عمران خان کے دور میں ایک ارب 11 کروڑ روپے سے بننے والا ’سٹیٹ آف آرٹ‘ ہسپتال چار سال سے بند کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہIHITC/Getty
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
’ایک ہی وقت میں پانچ جان لیوا اور تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے آئی ایچ آئی ٹی سی تعمیر کیا گیا۔ چین کی جانب سے تقریباً 40 لاکھ ڈالر (ایک ارب 11 کروڑ روپے) کی امداد سے پاکستان میں بنایا جانے والا پہلا آئسولیشن ہسپتال چار سال سے ایک ویران اور غیر فعال عمارت کی صورت کھڑا ہے اور اب حکومت اسے آؤٹ سورس کرنے جا رہی ہے۔ کووڈ 19 میں بننے والا یہ ہسپتال قومی عزم کی علامت تھا جو آج ناقص حکمرانی کی علامت بن گیا ہے۔‘
فیس بک پر موجود جملے ڈاکٹر طارق چیمہ نامی صارف کی وال پر لکھے تھے جس کا عنوان انھوں نے دیا تھا ’آئی ایچ آئی ٹی سی کا عروج اور زوال: ایک کہانی جسے پاکستان کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔‘
یاد رہے کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران آئیسولیشن ہاسپٹل اینڈ انفیکشیئس ٹریٹمنٹ سینٹر (آئی ایچ آئی ٹی سی) چین کی گرانٹ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعمیر کیا گیا تھا جہاں وبائی امراض سے متاثر افراد کو قرنطینہ یا آئسولیشن میں رکھنے، بڑی تعداد میں ویکسینیشن اورعلاج معالجے کی جدید سہولیات فراہم کی گئیں تھیں۔
پاکستان میں صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان، ڈاکٹرز اور ماہرین کی کمی، ہر ہسپتال میں مریضوں کا بے انتہا رش اور علاج معالجے کا بروقت نہ ہونا تو خبروں کا حصہ بننا ایک معمول ہے تاہم جدید سہولیات سے حامل ایک خصوصی ہسپتال کا بے آباد و ویران ہونا غیر یقینی محسوس ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہfacebook/ihitc
ڈاکٹر طارق کی جانب سے اس ہسپتال کو آؤٹ سورس کیے جانے کے دعوؤں کی تفصیلات جاننے کے لیے بی بی سی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے رابطہ کیا جنھوں نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’265 بیڈز پر مشتمل یہ ہسپتال چار سال سے بند پڑا تھا اور وہاں موجود مشیینیں خراب اور ناکارہ ہو گئی ہیں، اب اس کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے فعال بنایا جا رہا ہے تاہم اس کی حتمی منظوری کابینہ نے دینی ہے۔‘
مصطفیٰ کمال کے مطابق اسلام آباد کا آئی ایچ آئی ٹی سی چین کی مدد سے اور ریجنل بلڈ بینک جرمنی نے تعاون سے کووڈ کی عالمی وبا کے دوران بنایا گیا تاہم ان کے مطابق کووڈ کے بعد آئیسولیشن مرکز کی ضرورت ختم ہونے پر یہ غیر فعال ہو گیا جس کے بعد اب اس کو فعال کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر طارق چیمہ، جو آئی ایچ آئی ٹی سی کو چلانے کی پروفیشنلز کی ٹیم کے سربراہ رہے ہیں، سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’پانچ جان لیوا اور تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے تعمیر کیا گیا ہسپتال ایک ویران اور غیر فعال عمارت کی صورت کھڑا ہے۔ کیا نیا سیٹ اپ اس کا خصوصی سٹیٹس برقرار رکھ پائے گا؟‘
انفیکشیئس ڈزیز اور آئسولیشن سینٹرز کی ضرورت کب کب ہو سکتی ہے اور یہ عام ہسپتالوں سے کس قدر مختلف ہوتے ہیں؟ ہم نے اس مضمون میں دیگر معلومات کے ساتھ ان سوالوں کا جائزہ بھی شامل کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہglobalvillagespace/FWO
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جس وقت پاکستان میں کووڈ کی عالمی وبا نے سر اٹھایا تھا اس وقت سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت تھی۔
اس دور میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور وزیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان تھے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان سے جب اس ہسپتال کی ضرورت اور مقاصد جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے جواب موصول نہ ہو سکا تاہم اسد عمر نے نے بی بی سی کے سوال کے جواب میں بتایا کہ عالمی وبا کے دوران اسلام آباد میں کوئی انفیکشیئس ڈزیز سینٹر نہیں تھا جہاں آئیسولیشن کی جا سکے۔
ان کے مطابق کووڈ کے دوران ویکسینیشن اور آئیسولیشن کے لیے آئی ایچ آئی ٹی سی بہت فعال رہا۔ وبا کے گزرنے کے بعد اس کو سٹیٹ اف آرٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد ان کی حکومت ختم ہو گئی اور یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا تھا۔
’جس وقت کووڈ شروع ہوا تو اس وقت ایمرجنسی کے اندر وہ ہسپتال بنایا گیا تھا۔ اس وقت انفکیشیئس ڈیزیز کا کوئی خصوصی ہسپتال تو تھا نہیں اسلام آباد میں جہاں پر آئیسولیشن کی جا سکے۔ اس منصوبے کے لیے چین نے فائنانس کیا اور ایف ڈبلیو او نے بنایا تھا اور آئی ایچ ائی ٹی سی اگست یا ستمبر میں آپریشنل ہو گیا تھا۔‘
اسد عمر کے مطابق کووڈ کے دوران آپریشن ذمہ داری کے لیے پروفیشنلز کی ٹیم بنی۔ پھر بعد میں وزارت صحت نے اس مرکز کو سٹیٹ آف آرٹ بنانے کا فیصلہ کیا۔
’کووڈ ہمیشہ تو نہیں رہنا تھا۔ کووڈ کے دور میں وہ بہت فعال رہا اور پھر ہماری حکومت بھی چلی گئی اور پھر سنا کہ اس کو بھی بند کر دیا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہTariq Cheema
اسد عمر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جن پروفیشنلز کی ٹیم کا ذکر کر رہے تھے اس کے سربراہ ڈاکٹر عثمان چیمہ تھے جنھوں نے تقریبا ایک سال تک آئی ایچ آئی ٹی سی کو معاہدے کے تحت چلایا اور پھر ان ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے۔
تاہم جولائی 2026 میں ڈاکٹر طارق چیمہ نے آئی ایچ آئی ٹی سی کو آؤٹ سورس کرنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آئسولیشن سینٹر کو پاکستان جیسے ملک میں ڈیزاسٹر ریزیلیئنس (Disaster Resilience) یا آفات کی تیاری کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا تھا۔
یاد رہے کہ ڈیزاسٹر ریزیلیئنس سے مراد کسی ملک، ادارے یا معاشرے کی آفات، ہنگامی حالات یا بحرانوں کا مقابلہ کرنے، ان کے اثرات کم کرنے اور جلد بحال ہونے کی صلاحیت ہے تاکہ پاکستان مستقبل میں وباؤں، سیلاب، زلزلوں، متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ، دیگر صحت کے ہنگامی حالات سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹ سکے اور صحت کا نظام مکمل طور پر مفلوج نہ ہو۔
ڈاکٹر طارق کے مطابق ’جب کووڈ 19 نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو پاکستان اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ ایسے میں چین نے پاکستان کے پہلے آئسولیشن ہسپتال کی تعمیر کے لیے این ڈی ایم اے کو تقریباً 40 لاکھ ڈالر کی گرانٹ دی۔ یف ڈبلیو او نے اسلام آباد میں این آئی ایچ کی 40 کنال اراضی پر صرف 40 دن میں 250 بستروں پر مشتمل عمارت تعمیر کر دی، جو ایک غیرمعمولی کارنامہ تھا۔
’آئی ایچ آئی ٹی سی ایک سال سے زائد عرصے تک خودمختار انداز میں چلتا رہا، پھر اسے وزارتِ صحت اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے حوالے کر دیا گیا اور تجویز دی گئی کہ اسے پاکستان کے اعلیٰ ترین متعدی امراض کے ادارے میں تبدیل کیا جائے جہاں ڈاکٹروں اور نرسوں کو تربیت دی جائے، تحقیق کی جائے اور مریضوں کا علاج کیا جائے۔‘
چار سال سے بند ہسپتال، مشیینیں خراب اور ناکارہ

،تصویر کا ذریعہNHSRC
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آئی ایچ آئی ٹی سی کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے وزارت کی جانب سے ایکسپریشن آف انٹرسٹ کے تحت اشتہارات دیے گئے جس میں انڈس ہاسپٹل نے حصہ لیا اور پیمرا رولز کو فالو کیا۔ اب کابینہ کی حتمی منظوری کا انتظار ہے۔‘
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ’کووڈ 2019 میں آیا اور پھر 2022 میں یہ ہسپتال بند ہو گیا تھا اور اب 2026 ہے۔ 265 بیڈز کا یہ ہسپتال ہے۔ ‘
ان کے مطابق ’اسی کے ساتھ جرمن حکومت نے آر بی سی کے نام سے ریجنل بلڈ سینٹر بنایا تھا۔ کووڈ کے دور میں جو تمام اسلام آباد کے ہسپتالوں میں بلڈ کو سکریننگ کے لیے سٹیٹ آف آرٹ بنایا وہ بھی 2022 سے بند پڑا ہے۔‘
ان کے مطابق ’چار سال سے وہ بند ہیں اور مشیینیں وہاں خراب اور ناکارہ ہو گئی ہیں۔ تو جب ہمیں یہ ذمہ داری ملی تو ہمارے سامنے یہ صورت حال آئی کہ یہ ہسپتال بند پڑے ہیں جبکہ اسلام آباد میں دور دراز سے بھی مریض بڑی تعداد میں علاج کے لیے آتے ہیں۔ تو دو آپشن تھیں کہ ایک تو یہاں ہم سرکاری طریقے سے اس کو چلائیں یا پھراسکو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے چلائیں۔‘
ہم نے سوچا کہ کچھ پیسہ سرکار لگائے اور لوگوں تک نئی فیسیلیٹی کے اثرات اس تک دیں۔
’پھر ہم نے اس کے لیے ایکسپریشن آف انٹرسٹ کے تحت اشتہارات دیے۔ ابھی کیبنیٹ نے اپپروول دینی ہے۔ اس میں انڈس ہاسپٹلز نے حصہ لیا اور پیمرا رولز کو فالو کیا۔‘
وزیر صحت کا دعویٰ ہے کہ ’آئیسولیشن وارڈ کا ایک پورشن برقرار رکھا جائے گا اور باقی کو جنرل ہسپتال کے طور پر چلایا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہNHSRC
ڈاکٹر طارق چیمہ سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو سب سے پہلے انھوں نے کہا کہ ’جو کچھ میں نے سوشل میڈیا پر لکھا اس کی میں پوری ذمہ داری لیتا ہوں۔‘
یاد رہے انھوں نے اپنی پوسٹ میں تمام حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا تھا کہ ’کووڈ 19 کی وبا کے بعد سے اقتدار میں آنے والی ہر سیاسی جماعت کو آئی ایچ آئی ٹی سی کی تباہی کا داغ اپنے سینوں پر شرمندگی کے تمغے کے طور پر سجانا چاہیے۔‘
تو اتنے سال سے اگر یہ ہسپتال بند تھا تو آپ کو چار سال بعد اس کا خیال کیسے آیا؟
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق چیمہ نے کہا کہ ’میرے بیرون ملک سے کچھ دوست پاکستان جا رہے تھے تو میں نے سوچا کہ ان کو بتایا جائے کہ کس طرح کووڈ کے دنوں میں پاکستان نے مل جل کر ایسا کام کیا کہ ایک بے مثال ادارہ کھڑا کر دیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے سٹاف نے بتایا کہ وہاں( آئی ایچ آئی ٹی سی) تو کوئی فون نہیں اٹھا رہا دو دن سے ہم رابطہ کر رہے ہیں۔ پھر انھوں نے خود جا کر دیکھا تو پتا چلا کہ وہاں تالے لگے ہیں، بڑی بڑی گھاس اگی ہوئی ہے اور گارڈ تصویریں لینے کی اجازت نہیں دے رہے۔‘
ان کے مطابق جب یہ معاملہ سامنے آیا تو انھیں بہت حیرت ہوئی کہ پاکستان کے صحت کے کمزور نظام میں اتنے جدید سینٹر کا ناکارہ کیسے بنا رہنے دیا گیا؟
ڈاکٹر طارق چیمہ کہتے ہیں کہ ’جس وقت کووڈ عالمی وبا کے طور پر پھیلا اس وقت یہاں وینٹیلیٹرز کی کمی تھی۔ چین نے ووہان کے اندر بہت تیزی میں ایک آئیسولیشن ہسپتال بنایا تھا۔ انھوں نے پاکستان کو بھی مدد کی پیشکش کی اور اس مد میں رقم اور ڈیزائن فراہم کیا جبکہ ایف ڈبلیو او نے ریکارڈ 40 دن میں ہسپتال کھڑا کر دیا۔‘
ان کے دعوے کے مطابق ’این ڈی ایم اے اور پی ایم آفس نے ملاقاتوں کے بعد مجھے کانٹریکٹ دیا گیا جس کا معاوضہ میں نے نہیں لیا۔‘
’وہاں 17 سے 18 ہزار لوگوں کو یومیہ ویکسینیٹ کر رہے تھے۔ تو وہ ایک علیحدہ ونگ تھا۔ اس سے پہلے پاکستان میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بیک وقت ویکسین کرنے کا سیٹ اپ نہیں تھا۔ اسی کے اندر ہم نے ٹریننگ سیکشن بھی بنایا۔ ہم نے تجویز دی کہ اس کو پاکستان میں انفیکشیئس ڈزیز کا ہسپتال بنائیں جہاں ڈاکٹرز تربیت لیں۔‘

،تصویر کا ذریعہglobalvillagespace/FWO
آئیسولیشن ہسپتال کی ڈیزائینگ میں کیا مختلف تھا؟
یاد رہے کہ اس ہسپتال کا بنیادی مقصد کووڈ 19 کی درمیانی سے شدید علامات والے مریضوں کو ان کے خاندانوں اور برادریوں سے الگ رکھنا اور ان کا علاج کرنا تھا۔
وبا سے نمٹنے کے لیے دیگر مقامات پر قائم کیے گئے عارضی ہسپتالوں کے برعکس،اس ہسپتال کو ایک مستقل مرکز کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تاکہ کووڈ کے خاتمے کے بعد بھی یہ دیگر متعدی بیماریوں کے علاج کے لیے کام کرتا رہے۔
جب ہم نے آئی ایچ آئی ٹی سی کے سیکشنز اور ڈیزائننگ پر بات کی تو ڈاکٹر طارق نے بتایا کہ ایک آئیسولیشن ہسپتال کی ڈیزائینگ عام ہسپتال سے مماثلت نہیں رکھتی بلکہ اس میں ہوا کی نکاسی کا نظام تک مختلف ہوتا ہے۔
ان کے مطابق ’آئیسولیشن ہسپتال میں ڈیزائینگ بالکل مختلف ہوتی ہے۔ آئی ایچ آئی ٹی سی میں اس طرح کے سیکشن ہیں کہ آپ پانچ مختلف قسم کی متعدی بیماریوں کو وہاں محدود کر سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اس وقت تو کووڈ ہی تھا تاہم یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی جگہ اگر مختلف لگنے یا پھیلنے والی بیماریوں سے متاثر مریض ہوں تو ان کو یہاں محدود اور علاج کیا جا سکے اور پاکستان میں ایسے ہسپتال کا تصور ہی نہیں تھا۔‘
’اس کے پانچ سیکشن ہونے کا مطلب ہے کہ کچھ گھنٹوں میں ہر سیکشن کی ہوا مکمل طور پر فریش ہو جاتی ہے اور دوسرے وارڈ سے بلکل الگ اس کا وینٹیلیشن کا نظام ہوتا ہے یہ نہیں کہ ایک وارڈ کی ہوا، کولنگ یا ہیٹنگ دوسرے میں داخل ہو، ایسا نہیں ہوتا۔‘
ان کے مطابق ’اس کا پانی کا ویسٹ بھی الگ نکاس ہوتا ہے اور اس کی ٹریٹمنٹ بھی الگ ہوتی ہے۔ تو اس وقت پاکستان کو ایک ایسا سینٹر چین کی مدد سے ملا جو ایک ٹیلرڈ آئیسولیشن ہسپتال بن گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہFaceBook/IHITC
ڈزاسٹر ریزیلئنس اور آفات کی تیاری
انھوں نے تحفظات کا اظہار کیا کہ اگر اس خاص مقصد سے بنے ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں لا کر ایک جنرل ہسپتال کی طرح چلایا جائے گا تو وہ ایسے ہسپتال تو پہلے بھی موجود ہیں۔
’یہ ایسا ہی ہے کہ آپ ایک بکتر بند گاڑی لے کر آئیں اور سبزی منڈی کی لوڈنگ میں لگا دیں۔ ایسا ادارہ تو حکومتی سرپرستی میں چل سکتا ہے جس میں تربیت دی جائے۔ یہی آپ کی ڈزاسٹر ریزیلئنس ہے یہی آفات کی تیاری ہے۔
ان کے مطابق ’جب تک کووڈ نہیں تھا تب بھی پاکستان میں ایسے پیشینٹ تو آتے ہیں ۔ بے شک اس کا سکیل وبا کا نہیں لیکن مریض تو ایسے آتے ہیں۔ مثلا منکی پاکس یا برڈ فلو آیا۔ اب ایسے مریضوں کو کہاں رکھا جا رہا ہے کچھ پتا نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اب آپ بے شک اس کو آؤٹ سورس کریں مگر جو اس کا سٹیٹس ہے جو کہ آئیسولیشن ہسپتال ہے جو انفیکشن ڈزیز کے لیے بنایا گیا ہے اس کو تو برقرار رکھا جائے۔ ایک سٹیٹ آف آرٹ، نیشنل پرائیڈ آئیکونک انسٹیٹیوٹ کو آپ تباہ کر رہے ہیں۔ نج کاری اچھی چیز ہے تاہم اس کا سٹیٹس تو برقرار رکھا جائے۔ جو چیز مقاصد کے تحت بنائی جائے اس کو بنانے کا مقصد برقرار رکھا جائے۔‘



















