پہاڑی کے نیچے بنایا گیا خفیہ بنکر، جہاں سے ایٹمی حملے کے بعد ملک چلانے کا منصوبہ تھا

- مصنف, رووینا ہوسکن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 15 منٹ
برطانیہ میں ایک نئے رہائشی منصوبے کے بالکل قریب واقع ایک غیر نمایاں سی پہاڑی کے نیچے ایک ایسا بنکر چھپا ہوا ہے جو جوہری حملے کی صورت میں ویلز کے انتظامی نظام کو چلائے رکھنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔
آج گرافٹی سے اَٹے، دھماکوں کا مقابلہ کرنے والے بھاری فولادی دروازوں کے پیچھے یہ سابق سرد جنگ کا کمانڈ سینٹر خاموش پڑا ہے۔ اسے اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ کسی بھی جوہری تباہی کی صورت میں منتخب حکام یہاں پناہ لے سکیں اور وہاں سے ملک کے نظم و نسق کو چلا سکیں۔
اس کا داخلی راستہ اتنا غیر نمایاں ہے کہ آسانی سے نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ بریجنڈ میں واقع یہ بنکر ایک باڑ کے پیچھے اور جھاڑیوں سے ڈھکی تنگ پگڈنڈی کے اختتام پر واقع ہے۔ باہر سے اس کا زنگ آلود ڈھانچہ کسی اہم کولڈ وار تنصیب کے بجائے ایک متروک صنعتی عمارت کا تاثر دیتا ہے۔
مجھے اس نایاب مقام تک رسائی اس شرط پر دی گئی کہ اس کی نگرانی کرنے والی سکیورٹی کمپنی کے منتظم کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا اور اندر کوئی تصویر نہیں لی جائے گی۔
جب بھاری فولادی دروازہ آہستہ آہستہ کھلا تو سب سے پہلے جس چیز نے غیر متوقع طور پر میری توجہ اپنی جانب کھینچی، وہ تازہ رنگ کی بو تھی۔ چند لمحوں بعد زیرِ زمین عمارت کی مخصوص نم آلود فضا اور نمی کی مہک بھی محسوس ہونے لگی، جو اس خاموش اور رازوں میں لپٹے ہوئے بنکر کی طویل تاریخ کا احساس دلا رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہMedia Wales
اندر داخل ہونے کے بعد یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت کئی دہائیاں پیچھے لوٹ گیا ہو۔ راہداریوں اور کمروں میں مختلف اشیا بکھری پڑی تھیں، کہیں جوہری ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے پوسٹر دکھائی دیتے تھے تو کہیں ایک پھپھوندی زدہ مصری مجسمہ نظر آتا تھا۔
میرے رہنما کے مطابق اس غیر معمولی مقام کو وقتاً فوقتاً فلموں اور ٹی وی ڈراموں کی عکس بندی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے، جن میں ڈاکٹر ہو اور دی پیمبروک شائر مرڈرز جیسی معروف سیریز شامل ہیں۔
جوں ہی راہداریوں کی روشنیاں ایک ایک کر کے روشن ہوئیں، میں اپنے رہنما کے ساتھ بنکر کے مزید اندر کی جانب بڑھ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ بنکر دراصل دوسری عالمی جنگ کے دوران بریکلا ہِل کے نیچے کھودی گئی سات سرنگوں میں سے دو کے اندر قائم کیا گیا تھا۔ ان سرنگوں کا اصل مقصد قریبی رائل آرڈننس فیکٹری کے لیے گولہ بارود ذخیرہ کرنا تھا، لیکن بعد میں کولڈ وار کے دور میں انھیں ایک ہنگامی کمانڈ سینٹر کی شکل دے دی گئی۔
اگر کبھی جوہری جنگ کی صورت میں اس بنکر کو استعمال کرنا پڑتا تو اس میں موجود افراد کی بقا کا انحصار مکمل طور پر اندر ذخیرہ کیے گئے سامان اور وسائل پر ہوتا۔ تاہم میرے ’گائیڈ‘ کے مطابق، ان حالات میں بھی ان کے محفوظ رہنے کے امکانات زیادہ روشن نہیں تھے۔
انھوں نے قدرے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ یہ جگہ جوہری بم کے مقابلے میں اتنی محفوظ نہیں تھی جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔‘
اس کے بعد انھوں نے مجھے وہ نکاسی آب کا نالہ دکھایا جو بنکر کے باہر سے سرنگ کے اندر آتا تھا۔ ان کے مطابق، اگر قریب کہیں جوہری دھماکہ ہوتا تو تابکار ذرات اور آلودہ پانی باہر جمع ہو جاتا اور یہی نالہ انھیں سیدھا بنکر کے اندر لے آتا۔
حیران کن طور پر پینے اور روزمرہ استعمال کے پانی کی فراہمی بھی اسی مقام کے بالکل ساتھ نصب تھی۔ پانی کے نل کھلے نالے سے محض چند انچ کے فاصلے پر واقع تھے۔
انھوں نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ’لگتا ہے کسی نے کبھی اس پہلو پر سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا۔‘
سنہ 1980 کی دہائی میں مقامی اخبار گلیمورگن گزٹ کے نمائندوں کو بھی اس بنکر کا دورہ کرایا گیا تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک زمانے میں یہ خفیہ تنصیب عوامی تجسس اور توجہ کا مرکز بھی رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہMedia Wales
اس مقام کے منتظم کے مطابق یہ بنکر اُس ہنگامی مرکز کے مقابلے میں نسبتاً کم محفوظ تھا جو تقریباً اسی دور میں حکومت نے ایسیکس میں ایک کسان کے کھیت کے نیچے تعمیر کیا تھا۔
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاں ایک تنگ راہداری بنائی گئی تھی جو تقریباً آدھا میل تک پھیلی ہوئی تھی اور ایک چھوٹے سے فرضی مکان تک جاتی تھی۔ بنکر کا داخلی راستہ دراصل اسی مکان کے اندر چھپایا گیا تھا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہاں کی طرح ایسا نہیں تھا کہ جوہری دھماکے اور مرکزی دروازے کے درمیان سیدھی لائن موجود ہو۔‘
جوں جوں ہم بنکر کے مزید اندر بڑھتے گئے، فضا مزید پراسرار ہوتی چلی گئی۔ کچھ دیر بعد میں ایک ایسی راہداری میں داخل ہوا جہاں روشنیاں بند تھیں۔ اچانک چھا جانے والی مکمل تاریکی میں ہمارے قدموں کی آہٹ اور باتوں کی آواز طویل سرنگ کی دیواروں سے ٹکرا کر بار بار واپس آ رہی تھی۔
اندھیرے اور خاموشی کے اس ماحول میں وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ راہداری کے اختتام پر ایک بھاری دھاتی دروازہ کھلا ہوا تھا، لیکن مجھے مسلسل یہ احساس ستائے جا رہا تھا کہ کہیں یہ اچانک بند نہ ہو جائے اور میں اس زیرِ زمین بھول بھلیاں میں ہمیشہ کے لیے محصور نہ رہ جاؤں۔
میرے گائیڈ پر، جو برسوں سے اس مقام سے واقف تھا، اس پرسرار ماحول کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے دیوار پر ہلکی سی دستک دی اور کہا کہ ’یاد رکھیں، یہ بیرونی دیوار ہے۔ ہم کوئی میلوں نیچے زمین کے اندر نہیں ہیں۔‘
پھر اس نے مزید کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ہم سطحِ زمین کے بالکل قریب ہیں۔‘
اس ایک جملے نے مجھے یاد دلایا کہ اگرچہ یہ جگہ کسی فلمی زیرِ زمین پناہ گاہ کا تاثر دیتی ہے، لیکن دراصل یہ ایک ایسی تنصیب تھی جو سرد جنگ کے خوفناک دنوں میں انتہائی ہنگامی حالات کے لیے جلد بازی میں تیار کیے گئے منصوبوں کا حصہ تھی۔

،تصویر کا ذریعہMedia Wales
جب وہ واپس مڑا تو میرے پیچھے صرف خاموشی اور تاریکی رہ گئی۔ چند لمحوں کے لیے میں نے خود کو مکمل تنہائی میں گھرا ہوا محسوس کیا اور بے اختیار تیز قدموں سے باہر کی طرف بڑھنے لگا۔ یہ منظر کسی خوفناک فلم کے ابتدائی مناظر جیسا لگ رہا تھا، جہاں نامعلوم خطرہ ہر لمحہ قریب آتا محسوس ہوتا ہے۔
تاہم میں پہلا شخص نہیں تھا جسے اس بنکر کے اندر جانے کا موقع ملا ہو۔ فلموں اور ٹی وی پروڈکشنز کے اداکاروں اور عملے کے متعدد ارکان کے علاوہ بھی کئی لوگ برسوں کے دوران اس پراسرار مقام کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔
بریٹ ایکسٹن کو 2000 کی دہائی کے اوائل میں اس وقت بنکر کے اندر لے جایا گیا تھا جب اسے ساؤتھ ویلز پولیس کی جانب سے شواہد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ دورہ انھیں اس مقام کے اُس وقت کے مالک کے پوتے نے کرایا تھا۔
59 سالہ ایکسٹن ایک مقامی مورخ ہیں اور اپنے آبائی شہر بریجنڈ میں دوسری عالمی جنگ کے دور کی تنصیبات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ بنکر کے اندرونی منظر کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ کسی ایسے راہداری کے دہانے پر کھڑے ہوں جو میلوں تک پھیلی ہوئی ہو، اور جس سے دائیں اور بائیں جانب بے شمار کمرے نکلتے ہوں۔ بالکل کسی بڑے ہسپتال کی طرح۔‘
ایکسٹن کے مطابق انھیں صرف ایک کمرے میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی کیونکہ باقی کمروں میں حساس مواد اور سرکاری شواہد محفوظ تھے۔
انھوں نے بتایا کہ جس کمرے کا انھوں نے دورہ کیا وہ کولڈ وار کے زمانے میں خواب گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
’میں اب بھی ان کمروں میں قطار در قطار لگے بستروں کے نشانات دیکھ سکتا تھا۔‘
ان کے مطابق یہ سرنگیں بریکلا ہِل کے دامن میں واقع رہائشی علاقوں کے گھروں کے نیچے متوازی انداز میں گزرتی ہیں، جس کا اندازہ زمین کی سطح پر چلتے ہوئے لگانا تقریباً ناممکن ہے۔
یہ سرنگیں مقامی طور پر ’8Xs‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں آٹھ الگ سرنگیں موجود ہیں۔ تاہم حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔
ایکسٹن کے مطابق ’لوگ عموماً سمجھتے ہیں کہ یہاں آٹھ سرنگیں ہیں، لیکن دراصل 8Xs کسی سرنگوں کی تعداد کا نام نہیں تھا۔ یہ ایک بہت بڑی فیکٹری کے مختلف حصوں یا زونز کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح تھی۔‘
آج یہ سرنگیں اور بنکر ایک ایسے دور کی خاموش یادگار ہیں جب جوہری جنگ کا خوف روزمرہ زندگی کا حصہ تھا اور حکومتیں بدترین ممکنہ حالات کے لیے خفیہ منصوبے تیار کر رہی تھیں۔ ان نم آلود راہداریوں میں چلتے ہوئے یہ احساس بار بار ہوتا ہے کہ ان دیواروں نے نہ صرف سرد جنگ کے خدشات بلکہ کئی دہائیوں کی تاریخ بھی اپنے اندر محفوظ کر رکھی ہے۔

مورخ مائیک کلب اور ان کے تین کم عمر بیٹے 1980 کی دہائی کے اوائل میں اتفاقاً ان پراسرار سرنگوں تک پہنچ گئے تھے۔ وہ بلیک بیریاں چن رہے تھے جب ان کی نظر پہاڑی کے دامن میں موجود سرنگوں کے کھلے دہانوں پر پڑی۔
کلب کے مطابق اُس وقت تمام سرنگیں کھلی ہوئی تھیں اور ان تک رسائی حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا۔ تجسس کے تحت وہ اور ان کے بیٹے یہ جاننے کے لیے ایک سرنگ میں داخل ہوئے کہ یہ آخر کہاں تک جاتی ہے۔ خاندان جتنی ہمت کر سکتا تھا، اتنا اندر جاتا چلا گیا، یہاں تک کہ قدرتی روشنی بالکل ختم ہو گئی اور چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔
وہ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہ واقعی خوفناک جگہ تھی۔ ہر طرف سناٹا تھا اور صرف پانی کے قطروں کے گرنے کی ٹپ، ٹپ، ٹپ کی آواز سنائی دیتی تھی۔ وہاں کوئی روشنیاں نہیں تھیں۔‘
اس غیر معمولی دریافت نے ان کے تجسس کو مزید بڑھا دیا۔ انھوں نے اس بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کیں تو معلوم ہوا کہ مختلف سرنگوں کے باہر 8X1، 8X2 اور 8X3 جیسے نمبر درج تھے۔
بعد میں وہ ایک ٹارچ لے کر دوبارہ وہاں پہنچے۔ ان کے بقول اندر کا منظر کسی پیچیدہ بھول بھلیاں سے کم نہیں تھا۔
’پہلا حصہ کسی زیرِ زمین ریلوے سٹیشن جیسا دکھائی دیتا تھا، جہاں ایک بند اختتامی حصہ اور ایک پلیٹ فارم موجود تھا۔ اس پلیٹ فارم سے مختلف سمتوں میں چھوٹی سرنگیں تقریباً عمودی زاویوں پر نکلتی تھیں۔‘
ان سرنگوں کی دریافت نے مائیک کلب کو اس قدر متاثر کیا کہ انھوں نے اگلے 27 سال ان کی تاریخ اور پس منظر پر تحقیق میں گزار دیے۔ بالآخر 2007 میں انھوں نے دی ویلش آرسنل کے نام سے ایک کتاب شائع کی، جس میں اس پورے جنگی کمپلیکس کی تفصیلات بیان کی گئیں۔
کلب کے مطابق ساتوں 8X سرنگیں دوسری عالمی جنگ کے دوران طاقتور دھماکہ خیز مواد، گولہ بارود اور کورڈائٹ ذخیرہ کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’جب فیکٹری کو اس سامان کی ضرورت ہوتی تھی تو ایک ڈیزل انجن ایک واحد ویگن کھینچ کر سرنگوں تک لاتا اور وہاں سے مطلوبہ دھماکہ خیز مواد فیکٹری تک پہنچایا جاتا تھا۔‘
دوسری عالمی جنگ کے دوران یہ وسیع زیرِ زمین تنصیبات قریبی رائل آرڈننس فیکٹری کے لیے اہم ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ بعد کے برسوں میں انھی سرنگوں کے ایک حصے کو سرد جنگ کے دوران ایک جوہری بنکر میں تبدیل کر دیا گیا، جہاں کسی ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں ویلز کے انتظامی امور چلانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBrett Exton
بریجنڈ سے تعلق رکھنے والے لی میک گراتھ کو آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب وہ بچپن میں اپنی گرمیوں کی تعطیلات ان سرنگوں میں گھومتے پھرنے اور دوستوں کے ساتھ چھپن چھپائی کھیلتے ہوئے گزارتے تھے۔
51 سالہ میک گراتھ کے مطابق ان کے دادا ان افراد میں شامل تھے جن کی ذمہ داری بنکر اور اس سے منسلک سرنگوں کو غیر متعلقہ لوگوں سے محفوظ رکھنا تھی۔
وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سرد جنگ کے زمانے میں سرنگوں میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی موجود رہتا تھا۔ اس کا بنیادی کام بنکر کے اندر موجود سامان اور سہولیات کی نگرانی اور جانچ پڑتال کرنا تھا۔‘
ان کے بقول ان کے دادا مسلسل بچوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی تنبیہ کرتے تھے، لیکن ان ہدایات کا زیادہ اثر نہیں ہوتا تھا۔
’وہ ہمیشہ ہمیں وہاں نہ جانے کا کہتے تھے، لیکن ظاہر ہے کہ بچے کسی کی بات کہاں سنتے ہیں۔‘
میک گراتھ کے مطابق ان سرنگوں کے گرد پراسرار کہانیاں بھی مشہور تھیں۔ وہ ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں
’میرے دادا نے ایک مرتبہ مبینہ طور پر شیطان پرستوں کے ایک گروہ کو وہاں سے بھگایا تھا، اور اس دوران ان کی ٹانگ بھی ٹوٹ گئی تھی۔‘
ان کے لیے یہ سرنگیں محض کھیل کی جگہ نہیں تھیں۔ بچپن میں ان زیرِ زمین راستوں کی کھوج نے بعد میں شہری کھوج اور فوٹوگرافی سے ان کی دلچسپی کو جنم دیا، جو وقت کے ساتھ ان کا مستقل شوق بن گیا۔
کولڈ وار کے دور میں انھی سرنگوں کے ایک حصے کو اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا کہ اگر کبھی جوہری جنگ چھڑ جائے تو منتخب سرکاری عہدیدار یہاں پناہ لے سکیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ ویلز کی انتظامیہ اور ہنگامی خدمات کے ذمہ دار حکام اس محفوظ مقام سے حکومتی امور چلاتے رہیں اور ممکنہ تباہی کے باوجود ریاستی نظم و نسق برقرار رکھا جا سکے۔
آج اگرچہ یہ بنکر خاموش اور تقریباً فراموش شدہ نظر آتا ہے، لیکن اس کی نم آلود راہداریوں اور فولادی دروازوں میں اب بھی ایک ایسے دور کی بازگشت سنائی دیتی ہے جب دنیا جوہری جنگ کے خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی تھی۔

لی میک گراتھ آج اُن لوگوں کی بڑھتی ہوئی آن لائن برادری کا حصہ ہیں جو متروک اور تاریخی مقامات کی کھوج کو اپنا شوق بنائے ہوئے ہیں۔ وہ کئی بار ان سرنگوں میں واپس جا چکے ہیں، کبھی تصاویر لینے کے لیے اور کبھی اپنے دادا کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے۔
وہ کہتے ہیں کہ جیسے ہی وہ سرنگوں میں داخل ہوتے ہیں، برسوں پرانی یادیں ذہن میں تازہ ہونے لگتی ہیں۔
’مجھے اپنا بچپن یاد آ جاتا ہے، جب ہم ایک کمزور سی ٹارچ لے کر یہاں گھوما کرتے تھے اور کبھی کبھار زیرِ زمین راستوں میں بھٹک بھی جاتے تھے۔‘
میک گراتھ کے مطابق آج بھی کم از کم دو یا تین سرنگیں ایسی ہیں جن میں رینگ کر داخل ہوا جا سکتا ہے، اگرچہ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان میں جانا محفوظ نہیں۔
انھوں نے کہ ’یہ جگہیں زیادہ محفوظ نہیں رہیں۔ اندر موجود بیشتر دھات برسوں پہلے کباڑ کے طور پر نکال لی گئی تھی، اس لیے بہت سے ساختی سہارے اب موجود نہیں ہیں۔‘
جب ان سے کہا گیا کہ سرنگوں میں داخل ہونا غیر قانونی تصور کیا جا سکتا ہے، تو انھوں نے جواب دیا کہ ’وہ سب مکمل طور پر کھلی ہوئی ہیں، اس لیے عملاً کوئی بھی اندر جا سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ عوامی زمین ہے۔‘
یہ سرنگیں کبھی وزارتِ دفاع کی ملکیت تھیں، تاہم 1995 میں وزارتِ دفاع نے انھیں فروخت کر دیا تھا۔
میک گراتھ کے نزدیک شاید سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ بریجنڈ کے بہت سے رہائشی اپنے شہر کے نیچے چھپی اس غیر معمولی تاریخ سے ہی واقف نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بڑی عجیب بات ہے۔ آپ بریجنڈ میں رہنے والے بہت سے لوگوں سے بات کریں تو انھیں سرنگوں کے وجود کا ہی علم نہیں ہوتا۔‘
ان کے بقول، یہ سرنگیں محض کنکریٹ اور فولاد سے بنی زیرِ زمین گزرگاہیں نہیں بلکہ مقامی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے گولہ بارود کے ذخیرے سے لے کر سرد جنگ کے جوہری بنکر تک، یہ تنصیبات ایک ایسے دور کی یاد دلاتی ہیں جب عالمی کشیدگی کے سائے میں بدترین ممکنہ حالات کے لیے تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ آج اگرچہ یہ سرنگیں خاموش اور فراموش شدہ نظر آتی ہیں، لیکن ان کے اندر اب بھی تاریخ کی گونج سنائی دیتی ہے۔

























