قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد، امریکہ سے مذاکرات سے قبل ابتدائی شرائط

ایران کا مذاکراتی وفد پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا ہے جہاں اس کا استقبال پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے کیا گیا۔ دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایرانیوں کے لیے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے۔‘

خلاصہ

  • ایرانی مذاکراتی وفد قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ چکا ہے جہاں پاکستانی رہنماؤں کی جانب سے اس کا استقبال کیا گیا
  • دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو چکے ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایرانی صرف اس لیے آج زندہ ہیں تاکہ مذاکرات کریں‘
  • ایران کا اسلام آباد مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ
  • پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات ’ایک کٹھن مرحلہ ہے‘ جس میں کامیابی کے لیے کوششیں کی جائیں گی
  • لبنانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان منگل کے روز واشنگٹن میں مذاکرات کا آغاز کریں گے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    11 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. ایرانی وفد کی پرواز کا نام ’میناب 168‘

    ایرانی حکومت کے مطابق پاکستان پہنچنے والے ایرانی مذاکراتی وفد کے طیارے کا نام حالیہ جنگ کے دوران میناب سکول سے منسوب کیا گیا ہے۔

    ’میناب 168‘ سے مراد بچوں سمیت وہ 168 ایرانی شہری ہیں جو ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو ایک میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے میں ایران کے شہر میناب میں واقع بچوں کا سکول ’شجرۂ طیبہ‘ تباہ ہوا تھا۔

    ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ حملہ غیر ارادی طور پر امریکی افواج کی جانب سے ہوا تھا۔ اس سے قبل امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کہہ چکے ہیں کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    پاکستان میں لینڈنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کی جس میں طیارے کی نشستوں پر چار بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ہر تصویر سکول بیگ اور پھولوں کے اوپر رکھی گئی ہے۔

    قالیباف نے اپنی پوسٹ میں ان تصاویر کے ساتھ لکھا کہ ’اس پرواز میں میرے ساتھی۔‘

  3. اسلام آباد مذاکرات سے متعلق چار اہم باتیں

    اسلام آباد مذاکرات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کا وفد امریکہ سے مذاکرات کے لیے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔

    ان مذاکرات کے بارے میں یہ چند باتیں اہم ہیں:

    پاکستان گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ عاصم منیر ایران کو ’زیادہ تر لوگوں سے بہتر‘ جانتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ کو ایران کی جانب سے ایک 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے انھوں نے ’مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد‘ قرار دیا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایک 15 نکاتی منصوبے کا ذکر کیا ہے جس کے بارے میں امریکی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازع کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔

    تاہم ان میں سے کسی بھی تجویز کو باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ دونوں منصوبوں کے مبینہ مسودے لیک ہوئے ہیں۔ سفارتی نامہ نگار کے مطابق دونوں فریقین کے مؤقف میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملوں نے امن مذاکرات پر شکوک کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔ بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے ملک بھر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    جمعے کی شام لبنان نے بتایا کہ وہ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر بات چیت کرے گا۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی کے لیے اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔

  4. ایرانی مذاکراتی وفد میں کون کون شامل؟, غنچہ حبیبی زاد، بی بی سی فارسی

    ایران، وفد، اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہX/@IraninSA

    ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جو حالیہ عرصے میں ایرانی حکومت میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی حالیہ پوسٹس میں وہ امریکہ کے حوالے سے ایران کے عدمِ اعتماد کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

    حالیہ جنگ کے دوران ایسی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکی انتظامیہ قالیباف کو ایک ممکنہ شراکت دار اور حتیٰ کہ مستقبل کے کسی رہنما کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔

    وفد میں ایک اور اہم شخصیت ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہیں جو ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اسی جوہری پروگرام کے باعث ایران پر مغربی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ مذاکرات کا تازہ دور جنگ شروع ہونے سے صرف دو دن قبل منعقد ہوا تھا۔

    ایک اور رکن عبدالناصر ہمتی ہیں جو ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ہیں۔ ایران اس بات کا عندیہ دے چکا ہے کہ اس کے مطالبات میں ملک پر عائد تمام معاشی پابندیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ ان پابندیوں نے برسوں سے ایرانی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے۔

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران کی موجودہ معاشی صورتحال جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں فولاد اور پیٹروکیمیکل جیسی بڑی صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جبکہ کاروباروں پر حکومتی سطح پر عائد کیے گئے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔

    یہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ جنگ کے آغاز کے بعد سے تاحال برقرار ہے۔

  5. ایران کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر آبنائے ہرمز کھول دیں گے: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہم نے ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو سنی جنھوں نے ورجینیا کے شہر شارلٹس وِل کے لیے روانہ ہوتے ہوئے طیارے میں سوار ہونے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانگی سے قبل انھوں نے نائب صدر جے ڈی وینس سے کیا کہا تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’میں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک ہی نشست میں مکمل ہو جائیں گے یا آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی متبادل منصوبے کی ضرورت ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بیک اپ پلان کی ضرورت نہیں۔‘

    ایک اور صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کیسا ہوگا۔

    اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں ایران میں ’حکومت کی تبدیلی پہلے ہی ہو چکی ہے۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھول دی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اسے کافی جلد کھول دیں گے۔‘

    جب ان سے ان اطلاعات کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کر سکتا ہے تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔‘

  6. اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات منگل کو واشنگٹن میں ہوں گے

    لبنانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان منگل کے روز واشنگٹن میں مذاکرات کا آغاز کریں گے۔ اس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع میں جنگ بندی پر بات چیت کرنا ہے۔

    ان مذاکرات میں امریکہ ثالث کا کردار ادا کرے گا۔

    لبنانی صدر جوزف عون کے دفتر نے کہا کہ دونوں ممالک امریکی وزارتِ خارجہ میں ملاقات کریں گے تاکہ ’جنگ بندی کے اعلان اور براہِ راست مذاکرات کے آغاز کی تاریخ‘ طے کی جا سکے۔

    بیان کے مطابق جمعے کے روز امریکہ میں موجود لبنانی اور اسرائیلی سفیروں کے درمیان، لبنان میں امریکی سفیر کی شرکت کے ساتھ، ایک رابطہ ہوا جس کا مقصد ان مذاکرات کا انتظام کرنا تھا۔

    لبنان، اسرائیل

    ادھر بیروت میں حملے سے متاثرہ مقام کا دورہ کرتے ہوئے لبنانی وزیرِ داخلہ احمد حجار نے کہا کہ جنگ بندی لبنان کا ایک بنیادی مطالبہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہدف جنگ بندی ہے۔ اس کے لیے جو کچھ بھی درکار ہو، حتیٰ کہ دنیا کے آخری سرے تک جانا پڑے، ہم اپنے ملک کے لیے سلامتی، امن اور استحکام کے حصول کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سفارتی راستے پر انتہائی سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔‘

    جس مقام کا وزیرِ داخلہ دورہ کر رہے تھے وہ اُن متعدد جگہوں میں سے ایک ہے جنھیں بدھ کے روز اسرائیل نے نشانہ بنایا۔ یہ حملے لبنان پر کیے گئے اسرائیلی حملوں کے حالیہ دنوں کے سب سے شدید سلسلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ لبنانی حکام صرف اسی صورت میں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شامل ہوں گے اگر پہلے سے جنگ بندی نافذ ہو چکی ہو۔

  7. ایرانی وفد کا اسلام آباد میں استقبال

    ایرانی وفد، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہForeign Ministry, Pakistan

    پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کے لیے ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی وفد کا نور خان ایئر بیس پر استقبال کیا گیا۔

    ترجمان کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ اس وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی وفد میں شامل ہیں۔

    ایرانی وفد کی آمد پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے‘۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے دیرپا اور پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے فریقین کے درمیان ’سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘

    پاکستانی وزارت خارجہ نے ایرانی وفد کی آمد کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

    ،ویڈیو کیپشنایرانی وفد کا اسلام آباد میں استقبال
  8. پاکستان پہنچنے سے قبل جے ڈی وینس کے طیارے کی پیرس میں لینڈنگ

    اسلام آباد مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی قیادت کرتے ہوئے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانہ ہوئے تھے۔ مگر ان کے طیارے ایئر فورس ٹو نے ایندھن کے لیے پیرس میں لینڈنگ کی ہے جو کہ شیڈول کا حصہ ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پریس پول کے مطابق یہ پرواز ’بلاتعطل‘ رہی اور پریس کیبن میں کسی مہمان کی آمد نہیں ہوئی۔

    جے ڈی وینس تقریباً آٹھ گھنٹے قبل امریکہ سے روانہ ہوئے تھے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ان مذاکرات کے منتظر ہیں۔

  9. بریکنگ, قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا: ایرانی نیوز ایجنسی

    قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایران کا مذاکراتی وفد پاکستان کے دارالحکومت پہنچ گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وفد میں سکیورٹی، سیاسی، عسکری، معاشی اور قانونی کمیٹیوں کے نمائندے شامل ہیں، اور یہ کہ ’مذاکرات اسی صورت میں شروع ہوں گے جب دوسرا فریق ایران کی جانب سے مذاکرات کے آغاز کے لیے رکھی گئی پیشگی شرائط قبول کرے گا۔‘

    مزید بتایا گیا ہے کہ اس دورے میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے بعض اراکین بھی موجود ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی اس حوالے سے رپورٹ کیا ہے۔

  10. آبنائے ہرمز کی بحالی کی کوششیں جاری، برطانوی قیادت میں 41 ممالک کا اجلاس متوقع

    برطانیہ کی قیادت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے تحت آئندہ ہفتے 41 ممالک کے حکام ایک اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    یہ اجلاس گذشتہ ہفتے یویٹ کوپر کی جانب سے 40 سے زائد وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے تسلسل میں ہے۔ یہ برطانوی وزارتِ خارجہ کے سیاسی ڈائریکٹر کی صدارت میں ہو گا۔

    برطانوی حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ’ہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی مؤثر طریقۂ کار پر بہت زور دے رہے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چونکہ ہماری سفارتی موجودگی غیر معمولی طور پر وسیع ہے اور درمیانے درجے اور چھوٹے ممالک کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، اس لیے ہم ان کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔‘

  11. ایران کی ابتدائی شرائط جن سے مذاکرات کی پیچیدگی کا اندازہ ہوتا ہے, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور/بی بی سی نیوز

    ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے شخص کی جانب سے پیش کی گئی ابتدائی شرائط یہ ہے کہ لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کی جائے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مذاکرات کاروں کو کن پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔

    سب سے بڑا اور قدیم مسئلہ جوہری معاملہ ہے، جو مغرب کی جانب سے ایران کے بارے میں دیرینہ خدشات کی بنیاد رہا ہے۔ ایرانی حکومت کا اصرار ہے کہ اس نے کبھی ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کی تاہم آٹھ سال قبل ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد ایران نے یورینیئم کو اس حد تک افزودہ کر لیا ہے جو کسی سول پروگرام کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔

    امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنے موجودہ افزودہ مواد کو حوالے کرے۔ یہ ایک مسئلہ ہے کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اصفہان کے قریب ایک تنصیب کے ملبے تلے موجود ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اس بات کا وعدہ کرے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ افزودگی کے حق پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔

    اس کے بعد آبنائے ہرمز کا معاملہ آتا ہے۔ یہ اس جنگ سے پہلے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اب ایران کے سب سے طاقتور ہتھیاروں میں سے ایک بن چکا ہے۔

    دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک پر عملی کنٹرول قائم کرنے کے بعد ایران چاہتا ہے کہ بحری آمد و رفت کے لیے بالکل نئے ضوابط متعارف کرائے جائیں جن میں ممکنہ طور پر جہازوں کی تلاشی، ٹول ٹیکس عائد کرنے یا رسائی سے مکمل انکار کا حق بھی شامل ہو سکتا ہے۔

    یہ بات دنیا کے ایک بڑے حصے، بالخصوص خلیجی ممالک، کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ مسائل یہیں ختم نہیں ہوتے۔ اسرائیل اور امریکہ ایران کے اس علاقائی اثر و رسوخ کو ختم کرنا چاہتے ہیں جسے وہ نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

    دوسری جانب ایران تمام عالمی پابندیوں کے مکمل خاتمے اور گذشتہ ایک ماہ کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    گذشتہ ایک سال میں دو مرتبہ ایسے وقت میں حملوں کا نشانہ بننے کے بعد ایران یہ ضمانت بھی چاہتا ہے کہ آئندہ کوئی حملہ نہیں ہوگا۔

    حقیقت پسندانہ طور پر کوئی یہ توقع نہیں کر رہا کہ ان تمام مسائل کا حل اسلام آباد میں نکل آئے گا۔ مذاکرات سے قبل کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے، زیادہ تر لوگ صرف یہی چاہتے ہیں کہ جنگ بندی برقرار رہے۔

  12. ایران کے دو سرکاری طیارے اسلام آباد کی جانب گامزن, غنچہ حبیبی زاد اور جیک ہارٹن، بی بی سی

    ایران، طیارے، اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہFlightradar24

    فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق دو ایرانی سرکاری طیارے اسلام آباد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات سنیچر کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں متوقع ہیں۔

    ان میں سے ایک طیارہ ’ایران فور‘ ہے۔ یہ شمالی ایران کے شہر گرگان سے روانہ ہوا۔ عام طور پر ایرانی سرکاری طیارے تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ سے پرواز کرتے ہیں تاہم حالیہ جنگ کے دوران اس ہوائی اڈے کو کئی بار نشانہ بنایا گیا تھا۔

    دونوں طیارے ’ایران فور‘ اور ’ایران فائیو‘ افغانستان کی فضائی حدود سے گزر چکے ہیں اور اس وقت اسلام آباد کی طرف جا رہے ہیں۔

    تاہم اب تک ایرانی ذرائع ابلاغ میں ایسی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی جس سے تصدیق ہو سکے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔

  13. اسلام آباد مذاکرات میں کیا ہو سکتا ہے؟

    اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ یہ یقینی ہو چکا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔

    بی بی سی کے ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ’محتاط انداز میں امید‘ کی جا سکتی ہے کہ دونوں فریق اس عمل کا آغاز کریں گے اور ’ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کے قابل ہوں گے۔‘

    ان کے مطابق یہ سوچنا ’بالکل غیر حقیقی‘ ہے کہ چند گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ یہی امید کی جا سکتی ہے کہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھیں اور کسی ’وسیع تر سمجھ بوجھ‘ تک پہنچ جائیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد یہ نکات واپس لے جا کر منظوری حاصل کی جا سکتی ہے اور پھر تفصیلات طے کی جا سکتی ہیں۔

  14. اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات اور پانچ اہم سوالات

    ،ویڈیو کیپشناسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات اور پانچ اہم سوالات

    ایران اور امریکہ میں جنگ بندی کے اعلانات کے بعد دونوں ممالک میں مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں۔ اس عمل سے متعلق پانچ اہم سوالات کے جواب بتا رہے ہیں بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز۔

  15. امریکی اور ایرانی قیادت اسلام آباد آنے پر رضامند، مذاکرات کو کامیاب کرانے کی کوشش کریں گے: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPID

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے رہنما سنیچر کے روز اسلام آباد آمد کے لیے راضی ہو چکے ہیں اور اب یہ دیرپا جنگ بندی کے لیے ایک ’کٹھن مرحلہ‘ ہے۔

    قوم سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’خلیج میں اب جنگ نہیں، امن کی باتیں ہو رہی ہیں۔ وہ فریق جو کل تک جنگ میں آمنے سامنے تھے اور خطہ تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا، آج دونوں فریق بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے پر راضی ہو چکے ہیں۔‘

    ’میں اس اہم پیشرفت پر برادر ملک ایران اور امریکہ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میری تجویز قبول کرتے ہوئے نہ صرف عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ میری دعوت پر دونوں ملکوں کی قیادت اسلام آباد تشریف لا رہی ہے، جہاں امن کے قیام کے لیے مذاکرات ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ان نازک لمحات میں پاکستان کی قیادت نے انتہائی محتاط انداز میں، مگر بڑے اعتماد کے ساتھ، دونوں فریق کو عارضی جنگ بندی پر راضی کیا اور اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔ اس موقع پر میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔‘

    ’میں یہاں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے محنت اور تدبر کے ذریعے جنگ کے شعلے بجھانے اور فریقین کو مذاکرات پر راضی کرنے میں کلیدی اور تاریخ ساز کردار ادا کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان خدمات کو ’تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔‘

    وزیرِ اعظم پاکستان نے تسلیم کیا کہ ’عارضی جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے مگر اب اس سے بھی زیادہ کٹھن مرحلہ دیرپا جنگ بندی کا ہے۔ یہ مرحلہ مذاکرات کے ذریعے الجھے ہوئے مسائل کو حل کرنے کا ہے جو ’میک اینڈ بریک‘ کے مترادف ہے۔‘

    ’میں سب سے درخواست کروں گا کہ دعا کریں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں، انگنت معصوم زندگیاں بچ جائیں اور دنیا میں امن قائم ہو جائے۔‘

    ’سنیچر کو دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد میں موجود ہو گی اور پاکستانی قیادت ان مذاکرات کو کامیاب کرانے کے لیے پوری خلوص کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔‘

  16. پاکستانی وزیر اعظم کا ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    پیٹرولیئم مصنوعات

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    جمعے کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے کی کمی جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے کی کمی کی گئی ہے۔ اس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ’ڈیزل جو 520 روپے فی لیٹر ہے، رات 12 بجے سے 385 رپے فی لیٹر مہیا ہو گا۔‘

    جبکہ پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

  17. کیئر سٹامر اور شہباز شریف کا ’جنگ بندی برقرار رکھنے‘ پر زور

    پاکستان اور برطانیہ کے وزرائے اعظم نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں اسلام آباد مذکرات کے ذریعے جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

    وزیر اعظم پاکستان کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق شہباز شریف کو جمعے کی شب برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹامر کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔ ’وزیرِ اعظم سٹامر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتی کاوشوں کو بے حد سراہا۔ انھوں نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو مبارکباد دی اور اس عمل کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔‘

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مخلصانہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اہم یورپی اور بین الاقوامی رہنماؤں، بشمول وزیرِ اعظم سٹامر، کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کا خیر مقدم کیا جس میں پاکستان کی امن کوششوں کی تائید کی گئی ہے۔‘

    ’دونوں رہنماؤں نے اس امر کی اہمیت پر زور دیا کہ جنگ بندی برقرار رہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔‘

    اس دوران شہباز شریف نے برطانوی وزیر اعظم کو ’پاکستان کے سرکاری دورے کی اپنی پُرتپاک دعوت کا اعادہ بھی کیا۔‘

  18. امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں لبنان کو شامل کیا جائے: عراقچی, بی بی سی مانیٹرنگ

    عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو اپنی ’ذمہ داریوں‘ کی پاسداری کرنی ہوگی۔

    وزارتِ خارجہ کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے یہ باتیں لبنان میں ایران کے سفیر سے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی وفد کے سنیچر کے روز اسلام آباد میں امریکی نمائندوں سے مذاکرات ہوں گے۔ تاہم تہران نے اب تک اپنی شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کیے گئے حملے مجوزہ منصوبے کی خلاف ورزی ہیں۔

    تہران اور واشنگٹن کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مؤقف میں گہرے اختلافات موجود ہیں۔

  19. امریکہ اپنے جہازوں پر 'بہترین ہتھیار' رکھ رہا ہے، اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو ہم انھیں استعمال کریں گے، ٹرمپ کا انتباہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اپنے بحری جہازوں کو بہترین ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے، اگر معاہدہ نہ ہوا تو انھیں استعمال کریں گے۔

    جمعے کے روز نیویارک پوسٹ کو دِیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں 24 گھنٹوں میں اس سے متعلق معلوم ہو جائے گا۔‘

    صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اپنے جہازوں پر بہترین ہتھیار لاد رہے ہیں، یہاں تک کہ اس سے بھی بہترین سطح کے ہتھیار جو ہم مکمل تباہی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہمارا معاہدہ نہ ہوا تو پھر ہم ان ہتھیاروں کو استعمال کریں گے اور بہت موثر طریقے سے استعمال کریں گے۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آپ ایرانی ایسے لوگ ہیں جنھیں آپ ’نہیں جانتے کہ وہ سچ کہتے ہیں یا نہیں۔‘

    بعدازاں ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ’ایرانیوں کے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’ایرانیوں کے پاس بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر مختصر وقت کے لیے بھتہ وصولی کے علاوہ کوئی کارڈ نہیں ہے۔

  20. لبنان کا اسرائیلی حملے میں 13 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ

    لبنان کے صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان کے شہر نباتیح میں اسرائیلی حملے میں 13 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں ملک کے صدارتی آفس نے لکھا کہ صدر جوزف نے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تاحال اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔