،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال
ہونے سے روکا جائے اور اسے اختلافات بھڑکانے یا علاقائی کشیدگی میں اضافے کے آلے
کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔‘
سوشل میڈیا
پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ
میں اسماعیل بقائی نے لکھا کہ اسلامی مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کی جارحیت،
بالخصوص مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ پر حملہ، یا ان مقامات کے زائرین اور مکینوں کو
خطرے میں ڈالنا، قابلِ مذمت ہے۔
واضح رہے کہ یمن کی بین الاقوامی سطح
پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے گذشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ’حوثیوں
کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر
دیا گیا۔‘
تاہم حوثیوں کی جانب سے مکہ پر ڈرون
حملہ کرنے کے الزام کی تردید کی گئی تھی۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا: ’صرف یہ
دعویٰ کہ مکہ کی جانب جانے والے ایک ڈرون کو روکا گیا، کسی مخصوص فریق پر الزام
عائد کرنے کے لیے کافی بنیاد نہیں بن سکتا۔‘
ترجمان ایرانی
وزارت خارجہ نے کہا: ’یہ بھی
فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہمارے خطے میں، خصوصاً حالیہ مہینوں کے دوران،
متعدد ’فالس فلیگ‘ آپریشن کیے گئے جن کا مقصد اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے خطے
میں کیے گئے جرائم سے عوامی توجہ ہٹانا اور اور اسلامی ممالک کے درمیان تفرقہ پیدا
کرنا تھا۔‘
فالس فلیگ ایک ایسی کارروائی کو کہا
جاتا ہے جو کی تو کسی اور نے ہو، لیکن اس کی ذمہ داری کسی اور پر عائد کر دی گئی
ہو۔
اسماعیل
بقائی نے کہا: ’احتیاط اور ہوشیاری سے کام لینا ضروری ہے۔‘
میر رضا قتل کیس: سمارٹ واچ سے آئی کلاؤڈ لاگ اِن کی کوشش ہوئی، وکیل جبران ناصر, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی
،تصویر کا ذریعہInstagram/@chaipapa_podcast
،تصویر کا کیپشنمیر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش برآمد ہوئی
کراچی میں پراسرار حالات میں ہلاک
ہونے والے نوجوان میر رضا کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے
سامنے یہ بات سامنے آئی ہے کہ میر رضا کی سمارٹ واچ پر ایک ایسی ای میل موصول ہوئی
تھی جس میں آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ میں لاگ اِن کی اطلاع دی گئی تھی۔
کمیشن کی سماعت کے دوران کیس کے پہلے
تفتیشی افسر شبیر احمد لغاری سے سمارٹ واچ، موبائل فون، سی سی ٹی وی فوٹیج اور
دیگر شواہد کے حوالے سے تفصیلی سوالات کیے گئے۔
شبیر لغاری نے کمیشن کو بتایا کہ 12
اگست کو میر رضا کا موبائل فون اور سمارٹ واچ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن
ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو بھیجے گئے تھے، تاہم اگلے روز اہلخانہ کے عدم اعتماد
کے باعث دونوں اشیا واپس لے لی گئی تھیں۔
سماعت کے دوران میر رضا کے اہلخانہ
کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ 31 جولائی کو ایک ای میل موصول ہوئی تھی
جس میں میر رضا کے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ پر لاگ اِن ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ ان کا
کہنا تھا کہ اگر بعد میں کسی نے اکاؤنٹ میں لاگ اِن کر کے بیک اپ ڈیلیٹ کر دیا ہو
تو اہم معلومات ضائع ہو سکتی ہیں۔
کمیشن نے سمارٹ واچ کی تحویل کے بارے
میں بھی سوالات کیے۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ اے ایس آئی فیصل رحیم نے آٹھ اگست کو
سیل شدہ واچ ان کے حوالے کی تھی۔ اس پر کمیشن نے سوال کیا کہ آٹھ دن تک واچ کہاں
رہی۔ شبیر لغاری نے جواب دیا کہ انھیں زبانی طور پر بتایا گیا تھا کہ واچ فرانزک
تجزیے کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو بھیجی گئی تھی۔
کمیشن کے سوال پر کہ کیا سی ٹی ڈی کی
کوئی تحریری رپورٹ یا دستاویز موجود ہے، شبیر لغاری نے کہا کہ ان کے پاس کوئی
رپورٹ موجود نہیں اور انھیں صرف زبانی طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔
میر رضا کی بہن علیشباہ نے کمیشن کو
بتایا کہ پانچ اگست کو اہلخانہ اے آئی جی آزاد خان سے ملے تھے جہاں انھیں سمارٹ
واچ کے چند سکرین شاٹس دکھائے گئے۔ جبران ناصر نے نشاندہی کی کہ جس وقت یہ سکرین
شاٹس دکھائے گئے، اس وقت واچ سیل تھی۔
علیشباہ کے مطابق سات یا آٹھ اگست
کو ایس ایس پی زبیر نذیر نے انھیں بتایا تھا کہ واچ سے کوئی اہم معلومات حاصل نہیں
ہوئیں۔ اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ اگر واچ سے کچھ نہیں ملا تو اسے واپس کر دیا
جائے۔
تاہم بعد میں نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل
دی گئی جس کے بعد ڈی آئی جی عامر فاروقی نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک واچ
واپس نہیں کی جا سکتی۔
سماعت کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج سے
متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ انھوں نے گلی میں نصب کیمرے
خود جا کر چیک کیے تھے، تاہم روزنامچے میں اس کی انٹری نہیں کی تھی۔
کمیشن نے ریمارکس دیے کہ دستیاب سی
سی ٹی وی فوٹیج نا مکمل ہے۔
سماعت کے دوران کمیشن نے تفتیشی عمل
پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر بنیادی تفتیش مؤثر انداز میں نہ کی
جائے تو کمیشن پر سرکاری وسائل ضائع ہوتے ہیں۔ جواب میں شبیر لغاری نے مؤقف اختیار
کیا کہ تفتیشی افسر کو محدود وسائل اور طویل اوقاتِ کار کا سامنا تھا۔ ’ تفتیشی افسر اکیلا ہوتا ہے اور رات کے تین چار بج جاتے تھے۔‘
دورانِ سماعت میر رضا کے کاروباری
ساتھی احمد بھردے بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ کمیشن نے ان سے میڈیا میں دیے گئے
بیانات کے بارے میں سوالات کیے اور کہا کہ میر رضا کے اہلخانہ کو ان سے سوال
پوچھنے کا حق حاصل ہے۔ کمیشن نے انھیں اپنے مؤقف اور دستیاب معلومات تحریری طور پر
جمع کرانے کا موقع بھی دیا۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے
ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ شبیر لغاری کیس کے ابتدائی 16 دنوں تک تفتیشی افسر رہے
اور یہ عرصہ تحقیقات کے لیے انتہائی اہم تھا۔ ان کے بقول شبیر لغاری نے کمیشن کے
سامنے اعتراف کیا کہ اس مدت میں مؤثر پیش رفت نہیں ہو سکی۔
قشم کی فضائی حدود میں امریکی ڈرون مار گرایا: پاسداران انقلاب کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty
ایران کے پاسداران انقلاب نے قشم کی
فضائی حدود میں امریکی فوج کا ایم کیو۔9 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ
عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق آج صبح 10 بج کر 12
منٹ پر ’جدید فضائی دفاعی نظام‘ کی مدد سے ڈرون کو مار گرایا گیا۔
بیان کے مطابق تباہ کیا گیا ڈرون
امریکی فوج کی ملکیت تھا اور اسے قشم میں نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے مزید دعویٰ کیا
کہ یہ اس نوعیت کا 53 واں امریکی ڈرون ہے جسے ایرانی افواج نے تباہ کیا
ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر
اس دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات، 27 ستمبر کے مارچ پر مشاورت
،تصویر کا ذریعہCM Media Cell
پریس سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری پریس
ریلیز میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
اور سینیٹ کے قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے اسلام آباد میں ملاقات کی
ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق ملاقات کے دوران
پنجاب میں جاری سٹریٹ موومنٹ، پنجاب حکومت کے اقدامات، 27 ستمبر کے مارچ اور آئندہ
کی سیاسی و جمہوری حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پریس ریلیز کے مطابق ملاقات کے شرکاء
نے اس بات پر اتفاق کیا کہ 27 ستمبر کا مارچ مکمل طور پر پُر امن، آئینی اور
جمہوری ہو گا۔
جماعت اسلامی کا 20 ستمبر کو اسلام آباد کی مارچ، مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک پر دھرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہJamaat-e-Islami
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے
خلاف 20 ستمبر کو ہونے والے ’اسلام آباد مارچ‘ کی تیاریاں مکمل کرنے کا اعلان کرتے
ہوئے کہا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک پر دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینیئر
نصراللہ رندھاوا نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے
کہا کہ احتجاج تاریخی اور پُر امن ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال حکومت پاکستان
نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے اربوں روپے وصول کیے، جبکہ جماعت اسلامی کا
مطالبہ ہے کہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔
نصراللہ رندھاوا کے مطابق حکومت کے
ساتھ ہونے والے مذاکرات میں جماعت اسلامی نے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل پیش کیے
اور متبادل ریونیو ذرائع کے حوالے سے تجاویز بھی دیں، تاہم امیر جماعت اسلامی
پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی کال برقرار
ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک بھر سے کارکنان
اور شہری اسلام آباد پہنچیں گے اور لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا
کہ مارچ کے بعد مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک پر دھرنا جاری رہے گا اور جماعت
اسلامی اپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گی۔
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے
حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد کی سڑکیں کھلی رکھی جائیں اور
کنٹینرز لگا کر عوام کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ
جماعت اسلامی نے ڈی چوک پر دھرنے کے لیے باقاعدہ درخواست بھی انتظامیہ کو دے دی
ہے۔
نصراللہ رندھاوا کے مطابق مارچ کے
انتظامات کے لیے 20 انتظامی کمیٹیاں اور 50 ذیلی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔
انھوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ
شرکا کے لیے بنیادی سہولیات اور دیگر انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ان کمیٹیوں
کے ساتھ تعاون کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں نصراللہ رندھاوا نے
کہا کہ جماعت اسلامی دھرنے میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان کا خیر مقدم
کرے گی اور انھیں اسلام آباد مارچ اور دھرنے میں شرکت کی دعوت دیتی ہے۔
طائف میں ’حوثی ڈرون‘ کا ملبہ گِرنے سے یمنی شہری ہلاک، پاکستانی شہری شدید زخمی
،تصویر کا ذریعہSPA
سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع (سول ڈیفنس) کا کہنا ہے کہ فضا
میں تباہ کیے گئے ایک ڈرون کا ملبہ طائف شہر پر گِرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو
زخمی ہوئے ہیں۔
محکمہ شہری دفاع نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر بتایا کہ اس
واقعے کے نتیجے میں متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ نے
دعویٰ کیا ہے کہ فضا میں تباہ کیا گیا ڈرون حوثیوں کی جانب سے داغا گیا تھا۔ سعودی
پریس ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص یمنی شہری ہے جبکہ زخمی ہونے دو افراد
میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے، جس کی حالت تشویشناک ہے۔
سول ڈیفنس نے کہا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات سے نمٹنے کے لیے
مقررہ ہنگامی اور حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کر دیے گئے ہیں جبکہ متعلقہ
ادارے صورتحال کی نگرانی اور نقصانات کے جائزے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی نے ڈرون کا ملبہ گرنے سے پہنچنے والے نقصانات کی تصاویر شیئر کی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہSPA
،تصویر کا ذریعہSPA
،تصویر کا ذریعہSPA
وفاقی حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان فیول ریلیف پیکج پر اتفاق، عمل درآمد شروع, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
وفاقی حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے
درمیان فیول ریلیف پیکج سے متعلق مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں فریق
ادائیگیوں کے طریقہ کار پر متفق ہو گئے ہیں اور پیکج پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا
گیا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن
(پی پی ڈی اے) کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں تمام زیر
التوا امور طے پا گئے، جس کے نتیجے میں فیول ریلیف پیکج پر عمل درآمد کی راہ ہموار
ہو گئی ہے۔
پی پی ڈی اے کی قیادت کے ساتھ ہونے
والے اجلاس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزارتِ پیٹرولیم کے اعلیٰ حکام شریک
ہوئے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت
ادائیگیوں کے طریقہ کار سے متعلق نوٹیفکیشن جلد جاری کرے گی۔ معاہدے کے تحت ڈیلرز
کو واجب الادا رقوم سٹیٹ بینک کے ذریعے 48 گھنٹوں کے اندر ان کے بینک اکاؤنٹس میں
منتقل کر دی جائیں گی۔
پی پی ڈی اے کے مطابق حکومت کے ساتھ
مذاکرات مثبت اور کامیاب رہے ہیں، جبکہ ادائیگیوں کے حوالے سے با ضابطہ نوٹیفکیشن
جلد جاری ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس کے دوران وزیرِ پیٹرولیم نے
آئندہ پالیسی سازی اور فیصلوں کے عمل میں سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو مزید بہتر
بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
پیٹرولیم
ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت اور ڈیلرز کے درمیان اتفاقِ رائے کے بعد
فیول ریلیف پیکج پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے اور اس معاملے پر جاری ڈیڈلاک بھی
ختم ہو گیا ہے۔
پاکستان میں ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے لیے نئے اقدامات
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
وفاقی حکومت نے کفایت شعاری اور
ایندھن کی بچت کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے متعدد پابندیوں اور اخراجات
میں کمی کے فیصلوں پر مشتمل نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں
کے لیے ایندھن کی فراہمی میں آئندہ تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ تاہم
مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضروری خدمات اور فیڈرل
بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی آپریشنل گاڑیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
ترقیاتی منصوبوں پر بھی اس اقدام کا اطلاق نہیں ہو گا۔
بچت اقدامات کے تحت سرکاری گاڑیوں کی
تمام اقسام کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ آئی ٹی آلات کے سوا
تمام پائیدار اشیا کی خریداری بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت آئندہ تین ماہ کے
لیے تمام سرکاری بیرونِ ملک دوروں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ نا گزیر بیرونِ ملک دوروں کی صورت میں وفاقی
وزرا، سرکاری عہدے دار اور دیگر حکام صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔
حکومت نے ہدایت کی ہے کہ سرکاری
اجلاس ترجیحاً ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کیے جائیں، جبکہ غیر ملکی وفود کے
علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر پابندی ہو گی۔
اسی طرح سرکاری فنڈز سے سیمینارز،
تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں کے انعقاد کی اجازت نہیں ہو گی، جبکہ نا گزیر
تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریمز اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کفایت شعاری اقدامات کے تحت شادی کی
تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کی ہدایت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔
دکانیں، بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ
مالز رات نو بجے بند کرنے، جبکہ میرج ہالز، مارکیز اور تقریبات کے تجارتی مقامات
کو رات 10 بجے تک بند کرنے کے احکامات بدستور نافذ رہیں گے۔
ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے
مراکز رات 11 بجے بند ہوں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز اس پابندی سے
مستثنیٰ رہیں گی۔
فارمیسیوں، کلینکس، ہسپتالوں، طبی
لیبارٹریوں، طبی سامان کی دکانوں، تندوروں، دودھ اور ڈیری شاپس، پیٹرول پمپس اور
الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ سٹیشنز کو کاروباری اوقات کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔
جمنازیم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی
کمپنیاں اور کال سینٹرز بھی ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔
حکومت
نے واضح کیا ہے کہ کفایت شعاری اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستوں پر کیس ٹو کیس
بنیاد پر غور کیا جائے گا اور متعلقہ سفارشات منظوری کے لیے وزیر اعظم کو ارسال کی
جائیں گی۔ وفاقی حکومت نے صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی اسی نوعیت کے اقدامات
اختیار کرنے پر غور کرنے کی تجویز دی ہے۔
ایرانی سکول اور سپورٹس سینٹر پر امریکی حملوں کو جنگی جرائم سمجھنے کی معقول وجہ موجود ہے: اقوام متحدہ کے ماہرین
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنایران کے شہر میناب میں واقع سکول جو حملے میں تباہ ہوا، عمارت کے باہر ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر آویزاں ہیں
ایران سے متعلق حقائق معلوم کرنے
والے اقوام متحدہ کے مشن نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول
بنیادیں موجود ہیں کہ فروری میں ایران میں ایک سکول اور کھیلوں کے ایک مقام پر ہونے
والے دو فوجی حملوں کے پیچھے امریکہ تھا، اور یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے
میں آتی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران
سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے مشن کی یہ رپورٹ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی
حقوق کونسل کو پیش کی جائے گی۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے
کہا ہے کہ ان کے پاس یہ یقین کرنے کے لیے معقول بنیاد ہے کہ امریکی افواج ایران کے
شہر میناب میں واقع شجرہ طیبہ پرائمری سکول پر حملے کی ذمہ دار تھیں، جہاں ایرانی
حکام کے مطابق 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 بچے شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی انسانی
قانون شہری تنصیبات کو حملوں کا ہدف بنانے سے منع کرتا ہے اور شہری مقامات اور
فوجی اہداف میں امتیاز برتنے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مشن نے یہ نتیجہ اخذ
کیا کہ میناب کے پرائمری سکول کو ہدف بناتے وقت امریکہ اس بات کی تصدیق کرنے کی
اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا کہ آیا وہ واقعی ایک فوجی ہدف تھا۔
مزید برآں، مشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا
کہ سکول کی عمارت کو ہدف بناتے وقت امریکہ نے دانستہ طور پر کارروائی کی، جس کے
نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جو بین
الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کی جانب
سے سکول سے متعلق معلومات کو اپنے اہداف کے ڈیٹا بیس میں اپ ڈیٹ نہ کرنا، حالانکہ سکول
پاسداران انقلاب کے بحری کمپلیکس کے قریب واقع تھا، اور یہ تصدیق نہ کرنا کہ عمارت
کوئی فوجی ہدف تھی، محض غفلت سے بڑھ کر تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا: ’امریکہ کو اس
خطرے کا خاطر خواہ اندازہ تھا کہ ایک سویلین مقام ہدف بن سکتا ہے، اس کے باوجود سکول
کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔‘
جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
ایک تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ فروری میں ایران کے لڑکیوں کے ایک سکول
پر ’جان بوجھ کر‘ حملہ نہیں کیا گیا تھا۔
ماہرین نے لامرد میں واقع ایک سپورٹس
سینٹر پر حملے کے بارے میں بھی اسی نوعیت کا نتیجہ اخذ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس
حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک سکول کو نقصان پہنچا جبکہ 22 شہری ہلاک اور
زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حملہ بھی اندھا دھند تھا اور اس لیے جنگی جرم
کے زمرے میں آتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مارچ میں ایک
بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے مذکورہ دن لامرد شہر میں کوئی حملہ نہیں کیا
تھا۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم ہمارے جن پڑھنے والوں نے ابھی ہمارا لائیو پیج کھولا ہے ان کے لیے اہم خبروں کے چیدہ چیدہ نکات پیش خدمت ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام شمالی کیرولینا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اپنے ایک خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ ہم جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں۔ وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
یمن کے صوبہ تعز میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں نے تین ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان نے مقدس شہر مکہ مکرمہ کی جانب کیے گئے حملے اور سعودی عرب پر حوثی باغیوں کی ’مسلسل جارحیت‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سعودی عرب کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ کینیڈا کو اپنا پہلا ’ایسوسی ایٹ رکن‘ بنانے کی تجویز پر عمل کرتی ہے تو امریکہ یورپ کے خلاف سخت محصولات (ٹیرف) عائد کر سکتا ہے یا بعض شعبوں میں تجارتی تعلقات محدود کر سکتا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے بُدھ کو ایران اور روس کے خلاف وسیع پابندیوں پر مشتمل ایک بل 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کر لیا۔ اس بل کو پہلے ہی سینیٹ کی منظوری حاصل ہو چکی ہے اور اب اسے دستخط کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجا جائے گا۔
پاکستان اور چین نے اپنی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے ایک نیا مشترکہ کمیشن فعال کر دیا ہے جسے دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پلیٹ فارم سرحدی انتظام، تجارت، مشترکہ سروے اور عوامی روابط کے فروغ میں مدد دے گا۔
امریکی ڈرون ساز کمپنی پاور یو ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستانی فوج کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کمپنی کو بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) سے متعلق ابتدائی آرڈر بھی ملا ہے۔
امریکی سفارتکاروں نے عمان میں یمن کے حوثی نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب حوثیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پسپا کر دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین میں چینی حکام اور شراکت داروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو کامياب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے فیصلے خطے میں مستقبل کے ’سٹریٹجک بیلنس‘ یعنی تزویراتی توازن کا تعین کریں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورۂ چین کے دوران پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور مسلح افواج کے کمانڈر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی ڈرون کمپنی پاور یو ایس کا پاکستانی فوج کے ساتھ ایم او یو، ابتدائی آرڈر حاصل کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہISPR
امریکی ڈرون ساز کمپنی پاور یو ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستانی فوج کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کمپنی کو بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) سے متعلق ابتدائی آرڈر بھی ملا ہے۔
کمپنی کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ بدھ کو ایک اہم ایم او یو پر دستخط کیے گئے اور اس کے تحت کمپنی کو ابتدائی آرڈر بھی موصول ہوا۔ تاہم انھوں نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے معاہدے میں شامل ٹیکنالوجی یا آرڈر کی مالیت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
پاور یو ایس فضائی اور بحری ڈرونز تیار کرتی ہے جو فوجی اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاور یو ایس کے وفد نے، جس کی قیادت بریٹ ویلیکووچ کر رہے تھے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں ایم او یو کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم کہا گیا کہ ملاقات میں دفاعی ٹیکنالوجی، دفاعی خریداری، دفاعی پیداوار اور استعدادِ کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔
بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی حل کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری دیکھی جا رہی ہے اور دونوں ممالک دفاعی و اقتصادی تعاون کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
پاور یو ایس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کمپنی امریکہ اور پاکستان کے درمیان جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی کی تیاری کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
چین کا ایران اور امریکہ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز جلد کھولنے پر زور
،تصویر کا ذریعہ@SpoxCHN_LinJian
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وانگ یی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کا طویل ہونا نہ صرف متعلقہ فریقوں بلکہ عالمی برادری کے مفاد میں بھی نہیں۔ انھوں نے ایران اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں، جلد از جلد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں اور اب تک طے پانے والے اتفاقِ رائے کی بنیاد پر مذاکراتی عمل بحال کریں۔
چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو اپنے باہمی خدشات کے حل کے لیے سنجیدہ اور بامعنی مشاورت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
وانگ یی نے مزید کہا کہ چین تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو محفوظ اور کھلا رکھیں اور عالمی توانائی کی ترسیل کے ساتھ ساتھ رسد و سپلائی چین کے استحکام کو یقینی بنائیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ چین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریق ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اپنائیں۔
حوثیوں کے خلاف سعودی قیادت والے اتحاد کے فضائی حملے: یمن کے صوبہ حجہ میں ایک شخص ہلاک، ایک زخمی
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
یمن کے شمال مغربی صوبے حجہ کے شہر عبس میں سعودی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔
حوثیوں کے زیر انتظام ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق عبس شہر پر دو فضائی حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوا۔
رپورٹ کے مطابق حملوں میں چار گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور ایک رہائشی مکان کو بھی نقصان پہنچا۔ تاحال سعودی قیادت میں اتحاد کی جانب سے حملوں کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے ہلاکتوں اور نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یمن میں حالیہ دنوں کے دوران حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ناقابلِ برداشت، سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: پاکستان
،تصویر کا ذریعہMofa
پاکستان نے مقدس شہر مکہ مکرمہ کی جانب کیے گئے حملے اور سعودی عرب پر حوثی باغیوں کی ’مسلسل جارحیت‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سعودی عرب کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک نہایت گھناؤنا اور تشویشناک اقدام ہے، جس نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے امن، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے برادر ملک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب کے شہری علاقوں اور اہم تنصیبات پر حوثی شدت پسندوں کے حملوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان مشرق۔مغرب پائپ لائن پر رواں ہفتے ہونے والے حملے کی بھی شدید مذمت کرتا ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش رکھتا ہے۔
انھوں نے حملے کو ناکام بنانے کے لیے سعودی مسلح افواج کی بروقت، مؤثر اور پیشہ ورانہ کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی فورسز نے صورتحال کو کامیابی سے قابو میں رکھا اور اہم تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور بڑھتے ہوئے تناؤ کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور تنازعات کے دیرپا حل کے لیے سفارت کاری، بامعنی مذاکرات اور سیاسی ذرائع ہی واحد مؤثر راستہ ہیں، اور پاکستان ہمیشہ پرامن حل اور تعمیری مکالمے کی حمایت کرتا رہے گا۔
ٹرمپ کی یورپی یونین کو کینیڈا سے قربت پر سخت تجارتی اقدامات کی دھمکی
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ کینیڈا کو اپنا پہلا ’ایسوسی ایٹ رکن‘ بنانے کی تجویز پر عمل کرتی ہے تو امریکہ یورپ کے خلاف سخت محصولات (ٹیرف) عائد کر سکتا ہے یا بعض شعبوں میں تجارتی تعلقات محدود کر سکتا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تعلقات، جو طویل عرصے تک انتہائی قریبی سمجھے جاتے تھے، حالیہ مہینوں میں کشیدہ ہوئے ہیں۔ اس دوران کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
گذشتہ ہفتے مارک کارنی نے کہا تھا کہ وہ برسلز کے ساتھ ایک ’منفرد اتحاد‘ کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین نے اپنے سالانہ خطاب میں کہا کہ وہ کینیڈا کے لیے ’دروازہ کھولنے‘ پر کام کرنا چاہتی ہیں، جس کے تحت مختلف اہم شعبوں میں دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو وسعت دی جائے گی۔
،تصویر کا ذریعہReuters
صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ ایسا کرتے ہیں، اور اگر مجھے یہ کسی بھی حد تک مخاصمانہ اقدام محسوس ہوا، تو میں یورپ پر انتہائی سخت ٹیرف عائد کروں گا یا متعدد شعبوں میں یورپ کے ساتھ تجارت محدود کر دوں گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر اس اقدام کا مقصد مثبت ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر اس کے پیچھے کوئی منفی ارادہ ہوا تو ہم یورپ پر بہت بھاری محصولات عائد کریں گے۔‘
ادھر کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی آج فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کریں گے۔ ان کی تقریر مقامی وقت کے مطابق صبح 11:30 بجے شروع ہونے کی توقع ہے، جس میں یورپ اور کینیڈا کے مستقبل کے تعلقات پر اہم اشارے سامنے آ سکتے ہیں۔
امریکی دباؤ کے باوجود جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز کے لیے فوج تعیناتی کا فیصلہ مؤخر کر دیا
،تصویر کا ذریعہEPA
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی تعیناتی کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چو ہیون نے کہا کہ ’ہماری پوزیشن بدستور یہی ہے کہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور ہم تمام متعلقہ عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں جنوبی کوریا بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دے گا، تاہم اپنے شہریوں کی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کے لیے جنوبی کوریا پر دباؤ ڈالا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر سیول نے تعاون نہ کیا تو اگست میں ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے جنوبی کوریا کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ جنگ میں حصہ لیتا ہے تو اسے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون جمعے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، جس میں علاقائی اور عالمی امور سمیت مختلف اہم موضوعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا ترک ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ
،تصویر کا ذریعہTasnim
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے چین کے دورے کے دوران پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بعد اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق بُدھ کو ہونے والی اس گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کو درپیش اہم مسائل سمیت حالیہ علاقائی پیش رفت پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ ایران اور ترکیہ مختلف علاقائی معاملات پر مسلسل مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تسنیم نے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر رابطوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی اتحاد کے یمن میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز پر فضائی حملے، حوثی میڈیا
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
یمن کے صوبہ تعز میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں نے تین ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق فضائی حملے تعز ضلع کے علاقوں الذکرہ اور الحوبان جبکہ ضلع خدیر کے علاقے الراھدہ میں واقع مواصلاتی ٹاورز پر کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر جانی نقصان یا زخمیوں کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ان حملوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جاری تنازع کے دوران مواصلاتی اور دیگر اہم تنصیبات متعدد مرتبہ حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔