انڈین الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کے لیے حزب اختلاف کی دہلی میں میگا ریلی: کانگرس جین زی تک پہنچنے کے لیے کیا خاص کر رہی ہے؟

The Leader of Opposition in the lower house of India's Parliament, Rahul Gandhi, with India Bloc leaders and Congress workers and supporters during 'March for Democracy' to the Supreme Court at Barakhamba road on October 12, 2026 in New Delhi, India.
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، دلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس پارٹی کی قیادت میں اتوار کی دوپہر حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ایک بڑی ریلی منعقد کر رہی ہیں۔

یہ ایک احتجاجی ریلی ہے جو انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ کی جا رہی ہے۔

پولیس کی جانب سے جنتر منتر کو مظاہروں اور احتجاج وغیرہ کے لیے بند کیے جانے بعد رام لیلا میدان میں متحدہ اپوزیشن کی یہ پہلی ریلی ہے۔

اس میں سبھی اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اور ملک کی مختلف ریاستوں سے یہاں بڑی تعداد میں آنے والے ان کے حامی شرکت کر رہے ہیں۔ یہ ریلی صرف ایک احتجاجی اجتماع نہیں ہے بلکہ اسے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ایک پیغام میں کہا ہے ’یہ کسی ایک جماعت کی ریلی نہیں ہے یہ انڈیا کی روح کو بچانے کا مارچ ہے۔ یہ ملک کے آئین کو بچانے کا مارچ ہے۔ سب لوگ جو نریندر مودی، امیت شاہ اور گیانیش کمار سے تنگ ہیں، سب لوگ جو جمہوریت کو بچانا چاہتے ہیں، آپ سبھی اس میں شریک ہوں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’اس ریلی میں سول سوسائٹی، نوجوانوں، طلبہ، ورکرز سبھی کا خیر مقدم ہے۔ ہم آئیڈیا آف انڈیا کا تحفظ کر رہے ہیں۔‘

اس ریلی کو نیہا بورا کی طلبہ تنظیم اور کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

congress president
،تصویر کا کیپشنکانگریس کے صدر ملیکارجن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف 'پبلک امپیچمنٹ' پیش کرتے ہوئے

اس سے قبل ہفتے کے روز اپوزیشن رہنما ملیکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر اپوزیشن ارکان پارلیمان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار گپتا کا ’پبلک امپیچمنٹ‘ کیا گیا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

قانون کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی ارکان کی اکثریت سے مواخذہ کی تحریک کی منظوری سے ہی امپیچ کیا جا سکتا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے ان کے خلاف پارلیمنٹ میں کئی بار امپیچمنٹ کا نوٹس دیا لیکن سپیکر نے ان کی نوٹس کو تسلیم نہیں کیا۔

پبلک امپیچمنٹ کے ذریعے اپوزیشن عوام اور حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ گیانیش کمار ملک کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

ملیکارجن کھڑگے نے اس علامتی مواخذے کے اجلاس میں تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’گیانیش کمار نے ملک کے عوام کے حق رائے دہی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ان کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں۔ مودی جمہوریت کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ ہم یہ ہونے نہیں دیں گے۔‘

ملیکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ کے وسیع لان پر کرسیاں پارلیمنٹ کے طرز پر لگائی گئی تھیں۔

مواخذہ کا پورا عمل پوری سنجیدگی اور پارلیمانی طریقہء کار کے طرز پر کیا گیا تھا۔ بحث کا آغاز اپوزیشن رہنما کذڑگے نے کیا جس میں انھوں گیانیش کمار پر دانستہ بے ضابطگیوں کا فردِ جرم پڑھ کر سنایا۔

rahul gandhi
،تصویر کا کیپشنلوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، 31 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے دوران

سیاسی تجزیہ کار آرتی جے رتھ کا کہنا ہے کہ ’سیاسی جماعتیں انسٹا گرام، واٹس ایپ اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فار م کے ذریعے ہر چیز میں ڈرامائی منظر لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کی شروعات وزیر اعظم مودی نے کی تھی۔‘

ان کے مطابق ’2014 کی انتخابات میں مودی نے واٹس ایپ کا بھرپور استعمال کیا تھا۔ وہ اب بھی کوئی کام کرتے ہیں خواہ وہ ریلی ہو، روڈ شو ہو، کچھ بھی ہو اسے وہ بہت ہی ڈرامائی شو بنا دیتے ہیں جس میں وہ سٹار ہوتے ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے اب راہل گاندھی مودی سے یہ سیکھ گئے ہیں کہ اگر آپ سیاست کو ڈرامائیت کا رنگ نہیں دیں گے تو لوگوں تک پیغام نہیں جائے گا۔ اگر آپ انسٹا پر، ایکس پر ریل ڈالیں گے تو لوگ اسے لوگ بڑی تعداد میں دیکھتے ہیں۔ اور اس کے ذریعے لوگوں تک میسیج پہنچ رہا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا اب سیاست کا بہت موثر ذریعہ بن چکا ہے۔

’جب سے کاکروچ جنتا پارٹی آئی ہے تب سے سیاست انسٹاگرام پر آگئی ہے۔ اس وقت کانگریس بہت کامیابی سے انسٹا گرام کو استعمال کر رہی ہے۔ ان کی سمجھ میں یہ آ گیا ہے کہ جین زی تک پہنچنے کے لیے انسٹا سب سے موثر ذریعہ ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’آپ انسٹاگرام پر روزآنہ کانگریس کےرہنما راہل گاندھی، پریانکا اور دوسرے رہنماؤں کی بہت کامیاب ریلیں دیکھ سکتے ہیں۔ بی جے پی اس گیم میں پیچھے رہ گئی ہے۔‘

انڈیا میں ووٹر فہرست کی نظر ثانی کا عمل جون میں بہار سے شروع ہوا تھا۔ جیسے جیسے یہ عمل شروع ہوا حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور کئی سرکردہ ماہرین نے اس عمل میں سنگین بے ضابطگیوں اور کروڑوں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کا الزام عائد کیا۔

حکمراں بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے عمل کا دفاع کیا۔

الیکشن کمیشن کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے خلاف تحریک چلی اور کاکروچ پارٹی اور طلبہ تنظیموں کی شرکت سے یہ تحریک اور شدت اختیار کرگئی۔

آرتی جے رتھ کہتی ہیں کہ ’راہل گاندھی کے سڑک پر اترنے اور احتجاج کی قیادت کرنےسے کانگریس کے کارکنوں میں ایک نیا جوش پیدا ہو گیا ہے۔ انھوں نے ایک طویل عرصے سے سڑک پر اپنے رہنماؤں کو مظاہرے اور احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے اور پولیس کے بیریکیڈ کودتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔‘

CEC India

کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے اس تحریک کو طاقت جنتر منتر پر کاکروچ پارٹی کے مظاہرے سے ملی ہے اور سی جے پی نے تحریک کی نوعیت بدل دی ہے۔

آرتی کہتی ہیں کہ بنگال میں شکست کے بعد ممتا بینرجی اب کمزور پڑ چکی ہیں اور اب وہ بھی راہل گاندھی کی قیادت کو تسلیم کر رہی ہیں۔

ملک کی سرکردہ سیاسی تجزیہ کار نیرجا چودھری کہتی ہیں کہ ’ہر تحریک ایک خاص وقت تک چل سکتی ہے لیکن راہل گاندھی اس تحریک سے آگے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے آج کی رام لیلا میدان کی ریلی کو طاقت کا مظاہرے میں بدل دیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس سے راہل کی قیادت میں اپوزیشن کے اتحاد کا مظاہرہ تو ہو ہی رہا ہے۔ آگے کی سیاسی لڑائی کی تیاری بھی ہو رہی ہے۔‘

نیرجا چودھری کے مطابق ’اب اپوزیشن صرف گیانیش کمار کے استعفی کا ہی مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ اب وہ ایس آئی آر رد کرنے، گیانیش کمار کے خلاف مقدمہ دائر کرنے اور 2023 کی آئینی ترمیم کو مستر د کرنے کی بھی مانگ کر رہی ہیں جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی اور جس کے تحت انھیں تمام قانونی کاروائیوں سے مستثنی کر دیا گیا تھا۔‘

نیرجا چودھری مزید کہتی ہیں کہ حکومت کے رویے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

’پہلے وہ کاکروچ پارٹی سے بات چیت کے لیے آمادہ نظر آتی تھی لیکن اپوزیشن کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے اس نے بھی اپنا رویہ سخت کیا ہے۔ ساتھی ہی ساتھ وہ اس ٹکراؤ کو ختم بھی کرنا چاہتی ہے۔ سنیچر کے روز امت شاہ نے اپوزیشن کو پارلیمنٹ کا سپیشل سیشن بلانے کی پیشکش کی جہاں ان سوالوں پر بحث کی جا سکے۔‘

Rahul Gandhi LoP Lok Sabha with INDIA Block leaders during a press conference outside 10 Rajaji Marg, on October 30, 2026 in New Delhi, India. (Photo by Vipin Kumar/Hindustan Times via Getty Images)
،تصویر کا کیپشنراہل گاندھی نئی دہلی میں انڈیا بلاک کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران

بی جے پی کے ترجمان سمبت مہا پاترا ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’کانگریس پارٹی ملک کے آئینی نظام کے عمل کے بارے میں گمراہ کن باتیں پھیلا کر ملک میں مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

ان کے مطابق ’دس بارہ برس میں انڈیا کا ایسا کوئی نظام نہیں ہے جس کے بارے میں انھوں نے بھرم پیدا کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ وزیر اعطم نریندرمودی کی قیادت میں ملک اقتصادی ترقی کی نئی اونچائیوں کو چھو رہا ہے۔ بہت سے غیر ملکی طاقتوں کو انڈیا کی یہ ترقی راس نہیں آ رہی ہے۔ راہل گاندھی انھیں طاقتوں کے لیے ملک میں نراجیت پھیلا رہے ہیں۔‘

نیرجا چودھری کہتی ہیں کہ ’اپوزیشن کے پیغامات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ ووٹر لسٹ سے جو 13 کروڑ نام کاٹے گئےہیں اس سے لوگوں میں خاصی بے چینی ہے ۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اس کا کوئی منصفانہ حل نکلے اور الیکشن کمیشن کی ساکھ کو بحال کیا جائے۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کل کی کامیاب ’ماک امپیچمنٹ‘ کے بعد اگر یہ ریلی بھی کامیاب ہوجاتی ہے تو اپوزیشن کے حوصلے اور مضبوط ہوں گے اور مودی حکومت کی پریشیانیاں بڑھیں گی لیکن اپوزیشن اتحاد بی جے پی کی حکومت کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے میں صرف اس حالت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ نظر ثانی شدہ ووٹر فہرست کو مستند حد تک صحیح کرانے میں کامیاب ہوجائے اور آئندہ جنوری اور مارچ میں پنجاب ، اتراکھنڈ اور یوپی جیسی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دے دے۔

ماہرین کے مطابق یہ ریاستی انتخابات اپوزیشن اور بی جے پی دونوں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے ۔ اس مرحلے پر فی الحال بی جے پی دباؤ میں نظر آ رہی ہے۔