سی آئی اے سربراہ کا فوجی طیارے میں خفیہ دورۂ ماسکو کتنا غیرمعمولی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, بی بی سی سکیورٹی نامہ نگار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا روس کا دورہ ایک ’بظاہر معمول کا‘ دورہ تھا، تاہم انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کا 16 ہزار کلومیٹر پر محیط خفیہ سفر کر کے ماسکو پہنچنا کسی بھی لحاظ سے معمول کی بات نہیں سمجھی جا رہی۔
کریملن نے تصدیق کی ہے کہ ریٹکلف نے منگل کے روز روسی انٹیلی جنس حکام، بالخصوص روسی بیرونی انٹیلی جنس سروس (ایس وی آر) کے سربراہ سرگئی نارشکن سے ملاقات کی۔ وہ ایک امریکی فوجی طیارے میں بغیر کسی پیشگی اعلان کے ماسکو پہنچے تھے۔
اس نوعیت کے دورے غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں۔ ریٹکلف سے قبل سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے تقریباً پانچ سال قبل اسی طرح کا دورہ کیا تھا، جب روس یوکرین پر حملے کی تیاریوں میں مصروف تھا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔
اسی لیے مبصرین کے نزدیک موجودہ دورہ بھی ایک سنجیدہ پس منظر رکھتا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن نے اس مشن کے مقصد پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم متعدد ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کا مقصد ماسکو کو خبردار کرنا تھا کہ وہ یوکرین جنگ میں پیدا ہونے والے تعطل کے ردِعمل میں کوئی ایسی کارروائی نہ کرے جو نیٹو کے رکن ممالک کے خلاف کشیدگی کو مزید بڑھا دے۔
یہ خدشات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نیٹو کے خلاف اپنی سخت بیان بازی میں اضافہ کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی جریدے پولیٹیکو سے گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے دورۂ ماسکو کا ایک اہم مقصد روس کو خبردار کرنا تھا کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جو بالٹک ریاستوں کے ساتھ کشیدگی یا ممکنہ تنازع کو مزید بڑھا دے۔
دوسری جانب برطانیہ بھی روسی توجہ کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
برطانیہ کی وزارتِ خارجہ کی ایک ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ ماسکو یوکرین کی جانب سے روسی اہداف پر برطانوی ساختہ میزائلوں کے استعمال کے جواب میں برطانوی فوجی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر جرمنی کے شہر لیپزگ کے ہوائی اڈے پر ایک ایسے ڈرون کی نشاندہی کی گئی جس میں دھماکا خیز مواد موجود تھا۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق اس ڈرون کا تعلق غالباً روس سے ہو سکتا ہے، جس سے یورپ میں روسی سرگرمیوں کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
پوتن پر بڑھتا ہوا دباؤ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے دورۂ ماسکو کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نیٹو کے کسی رکن ملک کے خلاف محدود نوعیت کی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
تاہم یہ سمجھنے کے لیے کہ پوتن پر اندرونِ ملک ’کچھ کرنے‘ کا دباؤ بڑھ رہا ہے، دنیا کی طاقتور ترین سگنلز انٹیلی جنس ایجنسی، نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے)، کی رپورٹس کی ضرورت نہیں۔
یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں نے نہ صرف روس کی توانائی کی صنعت کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے بلکہ جنگ کے اثرات کو عام روسیوں کی روزمرہ زندگی تک بھی پہنچا دیا ہے۔
اس بات کی واضح علامتیں دیکھی جا سکتی ہیں کہ حالات کریملن کی توقعات کے مطابق نہیں چل رہے۔ ملک کے بعض حصوں میں ایندھن کے حصول کے لیے طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جبکہ یوکرینی حملوں کا نشانہ بننے والی روسی آئل ریفائنریوں سے اٹھنے والا دھواں جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی اور عملی اثرات کی یاد دلاتا ہے۔
روس کے لیے صورتِ حال اس لحاظ سے بھی تشویش کا باعث ہے کہ یوکرین اب ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو جنگی محاذ سے بہت دور واقع ہیں، جس سے روسی عوام بھی اس تنازع کے اثرات کو براہِ راست محسوس کرنے لگے ہیں۔ یہی عوامل پوتن پر دباؤ میں اضافے اور روس کے ممکنہ ردِعمل کے بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کو جنم دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP vía Getty Images
کریملن ان حملوں کو روس کے خلاف نیٹو کی ایک بالواسطہ جنگ قرار دیتا ہے، جس میں یوکرین کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ روس اس کا جواب کیسے دے گا؟
اس کے کئی ممکنہ منظرنامے ہیں۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ ماسکو یوکرین کے خلاف اپنے بیلسٹک میزائل حملوں میں مزید شدت لے آئے اور کئیو کے مرکزی علاقوں کو نشانہ بنائے، کیونکہ روس سمجھتا ہے کہ یوکرین کے پاس ان حملوں کو روکنے کے لیے درکار پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ روس اپنی غیر اعلانیہ ’ہائبرڈ جنگ‘ کا دائرہ بھی وسیع کر سکتا ہے، جس کے بارے میں مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ وہ پہلے ہی نیٹو کے رکن ممالک کے خلاف جاری ہے۔ اس میں پیچیدہ سائبر حملے، ڈرون کارروائیاں اور اسلحہ ساز فیکٹریوں میں آتش زنی کے لیے مجرمانہ نیٹ ورکس کا استعمال شامل ہو سکتا ہے۔
تاہم سب سے تشویش ناک امکانات اس سے بھی آگے جاتے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق کریملن کے سخت گیر حلقے ایسے منظرناموں پر بھی غور کر سکتے ہیں جن کے خطے کی سلامتی پر کہیں زیادہ سنگین اثرات مرتب ہوں۔
ایک امکان یہ بھی ہے کہ روس یوکرین جنگ میں اپنی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی بالٹک ریاست پر محدود حملہ کر کے نیٹو کے عزم کا امتحان لینے کی کوشش کرے۔
ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا 1991 تک سوویت یونین کا حصہ تھے اور ان پر عملی طور پر ماسکو کی حکمرانی تھی۔ آج یہ تینوں ممالک نیٹو کے رکن ہیں، جبکہ ان میں روسی زبان بولنے والی نمایاں آبادیاں بھی موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا
پوتن اس بات سے بخوبی آگاہ ہوں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ وقتاً فوقتاً نیٹو کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ممکن ہے روسی صدر نے یہ اندازہ لگایا ہو کہ اگر، مثال کے طور پر، لتھوانیا پر محدود نوعیت کا حملہ کیا جائے تو نیٹو کے باہمی دفاع کے اصول، یعنی آرٹیکل 5، کو فعال نہیں کیا جائے گا اور امریکہ بھی اس کا جواب نہیں دے گا۔
اگر واقعی ایسا ہے تو ماسکو کے لیے سی آئی اے کے سربراہ کے اس پراسرار دورے کا ایک مقصد روس کو یہ یاد دلانا بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ نیٹو کے آرٹیکل 5 سے بدستور مکمل وابستگی رکھتا ہے۔
لتھوانیا کریملن کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی سرحد پولینڈ کے ساتھ ایک تنگ زمینی پٹی کے ذریعے جڑی ہوئی ہے، جسے ’سوالوکی کوریڈور‘ کہا جاتا ہے۔
صرف 96 کلومیٹر طویل یہ راہداری بیلاروس، جو روس کا قریبی اتحادی ہے، اور کالینن گراڈ کے درمیان واحد زمینی رابطہ فراہم کرتی ہے۔ کالینن گراڈ روس کا ایک عسکری لحاظ سے انتہائی اہم اور جوہری ہتھیاروں سے لیس علاقہ ہے جو روس کے مرکزی حصے سے الگ واقع ہے۔
اگر روس اس راہداری پر قبضہ کر لے تو ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا عملاً اپنے دیگر نیٹو ہمسایوں سے زمینی طور پر کٹ جائیں گے، جس سے خطے کی سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات جنم لے سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP vía Getty Images
جوہری وار ہیڈز؟
پھر تاکتیکی جوہری ہتھیاروں کا معاملہ بھی ہے۔
کافی عرصے سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ روسی عسکری ڈاکٹرائن میں یہ نسبتاً چھوٹے مگر انتہائی تباہ کن جوہری ہتھیار جنگی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
ماسکو کو اس کے اتحادیوں اور مخالفین، دونوں کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ جنگ کے دوران جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف قائم 81 سالہ عالمی ممنوعہ روایت کو نہ توڑے۔
اس کے باوجود ولادیمیر پوتن کے لیے یہ ایک پرکشش آپشن ہو سکتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کو بعض اوقات ’شدت بڑھاؤ تاکہ دباؤ کم ہو‘ کے نام سے بیان کیا جاتا ہے، یعنی یوکرین کو یہ باور کرانا کہ روس کے پاس ایسے تباہ کن ہتھیار موجود ہیں کہ کئیو کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ وہ ماسکو کی شرائط تسلیم کر لے، ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یقیناً، امریکہ کی جانب سے ماسکو کے اس اچانک دورے کے مقصد کے بارے میں کوئی واضح اور باضابطہ وضاحت سامنے نہ آنے کے باعث یہ امکان بھی موجود ہے کہ اس کا تعلق کسی اور معاملے سے ہو۔
ممکن ہے اس کا مقصد روس کو ایران کے ساتھ فوجی تعاون محدود کرنے پر آمادہ کرنا ہو، یا مزید قیدیوں کے تبادلوں پر بات چیت کرنا، یا پھر روسی افواج کی ممکنہ بڑے پیمانے کی متحرک کاری کے بارے میں تبادلۂ خیال کرنا۔
تاہم خود کو دھوکا نہیں دینا چاہیے۔ یہ دورہ غیر معمولی نوعیت کا تھا اور ایسے وقت میں ہوا جب ماسکو اور مغرب کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بہت زیادہ امکان یہی ہے کہ پسِ پردہ کچھ غیر معمولی ہو رہا ہے۔



















