لائیو, جنگ کے خاتمے کے لیے ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کے اصولوں اور معاہدوں کی روح کی پاسداری کی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرا فریق بھی اپنے قول و فعل دونوں سے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے۔‘
خلاصہ
امریکی فوج کے جنوبی ایران پر نئے حملے
ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے: امریکی وزیر خارجہ
افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کیا جائے گا، یا ایران کے ساتھ مل کر وہیں تباہ کیا جائے گا: ٹرمپ
ایرانی صدر پزشکیان نے ملک میں انٹرنیٹ کی بحالی کا حکم جاری کر دیا
اسرائیلی وزیر اعظم کا لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے سخت کرنے کا اعلان
لائیو کوریج
اسرائیل کا غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ
محمد عودۃ کو ہلاک کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس
پر اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں لکھا کہ محمد عودۃ 7 اکتوبر کے حملوں
کے وقت حماس کی انٹیلیجنس کے سربراہ تھے اور انھیں عزالدین حداد کی موت کے بعد ایک
ہفتے قبل ہی حماس کے عسکری ونگ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ
محمد عودہ اسرائیلی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے ’قتل، اغوا اور انھیں زخمی‘ کرنے
کے ذمہ دار تھے۔
’ہم ان تمام لوگوں کا
پیچھا کرنا جاری رکھیں گے جنھوں نے 7 اکتوبر کے قتلِ عام میں حصہ لیا تھا۔ جلد یا
بدیر اسرائیل ان سب تک پہنچے گا۔‘
حماس نے تاحال محمد عودۃ
کی موت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
جنگ کے خاتمے کے لیے ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر
،تصویر کا ذریعہWANA/Reuters
ایرانی صدر مسعود پزشکیان
کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے
تیار ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں
ادارے ارنا کے مطابق منگل کو قطر کے امیر تميم بن حمد بن خليفہ آل ثانی سے ٹیلی فون پر
ہونے والی گفتگو کے دوران صدر پزشکیان نے امن کے لیے دوحہ کے تعمیری کردار اور
حمایت پر قطری امیر کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان کا
مزید کہنا تھا کہ ’ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کے اصولوں اور معاہدوں کی روح کی
پاسداری کی ہے۔‘
’اب وقت آ گیا ہے
کہ دوسرا فریق بھی اپنے قول و فعل دونوں سے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے۔‘
ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے واضح راستہ فراہم کرنے کے لیے دستاویزات اور متون کو
حتمی شکل دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ’پراجیکٹ فریڈم‘ دوبارہ شروع کرنے کی خبریں غلط ہیں: سینٹکام
،تصویر کا ذریعہCENTCOM/X
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)
نے ان میڈیا رپورٹس کو ’غلط‘ قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی
بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی رہنمائی یا معاونت کرنے کا
عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس
پر ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا تھا کہ ’پراجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع نہیں کیا
گیا ہے اور امریکی فورسز اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی
حفاظتی رہنمائی نہیں کر رہیں۔‘
ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا: وزارت خارجہ
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر جنگ بندی کی ’واضح خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
منگل کو جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے 8 اپریل 2026 کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی اپنی ’غیر قانونی اور بلاجواز کارروائیاں‘ جاری رکھیں۔
بیان میں خاص طور پر گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف مبینہ ’سمندری قزاقی‘ کی متعدد کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا، جنھیں صوبہ ہرمزگان کے قریب جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں سے امریکی قیادت کے ’بدنیتی پر مبنی عزائم‘ نہ صرف ایران بلکہ خطے کے عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کا امریکہ کے بارے میں ’گہرا عدم اعتماد‘ اس کے سابقہ طرزِ عمل کے تناظر میں ’منطقی اور حقیقت پسندانہ‘ ہے، اور یہ کہ ایرانی موقف میدانِ جنگ، عوامی سطح اور سفارتی سطح، تینوں محاذوں پر اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 2(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات عالمی قوانین اور جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ تہران نے ان واقعات کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرنے کا اعلان بھی کیا۔
ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی ’جارحانہ اقدام‘ کو بلا جواب نہیں چھوڑے گا اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔
تاہم اس حوالے سے امریکہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں تیزی، حزب اللہ کا مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں جبکہ حزب اللہ نے ’غیر ملکی سرپرستی‘ اور تقسیم کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع کے شہروں اور دیہاتوں میں اسرائیلی فضائی حملے شدت اختیار کر گئے، جب اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ حزب اللہ کو ’کچل دیا جائے‘۔
ان بیانات کے بعد بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی، کیونکہ لوگوں کو خدشہ تھا کہ ان علاقوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حزب اللہ کے جنگجو مقبوضہ لبنانی علاقوں میں اسرائیلی افواج اور شمالی اسرائیل کے مقامات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جنھیں حزب اللہ لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کا ردعمل قرار دیتی ہے۔
اپنی جانب سے، لبنانی حزب اللہ نے لبنانی آئین کے اجرا کی صد سالہ تقریب کے موقع پر طائف معاہدے کے بعد ترمیم شدہ آئین کو تنازعات کے حل اور ریاستی امور کے نظم و نسق کے لیے بنیادی حوالہ قرار دینے پر زور دیا۔
لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاری بیان میں جماعت نے ’تقسیم، وفاقیت اور آبادکاری‘ کے منصوبوں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ آئین کی روح اور لبنان کے اتحاد کے خلاف ہیں اور تنوع کو اختلاف اور تنازعے کا ذریعہ بناتے ہیں۔
حزب اللہ کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ نظام اب ایک مستحکم اور منصفانہ ریاست قائم کرنے کے قابل نہیں رہا، اور طائف معاہدے کی اصلاحات کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کیا، خاص طور پر سیاسی فرقہ واریت کے خاتمے اور ’شہری ریاست‘ کے قیام پر زور دیا۔
جماعت نے مزید کہا کہ ’قابض کے خلاف مزاحمت‘ ایک جائز حق ہے جو لبنانی آئین اور عرب و بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ ہے، اور اسرائیلی خطرے کے پیش نظر لبنان سے ’طاقت کے عناصر‘ کو ختم کرنا طائف معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ’دشمنی، قبضے اور مسلسل خطرے‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کے معمول کے تعلقات کو مسترد کیا گیا ہے۔
حزب اللہ نے لبنان کو جارحیت اور بیرونی مداخلت سے بچانے اور ’خودمختاری، شراکت داری اور اصلاحات‘ کی بحالی کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ لبنان ’صرف متحد، خودمختار، آزاد اور قابض کے خلاف مزاحمت کرنے والا ہو کر ہی باقی رہ سکتا ہے۔‘
اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ شمالی اسرائیل کے علاقے ساسا میں، جو لبنان کی سرحد کے قریب ہے، ’دشمن طیارے‘ کی ممکنہ دراندازی کے الرٹ سائرن بجائے گئے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے مشرقی لبنان کی وادیِ بقاع سمیت ملک بھر میں ’حزب اللہ کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا، جب کہ نیتن یاہو نے پیر کی رات خطاب میں کہا کہ اسرائیل ’حزب اللہ کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے‘ اور فوج کو اسے ’کاری ضرب‘ لگانے کی ہدایت دی ہے۔
ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے پیر کے روز شمالی اسرائیل میں تین فوجی بیرکوں اور ایک فوجی مقام پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے لبنان میں حملے مزید تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جماعت نے متعدد بیانات میں کم از کم چار ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں شمرا بیرک، شمالی اسرائیل کے دو شہروں میں واقع بیرکوں اور مصغاف عام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان اور اسرائیل نے اسی ماہ جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس دوران جھڑپیں جاری رہیں۔
ابتدائی جنگ بندی کے بعد اب تک 10 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان میں اسی عرصے کے دوران شدید اسرائیلی گولہ باری میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد طبی عملے اور امدادی کارکنوں کی تھی۔
اسرائیل نے اس کے جواب میں پورے لبنان میں فضائی مہم شروع کی اور پھر زمینی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 3,185 افراد ہلاک اور 9,633 زخمی ہوئے۔
ہم جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف جوابی کارروائی کے حق کو جائز اور یقینی سمجھتے ہیں: پاسداران انقلاب
،تصویر کا ذریعہEPA
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف جوابی کارروائی کا حق ’جائز اور یقینی‘ سمجھتے ہیں۔
پاسداران انقلاب کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سینٹرل کمان نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ رات جنوبی ایران میں دفاعی نوعیت کے حملے کیے۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں، ان حملوں کا براہِ راست ذکر کیے بغیر کہا گیا کہ امریکی فوج نے ’خطے میں اپنی مداخلت پسندانہ مہم جوئی اور جارحانہ رویے کو جاری رکھتے ہوئے خلیج فارس کے علاقے میں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوئی‘، جس کے بعد پاسداران انقلاب کے دفاعی یونٹس نے ’محتاط انٹیلی جنس نگرانی کے بعد ایک MQ-9 ڈرون کی نشاندہی کر کے اسے مار گرایا۔‘
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ اس نے ایک RQ4 ڈرون اور ایک F-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کی، ’جس کے نتیجے میں وہ پسپا ہو کر علاقائی پانیوں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے۔‘ پاسداران نے ان حملوں کے وقت اور مقام کی وضاحت نہیں کی۔
اس سے قبل امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گذشتہ رات جنوبی ایران میں نئے حملے کیے، جن میں ایرانی میزائل سائٹس اور اُن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو ’بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔‘
امریکی سینٹرل کمان کے بیان کے مطابق یہ حملے اپنے دفاع میں کیے گئے اور ان کا مقصد ’ایرانی فورسز کی جانب سے درپیش خطرات سے امریکی افواج کا تحفظ‘ تھا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے گذشتہ رات اطلاع دی کہ بندر عباس اور شہر کے ہوائی اڈے کے اطراف دھماکے کی آواز سنی گئی۔
تیل کی قیمتیں، جو ایران اور امریکہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کی امیدوں کے بعد نمایاں حد تک کم ہو گئی تھیں، اب دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔
تاہم، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر نئے حملوں کے بعد کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
بیلجیم میں ٹرین اور سکول بس کا تصادم، دو بچوں سمیت چار ہلاک
،تصویر کا ذریعہBelga/AFP
مقامی میڈیا کے مطابق بیلجیم میں ٹرین اور سکول کی منی بس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ حادثہ بیلجیم کے شہر بگن ہاؤٹ میں پیش آیا جہاں ایک ریلوے کراسنگ پر ٹرین نے سکول کی منی بس کو ٹکر مار دی۔
فلیمش سرکاری نشریاتی ادارے وی آر ٹی کے مطابق جب حادثہ پیش آیا تو اس منی بس میں سات بچے، ایک نگران اور ڈرائیور سوار تھے۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فلیمش وزیر تعلیم زوہال دمیر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’یہ نہایت افسوسناک خبر ہے۔ میری ہمدردیاں متاثرین، ان کے اہل خانہ اور اس واقعے سے متاثرہ تمام افراد کے ساتھ ہیں۔‘
وفاقی پولیس کی ترجمان این برگر کے مطابق، یہ تصادم صبح 8 بجے کے کچھ دیر بعد اس وقت پیش آیا جب ریلوے کراسنگ کے بیریئر نیچے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ متاثرین کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی جا سکتیں کیونکہ پہلے ان کے خاندانوں کو اطلاع دینا ضروری ہے، تاہم ٹرین میں سوار کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔
امریکہ کو خطے میں اپنے اڈوں کے لیے کوئی محفوظ مقام نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے رہبر
اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے طویل پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای
نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں ایران کی کامیابی کا دعویٰ کیا۔
بیان کے مطابق ایرانی رہبر اعلیٰ نے
کہا کہ ’وقت پیچھے نہیں لوٹے گا اور خطے کی اقوام اور سر زمینیں اب امریکی اڈوں کے
لیے ڈھال نہیں بنیں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اب اس خطے میں
امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں کے لیے کوئی محفوظ مقام نہیں ملے گا۔
اپنے
پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا وجود خاتمے کے قریب ہے اور وہ
اگلے 25 برس نہیں دیکھ سکے گا۔
ایران جنگ کے باعث فضائی دفاعی نظام عالمی سطح پر نایاب ہو گئے: ولادیمیر زیلنکسی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے
ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’ایران جنگ کے باعث بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے
نظام اب دنیا بھر میں نایاب ہو گئے ہیں، تاہم ہمیں کوئی حل تلاش کرنا ہو گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یوکرین کا
فضائی دفاع کا نظام مضبوط بنانا ان کی بنیادی ترجیح ہے۔
یوکرین کے صدر نے اپنے ملک کے لیے
مزید حمایت کے امکان پر امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔ انھوں نے
کہا کہ یوکرین بیلسٹک میزائلوں کے دفاعی نظام کی پیداوار تیز کرنے کی کوشش کر رہا
ہے۔
صدر
زیلنسکی نے مزید کہا: ’یورپ مالی لحاظ سے ہماری مدد کر رہا ہے، لیکن بیلسٹک
میزائلوں کے دفاعی نظام کی پیداوار بڑھانے کے لیے امریکہ کی مضبوط قیادت کی بھی
فوری ضرورت ہے۔‘
جنگ سے جزوی طور پر تباہ 97 فیصد گھروں کی مرمت کر لی گئی: بلدیہ تہران
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
تہران کی بلدیہ کے ترجمان عبدالمطہر
محمد خانی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے تہران میں جن 39 ہزار 650
گھروں کو معمولی نقصان پہنچا تھا، ان میں سے 97 فیصد کی مرمت کر دی گئی ہے۔
تہران بلدیہ کے ان عہدے دار کے مطابق
معمولی نقصان کی تعریف یہ ہے کہ گھر کے دروازوں اور کھڑکیاں متاثر ہوئے ہوں۔ ساتھ ہی انھوں نے ایسے گھروں
کی 75 فیصد تعمیر نو کی اطلاع بھی دی ہے جن کے نقصان کی سطح کو ’درمیانہ‘ قرار
دیا گیا تھا۔
عید الاضحیٰ پر پنجاب میں ہیٹ ویو کا خدشہ، عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم
صوبائی ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبہ پنجاب میں عید الاضحی کی
تعطیلات کے دوران ہیٹ ویو کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں درجہ حرارت معمول سے چار
سے سات ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
ترجمان کے مطابق لاہور، راولپنڈی،
گوجرانوالہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ سمیت کئی شہروں میں درجہ حرارت 42 ڈگری تک پہنچ
سکتا ہے، جبکہ ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان، سرگودھا اور جھنگ
میں پارہ 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ رات کے
اوقات میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہ سکتی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی طرف سے جاری بیان
میں کہا گیا ہے کہ شہری صبح 10 بجے سے شام پانچ بجے تک غیر ضروری طور پر دھوپ میں
نکلنے سے گریز کریں اور پانی اور مشروبات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ شہریوں
کو ہدایت کی گئی ہے کہ باہر نکلتے وقت ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں اور سر کو
ڈھانپنے کے لیے ٹوپی یا چھتری استعمال کریں، جبکہ بچوں اور بزرگوں کو شدید گرمی
میں گھروں کے اندر رکھا جائے۔
پی
ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ سفر
پر روانہ ہونے سے پہلے گاڑی کے ٹائروں کا پریشر اور ریڈی ایٹر میں پانی کی سطح لازمی
چیک کی جائے۔ عید کے موقع پر قصابوں، مویشیوں کے تاجروں اور
صفائی کے عملے کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے: امریکی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہulia Demaree Nikhinson / POOL / AFP via Getty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے
کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ کا
بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے جنوبی ایران پر نئے حملے کیے
ہیں اور نازک جنگ بندی مزید غیر مستحکم ہو چکی ہے۔
انڈیا کے سرکاری دورے کے دوران جے
پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا: ’آج قطر میں مذاکرات جاری
تھے، دیکھنا ہوگا کہ کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ زیادہ وقت
دستاویزات کے متن میں استعمال ہونے والے الفاظ اور اصطلاحات کی درستی پر صرف ہوتا
ہے، اس لیے اس میں چند دن لگیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’صدر نے اس کام
کو انجام دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وہ یا تو ایک اچھا معاہدہ حاصل کریں گے یا
کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔‘
آبنائے ہرمز کے کھولے جانے پر زور دیتے ہوئے امریکی
وزیر خارجہ نے کہا: ’جو کچھ وہاں ہو رہا ہے، وہ غیر قانونی ہے اور قواعد کے خلاف ہے۔ یہ
دنیا کے لیے عدم استحکام کا باعث ہے اور ناقابل قبول ہے۔‘
ایرانی صدر پزشکیان نے انٹرنیٹ کی بحالی کا حکم جاری کر دیا
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے
وزارت مواصلات کو یہ ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کو دسمبر 2025 سے
پہلے کی حالت پر بحال کر دیا جائے۔
نائب وزیر مواصلات نے تصدیق کی ہے کہ
صدر کا حکم ان تک پہنچ چکا ہے اور ’یہ اقدام عوام کے حق کی بحالی اور عوامی اعتماد
کی طرف ایک قدم ہے۔‘
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اعلان
کیا تھا کہ نائب صدر محمد رضا عارف کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران ’ملک
میں انٹرنیٹ کی صورتحال سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی اور صدر پزشکیان کی
حتمی منظوری کے بعد ان فیصلوں پر عمل در آمد کے لیے وزارت مواصلات و انفارمیشن
ٹیکنالوجی کو احکامات جاری کر دیے جائیں گے۔‘
خبر رساں ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا
تھا کہ اس اجلاس میں ’انٹرنیٹ کی دوبارہ بحالی کا فیصلہ اس کے حق میں نو ووٹ آنے
پر منظور کیا گیا اور حتمی منظوری کے لیے مسعود پزشکیان کے دفتر کو بھیج دیا گیا۔‘
گذشتہ سال دسمبر میں مظاہرین کے خلاف
کارروائیوں کے دوران ایران میں انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا اور پھر جب اسرائیل اور امریکہ نے
ایران کے خلاف حملے شروع کیے تو ایک بار پھر انٹرنیٹ کو بند کر دیا گیا تھا۔
افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کیا جائے گا، یا ایران کے ساتھ مل کر وہیں تباہ کیا جائے گا: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا
پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایران میں موجود افزودہ یورینیم یا
تو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کیا جائے گا تاکہ اسے وہاں لے جا کر تباہ کیا جا سکے، یا ایران
کے ساتھ مل کر وہیں کسی اور قابلِ قبول مقام پر تباہ کیا جائے گا، جبکہ جوہری توانائی
کمیشن یا اس کے مساوی ادارہ اس عمل کا مشاہدہ کرے گا۔
ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں انھوں
نے دو خاکے شیئر کیے، ایک پر نقدی کا ڈھیر پڑا ہے اور لکھا ہے ’اوباما (سابق
امریکی صدر) کی ایران پالیسی‘۔ جبکہ دوسرے خاکے میں امریکی پرچم بردار بحری جنگی
جہاز دکھایا گیا ہے جو بمباری کر رہا ہے۔ اس پر تحریر ہے ’ٹرمپ کی ایران پالیسی‘۔
واضح
رہے کہ آج امریکی فوج نے جنوبی ایران پر نئے حملے کیے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump
امریکی فوج کے جنوبی ایران پر نئے حملے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے
جنوبی ایران پر نئے حملے کیے ہیں، جن میں ایرانی میزائل تنصیبات اور ان کشتیوں کو
ہدف بنایا ہے جو بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے
ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے ’اپنے دفاع‘ میں کیے گئے اور ان کا مقصد ’اپنے فوجیوں
کو ایرانی فوج کی جانب سے لاحق خطرات سے بچانا‘ تھا۔
سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم
ہاکنز نے کہا کہ امریکی فوج ’جنگ بندی کے دوران تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنی افواج
کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں
کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن تنازع کے خاتمے کا کوئی معاہدہ ’فوری طور پر متوقع نہیں۔‘
ہاکنز نے کہا کہ حملوں کا ہدف بندر
عباس کے قریب ایک علاقہ تھا۔ یہ جنوب میں ایک ساحلی شہر ہے اور امریکی اخبار نیو
یارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی بحریہ کا ایک اڈا بھی اسی شہر میں ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اس سے قبل
اطلاع دی تھی کہ بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کے بعد مقامی حکام
تحقیقات کر رہے تھے۔
ایران
نے ابھی تک امریکی حالیہ حملوں پر رد عمل نہیں دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ ان حملوں
کا امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے پر کیا اثر پڑے گا۔
اسرائیلی فوج حزب اللہ پر ’سخت حملہ‘ کرے گی: نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنے حملے تیز کرے اور اسے ’کچل‘ دے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے حزب اللہ پر الزام لگایا کہ وہ ڈرون حملوں کے ذریعے اسرائیلی فورسز کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ فوج حزب اللہ پر ’سخت حملہ‘ کرے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اس گروپ کے ساتھ جنگ میں ہے اور حالیہ ہفتوں میں حزب اللہ کے 600 ارکان کو ہلاک کر چکا ہے۔
نیتن یاہو کے مطابق ’ہم حزب اللہ کے خلاف اپنے حملوں کو مزید بڑھائیں گے اور نہیں رکیں گے‘
باقر قالیباف اور عباس عراقچی قطر کے امیر سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچ گئے: ایرانی میڈیا
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر
باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی قطر کے امیر اور اعلیٰ حکام سے مذاکرات
کے لیے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔
خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی نے ایک باخبر
ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے دونوں سینئر عہدیدار قطر کے وزیرِاعظم سے
اہم علاقائی اور سفارتی امور پر بات چیت کریں گے۔
رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے
ہرمز اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل یہ خبر دی تھی کہ ایران
کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی بھی ’منجمد اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے
اور اقتصادی مذاکراتی کمیشن‘ کے سلسلے میں قطر پہنچے ہیں۔
گزشتہ ہفتے قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ایران کا
دورہ کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران
کے اہم مطالبات میں اس کے منجمد مالی وسائل کی بحالی بھی شامل ہے۔
صوابی سوات موٹروے پر بس اور وین میں تصادم، ہلاکتوں کی تعداد 17 ہوگئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں سوات صوابی موٹروے
پر خورو کوٹھے کے مقام پر ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں ریسکیو 1122 کے مطابق ہلاک
ہونے والے افراد کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔
ریسکیو 1122 حکام کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ حادثہ
اُسوقت پیش آیا کہ جب ایک وین سڑک کنارے کھڑی بس سے ٹکرا گئی۔
ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے
کہ حادثے کے وقت فلائنگ کوچ میں سوار 17 مسافر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ پانچ سے
زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔
ریسکیو 1122 مردان
کے مطابق موٹروے پولیس اور مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کرتے
ہوئے ہلاک ہونے والے افراد اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم
کی جا رہی ہے جبکہ بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو شاندار اور بامعنی ہوگا یا پھر سرے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے
ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کا دفاع کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات پر تنقید کرنے والے خواہ
وہ ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلکن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’احمق‘ قرار
دیا اور کہا کہ وہ ’ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘
صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’یا تو شاندار اور بامعنی ہوگا یا پھر سرے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔‘
انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر
ان سیاستدانوں کو ’تفرقہ پھیلانے والے‘ افراد قرار دیا اور کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں
کہ جو ’میری ہر بڑی کامیابی پر مسلسل تنقید کرتے رہتے ہیں۔‘
گزشتہ چند روز کے دوران امریکی کانگریس کے متعدد
ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر
شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان میں ریپبلکن سینیٹر ٹام ٹِلس بھی شامل ہیں، جن کا
ذکر صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کیا ہے۔
امریکہ کے کئی سابق عہدیدار، جن میں سابق وزیرِ
خارجہ مائیک پومپیو اور سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن شامل ہیں، بھی اس
ممکنہ معاہدے پر سخت تنقید کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔
امریکہ ایرانی ٹیم کے بلا رکاوٹ اس ایونٹ میں شمولیت کو یقینی بنانے کا پابند ہے: اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے
2026 فیفا ورلڈ کپ میں ایرانی قومی فٹبال ٹیم کی شرکت سے متعلق قیاس آرائیوں پر
ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی ٹیم کے بلا رکاوٹ اس ایونٹ میں شمولیت
کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔
یہ بیان اُن رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا
گیا تھا کہ ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے امریکی ویزا کے حصول میں بار
بار پیش آنے والی مشکلات کے باعث قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو
منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سوموار 25 مئی کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے
دوران اسماعیل بقائی سے سوال کیا گیا کہ آیا فیفا ممکنہ امریکی رکاوٹوں کا مؤثر
طور پر مقابلہ کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس پر انھوں نے کہا کہ اگرچہ ٹورنامنٹ کے
انتظامی امور کے حوالے سے فیفا بنیادی رابطہ کا ادارہ ہے، تاہم امریکہ بھی شریک
میزبان ہونے کے ناطے ذمہ داری رکھتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ
ایرانی قومی ٹیم کی بغیر کسی رکاوٹ شرکت کے لیے تمام ضروری سہولتیں فراہم کرے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ تربیتی کیمپ کو منتقل کرنے کا فیصلہ فیفا، میکسیکن فٹبال فیڈریشن اور متعلقہ امریکی حکام سے مکمل مشاورت کے بعد کیا گیا تاکہ ممکنہ رکاوٹوں کو پہلے ہی دور کیا جا سکے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی ٹیم کا سفر مکمل طور پر کھیلوں کے مقاصد کے تحت اور فیفا کے ضوابط کے مطابق ہوگا۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ تمام انتظامات بین الاقوامی فٹبال کے اصولوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں تاکہ ایرانی ٹیم عالمی سطح پر مقابلوں میں شرکت کے دوران کسی امتیازی سلوک یا رکاوٹ کا سامنا نہ کرے۔