بیوی سے جبری طور پر 120 مردوں سے سیکس کروانے کا الزام، سویڈن میں مقدمے کا آغاز

The Angermanland District Court building in Harnosand, Sweden.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجمعے کے روز سویڈن کے مشرقی ساحل پر واقع چھوٹے سے شہر ہارنوساند میں اس مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا
    • مصنف, لارا گوزی
    • مصنف, ایلکس فلپس
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔

سویڈن میں ایک ایسے مقدمے کا آغاز ہوا ہے جس میں ایک خاتون کا الزام ہے کہ ان کے 61 سالہ سابق شوہر نے انھیں 120 سے زیادہ مردوں سے سیکس کرنے پر مجبور کیا تھا۔

یہ واقعہ شمالی سویڈن کے علاقے کرمفورس کا ہے جہاں اس شخص نے مبینہ طور پر اپنی دور دراز واقع زرعی زمین، نگرانی کرنے والے کیمروں اور منشیات کو استعمال کرتے ہوئے سابقہ بیوی سے جبری طور پر آن لائن ملنے والے مردوں سے سیکس کروایا۔

وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ملاقاتیں خاتون کی رضامندی سے ہوتی تھیں اور وہ صرف ان کا انتظام کرتے تھے۔

اس مقدمے نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ اس کا موازنہ فرانسیسی خاتون جزیل کے مقدمے سے کیا جا رہا ہے۔ نو سال تک ڈومینیک پیلیکوٹ نے منشیات استعمال کر کے کئی مردوں سے اپنی بیوی کا ریپ کروایا تھا۔

جمعے کے روز سویڈن کے مشرقی ساحل پر واقع چھوٹے سے شہر ہارنوساند میں اس مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا جہاں اطلاعات کے مطابق ملزم فردِ جرم پڑھے جانے کے دوران مکمل طور پر خاموش اور ساکت رہا۔

اس کے بعد عدالت نے مبینہ متاثرہ خاتون کی شناخت کے تحفظ کے لیے سماعت کو بند کمرۂ عدالت میں منتقل کر دیا۔ متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ خاتون کی بعد ازاں اپنے شوہر سے طلاق ہو گئی تھی۔

سابق شوہر کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی گئی، البتہ ان کی عمر کے سوا کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فرد جرم کے مطابق یہ شخص 2022 سے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو مردوں سے جنسی تعلقات استوار کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ یہ مرد ملک بھر سے ان کی رہائش گاہ آتے تھے اور سیکس کے بدلے پیسے دیتے تھے۔ یہ سلسلہ صرف اس وقت تھما جب خاتون نے اکتوبر 2025 میں پولیس رپورٹ درج کرائی۔

رواں سال کے آغاز پر ان کے خلاف ریپ، ریپ کی کوشش اور تشدد جیسے الزامات دائر کیے گئے تھے۔

استغاثہ عدالت میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ اس شخص نے خاتون کو زبردستی منشیات دیں، اپنی دور دراز واقع رہائش گاہ استعمال کی اور انھیں قابو میں رکھنے کے لیے ان کا باہر میل جول محدود رکھا۔

مقدمے کے آغاز سے قبل استغاثہ کی وکیل ایدا انرسٹیڈ نے سویڈن کے روزنامہ ایکسپریسن کو بتایا کہ سابق شوہر نے خاتون کی غیر معمولی طور پر کمزور صورتحال اور اس کے خوف کو استعمال کرتے ہوئے اپنے جابرانہ رویّے کو معمول کا عمل بنا کر پیش کیا ہے۔

مرد پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے خاتون کو کنٹرول کرنے کے لیے گھر پر نصب نگرانی کے کیمرے استعمال کیے اور کبھی کبھار ان کیمروں سے جنسی تعلقات کو فلمبند کیا جاتا تھا۔ ٹرائل کے دوران ان کیمروں سے بنائی گئی فوٹیج بھی بطور شواہد پیش کی جائے گی۔

سرکاری نشریاتی ادارے ایس وی ٹی نے استغاثہ کی جانب سے دائر کی گئی فردِ جرم کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو قتل کرنے، اس پر پیٹرول چھڑکنے، اسے جلانے اور اس کی انگلیاں کاٹ دینے کی دھمکیاں دی تھیں۔

اگرچہ سویڈش حکام نے 120 مردوں کی شناخت کی ہے تاہم اس مقدمے کے سلسلے میں اب تک صرف 28 افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اکثر نے الزامات کی تردید کی ہے۔ بعض کے مطابق انھوں نے خاتون کے ساتھ سیکس نہیں کیا تھا اور کچھ نے کہا کہ انھوں نے اس بدلے پیسے نہیں دیے تھے۔

اطلاعات کے مطابق آن لائن چیٹس، ادائیگیوں کا ریکارڈ اور کیلنڈر میں درج اندراج بھی اُن شواہد میں شامل ہیں جنھیں عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

دفاعی وکیل مارٹینا مائیکلزڈاٹر اولسن نے سماعت کے آغاز پر سرکاری نشریاتی ادارے ایس وی ٹی کو بتایا کہ ان کے موکل ’اس صورتحال سے واقف نہیں جسے پیش کیا جا رہا ہے۔‘

مقدمے کی سماعت 14 دن تک جاری رہنے کی توقع ہے۔