’میں نے 120 سوالوں کے ٹھیک جوابات دے کر پورے 30 نمبر لیے‘: ٹرمپ کا ’انتہائی ذہین‘ ہونے کا دعویٰ کتنا درست ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    • مصنف, عمیر محمود
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ’میں نے 30 میں سے پورے 30 نمبر لیے ہیں۔‘

امریکی صدر کا یہ دعویٰ اپنی ذہنی صلاحیت جانچنے کے لیے دیے گئے ٹیسٹ کے حوالے سے ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر انھوں نے لکھا کہ ان سے 120 سوال کیے گئے اور انھوں نے تمام سوالات کے درست جواب دیے۔

ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ یہ نتیجہ ان کے ’انتہائی ذہین ہونے‘ کی عکاسی کرتا ہے۔

اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ کوئی اتنے مثالی نمبر حاصل کرے اور خاص طور پر اس وقت جب یہ مسلسل چوتھی بار ہو۔

ٹرمپ کا اشارہ اس بات کی جانب ہے کہ وہ اب تک چار بار ذہنی صلاحیت جانچنے کا ٹیسٹ دے چکے ہیں۔

انھوں نے لکھا: ’صدر اور نائب صدر کے لیے انتخاب لڑنے والے تمام افراد کو ذہنی صلاحیت کا یہ مشکل ٹیسٹ دینے کا پابند بنانا چاہیے۔‘

مخالف سیاسی جماعت ڈیموکریٹس کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے پارٹی کے نام کے ہجوں میں جان بوجھ کر تبدیلی کی اور لکھا: ’ڈمبوکریٹس کو بھی اس کا مطالبہ کرنا چاہیے (کہ صدر اور نائب صدر کا انتخاب لڑنے والے سبھی افراد ذہنی صلاحیت کا ٹیسٹ دیں)۔‘

انگریزی زبان کا لفظ ’ڈمب‘ استعمال تو ایسے افراد کے لیے کیا جاتا ہے جو بولنے کی قوت سے محروم ہوتے ہیں، لیکن کسی کو بے وقوف یا کم عقل کہنے کے لیے بھی یہی لفظ بولا جاتا ہے۔

امریکی صدر کی ٹروتھ سوشل پوسٹ

،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump

امریکی صدر ٹرمپ کی طبی رپورٹ کیا بتاتی ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ٹرمپ نے ذہنی صلاحیت کا ٹیسٹ دینے کے ساتھ ساتھ اپنا جسمانی طبی معائنہ بھی کروایا ہے اور اس کی رپورٹ بھی وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کی ’ذہنی اور جسمانی کارکردگی بہترین ہے‘ اور ان کا دل، نظام تنفس (سانس لینے کا نظام، جس میں پھیپھڑے اور دیگر اعضا شامل ہیں) اور اعصابی نظام بھی درست کام کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 79 سالہ امریکی صدر کا بلڈ پریشر 105/71 ہے، جو بالکل معمول کے مطابق ہے۔ ان کا وزن 238 پاؤنڈ، یعنی تقریباً 108 کلوگرام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا کولیسٹرول بھی قابل قبول درجے پر ہے۔

البتہ ٹرمپ کے ٹانگوں کے نچلے حصہ میں ہلکی سوجن ضرور ہے، رپورٹ کے مطابق یہ گذشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ امریکی صدر کے ’جامع اعصابی معائنے سے ظاہر ہوا کہ ان کی ذہنی کیفیت نارمل ہے، اعصاب درست کام کر رہے ہیں، پٹھوں کی طاقت، حسیات، چلنے کا انداز اور توازن سب معمول کے مطابق ہیں۔‘

وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ میں ڈپریشن اور بے چینی جانچنے کے لیے بھی ٹیسٹ کیے گئے جن کے نتائج نارمل آئے۔

رپورٹ کے مطابق مونٹریال گاکنیٹو اسیسمنٹ (موکا) کے ذریعے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت جانچی گئی، جس میں انھوں نے ’30 میں سے 30 نمبر لیے۔‘

ٹرمپ حال ہی میں کئی بار یہ دعوے کر چکے ہیں کہ انھوں نے یہ ٹیسٹ دیا ہے اور ہر بار ہی بہترین کارکردگی دکھائی۔ وہ اسے اپنی ذہانت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

متعدد مواقع پر کی گئی ان کی گفتگو سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ کم ہی افراد اس ٹیسٹ میں ان جیسی کارکردگی دکھا پائیں گے۔

ذہنی صلاحیت جانچنے کا یہ ٹیسٹ موکا آخر ہے کیا، اس میں کس طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں، اور کیا اس ٹیسٹ میں پورے نمبر لینے والا شخص واقعی ’انتہائی ذہین‘ کہلائے گا، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا؟

’یہ ٹیسٹ کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا‘

یہ ٹیسٹ لینے والے ادارے موکا کاگنیشن کی ویب سائٹ کے مطابق اس ٹیسٹ میں 30 سوالات ہوتے ہیں اور یہ ’صحت کے ماہرین کو ابتدائی مرحلے میں ہی ذہنی کمزوری کی علامات پہچاننے میں مدد دیتا ہے، جس سے تشخیص اور علاج تیزی سے ممکن ہو جاتا ہے۔‘

ویب سائٹ کے مطابق موکا کو ’الزائمر (یاد داشت کی بیماری) کی نشاندہی کے لیے ایک انتہائی حساس ٹیسٹ سمجھا جاتا ہے۔‘

موکا کاگنیشن ڈاٹ کام پر درج ہے کہ وہ ’ذہنی کارکردگی کا انتہائی درست جائزہ فراہم کرتے ہیں۔‘

مطلب اس کا یہ ہے کہ ٹرمپ نے جو ٹیسٹ دیا اس سے ’ذہنی کارکردگی / صلاحیت یا cognitive performance‘ تو جانچی جا سکتی ہے لیکن ٹیسٹ لینے والا ادارہ کسی کی ذہانت جانچنے کا دعویٰ ہرگز نہیں کر رہا۔

ذہنی صلاحیت جانچنے والے اس ٹیسٹ میں کس طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں؟

اس سوال کا جواب خود امریکی صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر دے چکے ہیں۔

انھوں نے جولائی 2020 میں پہلی مرتبہ بتایا تھا کہ وہ یہ ٹیسٹ دے چکے ہیں۔ ایک انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا: ’جب آپ صدر کے منصب پر فائز ہیں تو ہمیں شارپ (ذہنی طور پر چست) ہونا چاہیے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹر رونی جیکسن سے اس طرح کے کسی ٹیسٹ کا پوچھا تھا۔

انٹرویو میں ٹیسٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ 30 سے 35 سوال پوچھے گئے تھے، شروع کے سوالات آسان تھے اور بعد میں مشکل سے مشکل ہوتے گئے۔

ٹرمپ نے بتایا تھا کہ ان میں یاد داشت سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔

’آپ کو کچھ الفاظ بتائے جاتے ہیں، جیسے کہ پرسن، ویمن، مین، کیمرہ، ٹی وی۔ پھر آپ سے کہا جاتا ہے کہ کیا آپ انھیں دہرا سکتے ہیں۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ الفاظ درست ترتیب سے دہرا دیے جائیں تو اضافی نمبر ملتے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق: ’اس سوال کے بعد وہ آپ سے مختلف سوال کرتے ہیں، اور 10 سے 15 منٹ بعد پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کو دسواں سوال یاد ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایک بار پھر آپ کو (اپنی یاد داشت کی مدد سے) وہی الفاظ دہرانے پڑتے ہیں اور درست ترتیب پر اضافی نمبر بھی ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا لیکن میرے لیے یہ بہت آسان تھا۔‘

امریکہ، اگست 2020: مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں جن پر وہ الفاظ درج تھے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہیں ایک ذہنی ٹیسٹ کے دوران یاد رکھنے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ، اگست 2020: مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں جن پر وہ الفاظ درج تھے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہیں ایک ذہنی ٹیسٹ کے دوران یاد رکھنے تھے

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جب کچھ وقفے کے بعد ان سے پھر وہی سوال پوچھا گیا اور انھوں نے تمام الفاظ درست ترتیب سے دہرا دیے تو ’انھوں نے (ٹیسٹ لینے والوں نے) کہا یہ تو زبردست ہے، آپ نے یہ کیسے کیا؟‘

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’میری یاد داشت بہت اچھی ہے اور میں ذہنی طور پر مکمل فعال ہوں۔‘

’آپ کو کافی ذہین ہونا چاہیے‘

رواں سال مئی میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کم از کم دو بار بتا چکے ہیں کہ اس ٹیسٹ میں کیا سوال پوچھے جاتے ہیں۔

مئی کے اوائل میں ایک بزنس سمٹ سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے تین بار ذہنی صلاحیت کا ٹیسٹ دیا ہے اور تینوں میں پورے نمبر لیے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ٹیسٹ انھوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں دیا تھا اور دو ٹیسٹ دوسرے دورِ صدارت میں۔

ٹرمپ نے کہا کہ جب کوئی ان کی ذہنی صلاحیت کے متعلق سوال کرتا ہے تو وہ ایک اور ٹیسٹ دے دیتے ہیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ’کسی اور صدر نے تو ایک بار بھی یہ ٹیسٹ نہیں دیا۔ بائیڈن تو پہلے سوال کا بھی درست جواب نہ دے پاتے اور اوباما بھی بہت خراب کارکردگی دکھاتے۔‘

ٹرمپ نے بتایا کہ پہلا سوال اس طرح کا ہوتا ہے کہ جانوروں کی تصاویر بنی ہوتی ہیں اور ان کے نام لکھنے ہوتے ہیں لیکن بعد والے سوالات مشکل ہوتے جاتے ہیں۔

اس تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’اس کمرے میں موجود ہر فرد ہی ذہین ہے لیکن کوئی بھی 30 کے 30 سوالوں کے درست جواب نہیں دے پائے گا۔‘

ٹرمپ نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ٹیسٹ کے آخری سوال بہت ہی مشکل ہوتے ہیں اور ان کا درست جواب دینے کے لیے ’آپ کو کافی ذہین ہونا چاہیے۔‘

اپنی ذہانت کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا: ’ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ کوئی ایسا شخص دیکھا ہے جس نے تمام سوالوں کے درست جواب دیے۔‘

اسی طرح 22 مئی کو بھی ایک اجتماع سے خطاب میں ٹرمپ نے اس ٹیسٹ کی تفصیلات بتائی تھیں۔

انھوں نے کہا: ’آخر میں ایک سوال اس طرح کا تھا کہ کوئی بھی نمبر چنیں، کوئی بھی۔‘

ٹرمپ کے مطابق جب انھوں نے نمبر 203 چنا تو ان سے کہا گیا ’اس کو نو سے ضرب دے کر دو سے تقسیم کریں، اس میں 1324 جمع کریں، 1292 منفی کریں، اور پھر جو جواب آیا ہے اسے 19 سے ضرب دیں۔‘

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے اس سوال کا بھی بالکل درست جواب دیا۔‘

ایکس اکاؤنٹ سے موکا ٹیسٹ کا ایک نمونہ شیئر کیا گیا

،تصویر کا ذریعہx.com/HQNewsNow

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہیڈکوارٹرز نامی اکاؤنٹ سے پانچ مئی کو ایک ٹیسٹ کا نمونہ شیئر کیا گیا، اور یہی نمونہ موکا کاگنیشن ڈاٹ کام پر بھی دستیاب ہے۔

اس پر درج ایک سوال میں چند انگریزی حروف تہجی اور چند ہندسے لکھے ہیں، جنھیں جوڑ کر ایک کیوب یا مکعب بنانا ہے۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ ایسی گھڑی کی تصویر بنائیں جس پر 11 بج کر 10 منٹ ہوئے ہوں۔ ایک سوال میں شیر، گینڈے اور اونٹ کی تصاویر بنی ہیں اور نیچے لکھنا ہے کہ ان جانوروں کے نام کیا ہیں۔

ہیڈکوارٹرز نامی ایکس اکاؤنٹ سے اس نمونے کی تصویر شیئر کر کے لکھا گیا تھا: ’یہ ہے وہ ٹیسٹ جسے ٹرمپ نے مشکل کہا۔‘

ٹرمپ کی جانب سے حالیہ ٹیسٹ کے نتائج کو اپنی ذہانت سے جوڑنے پر سوشل میڈیا صارفین انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اے ای ریور نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ ٹیسٹ ممکنہ ذہنی کمزوری اور ڈیمنشیا کی ابتدائی علامات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ ذہانت کی پیمائش نہیں ہے اور صحت مند افراد کا اس میں 30 نمبر حاصل کرنا غیر معمولی بات نہیں ہے۔‘

انھوں نے ایک گرافک کارڈ بھی شیئر کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ موکا ٹیسٹ کیا ہے اور کیا نہیں۔ ان کے مطابق اس ٹیسٹ میں کسی بھی فرد کی یاد داشت، توجہ اور اس طرح کی دیگر چیزیں جانچی جاتی ہیں اور یہ ذہانت جانچنے والا آئی کیو ٹیسٹ نہیں ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ یہ ذہانت چانچنے والا آئی کیو ٹیسٹ نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہx.com/ChinaPR_57

کرس نامی صارف نے یہ سوال ایکس کے مصنوعی ذہانت کے ٹول گروک سے کیا کہ کیا موکا ٹیسٹ ذہانت کی پیمائش کرتا ہے؟

دیگر صارفین نے موکا ٹیسٹ کے نمونوں کی تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ اس میں اچھے نمبر حاصل کرنا تو بہت ہی آسان ہے۔

جبکہ بظاہر ٹرمپ کے حامی سوشل میڈیا صارف جوڈیان نے ایکس پر لکھا کہ ’ٹرمپ سے نفرت کرنے والے ان کی بہترین صحت پر اداس ہو گئے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے خیال میں بھولنے کی بیماری میں مبتلا جو بائیڈن ٹھیک تھے۔‘

واضح رہے کہ امریکی صدر کا ہر سال طبی معائنہ عام طور پر کیا جاتا ہے، تاہم ایسا کرنے کی کوئی آئینی یا قانونی پابندی نہیں ہے۔ اسی طرح اس معائنے کے نتائج کو عوام کے سامنے جاری کرنا بھی قانوناً لازم نہیں، بلکہ یہ صدر کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ وہ کتنی معلومات شیئر کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کی 13 جون 2019 کی رپورٹ میں نیو یارک کے ماؤنٹ سائنائی ہسپتال میں معالج اور امریکی صدور کی طبی تاریخ پر تحقیق کرنے والے پروفیسر جیکب ایپل کے حوالے سے درج کیا گیا تھا: ’صدور کے لیے نہ تو سالانہ طبی معائنہ کروانا لازم ہے اور نہ ہی اس کے نتائج عوام کے سامنے جاری کرنا ضروری ہے۔‘