کیا پاکستان حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی جنگ کا حصہ بن سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہWhite House
- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ ’انصار اللہ‘ کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں اور ایسے میں ریاض کے دو دفاعی شراکت داروں پاکستان اور ترکی کی اِس تنازع میں شمولیت سے متعلق متعدد سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔
پانچ اکتوبر کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریاض میں پولیٹیکل اینڈ ڈیفینس سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا، جس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کمیٹی نے اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں کے عملی نفاذ کی جانب فوری منتقلی اور عسکری صلاحیتوں کی فراہمی کے لیے ضرور اقدامات اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔‘
’اس کے ساتھ ساتھ، منظور شدہ انتظامات اور رکن ممالک کے قومی قوانین کے مطابق افواج اور صلاحیتوں کی مملکت میں تیز رفتار تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ تیاری، عسکری انضمام اور خطرات کا مقابلہ کرنے اور ان کا تدارک کرنے کی اجتماعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔‘
تاہم ترکی کے وزیر خارجہ نے یمن میں حوثیوں کے ساتھ باضابطہ لڑائی کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔
جمعرات کو ترک وزیر خارجہ نے اس معاملے میں ترکی کے کردار پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے۔ ترکی کسی حملے کے لیے کسی دوسرے ملک اپنے فوجی اہلکار نہیں بھیجے گا۔‘
پاکستان میں سرکاری حکام کہہ چکے ہیں کہ مکہ دفاعی معاہدہ ’آپریشنل‘ ہے اور اس کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس بات کی بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ ان کی اس حوالے سے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات ہوئی ہے۔
گذشتہ جمعے کو ایک پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ایران حوثیوں اور عراقی گروہوں سے لاتعلقی کا اظہار کر رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک ’دفاعی معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عملدرآمد کا پابند ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ پاکستان اپنے شراکت دار سعودی عرب کے دفاع کے لیے کیا اقدامات اُٹھا رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستانی فوج کے ترجمان سعودی عرب میں پاکستانی فورسز کی موجودگی کی تصدیق کر چکے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی دستے مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں تو پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 'مختلف صلاحیتیوں کے حامل دستے سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے موجود رہے ہیں۔ مکہ اتحاد کسی خلا (ویکیوم) میں نہیں ہوا۔ یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سفارتی، سیاسی اور فوجی تعلق کا تسلسل ہے۔'
ایسے میں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر سامنے آئی جس میں ایک سینیئر عسکری ذریعے کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا گیا کہ حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں پاکستانی لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم پاکستان کی وزارت اطلاعات کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات کے بیان میں اسے ’جھوٹی اور من گھڑت‘ خبر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کی تعیناتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جائے اور یہ کہ اگر ایسی کسی تعیناتی یا کارروائی کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔
ایسے میں پاکستان میں موجود متعدد شخصیات نے سوشل میڈیا پر پاکستانی حکومت کو یمن جنگ کا حصہ نہ بننے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین الشرفین کا تحفظ ایک بات ہے مگر حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بننا دوسرا معاملہ ہے۔
بی بی سی نے اس ضمن میں دفاعی اور سفارتی امور کے ماہرین سے بات چیت کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا پاکستان باضابطہ طور پر حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بن سکتا ہے، یا سنہ 2015 کی طرح اسلام آباد اس تنازع کا براہ راست حصہ نہیں بنے گا اور اپنا معاملہ صرف دفاعی اقدامات تک محدود رکھے گا؟
کیا پاکستان حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بننے جا رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters via Saudi Press Agency
مکہ دفاعی معاہدے سے قبل پاکستان نے گذشتہ برس سعودی عرب کے ساتھ ایک دو طرفہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت، سعودی وزارت دفاع کے مطابق، اسلام آباد نے فضائیہ کے لڑاکا طیارے اور فورسز رواں برس اپریل میں بھیجی تھیں۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق ’سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک فوجی فورس سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت مملکت کے مشرقی سیکٹر میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گئی ہے۔‘
سعودی وزارت دفاع کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل اس فورس کا مقصد سعودی اور پاکستانی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ فوجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور آپریشنل تیاری کی سطح کو مزید بلند کرنا ہے، تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے فروغ میں مزید معاونت فراہم کی جا سکے۔
بی بی سی نیوز اردو نے آئی ایس پی آر سے سعودی عرب میں موجود پاکستانی فورسز کے کردار پر سوالات کیے، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ تاہم ایک ذریعے نے اپنے مختصر جواب میں بتایا کہ ’یہ تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کی جا سکتیں۔‘
یاد رہے کہ ماضی قریب میں پاکستانی فوج کے ترجمان اس حوالے سے تفصیلات افشا نہ کرنے کی بات کر چکے ہیں۔
یونیورسٹی آف برمنگھم سے منسلک مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر عمر کریم نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’سعودی عرب کی سلامتی اور اس کو درپیش خطرات کا معاملہ اب یمن میں جاری تنازع کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس لیے پاکستان کی جانب سے اس تنازع میں براہِ راست شمولیت نہ بھی ہو تو بالواسطہ شمولیت کسی نہ کسی درجے میں موجود رہنے کا امکان ہے۔‘
عمر کریم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس معاملے سے متعلق میڈیا میں کوریج کو سختی سے اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی غالباً خبروں اور اطلاعات کی تردید کی پالیسی جاری رکھے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’تاہم عملی سطح پر صورتِ حال مختلف سمت اختیار کر سکتی ہے کیونکہ یہ تنازع اب بنیادی طور پر سعودی عرب کی سلامتی سے جڑ چکا ہے اور یمن سعودی عرب کے لیے سب سے اہم سکیورٹی خطرے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ لہٰذا پاکستان کی وسیع تر شمولیت وقت کی بات معلوم ہوتی ہے۔‘
لیکن یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان اس سے قبل سنہ 2015 میں پارلیمنٹ کے ذریعے یمن تنازع میں شمولیت سے انکار کر چکا ہے اور اب ایک بار پھر کچھ مبصرین پاکستان کو حوثیوں کے خلاف جنگ سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
ماضی میں امریکہ اور اقوام متحدہ میں بطور سفیر پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ملیحہ لودھی بھی پاکستان کی حوثیوں کے خلاف تنازع میں شمولیت کی مخالف ہیں۔
انھوں نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’پاکستان کو اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے، چاہے ہی وہ کتنا ہی قریبی دوست ملک کیوں نہ ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یمن کے تنازع میں کسی بھی قسم کی شمولیت کا فیصلہ پارلیمان میں بحث کے بعد اور اس کی منظوری کے مطابق ہونا چاہیے۔ سنہ 2015 میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا، جب پارلیمانی اور عوامی رائے دونوں پاکستان کی یمن جنگ میں شرکت کے خلاف تھیں اور سعودی عرب کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔‘
تاہم عمر کریم سمجھتے ہیں کہ اب حالات سنہ 2015 سے مختلف ہیں اور شاید اس بار پاکستان یہ معاملہ پارلیمنٹ تک نہیں لے کر جائے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ملک میں سول ملٹری تعلقات اور جمہوریت کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ حقیقی اختیار کہاں موجود ہے اور پارلیمان کی اہمیت کس حد تک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب سے دو طرفہ معاہدے اور پھر سہہ فریقی مکہ معاہدے سے قبل پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں ہوئی۔ ’اس لیے اس بات کا امکان کم دکھائی دیتا ہے کہ پارلیمان پاکستان کی اس تنازع میں ممکنہ شمولیت کے معاملے میں کوئی مؤثر کردار ادا کرے گی یا اس پر بحث کرے گی۔‘
کیا حوثیوں کے خلاف جنگ میں ممکنہ شمولیت سے پاکستان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہے، تاہم وہ تہران کے اتحادی سمجھے جانے والے حوثیوں کے خلاف جنگ سے دور ہی دکھائی دیتا ہے۔
اس صورتحال میں سعودی عرب کے لیے پاکستان اور ترکی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر سے منسلک باربرا سلاون نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’میرے خیال میں سعودی عرب خود کو ایک مشکل صورتحال میں پھنسا ہوا محسوس کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں یمن میں جاری خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے اور سعودی عرب اب ایک تنازع میں ایک بار پھر شامل ہو گیا ہے، جس سے وہ تین برس قبل نکل چکا تھا۔
’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یہ واضح اشارہ دیا ہے کہ انٹیلیجنس معلومات اور بعض تکنیکی معاونت کے علاوہ سعودی عرب اور اس کے حمایت یافتہ یمنی دھڑوں کو زیادہ تر اپنے وسائل اور صلاحیتوں پر انحصار کرنا ہو گا۔‘
اس تناظر میں دیکھا جائے تو سعودی عرب کی جانب سے قریبی شراکت داروں، خصوصاً پاکستان، سے تعاون کی توقعات میں اضافہ ہونا غیر معمولی بات نہیں ہو گی۔
تاہم سابق سفیر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ ’پاکستان کو ایسے وقت میں خود کو درپیش چیلنجز کو بھی دیکھنا ہو گا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان پہلے ہی سے متعدد محاذوں پر لڑ رہا ہے، انڈیا اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی ہے اور اندرونی طور پر بھی اسے عسکریت پسندی اور شدت پسندی کا سامنا ہے۔ ایسے میں کسی اور کی جنگ کا حصہ بننا اور ایک اور محاذ کھولنا عقلمندی نہیں ہو گی۔‘
پاکستان اس سے پہلے اپنے خطے سے باہر کسی جنگ کا حصہ نہیں رہا ہے اور برمنگھم یونیورسٹی سے منسلک محقق عمر کریم بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
انھوں نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پیش رفت پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی سلامتی سے متعلق معاملات میں شامل کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔‘
’پاکستان کا روایتی آپریشنل دائرہ کار انڈیا اور افغانستان تک محدود رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال اسے کسی حد تک اس دائرہ کار سے باہر لے جا سکتی ہے۔‘
عمر کریم نے مزید کہا کہ ’اس تنازع میں شمولیت پاکستان کے مجموعی دفاعی نقطہ نظر اور سٹریٹجک نظریات پر بھی اثر انداز ہو سکتی اور ممکن ہے کہ یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہو، کیونکہ پاکستان مکہ معاہدے کے تحت اس کے سکیورٹی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی ان سے گفتگو میں حوثیوں سے ’لاتعلقی‘ کر چکے ہیں۔
تاہم عمر کریم کہتے ہیں کہ پاکستان کی یمن تنازع میں شمولیت اس کے ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کر سکتی ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جوں جوں اس تنازع میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کی نوعیت اور دائرہ کار مزید واضح ہوتے جائیں گے، ایران کے ساتھ اس کے تعلقات متاثر ہونے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے اور اسی طرح اس کے سبب اسلام آباد کی بطور ثالث ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔‘
تاہم اُن کے مطابق اس تنازع میں پاکستان کی ’عملی شمولیت بین الاقوامی سطح پر اسے امریکہ کے مزید قریب لا سکتی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی میں پاکستان کا کردار نمایاں ہو گا۔‘
سعودی عرب پاکستان کا قریب ترین پارٹنر ہے اور وہ اسلام آباد کو متعدد مرتبہ مالی بحرانوں سے نکالنے میں بھی اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
تو ایک ایسے وقت میں جب ریاض کی سکیورٹی کو خطرات لاحق ہیں، تو کیا پاکستان حوثیوں کے خلاف جنگ سے دور رہ سکتا ہے؟
سابق سفیر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ ’سعودی عرب کی مالی مدد کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان اپنے مفادات نظر انداز کر دے، یمن کے تنازع میں شمولیت سے ان مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
تاہم عمر کریم اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے: ’ہمیں اس معاملے کو ایک سادہ لین دین یا مفاد کے تبادلے کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے اس زاویے سے دیکھنا چاہیے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے اپنے خودمختار وعدوں اور معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کو پورا کر رہا ہے۔‘
’جتنی زیادہ پاکستان کی شمولیت نمایاں ہو گی، اتنا ہی واضح یہ بھی ہوتا جائے گا کہ پاکستان اپنے دفاع اور سلامتی کے حوالے سے سعودی عرب سے کیا توقعات رکھتا ہے۔‘
سابق سفارتکار منصور خان کہتے ہیں کہ ’کسی بھی ملک کی جانب سے بیرونِ ملک کسی تنازع میں فوجی شمولیت کے نہایت گہرے اثرات اور نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ افغانستان اور عراق کے معاملات میں داخل ہونے والے ممالک کئی دہائیوں تک وہاں الجھے رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت ترکی اور پاکستان دونوں پر سعودی عرب پر حملے کی صورت میں اس کی مدد کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تاہم کسی تیسرے ملک میں براہِ راست مداخلت سے گریز کے لیے ہر ممکن کوشش کی ضرورت ہے۔ ’سفارتکاری اور مذاکرات ایک بہتر حکمتِ عملی ہیں۔‘
منصور خان نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی تعلقات اور مکہ معاہدے کے پیش نظر سعودی عرب کی سٹریٹجک منصوبہ بندی میں مدد فراہم کر سکتا ہے، فضائی دفاعی نظام اور میزائل دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ ’یہ پاکستان اور ترکی، دونوں کے لیے ایک نازک توازن ہے، تاہم متعلقہ حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے یقینی بنانا ضروری ہے۔‘
منصور خان کے مطابق حوثیوں کے خلاف آپریشنز میں شمولیت ایک حقیقی خطرہ ہے جو پاکستان کو پیچیدہ صورتحال میں دھکیل سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پہلے ہی اپنی مغربی سرحدوں پر افغانستان سے متصل علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش، القاعدہ اور دیگر غیر ریاستی عناصر سے درپیش سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ لہٰذا، پاکستان کے پاس اس بات کی ہر وجہ موجود ہے کہ وہ خود کو حوثیوں کے مسئلے کی صورت میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرکے مزید پیچیدگیوں میں الجھنے سے بچائے۔‘




















