اسلام آباد میں مبینہ ویزا فراڈ پر طالبہ کی ’خودکشی‘: وزیراعظم کا نوٹس، ایف آئی اے نے ملزم کے فون کا ریکارڈ حاصل کر لیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں میرے والد صاحب کو نہ بتانا ورنہ وہ مر جائیں گے۔‘
یہ الفاظ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی 24 سالہ لائبہ کے ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر خود کشی کرنے سے پہلے اپنے بہنوئی زید بن افضال کو فون کرکے کہے تھے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کو گزشتہ روز اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار میں درخت سے لٹکی ہوئی ایک لاش ملی تھی جس کی ہلاکت بظاہر گلے میں دوپٹہ ڈال کر مبینہ طور پر خودکشی کا نتیجہ تھی۔
لائبہ اعجاز کی مبینہ خود کشی کا وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو لڑکی کے ساتھ مبینہ فراڈ کرنے والے ملزم کو فوری طور پر حراست میں لینے کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے وسطی شہر سرگودھا کی رہائشی لائبہ اسلام آباد میں انٹرنینشل اسلامی یونیورسٹی سے بیچلر آف سائنس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔
لائبہ کے بہنوئی زید بن افضال نے بی بی سی کو بتایا کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی نے لائبہ کو سکالر شپ پر سعودی عرب بھیجنے کی آفر کی تھی۔
زید بن افضال کے مطابق بی ایس مکمل کرنے کے بعد لائبہ آن لائن کام کرتی تھیں، جہاں ان کا رابطہ ایک شخص سے ہوا جس پر خاندان کا الزام ہے کہ اس نے امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کیے۔
دوسری جانب ایف آئی اے اسلام آباد ریجن کے ڈائریکٹر شہزاد بخاری نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ایف آئی اے کی ایک ٹیم لائبہ کی خودکشی کے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ’اس واقعہ سے متعلق تمام شواہد جمع کیے جا رہے ہیں اور ملزم کے موبائل کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے 72 لاکھ مانگے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
زید بن افضال نے کہا کہ ’بی ایس کرنے کے بعد لائبہ آن لائن کام کرتی تھیں کہ اسی دوران اس کا رابطہ ایک شخص سے ہوا جس نے لائبہ کو یہ کہہ کر اپنا تعارف کروایا کہ وہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں ملازم ہے اور وہ پارٹ ٹائم ویزہ کنسلٹینسی کا کام کرتا ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ لائبہ نے اس شخص کو جب انٹرنیشنل یونیورسٹی کی جانب سے اعلی تعلیم کے لیے سعودی عرب بھیجنے کی آفر کے بارے میں بتایا تو اس نے کہا کہ وہ لائبہ کو امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ دلوا سکتا ہے جس کے لیے زید کے بقول ملزم نے 72 لاکھ روپے مانگے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’لائبہ کے والد کی جی ٹین مرکز میں دودھ دہی کی دکان ہے اور جس کے اوپر فلیٹ میں وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ چونکہ ’لائبہ کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر جانے کا شوق تھا اور اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے والد سے کیا جنہوں نے بچی کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ پلاٹ بھی بیچ دیا جو اس نے اپنے گھر کی تعمیر کے لیے خریدا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں لائبہ کے والد نے اس شخص کو دس لاکھ روپے دیے اور پھر اس طرح کاغذات کی تیاری اور فیس کی مد میں پچاس لاکھ روپے لے لیے۔
انھوں نے کہا کہ یہ شخص لائبہ کے والد سے نقد پیسے لیتا تھا اور اس نے لڑکی کے والد کو بتایا تھا کہ ان کی فرم میں کچھ لڑکیاں امریکہ میں رہ کر کام کرتی ہیں اور وہی لائبہ کو سپانسر کریں گی۔
زید بن افضال کا کہنا تھا کہ ’اس عرصے کے دوران اس شخص نے امریکی یونیورسٹی کے کچھ کاغذات بھی لائبہ کو بھیجے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران ملزم نے لائبہ کو بتایا کہ ان کے ویزے کی تاریخ آگئی ہے تو وہ انٹرویو کی تیاری کرے۔
انھوں نے کہا کہ ’اسی طرح تین چار مرتبہ جب امریکی ویزے کی تاریخ قریب آتی تو ایک رات پہلے وہ فون کرکے بتاتا کہ ویزے کی اپوائنٹمنٹ کینسل ہو گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران ملزم باقی ماندہ 22 لاکھ روپے کا بھی تقاضا کرتا رہا۔
انھوں نے کہا کہ جب لائبہ کو بھیجے گئے کاغذات کی چھان بین کروائی گئی تو وہ جعلی نکلے جس سے لائبہ سخت دلبرداشتہ تھی۔
’موبائل فون کی لوکیشن سے لاش کا پتا چلایا‘
انھوں نے کہا کہ لائبہ کے والدین نے اسے تسلی دی کہ وہ پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
زید بن افضال کا کہنا تھا کہ ملزم نے لائبہ کو فون کرکے بتایا تھا کہ اس کے انٹرویو کی اگلی تاریخ بارہ اکتوبر کو مقرر ہوگئی ہے لیکن اس سے پہلے وہ باقی ماندہ رقم ادا کرے جبکہ اس سے پہلے لڑکی کو حقیقت کا علم ہو چکا تھا جس سے وہ بڑی دلبرداشتہ تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’نو اکتوبر کو لائبہ اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر گھر سے نکلی تو اس کے گھر والوں کو کچھ شک کا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ لائبہ اپنا موبائل ساتھ لے گئی تھی۔‘
زید بن افضال کے مطابق لائبہ نے انھیں فون کیا اور کہا کہ ’میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں میرے والد کو نہ بتائیں ورنہ وہ مر جائیں گے‘ انھوں نے کہا کہ لائبہ نے اپنے گھر والوں کو ملزم کے آخری فون کے بارے میں نہیں بتایا تھا کہ وہ مزید بائیس لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
زید بن افضال کا کہنا تھا کہ کچھ دیر کے بعد لائبہ کے موبائل کے سگنل نہیں مل رہے تھے، جس پر انھیں تشویش ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ لائبہ کا لیپ ٹاپ گھر میں ہی موجود تھا جس میں وہ اپنی بڑی بہن یعنی زید کی بیوی کے ساتھ آن لائن تھیں۔ انھوں نے کہا کہ وہاں سے اس کی لوکیشن معلوم کی گئی تو وہ جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار کی ظاہر ہو رہی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو لائبہ کی لاش ایک درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس واقعے کی اطلاع مقامی پولیس کو دی جنھوں نے لاش کو درخت سے اتار کر ہسپتال منتقل کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس کا کیا کہنا ہے؟
ایس ایس پی آپریشن علی رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اس واقعہ سے متعلق تمام حقائق جاننے کی کوشش کررہی ہے اور اس ضمن میں اس واقعہ سے متعلق مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شروع میں لائبہ کی فیملی پوسٹ مارٹم بھی نہیں کروانا چاہتی تھی اور انھوں نے اس ضمن میں متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر سے وہ لیٹر بھی لے لیا تھا جس میں انھیں لاش کے پوسٹ مارٹم سے استثنی دے دیا گیا تھا۔
اس معاملے کی تفتیش اسلام آباد پولیس کا انوسٹیگیشن یونٹ کر رہا ہے تو وہاں پر تعینات ایک اہلکار کے مطابق لیٹر حاصل کرنے کے بعد لائبہ کے ورثا پوسٹ مارٹم کروانے پر راضی ہوگئے تھے۔
لائبہ کے ماموں امجد الرحمن نے بھی تصدیق کی ہے کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق ایف آئی اے اور پولیس کے حکام بھی رابطہ کرر ہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ لائبہ کے ورثا نے ابھی تک متعلقہ تھانے میں درخواست نہیں دی تاہم وہ جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔
مقامی پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد لائبہ کی تدفین کر دی گئی ہے۔
اس واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا: وزیرِ داخلہ
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سنیچر کی شب لائبہ کے گھر گئے اور ان کے والد سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’اس پورے واقعے میں جو لوگ ملوث ہیں نہ صرف انھیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا بلکہ ان کی رقم کی ریکوری بھی ہمارے لیے اہم ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائیں گے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ انھیں لائبہ کے والد نے بتایا ہے کہ ملزم نے ان کے بیٹے کو نوکری دلوانے کے نام پر بھی ان سے رقم لی ہے۔
’اس طرح کے بندوں کا بالکل بندوبست کرنا ہے۔‘
بڑھتے جعل سازی کے مقدمات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ جعل سازی سے لوگوں کو بیرونِ ملک لے جانے کے کیسز میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ترکی کی حکومت نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر ترکی جانے والوں میں بھی واضح کمی آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے کءسز کی تفتیش کی ذمہ داری این سی سی آئی آئی کی بنتی ہے لیکن ادارے کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں این سی سی آئی اے کے صرف 61 اہلکار ہیں جبکہ کیسز کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے وزیرِ اعظم کو سفارشات بھیجی جا رہی ہیں۔
’ملزمان نے امریکہ کا ویزا فراہم کرنے اور سکالرشپ دلوانے کے بہانے متاثرہ خاندان سے 93 لاکھ روپے لیے‘
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون کا کہنا ہے کہ ملزم کی تلاش اور گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق، متعلقہ شخص نے مبینہ طور پر اپنی شناخت اور پیشہ ورانہ حیثیت سے متعلق غلط بیانی کے ذریعے متاثرہ خاندان کا اعتماد حاصل کیا اور مختلف مقاصد کے لیے رقم وصول کی۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان نے امریکہ کا ویزا فراہم کرنے اور سکالرشپ دلوانے کے بہانے متاثرہ خاندان سے 93 لاکھ روپے وصول کیے۔
تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جعلی سکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز اور فیس پیمنٹ رسیدیں تیار کر کے متاثرہ خاندان کو دھوکے میں رکھا۔
ایف آئی نے ملزمان کے خلاف پی پی سی کی دفعات 419، 420 اور 109 اور ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔




















