لائیو, امریکہ نے حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں: ایرانی فوج

ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے گذشتہ دو راتوں کے دوران حملے بند کیے جانے کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ لڑائی کے دوران ایران نے امریکی ریڈار تنصیبات اور معاونت فراہم کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا تاکہ امریکہ کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے۔

خلاصہ

  • امریکہ نے حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں: ایرانی فوج
  • ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور نافذ، خلاف ورزی کرنے والے 12 جہازوں کا رُخ موڑا: امریکی فوج
  • برطانیہ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کی تو وہ ایک جائز اور یقینی ہدف ہو گا: ترجمان پاسداران انقلاب
  • ٹرمپ پر تنقید کرنے کے لیے تیار ہوں 'اگر یہ برطانیہ کے مفاد میں ہوا': اینڈی برنہم
  • شام میں ٹریفک حادثہ، 35 افراد ہلاک، 30 زخمی
  • جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی تقریب کے دوران گاڑی ہجوم پر چڑھ دوڑی، ایک شخص ہلاک، 16 زخمی

لائیو کوریج

  1. امریکہ نے حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں: ایرانی فوج

    ایرانی فوج

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرامینیا نے کہا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ دو راتوں کے دوران اپنے حملے روکے ہیں تو ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔

    ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ امریکہ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے؟ ترجمان ایرانی فوج نے کہا: ’امریکہ سٹریٹیجک فیصلہ سازی کے حوالے سے تھکن کا شکار ہے۔ اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں۔ یہ بات صدر کے فیصلوں اور سینٹکام کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حالیہ 14 سے 15 روزہ لڑائی کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں کی کچھ خصوصیات تھیں، جن میں حملوں کا مرکز امریکی ’ریڈار تنصیبات اور معاونت فراہم کرنے والے مراکز‘ تھے، تاکہ امریکہ کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے۔

    اکرامینیا کے مطابق ایران نے اس عرصے میں کوشش کی کہ ’امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے تاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل کرے۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف مزید وسیع حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی اس فیصلے کی وجوہات میں شامل ہے۔

  2. جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی تقریب پر گاڑی چڑھانے والے ملزم کی شناخت ظاہر کر دی گئی

    مشتبہ شخص

    ،تصویر کا ذریعہBerlin Police

    جرمنی کے دار الحکومت برلن میں پولیس نے ہم جنس پرستوں کی سالانہ تقریب پر گاڑی چڑھا کر ایک شخص کو ہلاک اور 16 کو زخمی کرنے کے ملزم کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔

    برلن پولیس کے مطابق ٹیئرگارٹن کے علاقے میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کے بعد فرار ہونے والے ملزم 21 سالہ عبدل بی ہیں۔

    پولیس کے مطابق عبدل بی دبلی جسامت کے ہیں، ان کے بال سیاہ ہیں اور انھوں نے سیاہ رنگ کی ہُوڈی اور سفید رنگ کی پتلون پہن رکھی ہے۔

    پولیس نے مزید کہا: ’اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ متعدد افراد چاقو جیسے نوکیلے ہتھیاروں سے بھی زخمی ہوئے ہیں۔‘

    پولیس نے عبدل بی کو ’مسلح اور خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ نظر آئیں تو ان کے قریب جانے کی کوشش نہ کریں۔

  3. ٹرمپ پر تنقید کرنے کے لیے تیار ہوں ’اگر یہ برطانیہ کے مفاد میں ہوا‘: اینڈی برنہم

    برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے بڑے انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر برطانیہ کے قومی مفاد کا تقاضا ہوا تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

    بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں برنہم نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ ان کی پہلی بات چیت خوشگوار رہی اور انھوں نے امریکی صدر کو ’واقعی گرم جوش‘ شخص پایا۔

    تاہم جب ان سے دو بار پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکی صدر پر اعتماد کرتے ہیں، تو برطانوی وزیر اعظم نے براہِ راست جواب نہیں دیا اور کہا: ’دنیا بدل رہی ہے اور حالات جیسے جیسے سامنے آئیں، ویسے ہی ان کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔‘

    انٹرویو میں برنہم نے کہا: ’میں کسی بھی مرحلے پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ان سے مختلف رائے نہیں رکھوں گا یا برطانیہ کے مفاد میں کوئی مختلف مؤقف اختیار نہیں کروں گا۔‘

    انھوں نے کہا: ’میری طاقت عوام کے قریب رہنے میں ہے اور وزیرِ اعظم بننے کے بعد بھی یہ نہیں بدلے گا۔‘

    اس سوال پر کہ اگر ضروری ہوا تو کیا وہ ٹرمپ پر تنقید کریں گے، برنہم نے جواب دیا: ’بالکل۔ آپ کو ہر چیز سے پہلے اپنے قومی مفاد کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اگر آپ یہ ذمہ داری درست طریقے سے نبھانا چاہتے ہیں تو آپ سے یہی تقاضا کیا جاتا ہے۔‘

    برنہم نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے امریکی صدر کے فیصلے پر انھیں ’تشویش‘ تھی اور وہ ’جو بات درست سمجھتے ہیں، اسے کہنے سے گریز نہیں کریں گے۔‘

    مکمل انٹرویو پیر کو نشر کیا جائے گا۔

  4. برطانیہ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کی تو وہ ایک جائز اور یقینی ہدف ہو گا: ترجمان پاسداران انقلاب

    پاسداران انقلاب

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کرتا ہے تو وہ ایک یقینی اور جائز ہدف بن جائے گا۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور خلیج فارس کے ممالک سمیت کوئی بھی ملک جو تنازع میں امریکہ کی حمایت کرے گا، ایران کی نظر میں ایک جائز ہدف ہو گا۔

    محبی نے یہ بھی کہا کہ امریکی بمبار طیاروں نے حال ہی میں برطانیہ کے ایک فوجی اڈے کو استعمال کیا ہے۔

    انھوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی صدر کو اکسا کر اور غلط معلومات فراہم کر کے خطے میں امریکہ کی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے اور امریکی فوجی طاقت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیل جانتا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی اور ایران نے اپنی توجہ اسرائیل پر حملوں پر مرکوز کر دی تو اسے کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  5. ٹرمپ کا فی الحال ایران پر حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ: امریکی ذرائع ابلاغ

    ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی میڈیا اداروں نیو یارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ جمعے کے روز اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔

    وائٹ ہاؤس نے ابھی تک ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم اس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

    جمعے کی رات تقریباً دو ہفتوں میں پہلی رات تھی جب امریکہ نے ایران پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا، جبکہ سنیچر کی رات بھی کسی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

  6. جنگ اور جنگ بندی کے دوران 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کیا: ایرانی وزارتِ تیل

    ایران پیٹرولیم تنصیبات

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایران کی وزارتِ تیل کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ جنگ اور اس کے بعد نافذ ہونے والی جنگ بندی کے دوران مجموعی طور پر 18 ارب ڈالر مالیت کا تیل فروخت کیا۔

    وزارت کے بیان کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران 11 ارب 50 کروڑ ڈالر اور جنگ بندی کے عرصے میں 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کا تیل فروخت کیا۔ وزارتِ تیل نے کہا کہ یہ رقم رواں مالی سال کے بجٹ میں متوقع تیل کی آمدنی کے 60 فیصد سے زیادہ کے برابر ہے۔

    یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور ایران کے سینیئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جولائی کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے تقریباً 50 سے 60 روزہ محاصرے کے دوران ایران ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں کر سکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ محاصرہ ختم ہونے کے بعد ایران کی تیل برآمدات دوبارہ بڑھ گئی ہیں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جبکہ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں بیشتر لڑائی رک گئی تھی۔

    تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق اختلافات میں شدت آنے کے بعد یہ جنگ بندی جولائی کے آغاز میں ختم ہو گئی تھی۔

    پابندیوں کے دباؤ میں ایران نے کیا حکمتِ عملی اپنائی؟ جاننے کے لیے یہ رپورٹ پڑھیں۔

  7. ایران میں ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے 12 جہازوں کا راستہ تبدیل کر دیا: امریکی فوج

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے اور اس نے خلاف ورزی کرنے والے 12 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کیا۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی فوج نے احکامات کی تعمیل نہ کرنے والے دو جہازوں کو ناکارہ بنا دیا اور ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دو جہازوں پر چڑھ کر تلاشی لی۔

    سینٹکام نے بتایا کہ سنیچر کے روز امریکی افواج نے بحیرۂ عرب میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر چارمینار پر سوار ہو کر جانچ پڑتال کی اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس تیل بردار بحری جہاز کو اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

    بیان کے مطابق امریکی افواج نے 24 جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر لاوین کو ناکارہ بنا دیا، کیونکہ اس کے عملے نے متعدد بار ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی اور امریکی افواج کی بار بار کی تنبیہ کو نظر انداز کیا۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز اب ایران کی جانب سفر نہیں کر رہا۔

    امریکہ نے 14 جولائی سے ان جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر رکھی ہے جو ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف جاتے ہیں یا وہاں سے روانہ ہوتے ہیں۔

  8. کیٹی پیری نے ایران پر حملے کی ویڈیو میں اپنے گانے کے استعمال پر وائٹ ہاؤس پر اعتراض کر دیا

    کیٹی پیری

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی گلوکارہ کیٹی پیری نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی فوجی حملوں کی ویڈیو میں ان کے گانے ’فائر ورک‘ کے استعمال پر وہ ’حیران ہیں اور کراہت محسوس‘ کر رہی ہیں۔

    ٹک ٹاک پر شائع کی گئی اس ویڈیو میں بم دھماکوں کی تصاویر کو گانے کے اس حصے کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے جس میں کیٹی پیری ’بوم، بوم، بوم‘ گاتی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ گانا اصل میں امید، شفا یابی اور اندرونی طاقت کے بارے میں ایک ترانے کے طور پر لکھا گیا تھا اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس کا استعمال اس مفہوم کے منافی ہے جس کی یہ گانا نمائندگی کرتا ہے۔

    اس سے قبل بھی متعدد گلوکار، جن میں اولیویا روڈریگو اور آریانا گرانڈے شامل ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنی موسیقی کے استعمال پر اعتراض کر چکے ہیں۔

  9. شام میں ٹریفک حادثہ، 35 افراد ہلاک، 30 زخمی

    شام میں حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    شام کے مشرقی حصے میں دمشق کو دیر الزور سے ملانے والی شاہراہ پر ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے۔

    شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق سنیچر کو ہونے والا یہ حادثہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو لے جانے والی ایک بس اور شہریوں کو لے جانے والی دوسری بس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پیش آیا۔

    حادثے کے بعد بنائی گئی ویڈیوز میں دونوں بسوں کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    سانا کے مطابق وزارتِ دفاع نے متعدد ہیلی کاپٹر روانہ کیے تاکہ زخمیوں کو حمص کے فوجی ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔

  10. جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی تقریب کے دوران گاڑی ہجوم پر چڑھ دوڑی، ایک شخص ہلاک، 16 زخمی

    برلن میں ہم جنس پرستوں کی تقریب پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہNadja Wohlleben/Getty Images

    جرمنی کے دار الحکومت برلن میں ہم جنس پرستوں کی سالانہ تقریب ’کرسٹوفر سٹریٹ ڈے‘ کے دوران ایک گاڑی کے ہجوم پر چڑھ دوڑنے سے ایک شخص ہلاک اور کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ شہر کے وسط میں واقع ٹیئرگارٹن پارک کے قریب پیش آیا، جس کے بعد تقریب منسوخ کر دی گئی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹیئرگارٹن پارک میں ایک گاڑی ملی جسے لا وارث چھوڑ دیا گیا تھا، پولیس کو شبہ ہے کہ یہی گاڑی واقعے میں استعمال ہوئی۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے رپورٹر جیرڈ ریڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ بظاہر گاڑی ایک درخت سے ٹکرا گئی تھی، جس کے بعد ممکنہ طور پر ڈرائیور وہاں سے فرار ہو گیا۔

    پولیس کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ واقعے میں ملوث مشتبہ شخص یا افراد کی تلاش کے لیے پولیس ہیلی کاپٹروں اور حرارت کی بنیاد پر نشاندہی کرنے والے کیمروں (تھرمَل امیجنگ کیمروں) کا استعمال کر رہی ہے اور تلاش کا دائرہ پورے شہر تک وسیع کر دیا گیا ہے۔

    کرسٹوفر سٹریٹ ڈے برلن میں ہر سال منعقد کیا جاتا ہے اور انتظامیہ کے مطابق اس سال تقریباً 10 لاکھ افراد کی شرکت متوقع تھی۔ یہ ایونٹ 1969 میں نیو یارک شہر میں کرسٹوفر سٹریٹ پر واقع سٹون وال اِن میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی کی معروف بغاوت کی یاد میں منعقد کیا جاتا ہے۔

    تب اس مقام پر پولیس کے چھاپے کے بعد مقامی رہائشیوں نے احتجاج اور ہنگامے کیے تھے، اور بعد میں اس جگہ کو تاریخی حیثیت دی گئی۔ برلن میں اس تقریب میں موسیقی، سیاسی تقاریر، ایک بڑی پریڈ اور شام تک جاری رہنے والی مختلف تقریبات شامل ہوتی ہیں۔

  11. مذاکرات ناکام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 26 جولائی سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Kashmir

    ،تصویر کا ذریعہFacebook/Sardar Umar Nazir

    ،تصویر کا کیپشنجموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 26 جولائی سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 26 جولائی سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں میرپور سے ان کی تنظیم کے حامی لانگ مارچ کرتے ہوئے راولاکوٹ کے علاقے دریک پہنچیں گے۔ اس کے بعد 27 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 27 جولائی کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے مرحلہ وار انتخابات ہو رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔

    عابد شاہین سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا ان کی تنظیم لانگ مارچ کے ذریعے انتخابات ملتوی کروانے کے لیے کسی سیاسی جماعت یا بااثر شخصیت کا آلۂ کار تو نہیں بن رہی، تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم اور اس کے حامیوں کو انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ رواں سال مئی میں پاکستانی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران ان کی تنظیم انتخابات میں حصہ لینے پر متفق ہو گئی تھی، تاہم بعد میں ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ تنظیم انتخابی عمل کا حصہ نہ بن سکی۔

    عابد شاہین نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور اس معاملے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ دریک کے مقام پر جاری دھرنے میں خواتین اور بچے موجود ہیں، تاہم 27 جولائی کو جب وہاں سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہوگا تو اس میں خواتین اور بچوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب کالعدم تنظیم کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایکشن کمیٹی کے نمائندے اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ تنظیم کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت چھ ماہ تک اس کے طرزِ عمل کا جائزہ لے گی، جس کے بعد اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

    ان کے مطابق تنظیم کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اس کے کارکنوں کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ تاہم حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ ایسا کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں اور ان مقدمات کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔

    مذاکرات میں شامل اس شخص کا کہنا تھا کہ تنظیم کے نمائندہ وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کی عدالتوں تک رسائی کے معاملے میں حکومت نرم رویہ اختیار کر سکتی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ تنظیم سے وابستہ جن افراد کو خدشۂ نقضِ امن کے تحت نظر بند کیا گیا ہے، ان کی مشروط رہائی اس صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے۔

    ادھر میرپور پولیس کے ڈی آئی جی کامران کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس مکمل طور پر متحرک ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی کے اہلکار بھی مختلف علاقوں میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔

    میرپور ڈویژن میں انتخابی مہم آج رات بارہ بجے ختم ہو جائے گی۔

  12. قطر اور مصر میں خطے کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر اتفاق، دوحہ میں اعلیٰ سطح ملاقات

    MOFAQatar

    ،تصویر کا ذریعہMOFAQatar

    قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے دوحہ میں مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی۔

    قطری وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مشترکہ رابطے کو فروغ دینے اور امن و استحکام کے قیام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    بیان کے مطابق قطر نے امریکہ اور ایران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے پر قائم رہیں اور جون میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی یادداشتِ مفاہمت پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

    قطری وزیرِاعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں فریق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائیں تاکہ خطے کے امن و سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے۔

  13. اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون مار گرائے جانے کی اطلاعات

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنواضح رہے کہ اسی سال مارچ میں بھی امریکی قونصل خانے پر ایک ڈرون کی مدد سے حملے کی کوشش کی گئی تھی۔ (فائل فوٹو)

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عراقی فضائی دفاعی نظام نے عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق گزشتہ روز عراقی کردستان کی انسدادِ دہشت گردی فورسز نے بھی اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے اربیل کی فضائی حدود میں پانچ ڈرون تباہ کیے تھے۔

    خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد سے اربیل کی فضائی حدود میں متعدد ڈرون مار گرائے جا چکے ہیں۔ کردستان کی ریجنل حکومت کے حکام کی جانب سے ان ڈرونز کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہیں۔ اربیل میں خطے میں واقع امریکہ کے بڑے قونصل خانوں میں سے ایک موجود ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل 13 راتوں تک حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی کارروائیوں کے بعد گزشتہ رات سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے حملے یا جوابی کارروائی کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔

  14. انڈیا: دھرمیندر پردھان کے مستعفی ہونے کے بعد پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی قلمدان سونپ دیا گیا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین صدر دروپدی مرمو نے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا ہے کہ انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے مشورے پر وفاقی وزیر پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج سونپنے کی منظوری دے دی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق پرہلاد جوشی بدستور صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کے وفاقی وزیر رہیں گے، جبکہ ان کے پاس قابلِ تجدید توانائی کی وزارت بھی برقرار رہے گی۔

    صدر مرمو نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے سابق وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

    دوسری جانب بی بی سی ہندی کے جنتر منتر پر موجود نامہ نگار وکاس پانڈے نے بتایا ہے کہ سی جے پی کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کے اعلان کو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں، تاہم مظاہرین اب بھی احتجاجی مقام پر موجود ہیں اور جشن منانے، نعرے لگانے اور رقص کرنے میں مصروف ہیں۔

    یہ وہ دن ہے جس کا مظاہرین کئی ہفتوں سے انتظار کر رہے تھے، اسی لیے وہ اس کامیابی کا بھرپور جشن منائے بغیر وہاں سے جانے کے لیے تیار نہیں۔

    مقامی وقت کے مطابق رات 8:30 بج چکے ہیں اور جنتر منتر کا احتجاجی مقام اب کسی احتجاجی کیمپ کے بجائے جشن کے مقام کا منظر پیش کر رہا ہے۔

    اگرچہ سی جے پی کی بیشتر قیادت وہاں سے جا چکی ہے، تاہم تنظیم کے رضاکار اب بھی ہجوم کو منظم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    مرکزی سٹیج کے باہر تعینات پولیس اہلکار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ وہ صرف اسی صورت میں مداخلت کریں گے جب امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگا۔

  15. سپین اور فرانس کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے دو لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد بے گھر

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    فرانس اور سپین میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ افراد جنگلات میں لگنے والی آگ کی وجہ سے بے گھر ہو گئے ہیں۔

    فرانس سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے مزید 60 ہزار افراد کے انخلا کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔

    فرانسیسی حکام نے شہر بورڈو کے اطراف کے علاقوں سے مزید تقریباً 60 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دے دیا ہے، جس کے بعد فرانس اور سپین میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

    فرانس کے جنوب مغربی علاقوں گیروند اور لاند سے تقریباً دو لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بحران پر قابو پانے کے لیے فوج کو بھی طلب کر لیا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب سپین کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت میڈرڈ کے قریب بھڑکنے والی ایک بڑی آگ پر قابو پانا فائر فائٹرز کے بس کی بات نہیں لگ رہی اور یہ ایک انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چُکی ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب دارالحکومت کے مغربی علاقوں میں تین مختلف مقامات پر لگنے والی آگ ایک مقام پر مل کر شدت اختیار کر گئی۔

    سپین کی حکومت نے ملک میں ’قومی سطح پر ہنگامی حالت‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت 25 ہزار افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکلنے کا حکم بھی دیا گیا ہے، جبکہ تقریباً 40 ہزار دیگر افراد کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین کی مقامی ریسکیو سروسز نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنگلات میں لگنے والی آگ دارالحکومت میڈرڈ سے تقریباً 50 کلومیٹر (31 میل) دور واقع شہری علاقوں روبلیڈو دے چاویلا اور فریسنیدیاس دے لا اولیوا کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    حکام کے مطابق میڈرڈ کے علاقے میں اب تک کم از کم چھ ہزار ہیکٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جبکہ صوبہ ایویلا میں لگنے والی آگ نے تقریباً نو ہزار ہیکٹر اراضی کو تباہ کر دیا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  16. دشمن کے ’ہتھیار ڈالنے‘ تک حملے جاری رہیں گے: محمد باقر ذوالقدر

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ ’ایرانی فورسز دشمن کے ’مکمل ہتھیار ڈالنے‘ تک حملے جاری رکھیں گی اور میناب میں ہلاک بچوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لیا جائے۔‘

    سنیچر کے روز محمد باقر ذوالقدر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’خطے میں اٹھنے والا دھویں کا بادل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی امریکی فوجی، سکیورٹی یا مالیاتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے جنگجوؤں کی جانب سے مسلسل حملے ایرانی قوم کے غصے کی علامت ہیں۔‘

    ذوالقدر نے مزید کہا کہ ’یہ حملے ’اللہ کی مرضی سے، دشمن کے مکمل ہتھیار ڈالنے اور مظلوم بچوں، خصوصاً میناب اور لامرد کے بچوں سمیت دیگر افراد کے خون کا بدلہ لینے تک جاری رہیں گے۔‘

    ایرانی عہدیدار نے یہ بیان حالیہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں کیے گئے حملوں کے حوالے سے دیا، جن میں جنوبی شہروں میناب اور لامرد سمیت مختلف شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں سکولوں اور دیگر شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا جبکہ بچوں سمیت متعدد عام شہری ہلاک ہوئے۔

  17. حوثیوں کا جیزان اور ينبع میں آرامکو تنصیبات پر حملے کا دعویٰ

    ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’انھوں نے سعودی عرب کے شہروں جیزان اور ينبع میں واقع سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سنیچر کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’گروہ نے ’جیزان اور ينبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔‘

    سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    حوثیوں نے گزشتہ چند روز کے دوران سعودی عرب کے خلاف سمندری تجارتی ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو متعدد حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    اس سمندری ناکہ بندی کے جواب میں سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر واقع شہر الحدیدہ میں حوثیوں کے ٹھکانوں اور قریبی جزیرے پر حملے کیے۔

    اس سے قبل یونانی سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ سعودی عرب میں یونانی فوج کے زیرِ انتظام فضائی دفاعی نظام نے سنیچر کے روز یمن سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل ینبع میں واقع آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیے۔

  18. کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم کرنے کا اعلان: ’مجھے آپ سب پر فخر ہے‘، راہول گاندھی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے تنظیم کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔‘

    ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے کے بعد تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیا ہے۔

    راہول گاندھی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ان تمام نوجوانوں اور طلبہ کو دلی مبارک باد جنھوں نے جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل کر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راہول گاندھی نے مزید کہا کہ ’مجھے آپ سب پر فخر ہے۔‘

    انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ ’وہ طلبہ سے معافی مانگیں، جبکہ حکومت مظاہرین کے خلاف تشدد کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کرے۔‘

  19. یمن سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل ینبع پہنچنے سے پہلے تباہ کر دیے گئے: یونانی فوج

    یونانی سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ سعودی عرب میں یونانی فوج کے زیرِ انتظام فضائی دفاعی نظام نے سنیچر کے روز یمن سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل ینبع میں واقع آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیے۔

    اس سے چند گھنٹے قبل سعودی سول ڈیفنس نے اعلان کیا تھا کہ صوبہ ینبع میں ممکنہ حملے کا خطرہ ٹال دیا گیا ہے۔

    یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب یمن کے حوثیوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ الحدیدہ میں اپنے ٹھکانوں پر سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے حملوں کا جواب دیں گے۔

    یاد رہے کہ یونان نے سنہ 2021 سے ایک معاہدے کے تحت امریکی ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام سعودی عرب میں تعینات کر رکھا ہے، جسے یونانی فوجی اہلکار چلاتے ہیں۔ اس کا مقصد سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ ہے۔

    سنیچر کے روز ہونے والی یہ کارروائی دوسرا موقع تھا جب یونانی عملے نے اس دفاعی نظام کو میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کیا۔

  20. یوکرین کا بحیرۂ کیسپین میں ایرانی فوج کے لیے سامان لے جانے والے روسی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی افواج نے بحیرہ کیسپین یا بحیرۂ قزوین میں ایران کے لیے فوجی سامان لے جانے والے روسی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    زیلنسکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ان طویل فاصلے کے حملوں کے دوران بحیرۂ کیسپین کے علاقے میں ایک روسی جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘

    انھوں نے ان حملوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم یہ ضرور بتایا کہ یوکرینی افواج نے روس کے شہر کیروف میں واقع ایک کارخانے کو بھی نشانہ بنایا، جو دونوں ممالک کی سرحد سے تقریباً 1,200 کلومیٹر دور واقع ہے۔‘

    ان کے بقول یہ کارخانہ ’ان ہتھیاروں کے پرزے تیار کرتا ہے جنھیں روسی فوج ہمارے لوگوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔‘

    زیلنسکی کے مطابق یوکرینی حملوں میں روس کے شہر تیومین میں ایک آئل ریفائنری، یکاترنبرگ میں ایک اہم تنصیب اور روستوف آن ڈان میں ایک ایندھن کے ڈپو کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    اس دعوے پر روسی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔